To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Monday, June 4, 2012

Aamir Khan's Half Truth
Dr. Rehan Ansari
۲۷ مئی ۲۰۱۲ء کو ’’ستیہ میوجیتے‘‘ پروگرام میں عامرخان نے جو کچھ پیش کیا یقینا اس میں سچائیاں تھیں؛ لیکن یہ آدھی تصویر تھی۔ اردھ ستیہ تھا۔جسے ہم اپنی زبان میں ’مریضوں کا وکیل‘ ہونا کہہ سکتے ہیں۔ ایک منطق یہ ہے کہ مریضوں کی گنتی میں ڈاکٹر بھی شامل ہو جاتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کی گنتی میں مریض نہیں آیا کرتے۔ بالفاظِ دیگر ڈاکٹروں کو بھی ڈاکٹر کی ضرورت پڑتی ہے اور مریضوں کو بھی ڈاکٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔کسی کو کم پڑتی ہے کسی کو زیادہ۔
’ستیہ میو جیتے‘ شو میں بھی یہ مشہور مکالمہ دوہرایا گیا کہ ’ڈاکٹر کو لوگ ایشور یا بھگوان کا درجہ دیتے ہیں!‘‘ مگر دیکھا گیا ہے کہ ڈاکٹر کو اس کی مبینہ یا مفروضہ دونوں قسم کی (بشری) ’غلطیوں‘ کے لیے مریضوں کا سماج (خصوصاً شہروں میں بسنے والا تعلیم یافتہ یا نیم خواندہ سماج) ہر قسم کی سزا دینے پر اتر آتا ہے۔انھیں جسمانی اور مالی (کبھی جانی بھی) نقصانات پہنچاتاہے۔ بدتمیزیاں کرتا ہے۔ گویا وہ موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ کب کسی ڈاکٹر کا گریبان ہاتھ میں آئے اور وہ اسے عریاں کرکے چھوڑیں۔ایک نہیں کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ جانی نقصان کی مثال کی خبر زیادہ پرانی نہیں ہے کہ (غالباً کولہا پور کے قریب) ایک ڈاکٹر کے پاس ایک باربر نے اپنا علاج کروایا۔ ڈاکٹر نے اسے دورانِ علاج ایک مرتبہ انجکشن دیا تھا۔ خون کی جانچ کے بعد اسے ’ایچ آئی وی پازیٹیو‘ پایا گیا تو اس نے سمجھا کہ مذکورہ ڈاکٹر نے اسے یہ مرض دیا ہے۔ جب وہ ڈاکٹر اس کے پاس شیونگ کے لیے گیا تو اس باربر نے اس کا گلا کاٹ دیا اور ڈاکٹر وہیں فوت ہوگیا۔
ایمرجنسی کی صورت میں کسی بچے یا مریض و مریضہ کی جان بچانے کی کوششوں میں ناکامی ہاتھ آجائے تو اسپتالوں میں ڈاکٹروں اور ان کے معاون عملہ پر جذبات کی رو میں بہہ کر حملہ کون کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے؟... اسپتالوں یا دواخانوں کا فرنیچر اور دوسرے مہنگے اسٹرکچر اور آلات کو تباہ و برباد کون کرتا ہے اور کیوں کرتا ہے؟... دوا کا معمولی سا بھی ری ایکشن ہو جائے (جو مریض کی اپنی جسمانی کیفیت کی وجہ سے ہوتا ہے) تو ڈاکٹر کو ہر قسم کا کھرا کھوٹا کون سناتا ہے؟
آپ کو علم ہونا چاہیے کہ پورا منظرنامہ سرکار اور عوام کی وجہ تبدیل ہوا ہے۔ جب ۱۹۸۶ء میں کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ (CPA) کا میڈیکل پروفیشن پر بھی نفاذ و اطلاق ہوا تھا تو وکیلوں کی باچھیں کھل اٹھی تھیں۔ معمولی معمولی بیماریوں کے لیے ڈاکٹروں نے اپنے قانونی دفاع کے لیے پیتھالوجیکل یا ریڈیالوجیکل ٹیسٹ کیے بغیر علاج کرنا نامناسب لگنے لگا تھا۔ انھیں اندیشہ تھا کہ پتہ نہیں کس مرض کی پیچیدگی کی وجہ سے کو سا مریض انھیں کنسلٹنگ روم سے اٹھا کر عدالت کے کمرے تک پہنچا دے۔ یہیں سے ڈاکٹروں نے نہیں بلکہ چالاک، لالچی اور کاروباری طبقہ نے مریضوں کے جسم اور جیب پر اپنے دانت گاڑ دئیے تھے جس کی ترقی یافتہ شکل کو آپ نے ’ستیہ میو جیتے‘ پروگرام میں پیش کیا ہے۔
