To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Sunday, November 27, 2011

Not Submissive (Tasleema) but
Infidel(Takzeeba):
Dr. Rehan Ansari
مسلمانوں کے خلاف میڈیا کے پاس چند زہرآلود ناخن اور دانت ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ وقت بے وقت انھیں کھول کر نکالا جاتا ہے اور ہمارے چہروں پر کچھ خراشیں ڈالی جاتی ہیں تاکہ ہم بلبلائیں اور چیخیں، چلّائیں۔ دنیا کنارے کھڑی ہوکر تماشا دیکھتی رہے۔ ایسی ہی ایک زہریلی ناگن اس کی آستین میں پل کر توانا ہوئی ہے جس کے لیے اس کے ماں باپ یا بزرگوں نے بڑے ارمانوں سے ’تسلیمہ‘ Submissive نام تجویز کیا تھا؛ مگر اس نے اپنے ہر عمل اور بیان سے ’تکذیبہ‘  Denial / Infidelہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ خیر مسلمانوں کی جماعت میں ایسے گھس  پیٹھے   (اپنے نصیب اور مسلمانوں کی بدنصیبی سے) کئی افراد ہیں جنھیں ’’اسمِ غیر مسمٰی‘‘ ہونے کا ’اعزاز‘ حاصل ہے۔ انھی میں زیرِ بحث نام بھی ہے۔


This and such is never an
Islamic Act
یقین جانیے مجھے اس فحش نگار اور یاواگو قلمکار سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں ہوئی۔ صرف ابتدائی دنوں میں جب اس بے شرم کا ناول ’لجّا‘ Lajja شائع ہوا تھا اور اس کے بعد خبروں میں اس کا نام زیادہ آرہا تھا تو ان دنوں اس کے تعلق سے خبریں ضرور پڑھی تھیں (جو بیشتر اب میرے حافظے میں بھی نہیں ہیں)۔ خون ہمارا بھی کھولا تھا۔ ایمانی تقاضہ تھا۔ ہماری ماں کو کوئی بھی گالی دے تو کیسے برداشت ہوگا۔ لیکن محسوس ہوا کہ گالی دینے والوں کو ان دنوں ہماری حکومت اور بیرونی حکومتیں بھی خاصا تحفظ فراہم کرتی ہیں؛ اور ہمارے غم یا غصہ کی کوئی قدر و قیمت اس جہان میں نہیں ہے؛ تو ہم نے اس کا اظہار اپنے مالکِ حقیقی کے دربار میں کرنا اور اسی سے استعانت طلب کرنے میں مناسب ترین جانا۔ اب جب تک مناسب وقت یا موقع نہیں ملتا یہی کرنا چاہیے۔ ...لیکن...!
لیکن؛ آج اس موضوع پر لکھنے کے لیے میں نے خود کو بیحد مجبور پایا ہے۔ تازہ ترین واردات اس دریدہ دہن کے واقعۂ قربانی و حج سے متعلق بیان کے بعد کی ہے۔ اس سے کچھ ہی دنوں قبل اس نے مسلمان عورتوں کو ایک نامعقول ترین اور ہتکِ ناموسِ نسواں مشورہ دے کر ہلچل مچانے کی کریہہ کوشش کی تھی۔ (حالانکہ عورت کی عزت سے کھیلنے والے اس مشورہ پر حقوقِ نسواں کے علمبرداروں کو عالمی سطح پر اپنا پرچم بلند کرنا چاہیے تھا لیکن وائے حیرت ایسا نہیں ہوا)۔ واردات کا ذکر چل رہا تھا۔ واردات یوں ہوئی کہ اس ’تکذیبہ‘ کا بیان اردو میڈیا میں نمایاں طور سے شائع کردیا گیا۔ ہم نے صرف سرخی پڑھی اور متن کا وہ حصہ جسے کسی قدر جلی انداز میں دیا گیا تھا۔ تفصیل پڑھنے سے گریز ہی کیا۔ دوسری زبان والوں نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔ ہمارے یہاں چند افراد، تنظیمیں اور ادارے ایسے ہر موقع کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ انھیں ہاتھ آگیا۔ ہجو شروع ہوگئی۔ کسی نے انھیں کسی نے اسے فاحشہ کہہ کر دل کی بھڑاس نکالی، کسی نے کتیا کہا اور کچھ نے راست گالیوں والی زبان استعمال کی۔ وزیروں اور دیگر مقتدر حضرات سے ملاقات کرکے احتجاج کیا گیا۔ یہ سب اخباروں میں متعلقہ افراد کی تصاویر کے ساتھ شامل ہوئی۔ وسیع پیمانے پر اس تکذیبہ کے خلاف پولیس کیس درج کروائے گئے۔ اب کوئی فالواَپ نہیں دکھائی دیتا۔ صرف خبروں تک سب ہوا۔ تکذیبہ اپنے اسپانسرس کی محفوظ پناہ میں اپنے دانت اور ناخن تیز کرتی بیٹھی ہے۔ کیونکہ ہمارا یہی احتجاج اور حرکات تو اس کی غذا اور آکسیجن ہے۔ ہم اس کی تحریریں نہیں پڑھتے۔ کیوں پڑھیں؟۔ جس نے آج تک اپنی (اخلاقی) اصلاح نہیں کی وہ کیسی باتیں لکھتی ہوگی؟۔ جنھوں نے پڑھا بھی ہے تو ان ’دانشواران‘  نے بھی آج تک اس کے ایسے حوالے نقل کے لیے نہیں نکالے جسے زبان و تہذیب اور ادب کا نمائندہ اقتباس بنا کر پیش کرسکیں۔ کس لیے پڑھیں؟۔ ...البتہ...!
البتہ، وہ (ان کے ّمخصوص) میڈیم کے ذریعہ خبریں بھیجتے رہے۔ ردّ عمل میں ہم احتجاج کرتے رہے، غم مناتے رہے، غصہ دکھلاتے رہے، وہ خوش ہوتے رہے، اپنا منشا پاکر ان کا حوصلہ بڑھتا رہا۔ ہمارے یہاں یہ سب گھاٹے اٹھانے کے باوجودتکذیبہ کی باتوں پر آستین چڑھا کر باتیں کرنے اور اسے برا بھلا کہنے ہی نہیں ہرزہ سرائی کرنے تک خود کو مشغول کرکے دشمنانِ اسلام و مسلمین کے مقاصد کے حصول کو آسان بنا دیتے ہیں۔




