To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Tuesday, August 23, 2011

Anybody can face Drug Reaction any time              Dr. Rehan Ansari
کسی ملک یا ریاست میں کوئی اجنبی شخص یا دہشت گرد گروہ داخل ہوجائے تو اطلاع پاتے ہی وہاں کے دفاعی دستے اسے فوراً گرفتار کر لیتے ہیں۔اس کے بعد اس کے ساتھ جیسا معاملہ پیش آتا ہے اسے ری ایکشن کہتے ہیں۔ یعنی ردِّ عمل۔ اس کی خبریں عام ہوتی ہیں۔ اس کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔انفارمیشن اور سزا کا معاملہ پیش آتاہے۔ پورے ملک کا میڈیا اور اخبارات اس پر اپنے انداز میں تبصرہ شروع کر دیتے ہیں۔ کہیں میانہ روی ہوتی ہے اور کہیں شدت نظر آتی ہے۔
دواؤں کا ری ایکشن یا ردِّعمل بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوتا ہے۔ ہمارے بدن کی بھی اپنی ایک سلطنت ہے۔ اندرونی سلطنت۔ جس کا مقتدرِ اعلیٰ دماغ ہے۔ اس کے معاون دفاعی دستے دیگر تمام اعضاء ہیں۔ اس کی سرحد جلد ہے۔ ان سب کا باہمی رابطہ اعصاب بناتے ہیں۔ اعضاء و اعصاب کے کچھ انفرادی اور اختیاری افعال بھی موجود ہیں جو یہ اعضاء اپنے طور پر انجام دیتے ہیں۔ بدن کی اندرونی حدود میں جب کبھی کوئی اجنبی شئے (کیمیکل/ دوا/غذا ،وغیرہ) داخل ہوکر خون میں گردش کرنے لگتی ہے اور وہ بدن کے اندرونی نظام کے لیے ناقابلِ قبول ہوتی ہے تو خون میں موجود دفاعی دستے ایمرجنسی موومنٹ لیتے ہیں۔ پھر بدن کے دیگر اعضاء یعنی جلد، جھلّیاں (Mucus membrane) اور سبھی نظامِ بدن اس ایمرجنسی تحریک کا ساتھ دیتے ہوئے ردِّ عمل کا اظہار کرتے ہیں۔بدن پر چھالے، آبلے، چکتے یا دانے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔اُن میں بے چین کر دینے والا درد، کھجلاہٹ اور سوزش محسوس ہوتی ہے، کبھی آنکھوں اور منہ کی جھلی کے نیچے خون بہہ نکلتا ہے اور جھلی پھولی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ کبھی ناک سے خون آجاتا ہے۔ وغیرہ۔دوا کا ری ایکشن اسی کو کہتے ہیں۔ کبھی یہ اتنا شدید بھی ہوتا ہے کہ جان لیوا بن جاتا ہے۔


