To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Sunday, January 29, 2012



Problems Of Working Urdu Journalists
In Mumbai
Muhammad Aslam Kiratpuri
جب جب اردو صحافت کی بات کی جاتی ہے تو صرف صحافیوں کو سامنے رکھ کر ان کے مسائل کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔میں یہاں پر اردو اخبارات سے جڑے ان تمام لوگوں کے مسائل کی بات کرنا چاہتا ہوں جن کے بغیر صحافت کی گاڑی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ میری مراد اردو صحافت سے جڑے ان ٹیکنیکل افراد سے ہے جو برسہابرس سے اردو صحافیوں کے ساتھ شانہ بہ شانہ کام کرتے چلے آرہے ہیں۔اور صحافیوں کے لکھے مضامین اور خبروں کو عام قاری تے پہنچانے میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔ان حضرات اور ان کے مسائل کی طرف کبھی کسی نے دیکھنے کی زحمت تک نہیں کی۔میری مراد اردو اخبار کے کاتبوں ‘ آج کے کمپیوٹر آپریٹروں‘پیج میکر یعنی صفحہ ساز‘ ڈیزائنر‘پریس رپوٹر‘ پریس میں کام کرنے والے پرنٹرس اور بعد میں اخبارات کو عام لوگوں تک پہنچانے والے ہاکرس ہیں ۔جن کے بغیر صحافتی کام مکمل ہی نہیں ہو سکتا۔
      

یہ دیکھا گیا ہے کہ صحافیوں کے ان معاونین کو اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ جبکہ یہی حضرات صحافت کے ریڑھ کی ہڈی کہلاتے ہیں۔نہ ہی ان کے مسائل عوام کے سامنے لائے جاتے ہیں۔ جبکہ ان کے مسائل بھی توجہ طلب ہیں۔کاتبوں کو  کبھی وقت پر تنخواہ نہیں ملتی تھی۔اب کمپیوٹر آپریٹروں کا بھی یہی حال ہے۔ ایک رپورٹر پورے دن بھاگ دوڑ کر بھوکا پیاسا رہ کر اخبار کے لئے خبریں جمع کرکے اخبار کے دفتر میں لاتا ہے تو اسے آنے جانے کے اخراجات دینے میں آنا کانی کی جاتی ہے۔ غرض کہ پورا اردو اخبار کا عملہ اسی قسم کی پریشانیوں کا شکار ہے۔
        پہلے جب ٹائپ کا دور تھا اردو میں اخبار نکالنا صرف مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن تھا۔کاتبوں کی جگہ کمپوزیٹر ایک ایک حروف کو جوڑ کر مضامین سیٹ کیا کرتے تھے۔پھر اس کا پروف نکالا جاتا۔اس دور میں حروف کبھی کبھی اسقد ربھدے ہو جا تے کہ پڑھنا مشکل ہوتا تھا۔ایسے دور میں بھی اردو میں بھی دن رات محنت کرکے اردو صحافیوں نے اخبارات نکالے۔ اور اپنی دن رات کی محنت کو عام قاری تک پہنچایا۔اس کے بعد لیتھو پریس کا زمانہ آیا تو اخبارات لکھنے کے لئے کاتبوں نے کمپوزیٹروں کی جگہ لے لی۔ہر اردو اخبار کے دفتر میں درجنوں کاتبوں کی ضرورت پڑی۔زرد کاغذ جسے مسطر کہاجاتا تھا پر ایک خاص قسم کی سیاہی سے کتابت کی جاتی تھی۔ان کو ایک خاص قسم کے پتھرپر منتقل کرلیا جاتا وہاں حروف الٹے دکھائی دیتے۔اس پتھر کو پریس میں ڈال کر اس پر سیاہی لگائی جاتی اور اخبار چھپ کر تیار ہو جاتا۔یہ کام بھی کافی محنت طلب تھا۔دشواریوں سے بھرپور اس کام کو پریس کے لوگ بہت کم مزدوری پر انجام دیا کرتےتھے۔ اکثر مسطر سے پتھر پر منتقلی کے دوران بہت سے حروف اڑ جایا کرتے  ان اڑے ہوئے حروف کو پتھر پر ہی الٹا لکھا جاتاتھا۔کاتب حضرات جو اس کام میں ماہر ہوا کرتے تھے الٹی کتابت کیا کرتے تھے۔پورا دن کام کرنے کے بعد بھی ایک کاتب کو اتنی اجرت نہیں ملتی تھی کہ وہ اپنے بچوں کا تو کیا اپنا پیٹ بھی نہیں پال سکتا تھا۔
 

Muhammad Aslam Kiratpuri presenting his paper at
the seminar held by NCPUL (Delhi) at Alma Ltifi Hall (Mumbai) on the subject of
"Problems of Urdu Journalism in Mumbai"
Other dignitaries on the dice are from L to R Javed Jamaluddin, Qutbuddin Shahid
Khalil Zahid, Sarfaraz Arzoo, Shakil Rasheed and Ab. Sami Bubere
      آہستہ آ ہستہ  فوٹو آفسیٹ کا زمانہ آیا اردو والوں نے اس ٹیکنک کو اپنانا شروع کیا تو اس میں بھی کافی دقتوں کا ساما کرنا پڑا۔ آفسیٹ کے لئے لتھ فلم کا استعمال کرنا پڑتا تھا۔ جو بہت مہنگی پڑتی تھی۔اس لئے بٹر پیپر پر لکھا جاتا تھا۔جسے بعد میں کیمیکل لگے زنک پلیٹ پرفوٹو گرافی کے ذریعہ منتقل ہوجایا کرتا تھایہ طریقہ قدرے بہتر تھا۔اس میں فوٹو بھی خوبصورت چھپا کرتے ۔ اخبارات چھپتے رہےلیکن صحافیوں اور ان سے جڑے عملے کے مسائل اپنی جگہ جوں کے توں قائم تھے۔صحافی مشکلات کے دور سے گزرتے رہے۔اور ساتھ ہی اپنا کام بھی ایمانداری سے انجام دیتے رہے۔ خبر وں کوحاصل کرکے اس کو شائع کرنےتک جتنے مراحل تک گذرنا پڑتا اتنے ہی تکلیف دہ لمحات ان کی زندگی میں داخل ہوتےرہے لیکن ان کا کوئی حل نظر نہیں آیا نہ ہی کسی نے ان کی طرف توجہ دی۔
         وقت کے ساتھ ساتھ نئی نئی ٹیکنالوجی اپنائی جانے لگیں۔ آج اردو اخبارات اگر دلکش اور دیدہ زیب نظر آرہے ہیں تواس میں ٹیکنالوجی اور کمپیو ٹر کا کمال ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ جڑے ان لوگوں کابھی ہے جو دن رات محنت اور لگن سے اردو اخبارات میں ان ٹیکنا لوجی کو استعمال کرکےاس کی خوبصورتی میں چار چاند  لگا رہے ہیں۔
   جب سے اردو صحافت نے کمپیوٹر کے دور میں قدم رکھا ہےاس کی ترقی دن دونی رات چوگنی ہو گئی ہے۔آج اسی ٹیکنالوجی کی بدولت ایک اخبارکے کئی ملٹی ایڈیشن نکل رہے ہیں۔ورنہ پہلے ایک اخبار ہی نکالنا جوئے شیر لانے کے برابر تھا۔یہ کمپیوٹر کا ہی کمال ہے اردو کے نستعلیق فونٹ بنا دیئے گئے ہیں۔لیکن مائیکروسافٹ جیسے بڑے ادارہ نے اردو کو ابھی تک وہ درجہ نہیں دیا ہے جس کا اردو قاری متلاشی ہے۔قومی کونسل برائے فروغ اردو کے ذمہ داران کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہئے۔
آج اردو کے اخبارات جس قدرٹیکنا لوجی کا استعمال کر رہے ہیں اس سے پہلے کوئی سوچ بھی نہیں سکتاتھا۔اردو کے وہ صحافی جنہوں نے اردو اخبارات کا وہ زمانہ دیکھا ہےکہ جب ایک اخبار کی کتابت کرانے لئے گھنٹوں لگ جایا کرتے تھے۔ پھر اس کی پلیٹ بنتی تھی تب کہیں جاکر اس کی اشاعت مکمل ہوتی تھی۔ لیکن آج یہ کام منٹوں میں ہوجایا کرتاہے۔پہلے ہم اپنے آپ کو دیگر زبانوں کے اخبارات سے پچھڑا ہوا محسوس کرتے تھے۔ لیکن آج ہم اردو اخبارات کو انگریزی اور دوسری زبانوں کے ساتھ کھڑا  رکھ کر دیکھتے ہیں تو ہمارا سر فخر سے تن جاتا ہے۔ان تمام باتوں کے باوجود ہمارے صحافی آج بھی اسی پرانے دور کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔وہ آج بھی بے گھر ہیں اور اخبارات کے دفتروں میں رات گزارا کرتے ہیں۔ان کی زندگی نہیں بدلی۔ یہ بات الگ ہے کہ چندبڑے اخبارات نےاپنے یہاں کے حالات تبدیل کئے ہیں۔آج بھی اردو کے کمپیوٹر آپریٹروں کا وہی حال ہے جو پہلےکاتبوں کا ہوا کرتا تھا۔مہنگائی کے اس دور میں انھیں پیٹ بھر کھانا نصیب نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ آج کے نوجوان اردو کمپیوٹر آپریٹنگ سیکھنے کی طرف مائل نہیں ہوتے۔اردو اخبارات کو اچھے رپورٹر نہیں مل پاتے۔اردو اخبارات میں کام کرنے والے لوگ آج بھی اپنی تنخواہ کا انتظار کرتے ہیں جو انھیں کبھی وقت پر نہیں مل پاتی۔اردو اخبارات کو ہاکرس بھی نصیب نہیں ہوتےجس کی وجہ سے بہت سے اخبارات تو اسٹالوں تک بھی نہیں پہنچ پاتے۔اردو اخبار کے مالکان آج بھی اپنے عملے کے ساتھ حکمرانوں کی طرح پیش آتے ہیں۔اردو اخبارات کو خریدار نہیں ملتے۔اردو اخبارات کے صحافیوں اور دیگر عملے کو حکومت کی طرف سے کوئی مالی امداد نہیں ملتی۔ضرورت مند اردو صحافی آج بھی کرائے کے مکان میں زندگی گزاررہے ہیں۔ جبکہ ان کی تنخواہ کاایک بڑا حصہ مکان کے کرائے کی نذر ہوجاتا ہے۔ہم اردو والوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اردو صحافیوں اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنے والو ں کے بارے میں بھی کچھ سوچیں اور ان کے حق کے لئے آواز حکومت کے ایوانو تک پہنچائیں۔تاکہ ان کے دیرینہ مسائل حل ہو سکیں۔ورنہ وہ دن دور نہ ہوگا جب اردو کا صحافی بننا کوئی پسند بھی نہ کرے گا۔اور ڈھونڈنے پر بھی کوئی اردو کا صحافی نظر نہ آئے گا۔

Thursday, January 26, 2012

DNA and Manjul desacreded
our TRICOLOUR
ڈی این اے اخبار اور اس کے کارٹونسٹ کی دیدہ دلیری
یوم جمہوریہ اور دستور ہند سمیت ترنگے پرچم کی حرمت سے کھلواڑ
ڈاکٹر ریحان انصاری



٢٦ جنوری ٢٠١٢ کی اشاعت میں معروف انگریزی روزنامہ "ڈی این اے" نے صفحہ اول پر ایک کارٹون شایع کیا ہے جس میں وطن کی ایک عید یعنی "یوم جمہوریہ" پر دریدہ دہن مصنف سلمان رشدی جیسے وطن سے کد رکھنے والے اور ہمیشہ ہندوستان کے منفی سماجی پہلوؤں کو پیش کرنے والے کی حمایت میں یوم جمہوریہ اور دستور ہند سمیت ترنگے پرچم کی حرمت سے کھلواڑ کیا ہے. اس میں کارٹونسٹ 'منجول' نے مستول کی جگہ قلم بنا کر اسکی نشاندہی کی ہے کہ جے پور لٹریری فیسٹول میں سلمان رشدی کی عدم آمد کے خلاف وہ احتجاج کرتے ہیں اور ترنگے کو نصف مستول پر لہرایا ہے جو کسی قومی شخصیت کے گزر جانے پر اعزازی حیثیت سے سرنگوں کیا جاتا ہے.




کیا ڈی این اے اور منجول سمیت ان کے سبھی ہم خیالوں کے نزدیک رشدی ملعون کی حیثیت کسی قومی شہید یا خدمتگار کی ہو گئی ہے؟ ہم اس موقع پر مذکورہ اخبار اور کارٹونسٹ کی مذمّت کرتے ہیں.

Sunday, January 15, 2012

Rushdie= Rush+Die
Dr. Rehan Ansari
ملعون و مردود رُشدی ایک مرتبہ پھر خبروں میں آگیا۔ اس کا سبب اس کی کوئی ہرزہ آمیز تحریر نہیں ہے بلکہ اس کی حالیہ خبرانگیزی اہلِ رُشد وہدایۃ یعنی مسلمانوں (ہندوستانی) کی وجہ سے ہے۔ پورے ملک میں تحریر و تقریر اور جلسے جلوس و مظاہروں سے متعلق مسلمان پوری شدومد کے ساتھ رُشدی کی ہندوستان آمد کے خلاف ہیں اور حکومت ہند سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسے ویزا نہیں دیا جائے۔ مرکزی وزیر سلمان خورشید کی زبانی حکومت نے بساط پر یہ پیغام دلوایا کہ ویزا دینے کا معاملہ ہی نہیں ہے کہ وہ ایک ’ہندوستانی نژاد ‘ ہونے کی شناخت رکھتے ہیں اور انھیں قانونی طور پر بغیر ویزا کے اس ملک میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ یہاں یہ سوال ضرور کیا جائے گا کہ آخر اسے ’کن قومی خدمات‘ کے صلے میں یہ اجازت نامہ حاصل ہے اور کیا ابتدا سے ہی ایسے ’متنازعہ شخص‘ کو اجازت نامہ تفویض کرنا حکومت کا قصور نہیں ہے؟ این او سی کس نے دی تھی اس کی تحقیق کرنا چاہیے۔ اس نے اپنے وطن میں ہڑبونگ پیدا کرنے کے علاوہ کیا کبھی اور کوئی ناطہ ہی رکھا ہے؟ اس کی مقبول کتابوں میں ہندوستان کی مکروہ سماجی صورت ہی پیش کی گئی ہے جس کی وجہ سے ملکِ عزیز کے تعلق سے بیرونِ ملک قارئین کے ذہنوں میں ایک منفی تصور ہی ابھرتا ہے!، جس شخص کی آمدورفت وسیع پیمانے پر لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ بنتی ہو تو کیا ایسے فرد کو سرحد سے باہر ہی رکھنا وطن کے مفاد میں نہیں ہے؟ ہم بھی اس کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں اپنی ناتواں آواز کو پورے زور کےساتھ شامل کرتے ہیں... مگر!
مگر، حالات کے پس منظر میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ چند بے تکلف اور کسی قدر تلخ گفتگو بھی کرنا چاہتے ہیں۔ بقول شاعر:

مرغوب ہے محفل کو تری تلخ نوائی
زخمی سا کوئی گیت سنانے کے لیے آ
آگے بڑھنے سے قبل ہمارے بھائیوں سے شبیر احمد راہیؔ صاحب کی زبانی یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ:
’ناموسِ مصطفی کی حفاظت کے واسطے
مرنا قبول ہے  مجھے مرنا قبول ہے‘


The Blasphemy And the blasphemer
رُشدی کے کوائف جاننے کی کوشش کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک مغرب زدہ اور جدیدوآزادخیال ماں باپ کی اولاد ہے اور ہمارا تجربہ یہ رہا ہے کہ اس قسم کے بچوں کو اسلام کے تعلق سے زیادہ ترکمزور اور لاتعلق باتیں ہی سکھائی جاتی ہیں۔ خود رُشدی نے مسلمانوں کے درمیان رہنا پسند نہیں کیا اور نہ ہی اسلامی شعائر و عبادات سے متعلق رہا۔ ہر قسم کی عیاشیاں کی۔ اُس نے شہرت کا سب سے آسان نسخہ آزمایا اور اپنے منصوبے میں کامیاب ہوا۔ غیرمسلم دنیا میں وہ محض اس لیے معروف ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ وہ کامیاب چھیڑخانی کرلیتا ہے اور ہرزہ نویسی میں طاق ہے۔ وہ لوگ تورُشدی کی ادبی حیثیت بھی متعین نہیں کرسکے ہیں۔ مگر... مگر رُشدی مشہور ہے۔ اس کی شہرت ہمارے سبب ہے، ہماری بے کلی کے سبب ہے! اس بے کلی کو ہم خوب ظاہر کرنے کو ایمان کی علامت سمجھنے اور سمجھانے میں مبتلا ہیں۔کیا واقعی حالیہ بے کلی جذبۂ ایمانی کو ناپنے کا پیمانہ ہے۔ کیا اس کے بائیکاٹ یا  ویزا کی منسوخی یا اسی قبیل کی معمولی سزا یا تادیب ہمارے اُمڈتے بپھرتے جذبات کی تسکین کے لیے کافی علاج ہے؟ ہمیں تو پردۂ زنگاری سے کوئی اور معشوق جھانکتا دکھائی دیتا ہے۔ کچھ کھل کر لکھیں تو ہمارے سر پر بہت سے اپنوں کے جوتے پڑنے لگیں گے، اشارہ کرنا بھی اس وقت گناہ میں شمار ہوگا!
برسبیلِ تذکرہ ہمیں عمِّ رسولِ کریمؐ حضرت حمزہؓ کے قبولِ اسلام کا واقعہ یاد آگیا۔ اس کا خلاصہ یوں ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا گستاخِ رسول اور شاتم ابوجہل نے جب شانِ اقدسؐ میں کریہہ گستاخیاں کی تھیں تو حضرت حمزہؓ نے معلوم ہونے کے بعد ابوجہل کے سر پر اپنی کمان سے حملہ کرکے زخمی کردیا تھا اور اپنے تئیں بھتیجے ؐ اور خاندان کی بے عزتی کا بدلہ لے لیا تھا۔ نیز یہ بھی گمان تھا کہ آپؐ خوش ہو گئے ہوں گے۔ جب رسول اﷲؐ کو پتہ چلا تو آپؐ نے فرمایا کہ مجھے زیادہ خوشی اس بات سے ہوتی کہ چچا جانؓ دعوتِ حق کو قبول کرلیتے۔ حضرت حمزہؓ نے بلاتاخیر اپنے حلقہ بگوشِ اسلام ہونے کا اعلان کردیا۔ اس واقعے کے نقل کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمیں جمہوری تماشا کرنے سے زیادہ اہم ہے کہ ہم اصلی اسلامی کردار پیش کریں۔ گذشتہ پچیس برسوں سے جس شخص کو دنیا کے دیگر ملکوں میں حفاظت کے ساتھ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے اسے قرارِ واقعی انجام تک پہنچانے کی جانب مائل ہوں اور لاحاصل شورشرابہ سے گریز کریں۔ ہمارا شور شرابہ ہمارے لیے ہی نقصاندہ ثابت ہوتا ہے۔ اسکی حفاظت دوچند ہو جاتی ہے۔ہمارے مظاہرے مسلمانوں اور اسلام مخالفوں کو موقع فراہم کرتے ہیں اور ہماری امیج و شبیہ کو بین الاقوامی سطح پر مضحکہ خیز بناتے ہیں۔ کیا ہمیں اس کا احساس ہے؟ غم اور غصے سے بھری ہوئی بہت سی تحریریں اردو کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی ہمیں پڑھنے کو ملیں۔ میڈیا میں کچھ مظاہراتی تصویروں کی بھی اشاعت ہوئی۔ لیکن جس ایک اعلان نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ارتضیٰ نشاط صاحب کا قطعہ تھا جس سے ہم بھی مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ:
’پھر سے مطالبہ کرو رُشدی کے قتل کا
اُس کی پناہ گاہ کا توڑے تو کوئی لاک
موقع یہ کس کو ملتا ہے یارب ہمیں دِکھا
کرتا ہے اُس غلیظ سے دُنیا کو کون پاک
(الف، نون: انقلاب، ممبئی، ۱۲جنوری ۲۰۱۲)
ایک دلچسپ بات اور بھی لکھ دیں کہ رُشدی کے نام کے مروّجہ انگریزی املے Rushdie کو توڑ کر دیکھا تو نظر آیا کہ اس میں Rush (بھاگ) اور Die (مر) ایک دوسرے میں پیوست ہیں۔
ہم اپنی بات کو مزید طویل نہ کرتے ہوئے صرف یہی کہنا چاہتے ہیں کہ یہ مطالبہ ہی اصل فیصلہ ہے۔ یہ عمل دیوانگی کا نہیں ہوشمندی کا تقاضہ کرتا ہے۔ حکومت ہمیں بھی حقِ آزادئ تحریر دے تو اس سے زیادہ لکھنے پر بھی ہم قادر ہیں.