To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Saturday, November 5, 2011

Our Sacrifice: Few Queries we face
Dr. Rehan Ansari
ہمارے ملک ہندوستان کی دنیا میں بڑی گوناگوں حیثیت و شناخت ہے۔ یہ کثیر لسانی ہے، کثیر مذہبی و کثیر تہذیبی ہے، کثیر جہتی ہے اور کثیر خیالی ہے۔ دنیا میں شاید ہی کسی دوسرے ملک کو یہ امتیاز حاصل ہو۔جب ہماری دوسری عید یعنی عیدِ قرباں نزدیک آتی ہے تو ہمارے ہندوستانی سماج میں طرح طرح کے سوالات کا گشت شروع ہوجاتا ہے۔ ہمارے لیے کچھ علما نے ہندوستانی تناظر میں اسے گائے سے نسبت کی وجہ سے ’بقرعید‘ لکھوا دیا تھا مگر اب چونکہ گائے کے ذبیحہ پر قانونی تو قانونی ہم سب نے بھی روادارانہ اور اخلاقانہ پابندی لگا دی ہے۔ اس لیے کہ ہمارے لیے احکام میں آپشن بھی موجود ہیں۔ بقرعید کو صوتی نسبت ’بکری‘ سے کیا ملی دیگر مذاہب (اور زبان) والوں نے بڑی سہولت کے ساتھ عیدِ قرباں یا ’عیدالاضحی‘ کو ’بکری عید‘ لکھناشروع کر دیا ہے؛ بلکہ چند مفروضات کے تحت تو اسے ’بکری کو کاٹنے اور کھانے کی عید‘ سے منسوب بھی کردیا ہے۔ اس کے قصور وار کیا تنہا وہی ہیں؟... شاید نہیں!... ہم بھی برابر کے قصوروار ہیں۔
ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں (بلکہ کچھ پہلے سے ہی) برادرانِ اسلام اور برادرانِ وطن سے چند باتیں اور ملاقاتیں۔ ان ملاقاتوں میں سوالات اور چند تشویش (عملِ ذبیحہ سے ناپسندیدگی پڑھیں) کا اظہار۔ ان سب کا لبِ لباب ایسا نکلتا ہے کہ عیدالفطر (یعنی میٹھی والی) سے ’ہماری یہ عید کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے‘!... معاذاﷲ ثم معاذاﷲ۔ آپ بھی ایسے حالات سے دوچار ضرور ہوتے ہوں گے۔
آئیے ، دیکھیں کیسی کیسی باتیں ہوتی ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر مسلم بستیوں یا مذبح خانوں میں سال میں اور کسی دن جانور ذبح نہیں کیے جاتے۔ اس لیے بعض لوگ جو مویشیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں انھیں بڑا ناگوار گذرتا ہے۔ایک صاحب نے، جو دواخانوں میں دوائیں ڈسٹریبیوٹ کرتے ہیں اور ہندو عقیدہ کے ہیں، ہم سے پوچھا کہ اگر آپ لوگ ان جانوروں کو اتنی کٹھورتا سے قتل نہیں کریں گے تو کیا فرق پڑ جائے گا؟... بڑا راست سوال تھا۔ ہم نے سوچا انھیں جواب کیا دیا جائے؟... بہرحال ان سے کہا کہ آپ اصل میں ایک مخصوص ماحول کے پلے بڑھے ہیں اس لیے میں آپ کو اس سوال کا جواب ضرور دوں گا لیکن ایک بات بتلائیے کہ قربانی جسے آپ ’بلی‘ کہتے ہیں، کیا پوری دنیا میں یا ہندوستان میں صرف مسلمان دیتے ہیں؟ اور بلی کا مطلب ہی عام طور سے جان کی بلی سے لیا جاتا ہے۔ وہ کسی قدر سٹپٹائے لیکن قائل ہوگئے۔ ہم نے کہا اب آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ مسلمان ایک خاص حکم کے تحت اور محض مخصوص تین دنوں میں یہ عمل کرتے ہیں۔ اسے قتل نہیں کہتے بلکہ ’ذبح‘ کہتے ہیں۔ ذبح ایک مکمل تربیتی عمل ہے۔ عبادت کا ایک جز ہے۔ مسلمانوں کو کوئی اور منفی جذبہ یا نجی مفاد و لالچ جانوروں کی جان لینے پر نہیں اکساتی۔ یہ جذبہ صرف اور صرف نسبتِ انبیاء علیہم السلام اور ان کی پیروی سے متعلق ہے۔ خالصتاً۔ پھر چوپایوں مویشیوں کی ایک مخصوص فہرست کے تحت۔ ان کے علاوہ کوئی جانور نہیں لیے جاتے۔

Milk is for the calves but humans steal it
Can it be told so... nay

ایک دوسرے صاحب نے ہم سے یوں گفتگو کی کہ جب ہم کسی کو جان دے نہیں سکتے تو پھر ہمیں جان لینے کا حق کہاں سے حاصل ہوگیا؟ بڑا منطقی سوال ہے اور اتنا ہی عام بھی۔ خصوصاً تنظیمِ حقوقِ جانوراں PETA  کے اراکین کے نزدیک۔ عالمی پیمانے پر۔ خیر، ہم نے ان سے ایک سوال کیا کہ آپ کے نزدیک ان جانوروں کا جنھیں ہم ذبح کرتے ہیں کوئی اور مقصد دنیا میں نظر آتا ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم انھیں کاشتکاری کے لیے اور دودھ کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ جب تک ان کی مادہ بچے نہ جنے تو کیا ان سے دودھ مل سکتا ہے؟ وہ کسی قدر شش و پنج میں پڑے پھر ہم نے کہا کہ اس طرح تو ہم ان کا دودھ دوہ کر خود استعمال کر کے اس کے نومولود کا حق ماردیتے ہیں اور دودھ خود چٹ کرجاتے ہیں۔ کون کس پر ظلم کررہا ہے؟ پھر ان جانوروں کی پیدائش بھی ایک ساتھ کئی کئی بچوں کی صورت میں ہوتی ہے۔ یعنی کتنوں پر ایک ساتھ ظلم؟ پھر دنیا بھر میں سب سے زیادہ ترجیح صرف بھینس کے دودھ کو حاصل ہے۔... بہرکیف جو تعداد ان جانوروں کی بڑھ جاتی ہے ان کا استعمال یا فائدہ کیا؟... ان سے کوئی جواب نہیں بن پڑا۔ میں نے مزید کہا کہ جہاں تک کاشتکاری کا معاملہ ہے تو دنیا بھر میں بھی اور ہمارے ملک میں بھی ان جانوروں پر مشینوں اور نئی تکنیکوں کو فوقیت حاصل ہوتی جارہی ہے۔ کیا اس مصرف میں بھی یہ جانور اتنے موزوں ہیں اب؟...
مذکورہ بالا صاحب سے ہم نے یہ بات بھی کہی کہ صرف عیدِ قرباں کے موقع پر ایسے سوال کیا غمازی کرتے ہیں۔ منفی۔ سال بھر جو مچھلیاں، مرغ، بکرے، اور دوسرے حلال و حرام چوپایے کاٹے اور بیچے جاتے ہیں ان کی سوپر بازاروں میں باقاعدہ نمائش کی جاتی ہے وہاں (ان ٹریڈرس کے سامنے) آپ لوگوں کو یہ سب کہتے ہوئے نہیں دیکھا جاتا؟ صرف اخباروں یا میڈیا میں ادھ ننگے یا مکمل برہنہ فوٹو شائع کرنے تک آپ سب کو متحرک دیکھا جاتا ہے۔ کیا سوپر مارکیٹ میں کٹنے والے یہ جانور سب بے جان ہوتے ہیں؟... تو وہ بغلیں جھانکنے لگے۔ پھر دنیا بھر میں جو لوگ ہڈیوں اور چرمی اشیاء کے کاروبار سے متعلق ہیں اور بڑے بڑے ایکسپورٹر اور امپورٹر ہیں ان کے سامنے یہ باتیں اور مظاہرے کیوں نہیں کیے جاتے۔ وہ تو بیشتر اور اکثر غیرمسلم ہی ہیں!... خود PETA کے مظاہرین میں کتنے بہت سے ہوں گے جو چمڑے کی اشیا، بیلٹ، پرس، والیٹ، جوتے اور جوتیاں وغیرہ استعمال کرتے ہوں گے۔


Some Rare Breed Cattles
All season costly animals
ایک ملاقاتی نے ایسا سوال بھی داغا کہ ’بقرعید کو مہنگے سے مہنگا جانور خریدنا تو نمائش کرنا اور اسراف ہے!‘... واہ صاحب!۔ چلیے آپ کی مانند ہم بھی مان لیتے ہیں کہ یہ اسراف ہے۔ بھائی میرے، عید کو جب گوالے دودھ کی قیمت دوگنی یا سہ گنی لیتے ہیں یا دیگر مذاہب والوں کے تیوہاروں کے موقع پر بھی جب اشیائے خورونوش کی قیمت بڑھا کرلی جانے لگتی ہے تو اسے مارکیٹنگ اسٹریٹجی کہتے ہیں۔اس وقت اسراف والی تھیوری تبدیل ہوکر ڈیمانڈ اور سپلائی والی بن جاتی ہے۔ چلیے بھائی وہی جانور یعنی وہ اعلیٰ نسل والا مویشی جس کی قیمت بڑی ہوتی ہے آپ سادہ دنوں میں بھی سستا خرید کر بتلا دیں۔ مان جائیں گے کہ عیدِ قرباں کے موقع پر اس کی قیمت زیادہ دینا اسراف تھا۔ عیدِ قرباں کے قریب میں تو سادہ دنوں میں ایک عام سے جانور کی جو قیمت ہوتی ہے اسے عام خریدار بھی تیوہار کی وجہ سے تقریباً دوگنی قیمت میں خرید پاتا ہے۔ مخصوص اور اعلیٰ نسل کے جانوروں کی پیدائش اور پرداخت نیز نگرانی کا پورا دور مہنگا ہوتا ہے تو وہ جانور سستے ملیں گے بھی کیسے؟ اور اگر کوئی صاحبِ حیثیت ہے تو اسے اس کی قربانی دینے میں ایک نعمت کے حصول کا احساس بھی تو ملتا ہے۔ اس کی پیمائش کس توازن سے کی جاسکتی ہے؟... ہاں ’اور بھی غم ہیں زمانے میں...‘ سمجھانے والے سال بھر اس کی شکایت کرتے ضرور ملتے ہیں۔ یہ ملتے رہیں گے۔


It's difficult to find people who
do not like to possess Leather goods
ذبیحہ کے احکام میں صحتمند جانور اور اس کی کچھ خصوصیات کا ہونا لازمی ہے۔ ہمارے درمیان یہ بھی سوال کیا جاتا ہے کہ ہم سب مذبح میں ’جھوٹا سرٹیفکیٹ‘ لے کر جانور کو ذبح کرتے ہیں یعنی وہاں کا ویٹرنری ڈاکٹر قانونی خانہ پری کرتے وقت یہ بھرتا ہے کہ جانور قابلِ کاشتکاری نہیں ہے اور لاغر و بیمار ہے۔ کیا ایک جھوٹ کے ساتھ ہماری قربانی ہوتی ہے؟... واﷲ، نہیں ہونی چاہیے۔ مگر، ہم نے خود کب کہا کہ وہ ڈاکٹر ایسا سب لکھے؟۔ ہم تو اپنی مذہبی ذمہ داری ادا کرنے جارہے ہیں۔ یہ تو ایک ملکی اور قانونی پیچیدگی کا معاملہ ہے جسے نمٹانے کے لیے حکومت اور قانون سازوں نے یہ سب داخل کیا ہے۔ یہ کوئی مذہبی شق ہے ہی نہیں۔ یہ تو دیگر مذاہب والوں کی اعصابی کشیدگی کا علاج ہے۔ ان سے ہمیں صحیح معنوں میں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بہت سی ایسی ہی خانہ پریاں مسلسل اور ہر دن اس ملک میں کی جاتی ہیں۔ اگر وہ اس خانہ پری کو صحیح کرلیں، اور ہم خود چاہیں گے کہ ایسا ہو، تو ہمیں زیادہ خوشی ہوگی۔ مگر ان کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ ان کی چکی میں ہم کیوں پسیں۔ وہ جو لکھنا چاہیں لکھیں، بس ان مخصوص ایام میں ہمیں اپنے مذہبی امور کی ادائیگی میں تعاون کریں۔ ہم نے اپنا جانور شرعی احکام کا پاس کرکے لیا ہے اور جس کے حضور قربانی دی جارہی ہے وہ جاننے والا ہے، کسی دنیاوی سرٹیفکیٹ کی احتیاج نہیں ہے۔
بہرکیف ایسے اور نہ جانے کتنے واقعات ہیں جو ذی الحجہ کے چاند کی دید سے شروع ہوکر عید تک چلتے ہیں اور ہم میں سے اکثر کو الجھن میں ڈالے رہتے ہیں۔ اﷲ ہمیں راستی کی توفیق عطاکرے اور ان اعتراضات کا جو ہمارے ملک میں مقدر ہیں کا صحیح انداز سے جواب دینے کی صلاحیت عطا فرمائے۔ ایں دعا است۔ (آمین)

Thursday, October 27, 2011

Eating Meat and Health
Dr. Rehan Ansari
تغذیہ (Nutrition)صحت کا محور ہے۔ زندگی میں بہتر نمو اور افزائش کے لیے متوازن غذا ہی بنیاد بنتی ہے۔ جدید سائنس نے غذائی اجزا کو کھول کھول کر بیان کیا ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ان کی دریافت اور بیان سے پہلے انسان ان کے فوائد سے محروم تھا، جیسا کہ جدید ماہرینِ غذائیت کی خام خیالی ہے،بلکہ تاریخ میں بھی انسان اپنی بہترین دانست کا استعمال کرکے طرح طرح کی غذائیں تیار کرتا رہا تھا اور مفید و مضر کو پرکھتا رہا تھا۔
’غذا‘ اور ’تغذیہ‘میں ایک معنوی فرق پایا جاتا ہے۔ غذا بہت سے اجزاء کا مرکب ہوتی ہے جو معمولی مقدار سے لے کر سیکڑوں گرام تک کھائی جاتی ہے جبکہ تغذیہ سے مراد جسم میں ہضم کے عمل کے بعد غذا سے حاصل کردہ اجزاء و توانائی ہے۔ جو ضرورتِ بدن کے مطابق ہوتی ہے۔ (یہاں یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ غذا اور غذائی اجزاء میں کوئی خطِ تفریق نہیں ہے)
غذا کی تین بڑی قسمیں ہیں۔ ایک کاربوہائیڈریٹ (نشاستہ)، دوسری چربی (شحم) اور تیسری پروٹین (لحم)۔
لحم سے مراد پروٹین لیا جاتا ہے جبکہ لحم کے معنی گوشت کے ہیں۔ اس کا واضح سبب یہ ہے کہ عمدہ قسم کا پروٹین گوشت سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ (حالانکہ دالوں اور سبزیوں سے بھی پروٹین دستیاب ہوتا ہے)۔ غذائیت کے ماہرین کا بھی اس پر اتفاق ہے۔ اسی لیے کتابوں میں درج باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ:
’’غذائیت (تغذیہ) کے اعتبار سے حیوانی پروٹین کو نباتاتی پروٹین پر فوقیت حاصل ہے کیونکہ جسمِ انسان کے حیاتیاتی تقاضوں کے لحاظ سے حیوانی پروٹین مکمل ہوتا ہے۔ اور اس میں ہر قسم کے لازمی اَمینو ایسیڈ (پروٹین کے جوہر) موجود ہوتے ہیں۔ جبکہ نباتاتی پروٹین اس ضمن میں ناقص ہوا کرتے ہیں‘‘۔
پروٹین کی دستیابی کے دوسرے مسلمہ عالمی حیوانی ذرائع دودھ، انڈا، پرندے اور مچھلی وغیرہ ہیں۔ مگر ہمارے یہاں کے شاطر لوگوں نے ان میں سے دودھ اور اس سے بنی ہوئی اشیاء کو ’’ویجیٹیرین‘‘ (Vegetarian) زمرے میں شامل کر رکھا ہے۔ ایں چہ بوالعجبی است؟۔ بھلا دودھ بھی کسی باغ یا کھیت سے حاصل کیا جاتا ہے؟




آئیے اس تمہید کے بعد ہم یہ سلسلہ گوشت خوری اور صحت سے ملا دیں۔ گوشت سے ہمیں پروٹین کے علاوہ ’بی کمپلیکس‘ گروپ کے سبھی حیاتین ملتے ہیں،خصوصاًنکوٹینک ایسیڈ اور رائبوفلیوین۔ علاوہ ازیں فولاد اور فاسفورس بھی۔ (سبزیوں یہ متفرق طور پر موجود ہوتے ہیں)۔  نیز جگرمیں متعدد طرح کے غذائی اجزاء کثیر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔
مچھلی کے گوشت کو نسبتاً بہتر مانا جاتا ہے کیونکہ اس کا پروٹین جلد ہضم ہونے والا بتلاتے ہیں۔ نیز اس میں موجود چربی کو زیادہ نقصان دہ نہیں سمجھا جاتا۔ البتہ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ موسم کے لحاظ سے یہ چربی بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ مچھلی کے علاوہ مرغ کا گوشت بھی اچھا سمجھا جاتا ہے۔ لیکن منطقی نظر سے دیکھا جائے تو یہ فوائد صرف اسی لیے ہیں کہ مچھلیاں اور پرندے حیوانات کی جماعت بندی میں نوعی اعتبار سے پستانیوں (دودھ پلانے والوں) سے پست و کمزور ہیں۔ اس لیے ان کے قویٰ بھی کمزور ہوتے ہیں۔ البتہ چوپایوں کا گوشت انسان کے جسمانی تقاضوں سے قریب تر ہوتا ہے۔ اس لیے بکری اور دیگر مویشیوں کے گوشت کو فطرتاً قریب تر خواص کا حامل سمجھا جا سکتا ہے۔



عمدہ گوشت کے حصول کے لیے جانور بھی صحتمند اور توانا، نقائص اور امراض سے پاک ہونا چاہیے۔ اس کے لیے اس کی جائے پیدائش، عمر، پرورش و نگہداشت کی پوری تفصیلات جاننا ضروری ہے۔ عمدہ گوشت کی پہچان یہ ہے کہ وہ نہ تو بہت سفید یا زردی مائل ہو اور نہ نیلگونی رنگ کا ہو، چھونے پر بھرپور محسوس ہو، نرم اور پلپلا نہ ہو، اس کی بو بھی خوشگوار ہو۔ جس گوشت میں ان خصوصیات کی موجودگی نہیں ملتی اسے بہتر نہیں سمجھا جاتا۔ جانور کا ذبیحہ بھی لازمی ہے اور یہ ذبیحہ صاف ستھرے مذبح میں، پاکیزہ انداز میں، اسلامی خطوط (سنتِ ابراہیمی) پر کیا جائے تو گوشت کے فوائد بڑھ جاتے ہیں۔
ذبیحہ

ذبیحہ کی سائنسی حیثیت یہ ہے کہ اس عمل میں جانور کے جسم سے لگ بھگ پورا خون باہر آجاتا ہے اور گوشت نیز دیگر اعضاء خون سے خالی ہوجاتے ہیں۔ جیسے ہی گردن سے گذرنے والی خون کی بڑی نالیاں (Carotids & Jugulars) کٹتی ہیں تو جانور بے ہوش ہو جاتا ہے اور اس کے احساسات ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ فوری طور پر ہوتا ہے۔ پھر وہ درد محسوس کر سکتا ہے نہ الم و اذیت۔ مگر دماغ کا جسم کے عضلات سے حرام مغز کی معرفت تعلق بنا رہتا ہے۔ اس لیے عضلات تیزی کے ساتھ پھیلنے اور سکڑنے (Convulsion / Seizures) کے عمل سے گذرتے ہیں اور جانور تڑپتا ہے۔ اس کی وجہ سے گوشت کے آخری کناروں میں رکا ہوا خون بھی باہر کی طرف بہہ کر نکل جاتا ہے۔ پھر یہ گوشت نیز دیگر اعضاء کھانے کے بعد صحت بخش ثابت ہوتے ہیں۔
برخلاف ذبیحہ کے کسی دوسرے طریقہ سے ہلاک کیے گئے جانور کے جسم سے خون پوری طرح خارج نہیں ہوتا اور یہ گوشت نیز دیگر اعضاء میں جمع رہ جاتا ہے۔ ہلاکت سے قبل جانور کو کسی بھی طرح ذہنی طور پر مجروح کیا جائے یا برقی شاک دیا جائے تو اس دوران وہ صدمہ کا شکار ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں خون میں ہسٹامین (Histamine)نامی مادہ کثیر مقدار میں خارج ہوتا ہے۔ یہ مادہ خون کی نالیوں کو سکیڑنے کی بجائے پھیلا دیتا ہے۔ ان نالیوں میں خون ٹھہر جاتا ہے۔ اس لیے ایسا گوشت بدمزہ ہونے کے علاوہ جلد خراب ہو جانے والا ہوتا ہے (یعنی قابلِ خوراک نہیں رہ جاتا)۔
گوشت خوری کے چند نقصانات:
ہر چند کہ گوشت خوری فطرتاً انسان کو مرغوب ہے اور دنیا کی اکثر انسانی آبادی کی غذا کا انحصار اسی پر ہے، مگر یہ شرط ہے کہ اسے سلیقے سے کھانا چاہیے۔ اس کا کثرت سے استعمال کرنا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سبزی گوشت کی اصلاح کے لیے بہترین چیز ہے۔ اسلیے کوشش یہ کی جائے کہ گوشت کے ساتھ کوئی سبزی بھی شاملِ غذا ہو۔ بڑی مقدار میں گوشت کھانے سے یورک ایسیڈ (Uric acid) اوردوسرے نقصان دہ فضلات پیدا ہو کر خون میں شامل ہوتے ہیں جو گردوں اور جوڑوں کے لیے اچھے نہیں مانے جاتے۔ گوشت خوری سے بعض افراد درج ذیل امراض کا بھی شکار ہو سکتے ہیں:
١] گردوں کے امراض، ورم اور سوزش وغیرہ۔
۲] خون میں کولیسٹرول Cholesterol اور ٹرائی گلیسرائیڈ Triglycerides کی مقدار بڑھ سکتی ہے جو بیشتر قلبی امراض کی جڑ ہیں۔
۳] گوشت کے بکثرت استعمال سے شہوت میں اضافہ ہوتا ہے اور آدمی اخلاقی جرائم کرتا ہے۔
۴] بعض طفیلی امراض جیسے کدّو دانے (Tapeworm)یا Hydatid وغیرہ بھی گوشت خوری سے لاحق ہوتے ہیں۔
۵] بعض جراثیمی امراض جیسے اینتھریکس، ٹی بی اور غذائی سمّیت نیز ڈائریا بھی گوشت خوری سے ممکن ہیں۔
گوشت خوری اور کینسر کے امکانات:
ہمارے دور میں گوشت خوری خصوصاً بڑے جانوروں کا گوشت کھانے کو لے کر کافی بحث جاری ہے۔اسے بعض اعضاء کے کینسر کی پیدائش سے جوڑنے کی باتیں کی جاتی ہیں۔ خواتین میں پستان اور مردوں میں غدۂ مذی  Prostate کے کینسر کی پیدائش کا ذمہ دار گوشت خوری کو قرار دینے کی تحقیق پیش کی جا رہی ہے۔ لیکن سب اندازوں کی بنیاد پر یا پھر تحقیقی کوتاہیوں کے ساتھ۔




آئیے انھی کے درمیان سے ہم چند حوالے ایسے بھی پیش کردیں جو کینسر کی پیدائش کے تعلق سے ان دعووں کی نفی کرتے ہیں۔
ایک ویب سائٹ ہے breastcancer.org۔ اس سائٹ پر عورتوںکو پستان کے کینسر کے تعلق سے ہر قسم کی معلومات اور سوال و جواب کی سہولت دستیاب ہے۔ اس سائٹ پر یہ رقم ہے کہ ہر ملک میں پستان کے کینسر کی کہانی اور وقوع میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کا خلاصہ یہ بتلاتا ہے مشاہدہ کے بعد ۴فیصد خواتین میں کینسر پایا گیا تو اس کی وجوہات بہت سے دوسرے عوامل بھی تھے، صرف گوشت خوری کو نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے یہ مفروضہ کہ گوشت خوری اور پستان کے کینسر میں تعلق ہے غلط اور بے بنیاد ہے۔ البتہ اس مفروضہ کو زیادہ سے زیادہ شہرت دی جارہی ہے۔ لازمی تحقیقی ڈیٹا اور شواہد کوئی پیش نہیں کرتا۔
ایک دوسری بلاگ سائٹ ہے: thecancerblog.com اس کے صفحات میں یہ ملتا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کو خصوصاً لڑکیوں کو جست (Zinc / Zn)عنصر کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔ جست کی وجہ سے ان کی بیماریوں سے مدافعت کی قوت اور جلد کی صحت و نمک اچھے ہوتے ہیں۔ ان کی جلد سردی کے اثرات اور infectionسے محفوظ رہتی ہے۔ گوشت ہی جست کی کامیابی کا سب سے آسان اور ارزاں ذریعہ ہے۔فولاد بھی صحت کے لیے ضروری عنصر ہے۔ حائضہ عورتوں کو اس کی ضرورت زیادہ ہوا کرتی ہے۔ بوڑھی عورتوں اور حاملہ عورتوں کو بھی یہ ضروری ہے، بچوں کو بھی ضروری ہے۔گوشت میں فولاد کی کثیر مقدار ہوتی ہے اور جسم کو سب سے زیادہ آسانی کے ساتھ گوشت سے ہی فولاد حاصل ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں گوشت میں بی کمپلیکس وٹامن، فاسفورس، پوٹاشیم، میگ نیشیم، سیلینیم، گوشت اور اعضاء کی صحت کے لیے ضروری پروٹین ہیں۔ گوشت سے حاصل ہونے والا پروٹین ہمارے جسم کے عین مطابق اور مکمل ہوتا ہے۔ Complete ہوتا ہے۔ یعنی اس میں وہ تمام ’’امائنوایسیڈ‘‘ Amino Acids ہوتے ہیں جو بصورتِ دیگر جسم کو تیار کرنے پڑتے۔پروٹین جسم کی ٹوٹ پھوٹ کو سدھارنے کے لیے لازمی ہیں۔
مذکورہ بالا کے علاوہ بھی مزید سائٹس ہیں جس پر بین السطور میں یہ تو درج پایا جاتا ہے کہ گوشت بالفاظِ دیگر سرخ گوشت کا استعمال کرنے والوں کو فلاں کینسر ہوجاتا ہے لیکن حتمی الزا م سے گریز کیا جاتا ہے اور ڈیٹا بھی فراہم نہیں یا جاتا اور نہ حوالوں کے ساتھ کوئی ایسی بات پیش کی جاتی ہے۔ البتہ قیاسات اور بے بنیاد دعویٰ داری ضرور جاری ہے۔ ہمیں آج تک اندازہ نہیں ہو سکا کہ گوشت خوری کے مخالفین خود نہ چاہیں تو کوئی ان کو زبردستی تو گوشت کھلانے بھی نہیں آتا لیکن وہ دوسروں کو سبزیوں کے لیے راغب کرنے کے لیے جانے کیسے کیسے ناٹک کھیلتے ہیں۔ کینسر نسبتاً کم واقع ہونے والا مرض ہے۔اس لحاظ سے گوشت خوری ہی نہیں بلکہ کھانے پینے میں عدم مساوات اور بسیارخوری ہی کینسر کے ساتھ دوسرے عوارض کو بھی راہ دیتا ہے.

Sunday, October 23, 2011

We will miss you dear Qaddafi
Dr. Rehan Ansari
پورے آٹھ ماہ کی داخلی جنگ کے بعد جمعرات (۲۰اکتوبر کو)قذافی مار دیئے گئے۔ مگر کیا لیبیا کو فتح کر لیا گیا؟ اب لیبیا آزادی کی جانب رواں ہوگا یا مغرب کا یرغمال و غلام بنا رہے گا؟ ابھی کیا خانہ جنگی کا دوردورہ ہوگا؟ کون اپنی روٹی پر کتنی دال کھینچے گا؟ یہ اور ایسے ہی کئی متعدد ہیجان انگیز سوالات تجزیہ کاروں کے ذہنوں میں اُٹھ رہے ہیں۔ ایسا اس لیے ہورہا ہے کہ اس سوال کا اطمینان بخش جواب نہیں مل رہا ہے کہ یورپی ممالک نے اٹلی اور امریکہ کے ساتھ مل کر کس بنیاد پر لیبیا میں دخل اندازی (حملہ پڑھیے) کیا تھا؟
بین الاقوامی میڈیا کے ذریعہ قذافی کو ایک جابر اور آمر حاکم بتلایا جاتا رہا ہے۔ لیکن قذافی نے اپنی رعیت پر کبھی کسی نوعیت کا جبر کیا ہو اس کا کوئی ثبوت  ملتا ہے نہ دیا جاتا ہے!۔ باغیوں (غداری کی جدید نقاب کا نام) کا ساتھ دینے اور انھیں قذافی کی فوج سے محفوظ رکھنے کے لیے ناٹو NATO نے یہ حملے کیے ؛ ہاں کسی قدر یہ بات درست ہو سکتی ہے لیکن اس کا ثبوت نہیں ہے کہ باغیوں نے اتحادی فوجوں کو پکارا ہو یا بلایا ہو۔ ان باغیوں نے تو ابھی تک یہ بھی نہیں بتلایا ہے کہ وہ بغاوت پر کن وجوہ سے آمادہ ہوئے ہیں اور قذافی سے ان کے کیا مطالبات تھے۔ تسلیم کرنا یا نہ ماننا تو بعد کی بات تھی۔ تیسری اور بیّن وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ لیبیا کا تیل جسے صارف دنیا میں سب سے بہتر کوالیٹی کا تسلیم کیا جاتا ہے، اس کے ذخائر پر امریکہ اور یورپ کی لالچی نگاہیں ہیں اور وہاں قذافی کی جگہ اپنے کسی پٹھو کو کرسئ اقتدار سونپنا چاہتے ہیں۔


Qaddafi with his GREEN BOOK
 قذافی گذشتہ بیالیس برسوں سے پے بہ پے مختلف عہدوں پر متمکن رہے اور اپنے سیاسی و ملکی نظریات کو ’گرین بُک‘ (الکتاب الاخضر) نامی کتاب میں لکھ کر پیش کر دیا تھا۔ اس میں تین خصوصی ابواب تھے جو جمہوریت کے مسائل، معاشی مسائل اور سماجی مسائل سے متعلق تھے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ کتاب قذافی کا کھلا فرمان یا دستورِ حکومت تھا جسے ہر لیبیائی کو تسلیم کرنا تھا۔ اس کتاب کو لے کر دانشوارانہ سطح پر کافی لے دے ہوتی رہی ہے۔ ایک بات جو مقطع کی ہے وہ یہ کہ قذافی نے اپنے ملک اور عوام کو کوئی ڈُپلکیٹ دستور نہیں دیا تھا بلکہ (لنگڑا لولا کہیں یا اسے آمرانہ کہیں) اپنا ایک نظریۂ حکومت دیا تھا جس میں ’جمہوریت‘ جیسا آمروں کے نزدیک ناپسندیدہ لفظ ہی نہیں بلکہ پورا ایک باب شامل تھا!
قذافی کے پورے دورِ اقتدار میں لیبیا میں اندرونی طور پر کبھی شورش نہیں رہی۔ شاید یہی بات دنیا کے چودھریوں کو کھٹکتی رہی۔ اسی لیے اس پر مختلف طریقوں سے پابندیاں اور عتاب نازل کیے جاتے رہے۔ الزامات لگائے جاتے رہے۔ مگر لیبیا کی آبادی نے اپنے اس قائد کے خلاف کبھی بے اطمینانی نہیں ظاہر کی۔پورے ملک کی آبادی میں نہ کہیں چوری چکاری سننے کو ملتی تھی نہ میلوں میل تک کوئی بھکاری کہیں پر نظر آتا ہے۔ ان کے دورِ اقتدار میں غربت  کا پتہ نہیں تھا۔ عوام کو ایک آسودہ زندگی میسر رہی۔ صحتِ عامہ کی نگرانی کا خاطر خواہ نظم رہا۔تعلیم عام اور لازمی ہے۔ملک میں داخلی آزادی رہی ہے جسے قذافی کی زبان میں ’’الجماہیریہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ وہ کسی بھی کاروباری کمپنی میں تنخواہ دار ملازم نہیں رہتے تھے بلکہ بحیثیت پارٹنر انھیں منافع دیا جاتا تھا۔ اسلام پسندی میں بھی انتہائیت کی جگہ باہم مسلکی و فرقہ وارانہ رواداری پائی جاتی تھی، ایک ہی مصلے پر سبھی کی نماز ہو جاتی تھی۔ قذافی کی کوئی آمرنما سفاکیت بھی کبھی دیکھنے یا سننے کو نہیں ملی۔ حتیٰ کہ دنیا کے دیگر ملکوں کے مسلمانوں میں بھی قذافی کسی دوسرے عرب رہنما کے مقابلے میں زیادہ پہچانے اور پسند کیے جاتے رہے ہیں۔ ان کی مہمان نوازی اور اعلیٰ ظرفی کا ہمیشہ اعتراف پڑھنے اور دیکھنے کو ملا۔
 اس قائد کو دنیا بھر میں میڈیا پر قابض لابی نے ہمیشہ مضحکہ خیز کردار بنا کر پیش کیا۔ اس کے ہتک آمیز کارٹون شائع کیے جاتے رہے۔ اس کے بیانات کو توڑمروڑ کر اس طرح پیش کیا جاتا رہا کہ وہ کسی ملک کا سربراہ نہیں بلکہ سیاسی طور سے ایک غیربالیدہ انسان تھا۔ وہ دنیا میں دہشت پروری کا گنہگار تھا۔ جبکہ یورپ اور امریکہ سمیت دیگر مغربی ممالک سے (تیل کی تجارت سے متعلق اور اس کے عوض بھی) اپنے مطالبات کو منوا لینے کی صلاحیت جتنی قذافی میں رہی ہے وہ دیگر عرب ملکوں کے سربراہوں میں نہیں دکھائی دی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ سب کی آنکھوں میں تنکے کی مانند کھٹکتے رہے۔ خود عرب ملکوں کے سربراہوں نے انھیں جب جب وقت ملا عربی نہیں بلکہ افریقی ہی سمجھا۔اس کے باوجود لیبیا اور برّاعظم افریقہ میں کثیرآبادی ان کی قیادت پر اعتماد کرتی رہی۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ بیالیس برس جیسے طویل عرصہ کے لیے کسی سفاکیت اور بربریت کے سہارے اقتدار پر آج تک دنیا میں کوئی تنہا آمر قائم نہیں رہ سکا ہے۔
آخر لیبیا میں یہ سب ہوا کیسے۔ قارئین کو شاید یاد نہ ہو اس لیے ذکر کر دیں کہ ماہ فروری کے آخری ہفتے سے یہ شورش برپا ہوئی جب شہر بن غازی سے مصطفی عبدالجلیل نامی قذافی کے سابق معتمد نے یہ الزام لگایا کہ حکومت اپنے قیدیوں کے ساتھ انتہائی وحشیانہ سلوک کرتی ہے۔ یہ اندر کی بات تھی۔ جس پر احتجاج ہوا لیکن احتجاجیوں نے صاف کہا تھا کہ وہ بن غازی کی مقامی کارپوریشن کے خلاف ہیں، قذافی کے نہیں۔ البتہ شورش بڑھائی جاتی رہی۔ یہاں تک کہ قذافی کے حامیوں اور باغیوں میں جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ اور یہ بنیادی وجہ فراموش کر دی گئی۔ دیکھا جائے تو یہ معاملہ کس قدر طول پکڑتا... بیچ بچاؤ کی صورت پیش آتی اور معاملہ سلجھ سکتا تھا۔ لیکن سیف الاسلام کے جوش نے ہوش کھودیا اور احتجاجیوں پر انتقامی کارروائی کروا دی۔ بس پھر کیا تھا، یورپ اور امریکہ کو موقع ہاتھ آگیا اور انھوں نے اپنے پٹھووں کو اسلحہ تک فراہم کر دیا جس کی وجہ سے مسلح جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ قذافی حکومت کے لیے باغیوں کے پاس اسلحوں کی موجودگی ایک چیلنج کی صورت بن گئی۔ بات پھر مسلسل بگڑتی چلی گئی اور یہاں تک پہنچی۔ یورپی طاقتوں نے امریکہ کے اشارے پر فرانس کی قیادت میں الائیڈ فورس بنا لی اور حملہ کر دیا۔ لیبیا کے آسمان کو نوفلائی زون قرار دے کر خود اپنے ڈرون طیاروں کو ہر سمت اڑانے لگے اور قذافی کے فوجی ٹھکانوں کو تباہ کرنے لگے۔




 یہ حملہ صرف اسلحوں اور ہوائی جہازوں سے نہیں کیا گیا بلکہ میڈیا کے ذریعہ پوری دنیا میں قذافی اور اس کے بیٹوں کو عیاش، بدقماش، فضول خرچ، سنکی اور جانے کیا کیا الزامات کے ساتھ پیش کیا گیا۔ ہم بھی آپ کی مانند (ادھوری یا پوری) حقیقت نہیں جانتے لیکن یورپی اور امریکی میڈیا کی مبیّنہ عادتوں کے سبب ہم ان ساری باتوں پر یقین نہیں رکھتے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ایک مسلمان اتنا غیور تو ضرور ہوتا ہے کہ جانتے بوجھتے کسی فاسق اور زانی کی اقتدا میں نماز ادا نہیں کرے گا۔ مگر ہم نے دیکھا ہے کہ کسی بھی عوامی جلسہ میں وقتِ نماز ہوجائے تو خود قذافی مصلے پر امامت کے لیے اترتے تھے اور تمام حاضرین ان کی اقتدا میں نماز ادا کرتے تھے۔ تو کیا دنیا کو ان کے برے کردار کا علم تھا مگر خود لیبیائی عوام اس سے بے خبر تھے؟


قذافی سے اصل میں غلطیاں کہاں ہوئیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ قذافی نے اپنے خلاف کی جانے والی سازش کو محسوس نہیں کیا۔ اسی لیے کسی حفظِ ماتقدم کی جانب ان کی توجہ نہیں گئی۔وہ یقینی طور سے اپنے آخری ایام میں اقتدار کے نشے میں مست و بے خود اور حد سے زیادہ خوداعتماد ہو گئے تھے اور اس کا سبب ان کے جوان بیٹوں میں اقتدار کی آسان منتقلی کے یقین کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔اسی سبب انھوں نے ملوکیت اور جمہوریت کو خلط ملط کردیا۔ انھیں جدید دور میں لیبیا کے مختلف قبائل کی جوان ہوتی ہوئی نسلوں سے وہ رغبت نہیں نظر آئی جو اپنی جوانی کے دنوں میں پورے لیبیائی عوام سے تھی۔ کسی بھی حاکم کے لیے لازمی ہے کہ اس کا عرصۂ حکومت جتنا بڑھتا ہے وہ عوام سے اپنی قربت بھی اتنی بڑھائے۔ اس کی بجائے قذافی نے فاصلے پیدا کیے۔ لیبیا کی نوجوان نسل میں سگریٹ نوشی ایک اسٹیٹس سمبل کی مانند موجود ہے۔ انھیں وقت ضائع کرنے کے علاوہ دوسرے تعلیمی، ثقافتی و معاشرتی اشغال نہیں دیئے گئے۔ اعلیٰ تعلیمی انتظامات اندرونِ ملک کرنے کی بجائے اپنے نوجوانوں کو حکومتی اخراجات پر مغربی ممالک میں بھیجنا انھیں آسان لگا جس کی وجہ سے وطن سے ان کی محبت میں سیاست بھی داخل ہوگئی اور اس پر بیرونی نظریات کے اثرات زیادہ ملتے ہیں۔ ان جیسے اسباب نے زمامِ اقتدار پر قذافی کی پکڑ ایسی ڈھیلی کر دی کہ مغربی ممالک کو موقع ملتے ہی ان پر بھوکے جانوروں کی مانند ٹوٹ پڑے اور آخر قذافی کو ایک عبرت انگیز انجام سے دوچار ہونا پڑا۔ اے قذافی ترے انجام پہ رونا آیا۔