جہاں تک سوال ہے کہ کیا یہ سب غیرضروری ہے، تو ایسا نہیں ہے۔ صدمہ اور غم ہونا ایک فطری عمل ہے اور اس سے بڑھ کر ایمانی تقاضہ بھی ہے۔ مگر اس کا ہم جس طرح اظہار کررہے ہیں وہ نہ صرف بے سود ہے بلکہ بسا اوقات استہزا اور تمسخر کا سب بن جاتا ہے۔ اس کے خلاف اقدام کی دوسری صورتوں پر غور کرنا لازمی ہے۔ میری دانست میں اس کے خلاف سب سے پہلا قدم تو یہ ہونا چاہیے کہ ایسے کذابوں اور کافروں کی خبروں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ دانستہ چشم پوشی کرنا اور کسی بھی میڈیا سے ان کی خبروں کا نشریہ بند کردینا چاہیے۔ انھیں اور ان کی حرکات کو یکسر نظرانداز کرنا چاہیے۔ ہمارا احتجاجی جذبہ، ہمارا رنج، ہماری کلفت اور بے چینی کا اندراج صرف اپنے مالکِ حقیقی کے حضور میں درج کر کے اس سے استعانت کی دعا کریں۔ اصل مجرم اور آگ لگانے والوں کو اپنے ہاتھوں سے سزا دینے کے باب میں آگے لکھنے کو اور بھی باتیں ہیں مگر ہمیں پتہ ہے کہ انھیں لکھنے کے بعد دشمنانِ اسلام و مسلمین کو ہم بھی ایک موقع فراہم کردیں گے؛ اس لیے سرِ دست ہمیں اتنا ہی کہنا ہے کہ ’تکذیبہ‘ جیسی عورتیں اور مرد کسی دور میں کم ہوئے ہیں اور نہ مستقبل میں ان کی آمد غیرمتوقع ہے۔ مگر اتنا ضرور ہے کہ ان کے کسی بھی اقدام سے اسلام کا کوئی نقصان ہوا ہے اور نہ یہ اﷲ میاں کا ہی کچھ بگاڑ سکے ہیں۔ خود ہی ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ اور بات کہ مسلمانوں میں سے کچھ کے لیے یہ سدا نقصان کا سبب بنے ہیں۔ اﷲ ہمیں ان شیاطین من الجنۃ والناس سے محفوظ و مامون رکھے (آمین)