کارپوریٹ اداروں نے فائیو اسٹار اور سیون اسٹار اسپتالوں کو جنم دیا۔ جو لوٹ کھسوٹ کے سب سے بڑے اڈے ہیں لیکن یہ مالکان بدنام نہیں ہیں بلکہ سامنے جو ڈاکٹر ہیں وہ بدنام ہوجاتے ہیں۔ان اداروں کا سیٹ اپ کرنے والے افراد میں تاجرانہ ذہنیت کے لوگ ہوتے ہیں جو مریضوں کو طرح طرح سے لوٹنے کے حربے آزماتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کا چہرہ سب کے سامنے ہوتا ہے اس لیے بدنام بھی وہی ہوا کرتے ہیں۔ مریضوں نے ان مہنگے اسپتالوں کی فیس کا بوجھ برداشت کرنے سے معذوری ظاہر کی وہیں انھیں ایک دوسرا راستہ ’میڈی کلیم‘ Mediclaim کا سجھایا جاتا ہے۔آخر میڈی کلیم کے کارپوریٹ فیشن کو کس نے رواج دیا ہے، اور اس کی آڑ میں کون کیا کررہا ہے؟
آئی ایم اے (IMA) اور دیگر طبی تنظیموں کا یہ اعتراض بھی بالکل بجا ہے کہ عامرخان کے پروگرام سے یہ غلط پیغام بھی گیا ہے کہ رحم (بچہ دانی) کو کاٹ کر نکالنے کی اکلوتی وجہ اس میں کینسر لاحق ہونا ہے جبکہ متعدد دیگر وجوہات بھی ہیں کہ کسی عورت کی مجموعی صحت کی خرابی کی ذمہ دار رحم میں موجود دیگر تکلیفیں بھی ہوتی ہیں۔ جس ڈاکومینٹری کے ذریعہ عامرخان نے آندھراپردیش کے غریب و ناخواندہ افراد کے گاؤں میں بیشتر عورتوں کی بچہ دانی کے آپریشن کے ذریعہ ان کو بانجھ کرنے کی سازش دکھائی ہے اس میں یہ نہیں بتلایا کہ یہ سازش کسی ڈاکٹر یا طبی ادارے کی تھی یا حکومت کے ’فیملی پلاننگ‘ ڈپارٹمینٹ کی تھی؟ ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ سازش حکومت کی ہی تھی؛ کسی بھی ڈاکٹر کے جسم میں یہ شیطان نہیں پلتا کہ وہ عورتوں کا رحم کاٹتا پھرے۔
یہ بیان بھی کافی توجہ طلب رہا کہ ڈاکٹر جو برانڈیڈ Branded دوائیں لکھتے ہیں وہ جینرک Generic دواؤں کے مقابلے میں کافی مہنگی ہوتی ہیں، دس گنا تک مہنگی!... جناب عامر خان صاحب آپ یا کوئی اور سپراسٹار جب کسی نیوٹریشنل سپلیمنٹ کے اشتہار میں آتے ہیں یا مثال کے طور پر کیڈبری چاکلیٹ بار کو ہی لیجیے؛ یہ چاکلیٹ اپنی لاگت کے اعتبار سے ۲ روپے فی بار سے زیادہ کا نہیں بنتا ہوگا مگر صارفین کو بیس روپے سے کم میں دستیاب نہیں ہوتا! آپ جانتے ہی ہیں کیوں ایسا ہوتا ہے۔ جب دواؤں کو بھی برانڈیڈ کیا جاتا ہے تو اس پر سرکاری ٹیکس ایسے لگتے ہیں کہ ایک روپے کی چیز جگہ پر پانچ روپے کی ہو جاتی ہے۔ پھر پروموشن سے لے کر سیل تک اس پر جتنے اخراجات ہوتے ہیں وہ اس کی قیمت میں برابر اضافہ کا سبب بنتے ہیں۔ بس اتنی سی بات کے غبارے میں آپ نے ایسی ہوا بھردی کہ وہ چرچے میں آگئی۔ اگر برانڈیڈ دوائیں مہنگی ہیں تو وہ حکومت کی پالیسیوں اور قوانین کی وجہ سے ہیں۔ ڈاکٹروں کی وجہ سے نہیں۔ آپ کی ریسرچ ٹیم کے کام سے بھی یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ ایک ہی پریسکرپشن پر دو کاؤنٹرس سے الگ الگ قیمت میں دوائیں ملیں اور ڈاکٹرس کو کوئی اعتراض نہیں رہا۔
جہاں تک ڈاکٹروں کی انسانیت کی بات ہے تو عامرخان یہ بھی سن لیں کہ جہاں کہیں ہنگامی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو جس پروفیشنل طبقے کو پہلے دن سے ہی (ضرورت کے آخری دن تک) ’فری سروسیس‘ دیتے ہوئے دیکھا جاتا ہے وہ دوسرا کوئی نہیں صرف ڈاکٹر اور ان کا معاون طبی عملہ ہوتا ہے۔ چاہے کوئی وبا پھیلے یا ارضی و سماوی آفات کا زمانہ ہو، ہر جگہ کے تمام ڈاکٹر اپنی نیند اور آرام سب تج کر متاثرین و مریضوں کا فری علاج اور دوسری خدمات کرتے ہیں۔ پورے ملک میں صرف اساتذہ کا دوسرا طبقہ ملتا ہے جو طلبہ اور ان کے سرپرستوں کے لیے ’فری رہنمائی سروسیس‘ دینے آتا ہے (حالانکہ اس میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اب کچھ جگہوں پر اساتذہ پروفیشنل انداز سے آنے لگے ہیں)۔ ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ عامرخان یا ان جیسے بڑے نام والے کبھی خود سے، بغیر کسی اپیل کے، بغیر فیس لیے ہوئے سماجی کاموں کے لیے اس انداز میں آگے بڑھتے ہیں جیسے ڈاکٹرس بڑھتے ہیں! یہ تمام پروفیشنلس میں صرف ڈاکٹرس کا خصوصی امتیاز ہے کہ وہ امداد پر آتے ہیں تو بلا معاوضہ اور بلاآرام انتھک یہ کام کرتے ہیں۔
ایک بات اور لکھنے کا جی کرتا ہے کہ عامر خان کے اسپانسرس، اسکرپٹ رائٹر اور وہ خود بھی نام نہاد قومی میڈیا، سسٹم اور حکومت کی پولیں کھولنے والے ’ستیہ‘ کو شاید ہی کبھی دکھانے کی جرأت کرسکیں۔ جیسے اقلیتوں پر ہونے والے مظالم اور تعصبات، ان کے حقیقی مسائل کی پیشکش، پولیس کے ذریعہ معصوم نوجوانوں کا انکاؤنٹر، رات کے اندھیرے میں گھروں سے اٹھا کر نامعلوم مقامات پر قید کرکے انھیں ٹارچر کرنا اور ناکردہ گناہوں کو قبول کرنے کے لیے ہر قسم کا دباؤ، وزیر اور اسٹیبلشمینٹ میں شامل افراد کس طرح ٹینڈر کے ذریعہ کماتے ہیں اور غیرمحسوب دولت اکٹھا کرتے ہیں، بلڈرلابی کس طرح کوڑیوں کے مول زمینیں ہتھیاکر ان سے کروڑوں روپے کی فصل کاٹتی ہے؟ وغیرہ... ہمیں پتہ نہیں کیوں یقین سا ہے کہ عامرخان یا ان کے اسکرپٹ رائٹر ان عنوانات پر کوئی ستیہ دکھا نہیں پائیں گے۔ ان میں اتنی ہمت نہیں دکھائی دیتی۔ ہمیں ماضی میں پریہ تینڈولکر کا سیریئل ’رجنی‘ یاد ہے جو عامرخان کے ٹاک شو کی بجائے باقاعدہ ایک کہانی کی مانند دکھایا جاتا تھا۔ دونوں میں مماثلت کافی ہے۔ خود رجنی نے بھی اسٹیبلشمینٹ کے کالے کرتوتوں کو کبھی اجاگر نہیں کیا گیا تھا۔ وہ بھی سماج کو چھوٹے پیمانے پر لوٹنے والوں کے عنوانات سے متعلق ہوا کرتا تھا۔
عامرخان صاحب چھوٹے اسکرین پر جذبات انگیز باتوں کے بعد اپنی نمناک آنکھوں کو آستین کے کناروں سے پونچھنے کا انداز اور جذبات میں ڈوبے ہوئے حاضرین خصوصاً لڑکیوں کے چہرے اسکرین پر دکھانے سے آپ کے شو کی ٹی آر پی تو بڑھ سکتی ہے مگر حقیقت بھی افشا ہوجائے یہ ضروری نہیں ہے۔ خیر، ہمیں انتظار کرکے دیکھنا ہوگا کہ عامر خان اور ان کے اسکرپٹ رائٹر ہمارے دعوے کو جھٹلا سکتے ہیں یا نہیں.

Wednesday, May 23, 2012

Sooraj Achcha Bachcha Hai
Compiled by: Farhan Hanif
Review: Dr. Rehan Ansari
’’سورج اچھا بچہ ہے‘‘ فرحانؔ حنیف کی اس دور میں کسی قدر انوکھی تالیف ہے۔ انوکھی ان معنوں میں کہ آج کل سہولیات کے سبب ہرکوئی اپنا مجموعہ کلام یا مضامین مطبوع کرتا ہے لیکن فرحان حنیف نے اپنی پسند کا مجموعہ ترتیب دیا اور اسے کتابی شکل دے دی۔ اسے پڑھنا واقعی اچھا لگتا ہے۔ رشک ہوتا ہے کہ فرحان جیسا خیال ہمیں برسوں میں کیوں نہیں جاگا؟ ہم نے بھی تو کم نظمیں یا مضامین و کہانیاں نہیں پڑھی ہیں۔ انھی پڑھی ہوئی نظموں یا کہانیوں کو اپنی شخصیت میں جھلکانے کی کوشش کرتے ہوئے پہلے مسیں اور اب ریش حاصل کی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ ہم موروثی ہی رہے اور فرحان وارثی ثابت ہوئے۔ چھیانوے صفحات پر پھیلے ہوا لڑکپن کے اجالے میں جب ہم نے خود کو غور سے دیکھا تو رشید کوثرؔ فاروقی کا یہ شعر دھم سے یادداشت میں کود پڑا کہ:




سو ورق ہیں البم کے کودکی سے پیری تک
وقت کے مصور  کا    موقلم   نہیں  ٹھہرا
اتنے متغیر اور گوناگوں شعری گلیارے ہیں کہ ان میں کبھی املی کے بوٹے مل جاتے ہیں تو کہیں ٹافیوں کی برسات ہوجاتی ہے۔ سخت گیر دھوپ کا سامنا ہے تو ممتا کے آنچل کی ٹھنڈی چھاؤں بھی میسر ہوجاتی ہے۔ ہمیں اس پر نظم بہ نظم تبصرہ کرنے کی کوشش یا جرأت یا دونوں اس لیے نہیں کرنا چاہیے کہ ہر کسی کا اپنا بچپن ہوتا ہے اور بچپن پر تبصرہ ناگوار ہے۔ یہ انسان کی معصومیت پر تبصرہ ہوگا۔ وہ معصومیت جو اسے فطرت کی عطا ہوتی ہے۔وہ معصومیت جسے کہیں سے مستعار لیا جاسکتا ہے نہ خریدا جاسکتا ہے۔ وہ معصومیت جو صدفیصد خالص ہوتی ہے۔



Sooraj Achcha Bachcha Hai : Title
پھر یہ بھی گناہ ہوسکتا ہے کہ قاری کو ہم اپنی عینک سونپ دیں کہ بھائی اس سے دیکھو تو ایسا دکھائی دے گا۔ ہمیں یہ بھی ٹھیک نہیں لگتا۔ انھیں پڑھ کر ہر قاری اپنی رائے قائم کرے وہی اس کی کامیابی ہے۔
نظموں پر فنی نقطۂ نظر سے ضرور باتیں کی جاسکتی ہیں کیونکہ ان کا تعلق بچوں سے ہے نہ بچپن سے۔ یہ آموختہ ہے عمرِ رواں کا۔ پیرایۂ بیاں ہے ایک بالیدہ نظر شخص کا۔ فنی پہلوؤں کے اعتبار سے پورا مجموعہ ہمعصر معیار کی تلاش میں مرتب کیا گیا ہے لیکن روایتی کلاسیکی معیار بھی برقرار نظرآتا ہے۔ لفظوں کے دریچوں سے تہذیبِ نوی جھانکتی ملتی ہے تو بزرگوں کی نصیحتیں اور تربیتیں بھی ڈگمگ قدموں پر نگاہ رکھتی ملتی ہیں۔
نظموں کے تعلق سے جامع طور پر ہم ایک سطر میں یہی کہنا چاہیں گے کہ کلام اور شاعر سبھی معتبر ہیں۔ کئی نام اردو ادب، فلموں اور دیگر میڈیا کے لیے بھی بہت مشہور ہیں۔ ان میں جگن ناتھ آزاد، شمس الرحمن فاروقی، گلزار، محمد علوی، مظفر حنفی، قیصر الجعفری، ندا فاضلی، جاوید اختر، عبدالاحد ساز، ظفر گورکھپوری، سدرشن فاخر، زبیررضوی، صلاح الدین پرویز، افتخارامام صدیقی، ابراہیم اشک، احمدوصی، حامد اقبال صدیقی، عادل اسیر دہلوی، نور جہاں نور وغیرہ شامل ہیں.ان سب نے مل کر آدمی کے بچپن کے ان گوشوں کو آئینہ کر دیا ہے جو بصورت دیگر تحت الشعور میں بوسیدہ ہو جاتے ہیں.
سچ کہوں تو ’’سورج اچھا بچہ ہے‘‘ کو پرکھنے کے لیے میں نے اپنی ڈھائی سالہ بیٹی کے سامنے کچھ نظمیں گا کر پڑھیں تو وہ غرق ہوکر سنتی رہی اور اس آنکھوں میں شرارت اور چہرے کی بشاشت مسلسل افزوں ہوتی رہی۔ یہ اس کتاب کی کامیابی کی دلیل ہے۔
رِدھم اور شرارت کا آمیزہ اس کے صفحات پر موجود الفاظ و اشعار کی زبردست توانائی بنا ہوا ہے۔ پڑھتے پڑھتے بچپن میں بچھڑے ہوئے کتنے ہی الفاظ سے بازملاقات ہوئی۔ مصرعے اور اشعار تو بچپن کی رفتارِقدم کی مانند پھدکتے اچھلتے ملتے ہیں۔ بچوں کے آہنگی اشعار ملتے ہیں جن میں معنی کا پایا جانا عنقا ہوتا ہے تو کچھ نظمیں بھرپور فلسفہ اور پیغام میں بھی ملفوف ملتی ہیں۔
اس مجموعہ میں نظم اپنے کئی فارم میں بیک وقت جلوہ گر ہے۔ مثنوی، مثلث، پابند، آزاد، معریٰ، دوبیتی اور قطعہ، مسدس، ترجیع بند اور تجرباتی وغیرہ۔ اس حیثیت سے بھی ایک طالبعلم کے لیے یہ ملاحظہ کی چیز ہے۔
نغموں اور نظموں سے نکلتی ہوئی روح و ریحاں ہمارے اندرون میں ایسے سرایت ہوئی کہ ہمیں فرحاں کر گئی۔ ہر کسی کا بچپن ایک الف لیلوی داستان کی مانند ہوتا ہے۔ کھٹی میٹھی، تلخ و شیریں۔ اس کا دَرک جس عمر میں ہوتا ہے وہاں صرف یادوں کا جزیرہ آباد ہوتا ہے اور صرف یہ صدا بازگشت کرتی ہے کہ ’’کوئی لوٹا دے مرے بیتے ہوئے دن!‘‘



Farhan Hanif
بہرحال ہم فرحان حنیف کو مبارکباد دیتے ہیں کہ انھوں نے ضیافتِ طبع کا جو سامان کیا ہے اس سے ہر اردو داں ان کے حق میں دعاگو ہوکر خوان سے اٹھتا ہے۔
شائقین اسے حاصل کرنے کے لیے مکتبہ جامعہ (دہلی/ علیگڑھ/ ممبئی) اور دیگر اداروں کے علاوہ [پوسٹ باکس نمبر 4546، ممبئی سینٹرل پوسٹ آفس، ممبئی 400008 (مہاراشٹر، اِنڈیا)]سے منگا سکتے ہیں ۔نیز فون نمبر +91-9320169397سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔کتاب کی قیمت صرف پچاس روپے (ہندوستانی) ہے۔

Tuesday, May 1, 2012

The Pity State Of Imams & Muazzins
Of Our Mosques

Dr. Rehan Ansari
ہمارے ہندوستانی مسلم معاشرے میں اور خصوصاً اردو شاعری میں بھی مسجد کے امام، ملا اور مؤذنین کو نشانے پر ہی رکھا جاتا رہا ہے۔ انھیں طعن و تشنیع سے نوازا گیا ہے۔ دیروحرم کا مضمون باندھ کرانھیں انسانوں میں تقسیم کا ذمہ دار بتایا جاتا ہے۔ ان سے سدا بدظنی ہی منسوب کی گئی ہے۔ انھیں ہمیشہ ایک ایسی علامت بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے کہ کریئرسازی کی مسابقت کے دور میں کوئی بھی صلاحیت مند نوجوان ان مناصب پر متمکن ہونے کی خواہش رکھتا ہوا پورے معاشرہ میں نہیں پایا جاتا۔ چند استثنائی صورتوںسے صرفِ نظر کریں تو معمولی سا آسودہ گھرانہ بھی ا پنے بچوں کو مساجد میں ان کاموں کی ترغیب دینا پسند نہیں کرتا۔ انجام کار مساجد میں ان خدمات پر مامور اکثر افراد شمالی ہند کی ریاستوں اور مدارس سے ’امپورٹیڈ‘ ہوا کرتے ہیں۔ ہمارے شہر بھیونڈی میں ایک باکمال شاعر و حکیم گذرے ہیں ان کا نامِ نامی تھا ’حکیم عبدالحئی ظریفؔ نظامپوری‘ صاحب؛ انھوں نے اردو کے ساتھ ہی ساتھ اپنی زبان کوکنی میں بھی شاعری کی ہے، آپ کا تنقیدی اور حقیقتِ حالات کا غماز ایک شعر یوں ہے کہ:
کنانچی یانچی مشیدی، کنانچی یانچی نماز؟
تمام بانگی مسافر،   امام باہرچے!
جسے اردو میں کسی قدر یوں لکھا جاسکتا ہے کہ:
کہاں کی اِن کی مساجد، کہاں کے اِن کے امام؟
تمام بانگی(مؤذن)  مسافر،   امام باہر کے!
آج جب ہم سوچنے بیٹھتے ہیں تو یہی چور ہمارے دل میں بھی بسیرا کرتا ہے۔مگر اس فیصلہ میں بھی دانشمندی کا پہلو ملتا ہے۔ مساجد کے ذمہ داران یا ٹرسٹیان وغیرہ سمیت اہلِ محلہ و اہالیانِ شہر تک ان خدامانِ دین و ملت کے ساتھ جیسا رویہ روا رکھتے ہیں وہ عبرت انگیز ہوتا ہے، حوصلہ شکن ہوتا ہے۔ آخر کیا وجوہات ہو سکتی ہیں ان سب باتوں کی؟ آئیے اپنے دامن میں جھانک کر دیکھیں۔
الٰہ العالمین کے حضورمسلمانوں کی صفوف کی رہبری کرنے والے کو یہ اختیار محض جماعت سے نماز کی ادائیگی تک ہی دیا جاتا ہے کہ وہ فرض کی ادائیگی کرکے مناجات پیش کردے۔ دن کی پانچ نمازوں میں یہ وقت زائد از زائد سوا گھنٹے ہوا کرتا ہے۔ جمعہ کے دن دو گھنٹے تک اس کی توسیع کرتے ہیں۔ باقی بچے ہوئے وقت میں امام صاحب کی حیثیت کیا رہتی ہے؟۔ انھی کی مانند مسجد میں حاضری کے وقت کی آگاہی دینے والے خادم یعنی مؤذن کو بھی کیسا مقام ملتا ہے اس پر بھی غور کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ ہم یہاں استثنائی صورتوں سے ایک مرتبہ پھر صرفِ نظر کرتے ہوئے عمومی صورت پر گفتگو کر رہے ہیں۔
مسجد کی تعمیر کئی باتوں اور ضرورتوں کے تحت کی جاتی ہے۔ مسجد اور جائے نماز (مصلیٰ) کے فرق سے بھی ہم سب واقف نہیں ہیں کہ مسجد ایک غیر منقولہ مستقل ملّی ملکیت، عبادت گاہ اور پورا قطعۂ زمین ہے جبکہ جو جگہ یا کمرہ عارضی طور سے بلڈنگوں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور محلّوں میں نماز کے لیے مختص یا وقف کیا جاتا ہے اسے مصلیٰ کہتے ہیں جو منہدم بھی کیا جاسکتا ہے اور منتقل بھی۔ اس کی حیثیت مستقل کی نہیں ہے۔ میں نے بظاہر چند غیرمتعلق سطریں لکھی ہیں لیکن مجھے ان کا تعلق زیرِ بحث مسئلے سے نظر آیا ہے۔ چنانچہ عرض ہے کہ مسجد میں امام یا مؤذن کا انتخاب ایک منتخبہ یا متعینہ ٹرسٹ مطلوبہ شرعی شرائط کے ساتھ کرتا ہے جبکہ مصلیٰ کے لیے عموماً جو شخص پابندی کے ساتھ مصلیٰ کو کھولنے اور بند کرنے کے ساتھ ساتھ نماز کی ادائیگی کروا دیا کرے نیز کم سے کم معاوضہ پر راضی ہو جائے،اسے مقرر کردیا جاتا ہے۔ اکثر ایسے فرد کی تلاش بھی کی جاتی ہے جو اذان و امامت دونوں کاموں کو انجام دے سکے۔ اس کے معاوضے کو دوچند کرنے کے لیے بلڈنگ میں رہائش پذیر افراد اپنے بچوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم ایک معقول معاوضہ پر طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے کھانے پینے کا معاملہ بھی اکثر مل جل کر گھروں سے باری کا ٹفن (ٹگارا) مہیا کروا کے حل کر دیتے ہیں۔ ’اندھا کیا چاہے دو آنکھ‘ کے مصداق انھیں ایسا بنگالی یا بہاری ’ملازم‘ مل ہی جاتا ہے جو کمالِ ہوشیاری کے ساتھ پوری بلڈنگ کو خوش رکھا کرتا ہے۔ ان کے کئی چھوٹے موٹے کام بھی مناسب محنتانہ کے عوض انجام دے کر ’اوورٹائم‘ کما لیتا ہے۔
اب آئیے دوسری جانب۔ مساجد میں امام و مؤذن کو منتخب کرنے کے پیمانے اور شرائط پر عمل کرنے کے بعد جنھیں منتخب کیا جاتا ہے ان کے ساتھ ہمیں کس رویہ کا مشاہدہ ہوتا ہے اور کن مسائل سے ہم انھیں دوچار دیکھتے ہیں۔
اکثر ائمۂ کرام کے متعلق ٹرسٹی حضرات کسی زرخرید غلام کی مانند برتاؤ کرتے ہیں۔ مسجد کا فنڈ تو چندے کے ذریعہ جمع ہوتا ہے مگر ٹرسٹی حضرات محسوس کرتے ہیں گویا امام کی تنخواہ وہ اپنی جیب سے ادا کررہے ہیں اس لیے امام صاحب کو ان کی ہر جا و بے جا بات سننی اور ماننی چاہیے۔ ذرا چوں و چرا کی تو امامت سے برخاست کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح کچھ بشری تقاضوں یا کمزوریوں اور مجبوریوں کے سبب جماعت میں ایک یا چند منٹ کی تاخیر ہوجائے تو اس پر ان کا پارہ اتنا چڑھ جاتا ہے کہ تشدد پر بھی اتر آتے ہیں۔ امام کے ساتھ انتہائی بدتمیزی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ مسلکی و فروعی معاملات میں امام یا مؤذن جتنی خاموشی  اختیار کرے (علمی طور پرگونگا اور بہرہ بن جائے) اتنااس کے حق میں اچھا ہوتا ہے۔


جہاں تک تنخواہ کا معاملہ ہے تو وہ ایسی ہوتی ہے کہ دوسرا کوئی پوچھے تو امام صاحب شرم کے مارے بتانا گوارا نہیں کرتے؛ عار محسوس کرتے ہیں یا بات کو دوسری جانب گھما دیتے ہیں۔حالانکہ ٹرسٹی حضرات معیاری تنخواہ دینا چاہیں تو یہ ان کے لیے ممکن بھی ہے اور اس سے ان کی اپنی عزتِ نفس کی حفاظت بھی ہوگی۔
مؤذنین کے ساتھ یہ رویہ مزید افسوسناک ہوتا ہے۔ انھیں مسجد کی خدمت کے نام پر تمام اضافی ذمہ داریاں بھی انجام دینی پڑتی ہیں۔ پانی کا انتظام، جھاڑو اور صاف صفائی، تمام لائٹ پنکھوں اور دیگر الیکٹرک و الیکٹرانی آلات کی دیکھ ریکھ کے ساتھ ہی ساتھ طہارت خانے کی صفائی کی ڈیوٹی بھی انھیں انجام دینی پڑتی ہے اور تنخواہ امام سے کسی قدر کم ہی رکھی جاتی ہے!
کچھ مقامات پر ائمہ و مؤذنین سے ایک کام اور کروایا جاتا ہے کہ محلہ محلہ گھوم کر چندے کی رسیدیں کٹوائیں اور اس طرح مسجد کے غلہ کے لیے رقم جمع کریں۔
اکثر دیکھا یہ بھی گیا ہے کہ امام و مؤذن کو دنیاوی معاملات اور کاموں خصوصاً کاروبار و دیگر روزگار میں لوگ مشغول اور ترقی کرتے ہوئے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ وہ اسے خلافِ تقویٰ خیال کرتے ہیں۔ جس کے سبب امام و مؤذن معاشی و اقتصادی بدحالی کا شکار ملتے ہیں۔ چالاک امام و مؤذن اس کا راستہ دعا تعویذ اور جھاڑپھونک و عملیات میں تلاش کرکے آسودہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
مسجد کے ٹرسٹیوں اور عوام میں بھی اکثر کا خیال ایسا رہتا ہے کہ امام و مؤذن مسجد کی حدود و رقبہ سے باہر کی دنیا میں رہنے کی قطعی کوشش نہ کریں، عوام سے بھی (بے تکلف) رابطہ میں نہ رہیں، مسجدومحراب کے علاوہ کہیں نشست و برخاست نہ کریں، یہ سارے عمل کسی متقی انسان کے نہیں ہیں! جو امام و مؤذن ان کاموں میں خود کو ملوث کرتا ہے وہ طرح طرح کے الزامات سہتا ہے اور لوگ اس سے بدظن ہوجاتے ہیں۔
جن مساجد میں فل ٹائم امامت اور خدمت کے لیے تقرری کی جاتی ہے ان میں بیشتر کی داستان یوں ہے کہ ’رہنے کا کمرہ‘ کے نام پر ایک تنگ سی نیم روشن کوٹھری کا اہتمام کیا جاتا ہے جس کی چھت اکثر پہلے منزلے پر جانے والے زینے کی ہوتی ہے اس لیے ترچھی رہتی ہے۔ اس کی چوڑائی زینے کی چوڑائی کے مطابق ہوتی ہے۔ لمبائی اور اونچائی  کا بیان پیمائشوں کو شرماتا ہے۔ ہوا کا گذر صرف دروازہ کھلا رکھنے پر ہی ہو سکتا ہے۔ اب بھلا ایسی ٹھسی ٹھسائی کوٹھری میں روزوشب بسر کرنے والا انسان ذہنی و جسمانی آرام و آسودگی کیسے حاصل کرسکے گا؟ ان کوٹھریوں کا دروازہ بھی مسجد کے آنگن میں کھلا کرتا ہے۔ اس لیے کوئی شادی شدہ امام اور مؤذن اپنے بال بچوں کو تو اس میں آباد کرنے سے رہا۔ اس طرح ٹرسٹی حضرات اور ذمہ داران اس پر ’تجرّد‘  temporary Asceticismتھوپتے ہیں، وقتی رہبانیت، وہ اپنی نفسانی خواہشات کے ساتھ کتنے عرصہ تک صلح کرسکتا ہے؟۔ ٹرسٹی حضرات کو ان خدامان کی آمدورفت کے لیے علیحدہ دروازے والی یا کسی دوسری عمارت میں معقول رہائش کا انتظام کرنا انسانی ہی نہیں دینی ذمہ داری بنتی ہے، جہاں وہ اپنے بال بچوں کے ساتھ رہ سکیں۔ وگرنہ ایک امام یا مؤذن ہی نہیں اس کی بیوی کی بھی نفسانی خواہشات کو گناہوں کی جانب پھیرنے اور اس خادم کے بال بچوں کی نگہداشت اور تعلیم و تربیت میں خلل انداز ہونے کا الزام ٹرسٹی حضرات کے ہی سر جائے گا۔
محرومی کا شکار ان افراد یعنی ائمہ و مؤذنین کا بھی اس میں کچھ قصور ضرور ہے۔ اچھے برے سبھی اس ناانصافی کا شکار ہیں۔ داستان طویل ہے لیکن مشہور ہے کہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہاں گیہوں میں گھن زیادہ پڑ گئے ہیں۔ ائمہ و مؤذنین اپنے علم یا علمی حیثیت کو بچا کررکھتے ہیں۔ وہ اسے عام کرنے کی جانب سے تغافل برتتے ہیں یا اپنا مزاج سماج سے غیرآمیز رکھتے ہیں۔ لوگوں کے روزانہ کے معاملات و مسائل کے دینی حل کو پیش کرنے میں چوک جاتے ہیں۔ باحوالہ دوٹوک دینی رہنمائی کرنے کی جگہ چہرہ دیکھ کر مصلحت اپناتے ہیں۔ شادی بیاہ اور موت مٹی یا تیوہاروں کے موقع پر بھی وہ اکثر غلط یا غیراسلامی امور کی ادائیگی سے منع نہیں کرتے۔ جمعہ اور عیدین یا رمضان کے ایام میں کچھ دینی خطابات ضرور کیے جاتے ہیں لیکن ان میں مسلکی اور مکتبی تنگ نظری حاوی رہتی ہے۔ دین کو جانے کتنے خانوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ مسلم سماج کی باطنی اصلاح کا کام اتنے خلوص و استقلال کے ساتھ انجام نہیں دیا جاتا جتنا ظاہری شناخت کو مخصوص کرنے پر دیا جاتا ہے۔ ساغرؔ خیامی نے اس پر طنز کا جو تیر تاکا ہے وہ یوں ہے کہ:

محشر میں پہنچے شیخ تو اعمال ندارد
جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد
 اس طرح جو مسجد اسلامی معاشرت کی داغ بیل ڈالنے کا ذریعہ بن سکتی ہے وہ محض فرض نمازوں کی ادائیگی اور نکاح خوانی یا قرآن خوانی سے زیادہ کسی اور استعمال میں خال خال ہی آتی ہے۔ اس میں ہم سبھی کا اجتماعی قصور ہے۔