![]() |
| Ibne-Safi: The One Man Army Who Saved The Society From Obscene Literature Dr. Rehan Ansari |
![]() |
| Ibne-Safi with wife Umme-Salma Khatoon |
![]() |
| Ibne-Safi with Ali Abbas Husaini |
ابن صفی ہندوستان کے اس علاقے میں پیدا ہوئے جس نے اردو ادب کو لاثانی طنز و مزاح نگار شاعر اکبر الٰہ آبادی دیا تھا۔ ظاہر سی بات ہے کہ علاقائیت اور اکبر الٰہ آبادی کی مقبولیت کے سبب اسرار احمد ناروی ابن صفی کے مزاج و شخصیت پر بھی یہ حس پوری طرح حاوی ہونی ہی تھی۔ ان کے اس مزاج کا عکاس ان کے ناول ہیں جن میں معاون کرداروں کی زبان سے ایسے بیساختہ اور برمحل جملے اداکیے ہیں کہ قاری تنہائی میں بھی مسکراتا ہی نہیں بلکہ کھلکھلا پڑتا ہے۔ ان کے ناول تحیرخیزی، مہم جوئی، سسپنس، رومان اور مزاح سے مرصع ہوتے تھے اور منظرنامہ کی تیز تبدیلی سے قاری ایک ہی نشست میں پورا ناول پڑھے بغیر مطمئن نہیں ہوتا تھا۔
اس اسلوب کو لے کر ایک بھرے پرے معاشرے نے نہ صرف لطف و حظ اٹھایا بلکہ خود اردو کی لسانی دنیا میں اپنے اسلوب کے تئیں ابنِ صفی ایک مثبت بحث کا عنوان بن گئے۔ یعنی ان کے اسلوب کو اردو ادب کا حصہ ہونا چاہیے یا نہیں۔ کیا سِرّی ادب جسے جاسوسی ادب کے نام سے زیادہ جانا گیا ہے اس کی کوئی ادبی حیثیت و مقام ہے؟ کیا اسے بھی نثری اصنافِ ادب میں شامل کیا جانا چاہیے؟
علی عباس حسینی کا تعلق الہٰ آباد کے ایک زمیندار گھرانے سے تھا۔ ان کا اپنا ایک حلقۂ دوستاں تھا۔اس میں قلمکار، شاعر اور دانشور تھے۔ اسی حلقے میں ایک مرتبہ زوردار مباحثہ ہوا کہ ’اردو کی اشاعتی دنیا اب فحش نگاری کے علاوہ کسی اور پر تکیہ نہیں کرسکتی‘ اور یہ واقعہ ہے کہ اس دور میں ’وہی وہانوی‘ جیسے فحش نگاروں نے پوری مارکیٹ کو گویا یرغمال بنا لیا تھا۔ اس مباحثہ میں ابن صفی نے چیلنج کیا کہ جرائم، جاسوسی اور مہم جوئی کے عنوانات پر ناول لکھے جائیں تو ان کی بھی مارکیٹ میں بڑی مانگ ہوگی۔ اکثر دوستوں نے ان سے اختلاف کیا مگر عباس حسینی نے ان کی ہامی بھری اور حامی ہوگئے۔ عباس حسینی کا اپنا ’پرنٹنگ پریس‘ بھی تھا۔ دونوں نے مل کر الٰہ آباد میں ’نکہت پبلی کیشنز‘ کی بنیاد ڈالی۔ پھر یہ سفر نئی منزلیں طے کرتے اور تاریخ مرتب کرتے ہوئے آگے بڑھتا رہا۔ ’جاسوسی دنیا سیریز‘ کے تحت ایک سو پچیس ناول دیئے اور ’عمران سیریز‘ کے تحت ایک سو بیس ناول سامنے آئے۔ اکثر ناول ’پیپربیک‘ (غیرمجلد) ایڈیشن تھے۔ جاسوسی دنیا کے تحت انھوں نے پہلا ناول ۱۹۵۲ میں شائع کیا جس کا نام ’دلیر مجرم‘ تھا، اس کی قیمت ہندوستانی ’دس آنے‘ تھی۔ انسپکٹر نواب احمد کمال فریدی (کرنل فریدی) اور سرجنٹ ساجد حمید (کیپٹن حمید)، قاسم، انور، رشیدہ کے علاوہ ایک پوری ٹیم کے کرداروں کی تخلیق کی۔ عمران سیریز میں، علی عمران، جوزف، سلیمان، ایکس ٹو، جولیانا فٹزواٹر، سنگ ہی، فنچ، تھریسیا اور جانے ایسے کتنے یادگار کرداروں کی تخلیق کی تھی۔ ہر ناول سو سے ایک سو بیس صفحات پر مشتمل ہوتا تھا۔ یقینا انھوں نے معاصر انگریزی ناول ناگاروں کی تحریروں کو بھی سامنے رکھا تھا جن میں اگاتھا کرسٹی، ایان فلیمنگ، استانلے گارڈنر، مکی اسپلین اور متعدد دیگر۔ مگر انھوں نے اپنی تحریروں میں طبعزادیت برقرار رکھی۔ کہیں بھی سرقے کا شبہ نہیں ہوتا۔
ابن صفی کے قارئین کی بڑی تعداد متوسط طبقے میں پائی گئی یا اعلیٰ متوسط طبقے میں۔ مگر ان کے اسلوب کے حاسدین اردو کے جید طبقے میں رہے۔ ان کے ناولوں کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ انپڑھ مزدوروں اور محنت کشوں کا طبقہ (گروپ میں) بھی مل بانٹ کر ہر ماہ ایک ناول خریدتا اور کسی پڑھنے والے کو ڈھونڈ کر اسے باآواز بلند پڑھنے کو کہتا اور سن کر لطف اندوز ہوتا۔
![]() |
| Asrar Ahmad Narwi aka IBNE-SAFI |
ابن صفی ایک اچھے شاعر بھی تھے۔ شاعری وہ اسرار ناروی کے نام سے کرتے تھے۔ ہم ان کے ایک قطعہ کے ساتھ اپنی بات کو ختم کرنے سے قبل ان کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا تھا:
ہم خود ہی کرتے رہتے ہیں فتنوں کی پرورش
آتی نہیں ہے کوئی بلا ہم پہ ناگہاں
جنگل میں بھیڑیوں سے سوا کون معتبر
جس کے سپرد کیجیے اقلیمِ جسم و جاں