Saturday, November 19, 2011

Appetite is a Physiological Desire
in Humans and Animals too

Dr. Rehan Ansari
ہمارے جسم اور اعضاء سے ہمیں جو فائدے ملتے ہیں اس کے مطالعے کی شاخ کو فزیالوجی Physiology کہتے ہیں۔ اسی فزیالوجی کے تحت غور کیجیے تو پتہ چلتا ہے کہ بھوک کی پیدائش اور کھانا دراصل جسم کے حیوانی تقاضے ہیں۔ زندہ بچے رہنے کے لیے۔ لیکن پوری دنیا انھیں ہی پورا کرنے کے لیے روز مری جارہی ہے۔ان تقاضوں سے کچھ فرصت نکالی جائے تو روحانی یا انسانی ضروریات اور تزکیۂ نفس کے لیے کوئی راستہ نکلتا ہے۔ پورے جسم کی اصل کنٹرولر تو روح ہے جسے ہم محسوس نہیں کر پاتے۔ اسی لیے اس کی تربیت اور اصلاح کی جانب سے بھی حد درجہ غافل رہا کرتے ہیں۔
یہ بات ضرور ہے کہ دنیا کے بعض اَدیان میں روحانی تربیت کے لیے روزہ رکھنے جیسی تعلیم بھی دی گئی ہے لیکن اس کا نتیجہ بھی یہی سمجھایا گیا ہے کہ اس سے جسم کی صحت اچھی رہتی ہے،فاسد  خیالات دل میں نہیں اٹھتے، برداشت کی قوت جنم لیتی ہے وغیرہ۔ غور کیجیے تو یہاں بھی محض جسمانی اور نفسانی صحت پر ہی ساری توجہ مرکوز ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ ایسا روزہ رکھنا بھی خود غرضی سے زیادہ کچھ نہیں ہے!
اسلامی روزہ کا حاصل خود خالقِ کائنات نے یہ بتلایا ہے کہ تم میں تقویٰ پیدا ہو گا۔ تقویٰ ایک ایسا عنوان ہے جو راست طور پر انسانیت سے چسپاں ہے، روحانیت سے متعلق ہے، اپنی ذات سے بالا ہو کر پوری انسانی اور حیوانی دنیا سے برتاؤ کا معاملہ ہے۔ اتنا بڑا معاملہ کیا بلا تربیت کوئی آسانی کے ساتھ نمٹا سکتا ہے۔ اس پر ایک نہیں کئی سوالیہ نشان لگانا پڑے گا تب جا کر جواب قسطوں میں مل پائے گا۔خیر ہمارا موضوع اس ضمن میں محض ایک مختصر سی بات کا احاطہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس لیے ہم کوشش کریں گے کہ اسے سمجھا دیا جائے۔
بھوک اور بدن
بھوک ایک لازمی فطری تقاضہ ہے۔دماغ کے مخصوص مراکز اس پر کنٹرول رکھتے ہیں۔بھوک کی پیدائش دماغ میں ہوتی ہے لیکن احساس نظامِ ہضم و انہضام میں ہوتا ہے۔ اس لیے نظامِ اعصاب اور نظامِ ہضم دونوں ہی بھوک کے احساس اور کھانا ہضم کرنے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ دونوں میں سے کسی کی کمزوری اس عمل پر اثر انداز ہوتی ہے۔
پورا نظامِ ہضم ایک پائپ (ٹیوب) نما راستہ ہے، کئی منزلوں اور مرحلوں والا راستہ۔ کھائی ہوئی غذا ہضم کے متعدد مراحل سے گذرتی ہوئی قابلِ اخراج باقیات (فضلہ) میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس پورے راستے میں غذا کہیں چبائی جاتی ہے، کہیں پیسی جاتی ہے، کہیں گھولی جاتی ہے، اور کہیں جذب ہوتی ہے۔ اس میں جگہ جگہ مختلف رطوبتیں، اِنزائم (خامرے)، ہارمون وغیرہ شامل ہوتے رہتے ہیں اور یہ ایک آمیزے کی صورت میں آگے کھسکتی رہتی ہے۔یہاں یہ بات واضح ہو جائے کہ غذا کے آگے بڑھنے کے بعد ہی اس کے لیے لازمی رطوبت یا اِنزائم وغیرہ خارج ہوتے ہیں یا اگر دل میں کسی غذا کی شدید خواہش جاگے تو!۔ جب راستہ کو نسبتاً خالی رکھا جائے گا یا غذا کی خواہش کودبایا جائے گا تو ظاہر سی بات ہے کہ رطوبات کااخراج بھی مقدار میں کم رہے گا۔
بہت سی رطوبتوں کا اخراج اور غذا کا ہضم و انجذاب بھی کس طرح عمل میں آتا ہے اس کا طریق میڈیکل سائنس کی روز افزوں ترقی کے باوجود ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا ہے۔


