To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Wednesday, December 28, 2011

Nothing New About the New Year
Expect and Wish You All  the Best

Dr. Rehan Ansari
ایک پرانے گیت کا مکھڑا یاد آتا ہے کہ ’’پینے والوں کو پینے کا بہانہ چاہیے‘‘۔ ہر برس 31دسمبر ایک ایسا ہی بہانہ ہے۔ اس روز دل و دماغ اور نظرودید کے لیے ہر طرح کا نشہ عام ہوتا ہے، اور پینے والوں کو ۳۱دسمبر کا بہانہ ہاتھ ہوتا ہے۔
ہمارا ملک ہندوستان کثیرمذہبی ملک ہے۔ ہر مذہب کے چند تیوہار ہیں۔ ان تیوہاروں کو منانے کے کوئی اصول اگر متعین ہیں بھی تو انھیں جملہ مذاہب کے ماننے والوں کی اکثریت کبھی خاطر میں نہیں لاتی۔جب تک یہ سب اپنے اپنے معبودوں کے دربار میں کھڑے یا بیٹھے ہوتے ہیں تب تک ان کے دل اور نگاہ پر ایک طرح کی پابندی نظر آتی ہے۔ مگر جیسے ہی یہ اس آستاں سے اٹھ کر دنیائے رنگ و بو میں قدم رکھتے ہیں ان کی ساری شرافت اور انسانیت عریاں ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ان کے اندر سانس لینے والا اصلی وجود ظاہر ہوجاتا ہے۔پھر عیش میں یادِ خدا نہیں رہ جاتی! یہ سب ہوتا ہے بنامِ جشن و خوشی۔


کثیر مذہبی معاشرے کی ایک عجیب و غریب چاہت بھی کوئی اطمینان بخش منطقی نتیجہ پیش نہیں کرتی کہ ہم مذہبی تیوہاروں (عبادات و رسوم) کی ادائیگی میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی شرکت کو کیوں لازمی سمجھتے ہیں۔ اس شرکت کو مذہبی رواداری، وسیع المشربی، کشادہ ذہنیت جیسے خوبصورت اور دل پذیر ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔بلکہ سچ کہا جائے تو ان اصطلاحات کے ساتھ ایک دوسرے کو بہکایا جاتا ہے یا بہلایا جاتا ہے۔
جہاں تک تہذیبی یا معاشرتی تقریبات کا تعلق ہے تو انھیں ہمارے مشترکہ معاشرے میں ساتھ ساتھ انجام تک پہنچانے میں ہم بھی وسیع المشرب ہیں یا کہہ لیجیے روادار ہیں۔ مگر خالص مذہبی تقریبات یا مذہب سے متعلق رسوم میں پوری مشابہت کے ساتھ شرکت کرنا تو منافقت ہی کہی جانی چاہیے۔چنانچہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ ہولی دیوالی ہو، نوراتری اُتسو ہو یا گنیش اُتسو، رکھشا بندھن، کرسمس ہو یا ۳۱ دسمبر کی رات، ہم صرف اپنے نشے کے چکر میں تیوہار منانے والی ان قوموں سے تشبّہ اختیار کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ ’’رواداری‘‘ کا پاس رکھتے ہوئے یہ قومیں بھی ہماری عید کی سوئیوں اور شیرخرمے کی پیالیوں سے رسم و راہ نباہتے ہیں۔
مگر رواداری کے ایسے نباہ میں ہم نے مسلمان بھائیوں کو بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے پایا ہے۔ خصوصاً ممبئی (اور اس کے جیسے دوسرے شہروں) میں چونکہ رہائشی بلڈنگیں اب مخلوط معاشرہ کی دلیل بن چکی ہیں چنانچہ معاشرتی اور تہذیبی اثرات بھی بے پناہ خلط ملط ہو چکے ہیں۔ حتیٰ کہ مذہبی تقریبات اور تیوہاروں کو نظرانداز کرکے غور کریں تو پورا سال ان کے تہذیبی و معاشرتی آئینہ میں تفریق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون کس مذہب کا پیرو ہے۔نفسیاتی طور پر یہ شہری معاشرہ ان کے ذہنوں میں بھی مذہبی شناخت کا احساس دن بہ دن کم کرتا جاتا ہے۔ (یہاں مذہبی شناخت کو مذہبی تعصب سے مراد نہ لیں)۔اسی گمشدہ شناخت کا احساس لاشعوری طور پر اس دن سارے جذبات میں اُبال پیدا کردیتا ہے جب کوئی مذہبی تیوہار آن پڑتا ہے۔ اس وقت ہر مذہب کا ماننے والا پوری شدومد کے ساتھ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ کس مذہب کا پیرو اور وفادار ہے۔پھر اپنی یا پڑوسی بلڈنگ کے مکینوں کو یہ باور کرانے کے لیے اپنی حد سے گذرتے ہوئے تیوہار منانا پسند کرتا ہے۔ ہر تیوہار منانے والا خوشیوں (جذبات) کی افراط میں اپنے پڑوسیوں کو بھی شریک کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔ پڑوسی بھی حقِ ہمسائیگی کی ادائیگی کے لیے ان کے ساتھ ہنسی خوشی شریک ہوتے ہیں۔ اصلاً یہ سب خود کو سمجھانے اور اس احساسِ محرومی کو رام کرنے کے لیے ہے کہ اس بھرے پرے شہر میں انھیں جاننے پہچاننے والے بھی کچھ لوگ رہتے ہیں۔ بعد از تقریب ’’آج مزا آگیا!‘‘ پر بات ختم ہو جاتی ہے۔سب مشترکہ طور پر اسی بات پر رضامند ملتے ہیں کہ ’’رِند کے رِند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی‘‘


اسی مشترکہ کلچر کی دین ہے کہ کرسمس کو گھل مل کر منایا جاتا ہے۔کرسمس خاصا رنگیلا تیوہار سمجھا جاتا ہے۔ اس کی رنگینی کے سبب اکثریت اسے مذہبی سے زیادہ معاشرتی تیوہار تصور کرتی ہے۔ عیسائی روایات کے مطابق یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یومِ پیدائش ہے۔ مگر ان کے یہاں بھی کوئی واثق روایت موجود نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یکے از پیغمبرانِ اسلام ہیں۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو آپ علیہ السلام کے یومِ پیدائش پر ہمیں بھی دعاؤں کا اہتمام کرنے کی سعادت حاصل کرنی چاہیے لیکن اسلام ان سب باتوں سے منع کرتا ہے اور تشبّہ کے خوف نیز حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں ہمیں اس سے بہرحال احتراز ہی کرنا چاہیے۔
کرسمس تو کسی طور بچتے بچاتے گذار دیا جاتا ہے لیکن دلوں میں جو رنگینیوں کا تصور اور نظر کو خیرہ کرنے والی تقریبات کی جو تصویر سمائی ہوتی ہے کرسمس کے دن اس کی پوری تسکین حاصل نہیں ہو تی اس لیے سماج کے شریر و چالاک طبقات نے ۳۱ دسمبر کو سال کا یوم الآخر منانے کے نام پر ہر طرح کی دھینگا مشتی اور ہر طرح کے نشے کو رواج دے دیا ہے۔ کسی کو رقص و سرود کی محفلوں میں مزہ ملتا ہے تو کسی کو ہنگامہ خیزی سے، کسی کو آتش بازی سے دلچسپی ہوتی ہے تو کسی کو چھیڑ چھاڑ سے قرار حاصل ہوتا ہے۔بعض نوجوان فراٹے بھرتی ہوئی چارچکہ یا دوچکہ گاڑیوں پر خالی سڑکوں پر بے ہنگم شور مچاتے مل جاتے ہیں تو کچھ عیش و مستی میں ڈوبے نظر آتے ہیں۔ ٹیلی ویژن آجانے کے بعد بلاتفریقِ مذہب و ملت و معاشرہ ہر گھر میں چھوٹے پردے سے یہ سماجی ناسور رِستا ہوا نظر آتا ہے۔اس روز، بلکہ نصف شب کو ان سب باتوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ملتا۔ سوچنے کا مقام ہے کہ ان سب باتوں کو دینِ فطرت تو کجا خود عیسائی مذہب سے کیا علاقہ ہو سکتا ہے۔ یہ سب تو کھلی ہوئی شیطنت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ ہماری آواز بے حد کمزور ہے اور شاید سماعتوں کو متاثر کیے بغیر ہی دم توڑ دے گی۔ کیونکہ ۳۱ دسمبر تو ہر قسم کا نشہ ساتھ لاتا ہے اور مخمور ماحول میں کوئی اخلاقیات پر لکچر پسند نہیں کرتا؛ خصوصاً آج کا مسلم نوجوان، اسے بھی ایک لت ہے اور اس لت کا تقاضہ ہے کہ ’’پینے کا بہانہ چاہیے!‘‘

Sunday, December 25, 2011


Mirza Ghalib: Bharat Ratn
Justice Markandey Katju Zindabaad

Dr. Rehan Ansari
پریس کونسل آف انڈیا (Press Council of India) کے صدر محترم جسٹس (ریٹائرڈ) مارکنڈے کاٹجو Justice (Retrd) Markandey Katju کے مطالبے کی ہم بھرپور حمایت کرتے ہوئے حکومتِ ہند سے درخواست کرتے ہیں کہ مرزاغالبؔ کو پس از مرگ ’’بھارت رتن ایوارڈ‘‘ تفویض کیا جائے۔
ہم یہاں جسٹس مارکنڈے کاٹجو صاحب کا دلی شکریہ بھی ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے مرزا اسداﷲ خاں غالبؔ Mirza Ghalib  جیسی عبقری اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب و روایات کی علمبردار شخصیت کے حق کی بابت بروقت آواز اٹھائی۔ مرزا غالب کے حالاتِ زندگی کو پڑھنے اور جاننے والے نیز ان پر بنی فلموں اور سیریل کے ناظرین نے بھی اس بات کو برابر محسوس کیا ہے کہ مرزا نوشہ ہندوستانی تہذیب اور اقدار کے ہی شاعر و ادیب (مکتوب نویس) نہیں تھے بلکہ ہندوستان کی واحد اور اصلی زبان جو ملک کے شرق و غرب اور شمال و جنوب کے عوام کو رابطہ میں رکھتی تھی یعنی ’اردو‘ کے بھی عظیم شاعر تھے اور اصلی رتن بھی ہیں۔
ملک کے طول و عرض میں اردو کے نشاۃ ثانیہ کی امیدجاگ چلی ہے، ہمیں امید ہے کہ بہت جلد ملک کے تمام باشندے دوبارہ ایک دوسرے کو جاننے اور ملک کے استحکام و یگانگت کی آبیاری کے لیے دوبارہ محبتوں کی پیامبر اس عظیم ہندوستانی زبان یعنی اردو کو اپنانے کے لیے تیار ہونے والے ہیں۔ اردو کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو ان ستر برسوں میں برابر منہ کی کھانی پڑی ہے اور وہ اپنی اختراعی زبان ہندی کو لاکھ کوششوں کے باوجود قبولیتِ عام نہیں دلا سکے ہیں۔


حکومت کو چاہیے کہ وہ بھارت کے اس سپوت ’مرزا غالب ‘ کو اپنے رتنوں میں شمار کرے۔ جسٹس کاٹجو زندہ باد۔

Monday, December 19, 2011

Halala: Another Name for Rape
Think Beyond 

Dr. Rehan Ansari
ٹائمز آف انڈیا کی ہفتہ وار خصوصی اشاعت ’’کریسٹ ایڈیشن‘‘ The Times of India - Crest Edition کے ۳دسمبر ۲۰۱۱کے شمارے میں منجری مشرا Manjari Mishra کی ایک اسٹوری شائع ہوئی تھی۔ عنوان تھا ’’زنا کا نامِ دیگر‘‘۔  "Another Name for Rape" اس میں ’حلالہ‘ کو موضوع بنا کر بیحد تیکھے اور سخت تیور میں ایک کولاج پیش کیا گیا تھا۔ اصول کے مطابق اس خاکسار نے مختلف ذرائع اور علما سے رجوع کر کے اس کا مکمل و معتدل جواب انگریزی میں ہی لکھ کر اخبارِ مذکور کو ای میل کر دیا تھا۔ مگر آج کے صحافتی اداروں اور صحافیوں کی ترجیحات سے ہم خوب واقف ہیں اس لیے توقع کے عین مطابق انھوں نے پورے مضمون میں سے گنتی کی چند سطریں ’’خیال آرائی‘‘ کے ضمن میں شائع کیں اور پورا مضمون حذف نہیں بلکہ ہضم کرگئے۔




ہم نے ایک احساسِ ذمہ داری کے تحت اس مضمون کو اردو روپ دیا اور اب آپ کی خدمت میں اس نیت کے ساتھ پیش ہے کہ ہمارے لوگوں میں بھی ایک بڑا طبقہ اس سلسلے میں بات تک کرنا پسند نہیں کرتا؛ بہت سے تباہکار مولوی حضرات اور تجارت پیشہ قاضیوں نے اسی لیے اس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کا دھندہ بنا رکھا ہے؛ جب کہ یہ بلا تفریقِ مسلک و عقیدہ ایک شقِ شرعیہ ہے اور ہم سب کو ہی اس کا جاننا لازمی ہے۔ اس باب میں کوئی فرد سوال کرے تو اسے جھٹک دینا بے احتیاطی کا سبب ہے۔ ایک بات اور کہ روابط کے بعد مجھے حیرت ہوئی کہ لاعلمی یا مختلف عقیدہ کے سبب کچھ مسلمان اس سے خود کو دست کش کرتے ہیں اور محض احناف سے اسے جوڑتے ہیں۔ لیجیے پیش ہے اس مضمون کا اردو روپ:
منجری مشرا کا تحریر کردہ مضمون (ٹائمز آف انڈیا کریسٹ ایڈیشن، مورخہ ۳دسمبر) انتہائی تلخ لہجہ میں لکھا ہوا ہے۔ اس کا انداز متوازن نہیں ہے۔ پورا زور اس بات پر صرف کیا گیا ہے کہ کس طرح پوری مسلم کمیونٹی کہ ہدفِ ملامت بنایا جائے۔ میں پوری اسٹوری کے کسی بھی حصہ کی تنسیخ یا دفاع نہیں کروں گا کیونکہ مسلمانوں کے درمیان ایسے افراد لازماً موجود ہیں جن کا تذکرہ اور احوال اسٹوری میں دیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ زعم ہے کہ وہ ترقی پسند ہیں، معاذاﷲ، یہ وہی لوگ ہیں جو شرعی قوانین کا کوئی لحاظ نہیں کرتے اور مسلمانوں کی جگ ہنسائی اور انھیں دقیانوسی ٹھہرانے کا موقع بھی ڈھونڈتے رہتے ہیں۔
’حلالہ‘ کبھی پسندیدہ عمل نہیں رہا ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت نے ہمیشہ اسے لتاڑا ہے۔ مگر بہتوں (اور مسلمانوں میں بھی) نے اس کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ یہ کوئی فرض Mandatory نہیں ہے جس پر خواہی نخواہی عمل کرنا ہی پڑے گا بلکہ شریعت کی ایک شق Clause ہے جس سے روشنی پاکر جب ایسا معاملہ درپیش ہو تو اس کا حل نکالا جائے۔ بہت سے علما اور غیرعلما یہ بھی کہتے ہیں کہ ’حلالہ‘ لفظ شریعت میں موجود نہیں ہے بلکہ یہ  اختراع ہے۔ چلیے یہ مان لیں کہ ایسا ہے بھی تو جب ایسے حالات ابھریں تو اسے کوئی نام تو دینا ہی ہوگا نا؟... یہی ’حلالہ‘ ہے، یعنی نام، اسم!... اگر ایسا ہی ہے تو ہم بھی کیوں نہ اسے اپنے طور پر دیکھیں۔ لفظ حلالہ کی اصل عربی ہے۔ عربی میں اس کی دو صوتیات سمجھ میں آتی ہیں ایک ’’حلالۃٌ=حلالتُن‘‘ بمعنی حلال مؤنث اور ’’حلالہ= حلالَ ہ‘‘ بمعنی حلال برائے مرد، دونوں ہی صوتیات عورت (مؤنث) سے مراد ہیں اور ’’اسم‘‘ ہیں، یہ ’’فعل‘‘ نہیں ہیں۔
آگے بڑھنے سے قبل ایک بات اور صاف کرتے چلیں۔ ہم سبھی ’ہونے‘ اور ’کرنے‘ کے فرق سے واقف ہیں۔ اس لیے اس جملے کو نوٹ کریں کہ ’’(عورت)حلالہ ہوتی ہے، کی نہیں جاتی‘‘۔اور جب کوئی عورت حلالہ ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ کی جانب سے اس پر رحمت کے بھی کئی فیصلے ہوجاتے ہیں جنھیں بروقت محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ مگر جب حلالہ کیا جاتا ہے یا کروایا جاتا ہے تو اس پر کسی اور کی نہیں نبئ رحمت ؐ نے فرمایا اﷲ کی لعنت اور پھٹکار ہوتی ہے اور حلالہ کرنے اور کروانے والے نیز ان کے جملہ معاونین واصلِ جہنم ہوں گے سدا کے لیے۔نبی اکرم ؐ نے حلالہ کرنے والے مرد کو ’’کرایہ کا سانڈ‘‘ کہا ہے۔
قرآن کی سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۳۰ کا ترجمہ یوں کیا جاتا ہے کہ ’’پھر اگر طلاق دے دی مرد نے بیوی کو (تیسری مرتبہ) تو نہیں حلال ہوگی وہ اس کے لیے اس کے بعد جب تک کہ نہ نکاح کرے وہ کسی اور خاوند سے اس کے سوا، پھر اگر طلاق دے دے (دوسرا) خاوند اس کو تو نہیں ہے کچھ گناہ ان دونوں پر اس بات میں کہ رجوع کرلیں ایک دوسرے کی طرف بشرطیکہ دونوں یہ خیال کریں کہ قائم رکھیں گے اﷲ کی (مقرر کردہ) حدیں، اور یہ اﷲ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جن کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے وہ ان لوگوں کے لیے جو دانشمند ہیں‘‘۔
مشہور آن لائن انسائیکلوپیڈیا ’’وِکی پیڈیا‘‘ Wikipedia کا یہ اقتباس بھی ملاحظہ فرمائیں: ’’صاف سی بات یہ ہے کہ حلالہ منصوبہ بند طریقہ سے اور دانستہ ہرگز نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اس عورت اور دوسرے خاوند کے مابین اس طرح نکاح کو جائز نہیں قرار دیا جاتا کہ بعد میں طلاق لے لی اور دے دی جائے گی۔اس طرح کے تعلق کو زنا کہا جائے گا اور اس کے بعد جب وہ پہلے سے منصوبہ بند انداز میں پہلے شوہر سے حلالہ کرواکے رجوع ہوگی تو اسے بھی زنا ہی کہا جائے گا۔ محمد ؐ نے ایسے مرد پر جو حلالہ کرتا ہے اور اس پر بھی جو حلالہ کرواتا ہے لعنت بھیجی ہے۔امیرالمومنین ثانی حضرت عمر ؓ نے اپنے دور میں یہ اعلان کروایا تھا کہ جو بھی لوگ منصوبہ بند طریقہ سے حلالہ کا عمل انجام دیں گے ان سب کو سنگساری کے ذریعہ موت کی سزا دی جائے گی‘‘۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حلالہ ’’کرنے اور کروانے‘‘ کا عمل انتہائی کریہہ اور تباہ کن ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کی ہر جگہ اور ہر سطح پر مخالفت کی جاتی ہے۔مگر جب بغیر کسی نیت کے حلالہ از خود ’’ہوجاتا ہے‘‘ یعنی پیش آتا ہے تو اس کے کچھ فرحت بخش نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔ یہ بات ملحوظ رہے کہ حلالہ پیش آنے کے باوجود عورت اپنے نئے خاوند کے انتخاب اور نکاح کے لیے مکمل آزاد اور خود مختار ہے اور اس پر اپنے سابقہ شوہر سے رجوع کے لیے کسی بھی قسم کا دباؤ کسی بھی حال میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ یہ حلالہ اس طرح بھی پیش آسکتا ہے کہ دوسرے خاوند سے نکاح کے بعد اس خاوند کا جلد ہی انتقال ہوگیا اور وہ بیوہ ہو گئی۔ پھر تنہا ہوگئی۔ایسے وقت اس کا دل اپنے سابقہ شوہر کی جانب مائل ہو اور وہ کسی طرح بھی ظالم نہ رہا ہو، طلاقِ مغلظہ ایک حادثہ کی صورت پڑ گئی ہو تو بیوگی کی عدت کے بعد وہ اپنے سابقہ خاوند کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے اور دونوں خوش و خرم زندگی کا آغازِنو کرسکتے ہیں۔
حلالہ کے تعلق سے جتنی بھی برائیاں ہمارے اندر دکھائی دیتی ہیں اور عورت کو جس طرح شرمندہ نیز اس کا استحصال کیا جاتا ہے، وہ سب خرابیاں ہماری اپنی پیداکردہ ہیں، ان سب کا اصل اسلامی تعلیمات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اﷲ ہم سب کو راستی پر رکھے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے (آمین)۔


The Muslim Woman Has
All the Rights to Choose
Her Life Partner And Nobody
Could Compel Her
درجِ بالا مضمون کے آگے بھی کچھ سطریں لکھنا چاہتا ہوں کہ حلالہ اصل میں دیکھا جائے تو عورت کی بے عزتی نہیں ہے بلکہ اس مرد کی بے عزتی اور رسوائی ہے جو ایک اچھی عورت کہ جس کے تعلق سے رسولِ اکرم ؐ کا فرمان ہے کہ دنیا کی سب سے اچھی نعمت ایک نیک بیوی ہے، سے خود کو محروم کر لیتا ہے۔ سماج میں اس کا جینا اور چلنا پھرنا اس وقت تک دشوار ہی رہتا ہے جب تک اس کا ایک بھی شاہد بستی میں موجود ہو۔ اس کے برخلاف مطلقہ عورت کے ساتھ عموماً پورے سماج کا رویہ ہمدردانہ اور مشفقانہ ہوا کرتا ہے نیز اسے دوسرا خاوند ملنا کافی آسان بھی ہوتا ہے۔ لوگ اس کی امداد کو تیار رہتے ہیں۔ جبکہ طلاق دہندہ مرد کو دوسری ’شریف‘ عورت نصیب ہونا انتہائی دشوار بلکہ اکثر ناممکنات میں ہوتا ہے۔
بعض مسلمان ان باتوں کے باوجود مطمئن نہیں ہوتے تو ان کی خدمت میں یہ آسان سا سوال ہے کہ خدا نخواستہ ان کے کسی اپنے کے ساتھ تین طلاقوں کے بعد رجوع کی خواہش یا نوبت آن پڑے تو وہ کس نام اور پروسیس کے ساتھ اس معاملہ کو نمٹائیں گے؟ یا ایک اچھی عورت کو بے آسرا چھوڑ دیں گے؟