To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Saturday, November 19, 2011

Appetite is a Physiological Desire
in Humans and Animals too

Dr. Rehan Ansari
ہمارے جسم اور اعضاء سے ہمیں جو فائدے ملتے ہیں اس کے مطالعے کی شاخ کو فزیالوجی Physiology کہتے ہیں۔ اسی فزیالوجی کے تحت غور کیجیے تو پتہ چلتا ہے کہ بھوک کی پیدائش اور کھانا دراصل جسم کے حیوانی تقاضے ہیں۔ زندہ بچے رہنے کے لیے۔ لیکن پوری دنیا انھیں ہی پورا کرنے کے لیے روز مری جارہی ہے۔ان تقاضوں سے کچھ فرصت نکالی جائے تو روحانی یا انسانی ضروریات اور تزکیۂ نفس کے لیے کوئی راستہ نکلتا ہے۔ پورے جسم کی اصل کنٹرولر تو روح ہے جسے ہم محسوس نہیں کر پاتے۔ اسی لیے اس کی تربیت اور اصلاح کی جانب سے بھی حد درجہ غافل رہا کرتے ہیں۔
یہ بات ضرور ہے کہ دنیا کے بعض اَدیان میں روحانی تربیت کے لیے روزہ رکھنے جیسی تعلیم بھی دی گئی ہے لیکن اس کا نتیجہ بھی یہی سمجھایا گیا ہے کہ اس سے جسم کی صحت اچھی رہتی ہے،فاسد  خیالات دل میں نہیں اٹھتے، برداشت کی قوت جنم لیتی ہے وغیرہ۔ غور کیجیے تو یہاں بھی محض جسمانی اور نفسانی صحت پر ہی ساری توجہ مرکوز ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ ایسا روزہ رکھنا بھی خود غرضی سے زیادہ کچھ نہیں ہے!
اسلامی روزہ کا حاصل خود خالقِ کائنات نے یہ بتلایا ہے کہ تم میں تقویٰ پیدا ہو گا۔ تقویٰ ایک ایسا عنوان ہے جو راست طور پر انسانیت سے چسپاں ہے، روحانیت سے متعلق ہے، اپنی ذات سے بالا ہو کر پوری انسانی اور حیوانی دنیا سے برتاؤ کا معاملہ ہے۔ اتنا بڑا معاملہ کیا بلا تربیت کوئی آسانی کے ساتھ نمٹا سکتا ہے۔ اس پر ایک نہیں کئی سوالیہ نشان لگانا پڑے گا تب جا کر جواب قسطوں میں مل پائے گا۔خیر ہمارا موضوع اس ضمن میں محض ایک مختصر سی بات کا احاطہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس لیے ہم کوشش کریں گے کہ اسے سمجھا دیا جائے۔
بھوک اور بدن
بھوک ایک لازمی فطری تقاضہ ہے۔دماغ کے مخصوص مراکز اس پر کنٹرول رکھتے ہیں۔بھوک کی پیدائش دماغ میں ہوتی ہے لیکن احساس نظامِ ہضم و انہضام میں ہوتا ہے۔ اس لیے نظامِ اعصاب اور نظامِ ہضم دونوں ہی بھوک کے احساس اور کھانا ہضم کرنے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ دونوں میں سے کسی کی کمزوری اس عمل پر اثر انداز ہوتی ہے۔
پورا نظامِ ہضم ایک پائپ (ٹیوب) نما راستہ ہے، کئی منزلوں اور مرحلوں والا راستہ۔ کھائی ہوئی غذا ہضم کے متعدد مراحل سے گذرتی ہوئی قابلِ اخراج باقیات (فضلہ) میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس پورے راستے میں غذا کہیں چبائی جاتی ہے، کہیں پیسی جاتی ہے، کہیں گھولی جاتی ہے، اور کہیں جذب ہوتی ہے۔ اس میں جگہ جگہ مختلف رطوبتیں، اِنزائم (خامرے)، ہارمون وغیرہ شامل ہوتے رہتے ہیں اور یہ ایک آمیزے کی صورت میں آگے کھسکتی رہتی ہے۔یہاں یہ بات واضح ہو جائے کہ غذا کے آگے بڑھنے کے بعد ہی اس کے لیے لازمی رطوبت یا اِنزائم وغیرہ خارج ہوتے ہیں یا اگر دل میں کسی غذا کی شدید خواہش جاگے تو!۔ جب راستہ کو نسبتاً خالی رکھا جائے گا یا غذا کی خواہش کودبایا جائے گا تو ظاہر سی بات ہے کہ رطوبات کااخراج بھی مقدار میں کم رہے گا۔
بہت سی رطوبتوں کا اخراج اور غذا کا ہضم و انجذاب بھی کس طرح عمل میں آتا ہے اس کا طریق میڈیکل سائنس کی روز افزوں ترقی کے باوجود ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا ہے۔