غذا کی ضرورت
جسم کو توانائی ملنے کے لیے غذا کی ضرورت ہے۔ ہمارا جسم ایک مخصوص و محدود توانائی کے ساتھ اپنے تمام افعال انجام دیتا ہے۔جب بھوک جاگتی ہے تو آدمی کھانا کھاتا ہے۔ کھانا بدن میں داخل ہونے کے بعد ایک معتدل اور دھیمی رفتار کے ساتھ غذائی نالی میں آگے بڑھتا جاتا ہے، معدہ اور چھوٹی اور بڑی آنتوں سے گذرتا ہوا ہضم ہوتا ہے۔اس کے جواہر کو جذب کے قابل بنانے میں رطوبات، انزائم اور خامرے اس پر عمل کرتے ہیں اور ہر ٹھوس اور سیال و نیم سیال غذا کو گلا کر ایک پتلے گھول میں تبدیل کر دیتے ہیں جسے آنتوں میں موجود ساختیں جذب کر کے خون میں شامل کر دیتی ہیں اور یہاں سے اسے جگر میں لے جایا جاتا ہے۔ جگر بدن کا سب سے بڑا غدود ہے اور ایک پروسیسنگ فیکٹری کی طرح غذا کے جذب شدہ حصوں پر عمل کرتا ہے پھر انھیں بالکل سادہ توانائی کے ذرائع میں بدل دیتا ہے۔
بھوک کی ایک مقدار مخصوص ہوتی ہے۔ جسم کو جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنی ہی غذا اسے درکار ہوتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ کھائی ہوئی غذائیں جسم میں ذخیرہ ہو جاتی ہیں اور آدمی کا وزن بڑھنے لگتا ہے۔ یہ بات ہماری سوسائٹی میں بے حد عام ہے اور گذرتے دور کے ساتھ طرزِ زندگی میں تبدیلی نیز آسودگی کی وجہ سے لوگ کم و بیش موٹاپے کا شکار ہیں۔ غذائیں ذخیرہ ہو کر بدن میں مختلف امراض کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہیں۔
نظامِ ہضم کے راستے میں اکثر رطوبات، ہارمون اور انزائم اسی وقت خارج ہوتے ہیں جبکہ معدہ میں غذا اترتی ہے اور پھر جن جن مقامات سے گذرتی ہے تو تحریک کے نتیجے میں ہی رطوبتوں کا اخراج ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک مقام کا عمل مکمل ہونے کے بعد جب غذا دوسرے مقام پر پہنچتی ہے تو پہلے مقام پر رطوبتوں اور تحریک کا عمل فطری طور پر آرام پا جاتا ہے۔ غذا کے ہضم کا پہلا بڑا مرحلہ چھوٹی آنتوں میں انجام پاتا ہے اس لیے یہاں غذا کھانے کے کئی گھنٹے بعد تک رکی رہتی ہے۔ مطالعہ نے یہ واضح کیا ہے کہ جب تک چھوٹی آنتوں میں غذا موجود ہوتی ہے معدہ میں بھوک کی تحریک یا سکیڑ اور درد نہیں پیدا ہوتا نیز معدہ کی رطوبات اور تیزاب کی پیدائش بھی نہیں ہوتی۔ البتہ بارہ گھنٹوں سے زیادہ معدہ مکمل خالی رہ گیا تو پیٹ میں درد کا احساس ہونے لگتا ہے جو طبیعت کو بگاڑ سکتا ہے، کمزوری کا سبب بن سکتا ہے۔ اس ضمن میں ہم حکمتِ حکمِ سحری کا اندازہ آسانی کے ساتھ لگا سکتے ہیں۔ جب معدہ خالی ہوتا ہے تو بھی کچھ رطوبات ضرور خارج ہوتی ہیں لیکن یہ عموماً بے ضرر ہوا کرتی ہیں اور زیادہ تر چکناہٹ (میوکس) اور پیپسِن نامی ہارمون پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اس میں تیزابیت بہت معمولی سی یا نہیں ہوتی ہے۔
بھوک کے اثرات
جب جسم کو بھوک لگتی ہے تو پیٹ میں ایک مخصوص قسم کا مروڑ او درد پیدا ہوتا ہے۔ نوجوانوں میں یہ عمل تیز ہوتا ہے۔ جسمانی حرکات سست پڑنے لگتی ہیں۔ عضلات میں تکان بھرنے لگتی ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ سوڈیم نامی عنصر خرچ ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ عنصر ہمیں کثیر طور پر نمک کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے ایسے وقت میں نمک آمیز غذائیں ہی اچھی لگتی ہیں۔یہ صرف انسانی وصف ہے کہ ہم نمک حاصل کرکے اسے بلاضرورت بھی محض چٹخارا لینے کے لیے زائد مقدار میں لیتے ہیں، طرح طرح سے اس کا استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ چوپایوں اور دیگر حیوانات میں یہ تقاضہ فطری طور پر محض سبزیوں یا دیگر غذائی اشیاء سے ہی مل پاتا ہے وہ بھی بہت کم مقدار میں۔ اسی لیے انھیں ہم سے زیادہ اور بار بار بھوک محسوس ہوتی ہے۔
ہم سب کو اگر یہ احساس کماحقہ ہو جائے کہ بدن کو اصل میں کتنی غذا ضروری یا درکار ہے تو ممکن ہے ہمیں اپنی روحانی ضرورت یا تقویٰ کے حصول میں اور اس کی پرورش میں بڑی آسانی ہو جائے گی۔ لیکن معاملہ عالمی پیمانے پر کچھ یوں ہو چکا ہے کہ مسلمان افطار کے وقت بڑی توجیہات و ترجیحات کے ساتھ اچھی سے اچھی اور زائد کیلوری والی غذاؤں کا استعمال کرنے لگا ہے۔ ہمیں ضروری ہوگیا ہے کہ افطار کے وقت مانگی جانے والی دعاؤں میں تقویٰ والی زندگی کی عطا کے لیے بلا ناغہ دعا کریں تاکہ روزہ کا مقصد بھی حاصل ہو جائے اور صحتِ جسمانی کا بھی لحاظ ہوجائے
۔