Drug Reaction or Allergy can represent
many ways from simple itching, Redness and burning eyes,
Extensive rashes and Swelling over soft body parts
دواؤں کے نقصاندہ اثرات یعنی سائیڈاِفیکٹ Side Effects اور دواؤں کے ری ایکشن میں خاصا فرق ہے۔ دواؤں کے سائیڈاِفیکٹ سبھی پر مرتب ہوتے ہیں لیکن ری ایکشن کا معاملہ کسی کسی کے ساتھ پیش آتا ہے۔ری ایکشن کو ’الرجک ری ایکشن‘ یا زود حساسیت (Hypersensitivity) کہتے ہیں۔ یہ سائیڈ افیکٹ یا مضر اثرات سے مختلف شئے ہے۔
الرجک ری ایکشن
کچھ ٹیکے ایسے بنائے جاتے ہیں جو مائیتِ خون یعنی دمّاب (serum)؛ {دم یعنی ’خون‘ اور آب یعنی ’مائیت‘} سے بنتے ہیں۔ یہ دمّاب بڑی تیزی کے ساتھ کچھ لوگوں میں ری ایکشن کرتا ہے۔ جب یہ انتہائی شدید ہوتا ہے تو اسے اینافائلیکسس (anaphylaxis) کہتے ہیں۔اس کی شدت میں معمولی پن یا زیادہ کا انحصار بدن کے دفاعی یا مامونی نظام (Immune system) پر ہوتا ہے۔ اس عمل میں اینٹی جین (antigen)اور اینٹی باڈی (antibody)حصہ لیتے ہیں۔ اجنبی شئے کو اینٹی جین کہتے ہیں اور بدن کے دفاعی یا مامونی اسلحے کو اینٹی باڈی کہا جاتا ہے۔
اینٹی باڈ ی اصل میں پروٹین کے سالمات (molecules) ہوتے ہیں جو مائیتِ خون، بدن کے خلیات کے اندر اور بدن کی رطوبات میں شامل رہتے ہیں۔ جب بدن میں اینٹی جین داخل ہوتے ہیں تو دو طرح کے دفاعی ردِّعمل ظاہر ہوتے ہیں:
۱۔بدن کی رطوبات میں نئے اور بروقت تشکیل شدہ اینٹی باڈی شامل ہوجاتے ہیں۔ جنھیں خلطی (humoral) اینٹی باڈی کہتے ہیں۔ یہ رطوبات میں موجود پروٹین سے بندھ جاتے ہیں۔پھر خارجی پروٹین یا کیمیکل مادّے پر راست طور سے اثرانداز ہوکر انھیں معتدل کردیتے ہیں۔
۲۔ خون کے ایسے دفاعی لمفی خلیات (lymphocytes) کی پیدائش جن کو پہلے کسی طریقہ سے اینٹی جین کی پہچان (sensitization)کرائی گئی ہوتی ہے اور ان کی خلوی دیوار پر اینٹی باڈی کے سالمات پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔
ان دونوں ردِّ عمل میں لمفی خلیات ہی اہم ترین شئے ہیں۔ کیونکہ لمفی خلیات اینٹی باڈی تیار بھی خود کرتے ہیں اور انھیں ڈھوتے بھی ہیں۔ پھر مضر اجزاء کو خارج ہونے کے قابل بھی بناتے ہیں۔
لمفی خلیات دو قسم کے ہوتے ہیں۔ انھیں ان کی پیدائش کے مقام کی مناسبت سے T-lymphocytes اورB-lymphocytes کہتے ہیں۔ جب کوئی اینٹی جین بدن میں داخل ہوتا ہے تو دونوں قسم کے لمفوسائٹس تعداد میں بڑھتے ہیں اور electophoresis کے نتیجے میں ان کی شکلیں بھی تبدیل ہوتی ہیں۔ اس طرح مختلف اینٹی باڈی پیدا ہوتے ہیں۔ اینٹی باڈی گلوبولن globulinہوتی ہیں۔ پھر ان کی الگ الگ خصوصیات اور افعال کی وجہ سے انھیں مختلف نام دئیے گئے ہیں۔ IgG, IgA, IgM, IgD, IgE۔ یہی مختلف Igیا امیونوگلوبولن اصل میں بدن کے دفاعی اسلحے ہیں۔
عموماً ایسے پروٹین جن کا سالماتی وزن 5000 سے زیادہ ہو اور وہ بدن میں داخل کیے جائیں تو ان کے خلاف ردِّعمل ہوتا ہے اور اینٹی باڈی پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح بعض غیر پروٹینی اشیاء (جیسے دوائیں) بھی بدن کی قوتِ مدافعت کو اکساتی ہیں۔ ایسی اشیاء بدنی رطوبات میں موجود پروٹین کے ساتھ متصل  (couple) ہو جاتی ہیں تو بدن کا نظام انھیں اینٹی جین کے طور پر شناخت کرتا ہے اور ری ایکشن ظاہر ہوتا ہے۔
اینافائلیکسس Anaphylaxis
اسے شدید ردِّعمل یا ری ایکشن بھی کہتے ہیں۔ بعض اوقات محض ایک انجکشن لگانے سے ری ایکشن اتنا شدید ہوتا ہے کہ فوری توجہ نہ دی جائے اور ایمرجنسی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو مریض فوت بھی ہو سکتا ہے۔اسے شدید ردِّعمل یا anaphylaxis کہتے ہیں۔ ماضی میں ’پینی سلین‘ penicillin کا ری ایکشن اس معاملے میں سب سے زیادہ مشہور رہا ہے۔ یہ انتہائی خطرناک اور ایمرجنسی صورتحال ہے۔ ایسی حالت میں مریض کی سانس کی نالیوں میں ورم آجاتا ہے، تشنج اور امتلاء ( رطوبت سے بھرجانا) پیدا ہو جاتا ہے۔ مریض حبس محسوس کرتا ہے، تنفس کی تنگی ہو جاتی ہے، خون کی نالیاں پھیل جاتی ہیں اور بلڈپریشر گر جاتا ہے، پھر مریض محض چند منٹ میں فوت بھی ہوسکتا ہے۔
اس کے علاوہ بھی کئی طرح سے دواؤں کا ری ایکشن سامنے آتا رہتا ہے۔ جس میں بعض اوقات بدن کے اندرونی نظام کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کی تفصیلات بہت پیچیدہ ہیں۔ ری ایکشن کی صورت میں مناسب تدابیر بروقت اختیار کر لی جائیں تو مریض کو مستقبل میں کوئی پریشانی نہیں رہتی۔
اس ضمن میں یہ بات لکھنا شاید ضروری ہو کہ بعض دوائیں ایسی بھی ہیں کہ جن کے استعمال سے مریض کو بے حد فائدہ ہوتا ہے مگر ان کا استعمال اچانک اور یکسر بند کر دینے سے وہی مرض بہت شدت کے ساتھ حملہ کرتا ہے ۔ اسے drug withdrawl syndrome کہتے ہیں۔ ایسا عموماً دمہ اور مرگی کے مریضوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس لیے ان مریضوں کی دوائیں ڈاکٹر کی نگرانی میں ہی شروع یا بند کروانی چاہیے۔
ری ایکشن کے اسباب
٭کسی کو بھی، کسی بھی دوا کا ری ایکشن ہو سکتا ہے۔ ٭ذاتی غفلت سے یعنی اگر آپ نے اپنے طبیب کو ری ایکشن کرنے والی دوا سے متعلق پہلے سے ہی خبردار نہیں کیا اور اس نے وہی دوا تجویز کر دی اور آپ نے استعمال کر لی تو ری ایکشن ظاہر ہوگا۔ ٭ ہر کسی کے بدن کے داخلی حالات بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ کسی فرد کو ایک دوا استعمال کرتے دیکھیں اور اسے کسی نقصان اٹھاتے نہ پائیں، پھر وہی دوا اپنے لیے استعمال کرنے پر بھی ری ایکشن ہو سکتا ہے، یعنی آپ میں اس دوا سے زودحساسیت (الرجی) موجود ہے۔ ٭بغیر طبی مشورہ کے میڈیکل اسٹور سے دوائیں خرید کر کھانے والوں کو بھی اکثر ری ایکشن کا شکار ہوتے پایا گیا ہے

Thursday, August 18, 2011

Growing Shadow of Anna Hazare and
UPA Govt's Helplessness  
Dr. Rehan Ansari
پورے ہندوستان پر بدعنوانیوں کا سایہ ہے اور آج بڑے بڑے بدعنوانوں پر انا ہزارے کا (عفریتی) سایہ ہے۔ حکومت کے دونوں ایوانوں کے درو دیوار شورشرابہ جھیل رہے ہیں۔ اور ہم خود کو تسلی دے رہے ہیں کہ ’’ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا؟‘‘
بدعنوانی اصل میں ہے کیا اور اس کا شکار کون لوگ ہوتے ہیں۔بدعنوانی کا سب سے زیادہ شکار اس ملک کے غریب اور شریف عوام ہوتے ہیں۔ زیرِ بحث بدعنوانی ایک عجب عنوان ہے کہ جس کے لیے کوئی مناسب لفظ بھی جگہ لینے کو تیار نہیں ہے۔ فرعونیت اور قارونیت جیسے (قدرے مناسب) الفاظ بھی شاید شرماتے ہیں۔ بس اسے ’’بدعنوان‘‘ corrupt  کہہ دینا ہی سب کو کافی لگتا ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ صرف اردو زبان میں یہ مسئلہ ہے۔ دیگر زبانیں بھی ’دہشت گردی‘ کی مانند ’بدعنوانی‘ کو مکمل طور پر بیان کرنے سے قاصر ہیں۔
انا ہزارے کی جاری تحریک بڑے بڑے بدعنوانوں کے خلاف ہے۔ وہ آج کمزوروں کی طاقت کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے ایک امید جگائی ہے۔ بات بھی صحیح ہے کہ بڑے سدھریں گے تو چھوٹے ڈریں گے اور سدھریں گے۔ (یہ اور بات ہے کہ اناہزارے نے درمیانِ تحریک میں فرعونِ دوراں نریندر مودی کی تعریف کرکے ہم جیسوں کے نزدیک اپنے اقدامات کے تئیں خود کو مشکوک شخصیت بھی بنا لیا ہے)۔ اب اناہزارے کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں اور لوک پال بل کے قابلِ قبول مسودہ کی تیاری اور ممکنہ نفاذ کا انجام کیا ہوتا ہے اس پر کوئی رائے زنی کرنا قبل ازوقت ہے۔ کیونکہ سامنے کانگریسی سیاستدانوں کی ایک ایسی ٹیم ہے جس کی ذہنی آبیاری بڑی میڈم اندراگاندھی کے ساتھ ہوئی ہے جن کے دور میں ہر قسم کی بدعنوانیاں پورے شباب پر تھیں۔ جب اندراگاندھی سے ان کا احتساب کرنے کو کہا گیا تھا تو انھوں نے یہ تاریخی جملہ ادا کیا تھا کہ ’’بدعنوانی تو عالمی طریقِ کار ہے‘‘ (Corruption is universal phenomenon) اور اردو کے شاعر شبیر احمد راہی نے تڑپ کر احتجاج کیا تھا کہ:

یہ  کہہ  کے   اِک  جواز  مہیا  کیا   گیا
رشوت کہاں نہیں ہے کہ درماں کریں گے ہم
 آئیے ہم ماہِ اگست کے پس منظر میں ہی کچھ باتیں دوہرائیں بھی اور حاکمی بدعنوانی کی تاریخ بھی دیکھیں۔
ہمارے وطن ہندوستان نے دورِ غلامی سے نجات کے چونسٹھ برس مکمل کر لیے ہیں۔ یہ دورِ غلامی بیرونِ ہند کی نوآبادیات پسند اور جارح قوم کے ساتھ گذرا تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس دور میں صرف حاکمین کے خوشامدی ٹولے ہی خوشحال زندگی جی رہے تھے۔ سرکاریں انھیں عزت و سماجی رتبہ و وقار اور جاگیریں بھی عطا کرتی تھیں۔ محکوم عوام میں جو ان سے غیرمتعلق رہتے تھے، ان پر کسی بھی شاہی فرمان کی بلاچوں و چرا کیے تعمیل لازمی تھی۔ وہ ہر سطح پر پسماندگی کا شکار تھے۔ ان کی اپنی مرضی کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔انھی میں ایک گروہ حریت پسند تھا۔ وہ حکومتِ وقت کا باغی کہلاتا تھا۔ سب سے زیادہ آزمائشی زندگی اسی گروہ کی تھی۔مظالم اسی پر توڑے جاتے تھے اور وہ ظالم ہر ظلم کو ہنس کر سہتا ہی نہیں تھا بلکہ عجیب سی لذت محسوس کرتا تھا۔اس کا سینہ چوڑا ہو جاتا تھا اور جب ’جے ہند‘ کا نعرہ لگاتا تھا تو شدتِ جذبات سے اس کا چہرہ تابناک ہوجاتا تھا۔اسے اپنے وجود کے احساس اور تشخص کی چاہ تھی۔وطنِ عزیز کی خاک کے لیے قربانیاں دینا وہ باعثِ افتخار سمجھتا تھا۔ اسی جدوجہد کے نتیجہ میں بروز جمعہ، پندرہ اگست ۱۹۴۷ء کو ہندوستان میں آزادی کا سورج طلوع ہوا تھا۔
مجاہدینِ آزادی کی اکثریت جہانِ ثانی میں اپنا ٹھکانہ بنا چکی ہے۔چونسٹھ برسوں کے بعد بھی جو ہندوستانی ابھی بقیدِ حیات ہیں ان کی بوڑھی آنکھیں اپنی ہی نسل کے لیڈروں کو ایک نئے دشمن کے روپ میں دیکھ رہی ہیں۔ رہ رہ کر ان کے دلوں میں ہوک سی اٹھتی ہے۔ سوچنے لگتے ہیں کہ باہر کے دشمن سے لڑنا کتنا آسان ہے اور جب گھر کے اندر ہی دشمن پیدا ہوجائے تو اس سے لڑنا کتنا مشکل! کیا اسی دن کے لیے ہم نے آزادی کی لڑائی لڑی تھی؟ وہ دیکھتے ہیں کہ آدرش، اصول، جوش و جذبۂ قربانی، حب الوطنی، شجاعت، جنگ، محاذ، مورچہ، تحریک، بیداری، دیانتداری، ایمانداری جیسے لہو گرمانے والے عنوانات نہ صرف اپنی کشش کھو چکے ہیں بلکہ رفتہ رفتہ اپنے معنی بھی کھوتے جارہے ہیں۔ اور اب تو ان پر گفتگو کرنا کوئی لطیفہ بیان کرنے کے مصداق ہوگیا ہے۔
آج ہم ایک نئی جنگ کے محاذ پر کھڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے جنھیں اپنے قیمتی ووٹوں سے سیاسی نمائندگی دی ہے؛ آج وہی لوگ وطن کو فراموش کرکے اپنی اور اپنی نسلوں کی محبت میں دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹ رہے ہیں۔ اپنے اور اپنی نسلوں کا مستقبل ہماری دولت کے بوتے پر سنوارنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ذلیل کرنے میں ان سب نے تمام اخلاقی و تہذیبی قدروں کو خودغرضی کی آگ کے حوالے کردیا ہے۔ ملک کے خزانے پر گھپلے بازوں کا راج ہے۔
آج جمہوری نظام صرف ’ہجومی‘ نظام بن گیا ہے۔ جہاں سر تو گنے جاتے ہیں لیکن ان میں دل اور دماغ کتنے ہیں ان کا حساب نہیں رکھا جاتا (بلکہ دل اور دماغ والوں کو اکثر باہر کا دروازہ دکھا دیا جاتا ہے!)۔
اس پورے نظام پر ہماری بے توجہی نے سیاسی بدعنوانیوں کی وہ پھپھوند لپیٹ دی ہے کہ اس کا اصلی چہرہ پہچاننا مشکل ہو گیا ہے۔ نچلی سے نچلی سطح سے لے کر مسندِ اعلیٰ و اعلیٰ ترین بھی شکوک کے گھیرے میں رہنے لگی ہے۔ دھیرے دھیرے ہم اس منزل پر پہنچ چکے ہیں کہ اس بدعنوان سسٹم سے نجات پانے کے لیے ہمیں ایک دوسری جنگ چھیڑنی پڑے گی جو انگریزوں کے خلاف لڑی گئی جنگ سے بھی زیادہ سنگین اور قربانیاں طلب کرنے والی ہو سکتی ہے۔ کیا ہم سب خود کو اس کے لیے تیار پاتے ہیں؟ پہل جو بھی کرے اس کے ساتھ جڑ جانا چاہیے۔




ایک وہ دور تھا کہ ترنگا لہرانے کے لیے بیتاب رہتا تھا اور ایک آج کا دور ہے کہ وہ فخر سے لہرانے کی بجائے شرما کر اپنا پہلو سمیٹ لینا چاہتا ہے.

Sunday, August 14, 2011

Happy Independence Day to All Countrymen and Happy Birthday to Pakistan
Dr. Rehan Ansari



اہل وطن کو جشن و یوم آزادی مبارک اور
پاکستان کو یوم پیدائش مبارک
اس مبارک مہینے میں رب کریم سے دعا ہے کہ وہ ہر دو جانب سے
منفی جذبات کا خاتمہ فرماے اور ٦٤ برسوں سے پالی ہوئی مخاصمت اور بانجھ و بے ثمر دشمنی کا مکمّل خاتمہ فرماے نیز مثبت، اصلی و برادرانہ جذبہ کی پیدائش و پرورش کرے. (آمین)...... تاکہ دفاعی معاملات میں خرچ ہونے والی کثیر رقومات دونوں ملکوں کی ترقی کی مدات میں صرف ہوں  اور عوام راحت و امن سے جی سکیں. اپنی صلاحیتیں صد فی صد لگا سکیں. اس طرح یہ خطہ دنیا کا حقیقی سپر پاور بن سکتا ہے.
 ڈاکٹر ریحان انصاری