غذا کی ضرورت
جسم کو توانائی ملنے کے لیے غذا کی ضرورت ہے۔ ہمارا جسم ایک مخصوص و محدود توانائی کے ساتھ اپنے تمام افعال انجام دیتا ہے۔جب بھوک جاگتی ہے تو آدمی کھانا کھاتا ہے۔ کھانا بدن میں داخل ہونے کے بعد ایک معتدل اور دھیمی رفتار کے ساتھ غذائی نالی میں آگے بڑھتا جاتا ہے، معدہ اور چھوٹی اور بڑی آنتوں سے گذرتا ہوا ہضم ہوتا ہے۔اس کے جواہر کو جذب کے قابل بنانے میں رطوبات، انزائم اور خامرے اس پر عمل کرتے ہیں اور ہر ٹھوس اور سیال و نیم سیال غذا کو گلا کر ایک پتلے گھول میں تبدیل کر دیتے ہیں جسے آنتوں میں موجود ساختیں جذب کر کے خون میں شامل کر دیتی ہیں اور یہاں سے اسے جگر میں لے جایا جاتا ہے۔ جگر بدن کا سب سے بڑا غدود ہے اور ایک پروسیسنگ فیکٹری کی طرح غذا کے جذب شدہ حصوں پر عمل کرتا ہے پھر انھیں بالکل سادہ توانائی کے ذرائع میں بدل دیتا ہے۔
بھوک کی ایک مقدار مخصوص ہوتی ہے۔ جسم کو جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنی ہی غذا اسے درکار ہوتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ کھائی ہوئی غذائیں جسم میں ذخیرہ ہو جاتی ہیں اور آدمی کا وزن بڑھنے لگتا ہے۔ یہ بات ہماری سوسائٹی میں بے حد عام ہے اور گذرتے دور کے ساتھ طرزِ زندگی میں تبدیلی نیز آسودگی کی وجہ سے لوگ کم و بیش موٹاپے کا شکار ہیں۔ غذائیں ذخیرہ ہو کر بدن میں مختلف امراض کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہیں۔
نظامِ ہضم کے راستے میں اکثر رطوبات، ہارمون اور انزائم اسی وقت خارج ہوتے ہیں جبکہ معدہ میں غذا اترتی ہے اور پھر جن جن مقامات سے گذرتی ہے تو تحریک کے نتیجے میں ہی رطوبتوں کا اخراج ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک مقام کا عمل مکمل ہونے کے بعد جب غذا دوسرے مقام پر پہنچتی ہے تو پہلے مقام پر رطوبتوں اور تحریک کا عمل فطری طور پر آرام پا جاتا ہے۔ غذا کے ہضم کا پہلا بڑا مرحلہ چھوٹی آنتوں میں انجام پاتا ہے اس لیے یہاں غذا کھانے کے کئی گھنٹے بعد تک رکی رہتی ہے۔ مطالعہ نے یہ واضح کیا ہے کہ جب تک چھوٹی آنتوں میں غذا موجود ہوتی ہے معدہ میں بھوک کی تحریک یا سکیڑ اور درد نہیں پیدا ہوتا نیز معدہ کی رطوبات اور تیزاب کی پیدائش بھی نہیں ہوتی۔ البتہ بارہ گھنٹوں سے زیادہ معدہ مکمل خالی رہ گیا تو پیٹ میں درد کا احساس ہونے لگتا ہے جو طبیعت کو بگاڑ سکتا ہے، کمزوری کا سبب بن سکتا ہے۔ اس ضمن میں ہم حکمتِ حکمِ سحری کا اندازہ آسانی کے ساتھ لگا سکتے ہیں۔ جب معدہ خالی ہوتا ہے تو بھی کچھ رطوبات ضرور خارج ہوتی ہیں لیکن یہ عموماً بے ضرر ہوا کرتی ہیں اور زیادہ تر چکناہٹ (میوکس) اور پیپسِن نامی ہارمون پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اس میں تیزابیت بہت معمولی سی یا نہیں ہوتی ہے۔
بھوک کے اثرات
جب جسم کو بھوک لگتی ہے تو پیٹ میں ایک مخصوص قسم کا مروڑ او درد پیدا ہوتا ہے۔ نوجوانوں میں یہ عمل تیز ہوتا ہے۔ جسمانی حرکات سست پڑنے لگتی ہیں۔ عضلات میں تکان بھرنے لگتی ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ سوڈیم نامی عنصر خرچ ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ عنصر ہمیں کثیر طور پر نمک کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے ایسے وقت میں نمک آمیز غذائیں ہی اچھی لگتی ہیں۔یہ صرف انسانی وصف ہے کہ ہم نمک حاصل کرکے اسے بلاضرورت بھی محض چٹخارا لینے کے لیے زائد مقدار میں لیتے ہیں، طرح طرح سے اس کا استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ چوپایوں اور دیگر حیوانات میں یہ تقاضہ فطری طور پر محض سبزیوں یا دیگر غذائی اشیاء سے ہی مل پاتا ہے وہ بھی بہت کم مقدار میں۔ اسی لیے انھیں ہم سے زیادہ اور بار بار بھوک محسوس ہوتی ہے۔
ہم سب کو اگر یہ احساس کماحقہ ہو جائے کہ بدن کو اصل میں کتنی غذا ضروری یا درکار ہے تو ممکن ہے ہمیں اپنی روحانی ضرورت یا تقویٰ کے حصول میں اور اس کی پرورش میں بڑی آسانی ہو جائے گی۔ لیکن معاملہ عالمی پیمانے پر کچھ یوں ہو چکا ہے کہ مسلمان افطار کے وقت بڑی توجیہات و ترجیحات کے ساتھ اچھی سے اچھی اور زائد کیلوری والی غذاؤں کا استعمال کرنے لگا ہے۔ ہمیں ضروری ہوگیا ہے کہ افطار کے وقت مانگی جانے والی دعاؤں میں تقویٰ والی زندگی کی عطا کے لیے بلا ناغہ دعا کریں تاکہ روزہ کا مقصد بھی حاصل ہو جائے اور صحتِ جسمانی کا بھی لحاظ ہوجائے
۔

Thursday, November 10, 2011

Maulana Azad has been
arrested virtually

Dr. Rehan Ansari
گیارہ، گیارہ، گیارہ (11.11.11)کی تاریخ کسی اور وجہ سے یادگار بنے یا نہ بنے لیکن اس حیثیت سے ضرور یادگار بن گئی ہے کہ ملک کے پہلے وزیرِ تعلیم مولانا ابوالکلام آزادؒ کو آج گرفتار کرلیا گیا۔ وہ بھی پس از مرگ!۔ ان کی ورچوئل گرفتاری Virtual arrest ان معنوں میں یادگار ہے کہ ان کی تاریخ پیدائش کانگریسی حکام اور سرکاری اہلکاروں کو اچانک یاد آئی۔ Oh sorry!، وہ نہیں یاد آئے بلکہ یہ پلاننگ یاد آئی کہ ملک کی دوسری بڑی اکثریت کے ووٹ کس کس طرح کانگریس کی جھولی میں ڈالے جاسکتے ہیں اور کن کن پانسوں کے ساتھ اس اقلیت نما اکثریت کو لبھایا جاسکتا ہے اسے آزمانا چاہیے۔ اسی کے تحت انھیں یاد آگیا کہ مولانا محی الدین خیرالدین ابوالکلام آزاد آج ہی کی تاریخ کو 1888کو پیدا ہوئے تھے۔یعنی اگر وہ بقیدِ حیات ہوتے تو آج ان کی عمر 123 سال کی ہوتی۔ یعنی ایک دو تین! کیا حسنِ اتفاق ہے کہ کانگریس کو ان کی عمر کے ایک دو تین ہونے کے وقت ان کی سالگرہ منانے کا خیال آیا۔مگر اب سے 53سال پہلے (جسے الٹے ہندسوں میں پڑھیں تو تین پانچ سال) 22.2 (۲۲فروری) 1958 کو انھوں نے عالمِ جاودانی میں سکونت لے لی تھی۔ مولانا آزاد جیسی عبقری شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔
مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں


Maulana Azad: The strong icon
of Hindu-Muslim-Unity
مولانا آزاد دورِ غلامی میں بھی اور آزادی کے بعد بھی ہندوستان میں قومی یکجہتی کے صفِ اوّل کے علمبردار تھے۔ انھوں نے ہندومسلم ایکتا کے لیے اپنی آخری سانس تک جدوجہد کی۔ انھوں نے ہندوستان کی تقسیم کی جم کر مخالفت کی لیکن اس جذباتی قوم نے ان کی ایک نہ سنی۔انجام سب کے سامنے ہے کہ وہ ایک دوراندیش مسلم لیڈر تھے اور انھوں نے آزادی سے قبل اور پاکستان کی پیدائش سے قبل ہی اس نوساختہ ملک کے مستقبل کے تعلق سے جیسی پیش قیاسیاں کی تھیں وہ سچ ثابت ہوئیں اور اس کے نتائج سرحد کے دونوں جانب بسنے والی مسلم قوم کو کس قدر سرگراں کیے ہوئے ہیں۔ پوری قوم سربہ گریباں ہے۔ دونوں جانب اپنے اور پرائے اس قوم کا جذباتی سطحوں پر مسلسل اور مستقل استحصال کر رہے ہیں۔ خیر یہ باتیں تو جملۂ معترضہ کے طور پر سامنے آگئیں۔ ہم بات کررہے تھے کہ کانگریس حکومت کو، خصوصاً مہاراشٹر کی مخلوط کانگریس حکومت کو، مولانا آزاد صرف تین روز قبل اس طرح یاد ئے کہ جیسے کوئی نیند سے ہڑبڑا کر اٹھے اور اپنے کسی عزیز کو یاد کرکے دہاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ پورا سرکاری عملہ جو دیوالی اور دیوالے کے مزے لے رہا تھا فی الفور حرکت میں آگیا۔ سرکولر اور نوٹسیں جاری کردیں کہ اسکولوں کی سرمائی تعطیلات کو تین دن مختصر کردیا جائے اور انھیں 11.11.11 کو دوبارہ شروع کردیا جائے اور اس دن بھلے ہی کوئی تعلیمی کام انجام نہ دیں لیکن ملک کے اوّلین وزیرِ تعلیم مولانا آزاد کی یاد میں ’یومِ تعلیم‘ منائیں۔ ان تقریبات کی تیاری کا کوئی اور مٹیریل یا پیش کشیں تو اتنے کم عرصہ میں ممکن نہیں ہیں اس لیے وزیرِ اعظم ہند کی ایک دو صفحاتی (ڈرافٹ شدہ) تقریر پڑھ کر طلبہ و اساتذہ کو سنائی جائیں۔ حالانکہ یہ تقریر خود وزیرِ اعظم الیکٹرانی اور پرنٹ میڈیا سے گھر گھر تک پہنچا سکتے تھے۔ لیکن خانہ پری کے علاوہ مسلمانوں کو متاثر کرنے کا کام بھلا ایسے کہاں ممکن ہوتا؟
مولانا آزاد کی حیات و خدمات دوصفحات میں قید کرنے والی تفصیل نہیں ہے۔
خیر اس کا ایک ہی روشن پہلو یہ ہے کہ اس طرح کم از کم غیر اردو میڈیم اسکولوں میں طلبہ کی نئی جنریشن کے سامنے مولانا آزاد ( علامتی مسلمان پڑھیں) کے ملک کی آزادی یا تعلیمی ترقی میں کنٹری بیوشن کا کچھ تو بیان ہو جائے گا جس کی ہمیں ایک مدت سے تشنگی محسوس ہوتی رہی ہے۔ آگے مزید سرے یہ جنریشن تلاش کر لے گی۔ باقی باتیں اسی کی مانند ہیں جو اردو کے اس مشہور شعر میں درج ہیں کہ:
ان کا جو کام ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

Saturday, November 5, 2011

Our Sacrifice: Few Queries we face
Dr. Rehan Ansari
ہمارے ملک ہندوستان کی دنیا میں بڑی گوناگوں حیثیت و شناخت ہے۔ یہ کثیر لسانی ہے، کثیر مذہبی و کثیر تہذیبی ہے، کثیر جہتی ہے اور کثیر خیالی ہے۔ دنیا میں شاید ہی کسی دوسرے ملک کو یہ امتیاز حاصل ہو۔جب ہماری دوسری عید یعنی عیدِ قرباں نزدیک آتی ہے تو ہمارے ہندوستانی سماج میں طرح طرح کے سوالات کا گشت شروع ہوجاتا ہے۔ ہمارے لیے کچھ علما نے ہندوستانی تناظر میں اسے گائے سے نسبت کی وجہ سے ’بقرعید‘ لکھوا دیا تھا مگر اب چونکہ گائے کے ذبیحہ پر قانونی تو قانونی ہم سب نے بھی روادارانہ اور اخلاقانہ پابندی لگا دی ہے۔ اس لیے کہ ہمارے لیے احکام میں آپشن بھی موجود ہیں۔ بقرعید کو صوتی نسبت ’بکری‘ سے کیا ملی دیگر مذاہب (اور زبان) والوں نے بڑی سہولت کے ساتھ عیدِ قرباں یا ’عیدالاضحی‘ کو ’بکری عید‘ لکھناشروع کر دیا ہے؛ بلکہ چند مفروضات کے تحت تو اسے ’بکری کو کاٹنے اور کھانے کی عید‘ سے منسوب بھی کردیا ہے۔ اس کے قصور وار کیا تنہا وہی ہیں؟... شاید نہیں!... ہم بھی برابر کے قصوروار ہیں۔
ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں (بلکہ کچھ پہلے سے ہی) برادرانِ اسلام اور برادرانِ وطن سے چند باتیں اور ملاقاتیں۔ ان ملاقاتوں میں سوالات اور چند تشویش (عملِ ذبیحہ سے ناپسندیدگی پڑھیں) کا اظہار۔ ان سب کا لبِ لباب ایسا نکلتا ہے کہ عیدالفطر (یعنی میٹھی والی) سے ’ہماری یہ عید کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے‘!... معاذاﷲ ثم معاذاﷲ۔ آپ بھی ایسے حالات سے دوچار ضرور ہوتے ہوں گے۔
آئیے ، دیکھیں کیسی کیسی باتیں ہوتی ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر مسلم بستیوں یا مذبح خانوں میں سال میں اور کسی دن جانور ذبح نہیں کیے جاتے۔ اس لیے بعض لوگ جو مویشیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں انھیں بڑا ناگوار گذرتا ہے۔ایک صاحب نے، جو دواخانوں میں دوائیں ڈسٹریبیوٹ کرتے ہیں اور ہندو عقیدہ کے ہیں، ہم سے پوچھا کہ اگر آپ لوگ ان جانوروں کو اتنی کٹھورتا سے قتل نہیں کریں گے تو کیا فرق پڑ جائے گا؟... بڑا راست سوال تھا۔ ہم نے سوچا انھیں جواب کیا دیا جائے؟... بہرحال ان سے کہا کہ آپ اصل میں ایک مخصوص ماحول کے پلے بڑھے ہیں اس لیے میں آپ کو اس سوال کا جواب ضرور دوں گا لیکن ایک بات بتلائیے کہ قربانی جسے آپ ’بلی‘ کہتے ہیں، کیا پوری دنیا میں یا ہندوستان میں صرف مسلمان دیتے ہیں؟ اور بلی کا مطلب ہی عام طور سے جان کی بلی سے لیا جاتا ہے۔ وہ کسی قدر سٹپٹائے لیکن قائل ہوگئے۔ ہم نے کہا اب آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ مسلمان ایک خاص حکم کے تحت اور محض مخصوص تین دنوں میں یہ عمل کرتے ہیں۔ اسے قتل نہیں کہتے بلکہ ’ذبح‘ کہتے ہیں۔ ذبح ایک مکمل تربیتی عمل ہے۔ عبادت کا ایک جز ہے۔ مسلمانوں کو کوئی اور منفی جذبہ یا نجی مفاد و لالچ جانوروں کی جان لینے پر نہیں اکساتی۔ یہ جذبہ صرف اور صرف نسبتِ انبیاء علیہم السلام اور ان کی پیروی سے متعلق ہے۔ خالصتاً۔ پھر چوپایوں مویشیوں کی ایک مخصوص فہرست کے تحت۔ ان کے علاوہ کوئی جانور نہیں لیے جاتے۔

Milk is for the calves but humans steal it
Can it be told so... nay

ایک دوسرے صاحب نے ہم سے یوں گفتگو کی کہ جب ہم کسی کو جان دے نہیں سکتے تو پھر ہمیں جان لینے کا حق کہاں سے حاصل ہوگیا؟ بڑا منطقی سوال ہے اور اتنا ہی عام بھی۔ خصوصاً تنظیمِ حقوقِ جانوراں PETA  کے اراکین کے نزدیک۔ عالمی پیمانے پر۔ خیر، ہم نے ان سے ایک سوال کیا کہ آپ کے نزدیک ان جانوروں کا جنھیں ہم ذبح کرتے ہیں کوئی اور مقصد دنیا میں نظر آتا ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم انھیں کاشتکاری کے لیے اور دودھ کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ جب تک ان کی مادہ بچے نہ جنے تو کیا ان سے دودھ مل سکتا ہے؟ وہ کسی قدر شش و پنج میں پڑے پھر ہم نے کہا کہ اس طرح تو ہم ان کا دودھ دوہ کر خود استعمال کر کے اس کے نومولود کا حق ماردیتے ہیں اور دودھ خود چٹ کرجاتے ہیں۔ کون کس پر ظلم کررہا ہے؟ پھر ان جانوروں کی پیدائش بھی ایک ساتھ کئی کئی بچوں کی صورت میں ہوتی ہے۔ یعنی کتنوں پر ایک ساتھ ظلم؟ پھر دنیا بھر میں سب سے زیادہ ترجیح صرف بھینس کے دودھ کو حاصل ہے۔... بہرکیف جو تعداد ان جانوروں کی بڑھ جاتی ہے ان کا استعمال یا فائدہ کیا؟... ان سے کوئی جواب نہیں بن پڑا۔ میں نے مزید کہا کہ جہاں تک کاشتکاری کا معاملہ ہے تو دنیا بھر میں بھی اور ہمارے ملک میں بھی ان جانوروں پر مشینوں اور نئی تکنیکوں کو فوقیت حاصل ہوتی جارہی ہے۔ کیا اس مصرف میں بھی یہ جانور اتنے موزوں ہیں اب؟...
مذکورہ بالا صاحب سے ہم نے یہ بات بھی کہی کہ صرف عیدِ قرباں کے موقع پر ایسے سوال کیا غمازی کرتے ہیں۔ منفی۔ سال بھر جو مچھلیاں، مرغ، بکرے، اور دوسرے حلال و حرام چوپایے کاٹے اور بیچے جاتے ہیں ان کی سوپر بازاروں میں باقاعدہ نمائش کی جاتی ہے وہاں (ان ٹریڈرس کے سامنے) آپ لوگوں کو یہ سب کہتے ہوئے نہیں دیکھا جاتا؟ صرف اخباروں یا میڈیا میں ادھ ننگے یا مکمل برہنہ فوٹو شائع کرنے تک آپ سب کو متحرک دیکھا جاتا ہے۔ کیا سوپر مارکیٹ میں کٹنے والے یہ جانور سب بے جان ہوتے ہیں؟... تو وہ بغلیں جھانکنے لگے۔ پھر دنیا بھر میں جو لوگ ہڈیوں اور چرمی اشیاء کے کاروبار سے متعلق ہیں اور بڑے بڑے ایکسپورٹر اور امپورٹر ہیں ان کے سامنے یہ باتیں اور مظاہرے کیوں نہیں کیے جاتے۔ وہ تو بیشتر اور اکثر غیرمسلم ہی ہیں!... خود PETA کے مظاہرین میں کتنے بہت سے ہوں گے جو چمڑے کی اشیا، بیلٹ، پرس، والیٹ، جوتے اور جوتیاں وغیرہ استعمال کرتے ہوں گے۔


Some Rare Breed Cattles
All season costly animals
ایک ملاقاتی نے ایسا سوال بھی داغا کہ ’بقرعید کو مہنگے سے مہنگا جانور خریدنا تو نمائش کرنا اور اسراف ہے!‘... واہ صاحب!۔ چلیے آپ کی مانند ہم بھی مان لیتے ہیں کہ یہ اسراف ہے۔ بھائی میرے، عید کو جب گوالے دودھ کی قیمت دوگنی یا سہ گنی لیتے ہیں یا دیگر مذاہب والوں کے تیوہاروں کے موقع پر بھی جب اشیائے خورونوش کی قیمت بڑھا کرلی جانے لگتی ہے تو اسے مارکیٹنگ اسٹریٹجی کہتے ہیں۔اس وقت اسراف والی تھیوری تبدیل ہوکر ڈیمانڈ اور سپلائی والی بن جاتی ہے۔ چلیے بھائی وہی جانور یعنی وہ اعلیٰ نسل والا مویشی جس کی قیمت بڑی ہوتی ہے آپ سادہ دنوں میں بھی سستا خرید کر بتلا دیں۔ مان جائیں گے کہ عیدِ قرباں کے موقع پر اس کی قیمت زیادہ دینا اسراف تھا۔ عیدِ قرباں کے قریب میں تو سادہ دنوں میں ایک عام سے جانور کی جو قیمت ہوتی ہے اسے عام خریدار بھی تیوہار کی وجہ سے تقریباً دوگنی قیمت میں خرید پاتا ہے۔ مخصوص اور اعلیٰ نسل کے جانوروں کی پیدائش اور پرداخت نیز نگرانی کا پورا دور مہنگا ہوتا ہے تو وہ جانور سستے ملیں گے بھی کیسے؟ اور اگر کوئی صاحبِ حیثیت ہے تو اسے اس کی قربانی دینے میں ایک نعمت کے حصول کا احساس بھی تو ملتا ہے۔ اس کی پیمائش کس توازن سے کی جاسکتی ہے؟... ہاں ’اور بھی غم ہیں زمانے میں...‘ سمجھانے والے سال بھر اس کی شکایت کرتے ضرور ملتے ہیں۔ یہ ملتے رہیں گے۔


It's difficult to find people who
do not like to possess Leather goods
ذبیحہ کے احکام میں صحتمند جانور اور اس کی کچھ خصوصیات کا ہونا لازمی ہے۔ ہمارے درمیان یہ بھی سوال کیا جاتا ہے کہ ہم سب مذبح میں ’جھوٹا سرٹیفکیٹ‘ لے کر جانور کو ذبح کرتے ہیں یعنی وہاں کا ویٹرنری ڈاکٹر قانونی خانہ پری کرتے وقت یہ بھرتا ہے کہ جانور قابلِ کاشتکاری نہیں ہے اور لاغر و بیمار ہے۔ کیا ایک جھوٹ کے ساتھ ہماری قربانی ہوتی ہے؟... واﷲ، نہیں ہونی چاہیے۔ مگر، ہم نے خود کب کہا کہ وہ ڈاکٹر ایسا سب لکھے؟۔ ہم تو اپنی مذہبی ذمہ داری ادا کرنے جارہے ہیں۔ یہ تو ایک ملکی اور قانونی پیچیدگی کا معاملہ ہے جسے نمٹانے کے لیے حکومت اور قانون سازوں نے یہ سب داخل کیا ہے۔ یہ کوئی مذہبی شق ہے ہی نہیں۔ یہ تو دیگر مذاہب والوں کی اعصابی کشیدگی کا علاج ہے۔ ان سے ہمیں صحیح معنوں میں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بہت سی ایسی ہی خانہ پریاں مسلسل اور ہر دن اس ملک میں کی جاتی ہیں۔ اگر وہ اس خانہ پری کو صحیح کرلیں، اور ہم خود چاہیں گے کہ ایسا ہو، تو ہمیں زیادہ خوشی ہوگی۔ مگر ان کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ ان کی چکی میں ہم کیوں پسیں۔ وہ جو لکھنا چاہیں لکھیں، بس ان مخصوص ایام میں ہمیں اپنے مذہبی امور کی ادائیگی میں تعاون کریں۔ ہم نے اپنا جانور شرعی احکام کا پاس کرکے لیا ہے اور جس کے حضور قربانی دی جارہی ہے وہ جاننے والا ہے، کسی دنیاوی سرٹیفکیٹ کی احتیاج نہیں ہے۔
بہرکیف ایسے اور نہ جانے کتنے واقعات ہیں جو ذی الحجہ کے چاند کی دید سے شروع ہوکر عید تک چلتے ہیں اور ہم میں سے اکثر کو الجھن میں ڈالے رہتے ہیں۔ اﷲ ہمیں راستی کی توفیق عطاکرے اور ان اعتراضات کا جو ہمارے ملک میں مقدر ہیں کا صحیح انداز سے جواب دینے کی صلاحیت عطا فرمائے۔ ایں دعا است۔ (آمین)