Thursday, November 10, 2011

Maulana Azad has been
arrested virtually

Dr. Rehan Ansari
گیارہ، گیارہ، گیارہ (11.11.11)کی تاریخ کسی اور وجہ سے یادگار بنے یا نہ بنے لیکن اس حیثیت سے ضرور یادگار بن گئی ہے کہ ملک کے پہلے وزیرِ تعلیم مولانا ابوالکلام آزادؒ کو آج گرفتار کرلیا گیا۔ وہ بھی پس از مرگ!۔ ان کی ورچوئل گرفتاری Virtual arrest ان معنوں میں یادگار ہے کہ ان کی تاریخ پیدائش کانگریسی حکام اور سرکاری اہلکاروں کو اچانک یاد آئی۔ Oh sorry!، وہ نہیں یاد آئے بلکہ یہ پلاننگ یاد آئی کہ ملک کی دوسری بڑی اکثریت کے ووٹ کس کس طرح کانگریس کی جھولی میں ڈالے جاسکتے ہیں اور کن کن پانسوں کے ساتھ اس اقلیت نما اکثریت کو لبھایا جاسکتا ہے اسے آزمانا چاہیے۔ اسی کے تحت انھیں یاد آگیا کہ مولانا محی الدین خیرالدین ابوالکلام آزاد آج ہی کی تاریخ کو 1888کو پیدا ہوئے تھے۔یعنی اگر وہ بقیدِ حیات ہوتے تو آج ان کی عمر 123 سال کی ہوتی۔ یعنی ایک دو تین! کیا حسنِ اتفاق ہے کہ کانگریس کو ان کی عمر کے ایک دو تین ہونے کے وقت ان کی سالگرہ منانے کا خیال آیا۔مگر اب سے 53سال پہلے (جسے الٹے ہندسوں میں پڑھیں تو تین پانچ سال) 22.2 (۲۲فروری) 1958 کو انھوں نے عالمِ جاودانی میں سکونت لے لی تھی۔ مولانا آزاد جیسی عبقری شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔
مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں


Maulana Azad: The strong icon
of Hindu-Muslim-Unity
مولانا آزاد دورِ غلامی میں بھی اور آزادی کے بعد بھی ہندوستان میں قومی یکجہتی کے صفِ اوّل کے علمبردار تھے۔ انھوں نے ہندومسلم ایکتا کے لیے اپنی آخری سانس تک جدوجہد کی۔ انھوں نے ہندوستان کی تقسیم کی جم کر مخالفت کی لیکن اس جذباتی قوم نے ان کی ایک نہ سنی۔انجام سب کے سامنے ہے کہ وہ ایک دوراندیش مسلم لیڈر تھے اور انھوں نے آزادی سے قبل اور پاکستان کی پیدائش سے قبل ہی اس نوساختہ ملک کے مستقبل کے تعلق سے جیسی پیش قیاسیاں کی تھیں وہ سچ ثابت ہوئیں اور اس کے نتائج سرحد کے دونوں جانب بسنے والی مسلم قوم کو کس قدر سرگراں کیے ہوئے ہیں۔ پوری قوم سربہ گریباں ہے۔ دونوں جانب اپنے اور پرائے اس قوم کا جذباتی سطحوں پر مسلسل اور مستقل استحصال کر رہے ہیں۔ خیر یہ باتیں تو جملۂ معترضہ کے طور پر سامنے آگئیں۔ ہم بات کررہے تھے کہ کانگریس حکومت کو، خصوصاً مہاراشٹر کی مخلوط کانگریس حکومت کو، مولانا آزاد صرف تین روز قبل اس طرح یاد ئے کہ جیسے کوئی نیند سے ہڑبڑا کر اٹھے اور اپنے کسی عزیز کو یاد کرکے دہاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ پورا سرکاری عملہ جو دیوالی اور دیوالے کے مزے لے رہا تھا فی الفور حرکت میں آگیا۔ سرکولر اور نوٹسیں جاری کردیں کہ اسکولوں کی سرمائی تعطیلات کو تین دن مختصر کردیا جائے اور انھیں 11.11.11 کو دوبارہ شروع کردیا جائے اور اس دن بھلے ہی کوئی تعلیمی کام انجام نہ دیں لیکن ملک کے اوّلین وزیرِ تعلیم مولانا آزاد کی یاد میں ’یومِ تعلیم‘ منائیں۔ ان تقریبات کی تیاری کا کوئی اور مٹیریل یا پیش کشیں تو اتنے کم عرصہ میں ممکن نہیں ہیں اس لیے وزیرِ اعظم ہند کی ایک دو صفحاتی (ڈرافٹ شدہ) تقریر پڑھ کر طلبہ و اساتذہ کو سنائی جائیں۔ حالانکہ یہ تقریر خود وزیرِ اعظم الیکٹرانی اور پرنٹ میڈیا سے گھر گھر تک پہنچا سکتے تھے۔ لیکن خانہ پری کے علاوہ مسلمانوں کو متاثر کرنے کا کام بھلا ایسے کہاں ممکن ہوتا؟
مولانا آزاد کی حیات و خدمات دوصفحات میں قید کرنے والی تفصیل نہیں ہے۔
خیر اس کا ایک ہی روشن پہلو یہ ہے کہ اس طرح کم از کم غیر اردو میڈیم اسکولوں میں طلبہ کی نئی جنریشن کے سامنے مولانا آزاد ( علامتی مسلمان پڑھیں) کے ملک کی آزادی یا تعلیمی ترقی میں کنٹری بیوشن کا کچھ تو بیان ہو جائے گا جس کی ہمیں ایک مدت سے تشنگی محسوس ہوتی رہی ہے۔ آگے مزید سرے یہ جنریشن تلاش کر لے گی۔ باقی باتیں اسی کی مانند ہیں جو اردو کے اس مشہور شعر میں درج ہیں کہ:
ان کا جو کام ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے