To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Sunday, March 17, 2013


"Ahwal-e-Shafat"
A Concise Encyclopedia of Urdu Journalism
Compiled by Suhel Anjum
An Introduction: Dr. Rehan Ansari
سہیل انجم لکھتے ہیں: ’’صحافت کسی بھی واقعہ کو نشر کرنا یا دوسروں تک پہنچانا ہے اور اس انداز میں پہنچانا ہے کہ اسے لوگ سمجھ سکیں‘‘۔
اب صحافت کی اصطلاح ’’میڈیا‘‘ میں ضم ہو چکی ہے۔ لیکن صحافت کا عمل اور کینوس وسیع تر ہوا ہے۔ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا دونوں کی پیشکش میں صحافت کو ہی اعتبار حاصل ہے۔پرنٹ میڈیا بھی رنگدار ہوچکا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا میں بھی انٹرنیٹ پر تعلیم یافتہ انسانی گروہ تحریری مواد کو فوقیت دیتا ہے۔صرف توثیقِ خبر کے لیے ویڈیو یا تصویری میڈیا کی جانب رجوع ہوتا ہے۔ ویسے تحریری و تصویری میڈیا بھی ایک دوسرے میں بالکل پیوست اور اب ایک ہی وجود سمجھے جاتے ہیں۔دنیا کی ہرزبان کے میڈیا نے ترقیات کی جانب پیش قدمی کی ہے اور اردو زبان بھی اس میں شامل ہے۔
اردو زبان برصغیر ہندوپاک میں زیادہ اور پوری دنیا میں بیشتر ممالک میں اب اپنا وجود اور ترویج رکھتی ہے۔ اس کا میڈیا بھی اپنے تنوع اور پیشکش کے لحاظ سے معاصر زبانوں کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہے۔ اس کا ثبوت وہ اعدادوشمار ہیں جو اردو پرنٹ میڈیا کے تعلق سے رجسٹریشن آف نیوزپیپرس اِن انڈیا (RNI) کی سالانہ رپورٹ سے آشکارا ہے کہ ہندوستان میں اردو اخبارات تعداد کے لحاظ سے ہندی اور انگریزی کے بعد تیسرے نمبر پر ہیں۔یقینا ابھی اردو والوں کی نئی جنریشن کو اردو تعلق سے سنجیدہ نہیں دیکھا جا رہا ہے مگر جب ہم اپنی زبان کو باقی رکھنے میں دلچسپی لیں گے اور اردو کے اخبارات اور رسائل کو انٹرنیٹ پر یا گھر پر منگوا کر دیکھتے رہیں گے تو نئی جنریشن کو بھی ترغیب مل سکتی ہے۔ اسی عمل میں اپنی تہذیبی اور اخلاقی شناخت بھی پوشیدہ ہے۔

The Cover Page of the Book and Author
’احوالِ صحافت‘ ایک ایسی کتاب ہے جس نے درجِ بالا تاثرات ہی نہیں ابھارے بلکہ ہماری برسوں کی تشنگی کی تسکین کا سامان ثابت ہوئی۔ سہیل انجم (دہلی) نے بظاہر ایک کتاب لکھی ہے مگر اصلاً یہ اردوصحافت کا ایک مختصر انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اس میں طلبائے صحافت کے ذہنوں میں اٹھنے والے بیشتر سوالات کا جواب اجمالاً موجود ہے۔ اس میں تاریخِ اردوصحافت، ہمارے چند اسلافِ صحافت کے مختصر حالات مع ان کی بیباک منتخبہ تحریروں کے نمونے اور تحریکیں، تحریکِ آزادی کی ابتدا سے آزادی تک حریت پسندی و جرأت خیزی کے ساتھ انگریزوں سے مقابلہ آرائی، قربانیاں اور بیباکیاںمذکور ہیں۔ طلباء کے لیے صحافت کے رموزونکات کے ساتھ ہی دورِ جدید میں اردوصحافت کے تقاضے و رہنمائیاں، اردو صحافت کی کارپوریٹ سیکٹر سے رشتہ داری اور اس کے اثراتِ نیک و بد باب وار درج ہیں۔جو نتیجہ خیز ہی نہیں بلکہ کہیں باعثا ہمت ہیں تو کہیں باعثِ عبرت بھی ہیں۔میڈیا کا معاشرہ سے اٹوٹ رشتہ ہے۔ اور یہ میڈیا ہماری مشترکہ ہندوستانی تہذیب پر کس کس انداز سے اثرانداز ہوتا ہے اس کا بھی بھرپور تجزیہ ہے۔
سہیل انجم چاہتے تو دوسرے اردو صحافیوں کی مانند خبریں لکھ پڑھ کر، مضامین سپردِقلم کرنے اور چھپانے کے کام کرکے اور دوسرے حربے استعمال کرکے مست رہ سکتے تھے لیکن سہیل انجم نے اس کتاب کو تحریر کرکے سچ پوچھیے تو اردو والوں کے سر سے ایک قرض اتارا ہے۔آپ نے اس سے قبل بھی کئی تلخ و شیریں کتابیں صحافت کے موضوع پر دی ہیں جن کی پذیرائی ہمارے دور کے اکابرین کر چکے ہیں۔
’احوالِ صحافت‘ مبتدیانِ صحافت کے لیے ورق ورق رہنما اور ایک دستاویز ہے تو مشّاقان و مشتاقانِ اردو صحافت کے لیے ایک ریمائنڈر اور ریفریشر کی حیثیت رکھتی ہے۔
سہیل انجم ایک ایسے صحافی ہیں جن کی نظروں سے عصری حسیت یا تقاضوں سے متعلق کوئی موضوع چھپ نہیں پاتا اور فوراً ان کا خامہ سبک روی سے چلنے لگتا ہے۔ ادب و فنون، مذہب و جنون، معاشرت و سماج، سیاسیاتِ ملکی و بین الاقوامی، پیشہ و مالیات،شخصیات و سفریات وغیرہ ہمہ قسم کے موضوعات ان کے قلم کی روشنائی مستعار لے کر مرقوم ہوچکے ہیں۔مگر یہ خیال نہ لائیں کہ وہ کافی سن رسیدہ ہیں۔ وہ نئی نسل کے نمائندہ ہیں اور ان کے اساتذہ ان پر فخر کرتے ہیں۔انھوں نے اپنے قلم پر کسی بھی مصلحت کا دباؤ کبھی قبول نہیں کیا اور اپنے محسوسات و مشاہدات کو من و عن لکھا ہے۔ یوں بھی ان کی شخصیت کے ظاہر و باطن سے شرافت و نجابت پھوٹتی رہتی ہے۔ نہایت خوش خصال اور محبت لٹانے والے آدمی ہیں۔ ان کا خلوص دیکھ کر بے ساختہ یہ مصرعہ یاد آتا ہے کہ ’’اتنے مخلص بھی نہ بن جاؤ کہ پچھتانا پڑے‘‘۔
زبان کے معاملے میں بھی بیحد شستہ، بامحاورہ، سلیس و رواں اردو لکھتے ہیں۔ اور انھیں یہ دستاویز ہم نہیں بلکہ ہمارے عہد کی ایک معتبر ترین ہستی پروفیسر عبدالحق صاحب دیتے ہیں۔ ان کے الفاظ ہیں: ’’ان کی تحریر کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ادبیت ہے، اسلوبِ تحریر بہت جان لیوا ہے اور اندازِ تحریر دامنِ دل کو کھینچتا ہے۔ سہیل انجم نئی نسل کے صحافیوں میں ایک امتیاز رکھتے ہیں، ان کے خبر و نظر میں موجود واقعہ کی منصفانہ تعبیر ہمیں متاثر کرتی ہے، اردوصحافت کے ماضی و حال پر ان کی بصیرت افروز نظر ہے، وہ تحریر و قلم کی حرمت کا حتی المقدور پاس رکھتے ہیں۔ وہ اس لیے بھی مجھے عزیز ہیں کہ ان کی تحریریں شگفتگی سے خالی نہیں ہوتیں۔ ادب و انشا سے ہم آمیزی صحافت کے جوہر آشکار کرتی ہے اور دلنوازی بھی بخشتی ہے۔ ان سے بہت توقعات ہیں‘‘۔
’احوالِ صحافت‘ کے ساتھ سہیل انجم ایک درجن کتابوں کے مصنف ہوچکے ہیں جن میں سے بیشتر کا موضوع صحافت ہی ہے۔ اس کثیرتصنیفی عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کتنے باخبر، باریک بین اور دوربین صحافی ہیں۔سہیل انجم ایک کثیرالمطالعہ اور میدانِ عمل کی ایک متحرک شخصیت ہیں۔ ’احوالِ صحافت‘ موصول ہونے کے بعد ہمیں لگا کہ اسے سرسری طور سے پڑھ لیں گے مگر افسوس کہ ہمیں اپنے ارادہ میں ناکامی ہوئی۔ اس کے ایک ایک صفحہ کو ٹھہرٹھہر کر پڑھنا ہوا اور انجام کار ’احوالِ صحافت‘ کو پڑھ کر ہم تو سہیل انجم کے پرستار ہوگئے۔ ذیل میں ان کی کاٹ دار اور تجزیہ نگار تحریر کے چند نمونے ملاحظہ کریں:
۱) اردو صحافت میں کارپوریٹ سیکٹر والے مضمون میں لکھتے ہیں، ’’یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اردو صحافت کی جانب محبت پاش نظروں سے اچانک کیوں دیکھنے لگے جن کا کردار اردوزبان کے حوالے سے واضح نہیں رہا ہے یا جن کو اس لٹی پٹی زبان سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔ اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں جن کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ عام طور پر لوگوں کا خیال ہے کہ کارپوریٹ یا تجارتی ادارے کسی بھی معاملہ میں اس وقت تک ہاتھ نہیں ڈالتے جب تک انھیں اس سے کسی قسم کے مالی فائدے کی امید نہ ہو‘‘ اس مضمون کا اختتام بھی بہت خوب کیا ہے کہ ’’جس کو ان اداروں سے نکلنے والے اخبار پسند ہوں گے وہ ان میں دلچسپی لے گا۔ فی الحال اس اندیشے میں بھی کوئی دم نظر نہیں آرہا کہ ان اخباروں سے مسلمانوں کا عقیدہ خراب ہوجائے گا اور ان کے ایمان پر تلوار لٹک جائے گی۔ مسلمانوں کا عقیدہ اتنا کمزور اور ان کا ایمان اتنا متزلزل نہیں ہے کہ چند اخبارات ان کو بگاڑ سکیں۔ ہمیں ہر اس تبدیلی کا خیرمقدم کرنا چاہیے جس کے دامن میں اثبات کے امکانات زیادہ ہوں اور نفی کے کم‘‘۔
۲) ’ہمعصر اردو صحافت کے تقاضے‘ میں آپ ان سطور سے ابتدا کرتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ زندہ زبانیں روزگار کی بنیاد پر نہیں بلکہ جذبہ کی بنیاد پر باقی رہتی ہیں اور ان کی شریانوں میں اقتصادیات و معاشیات کے لہو کے بجائے جوش اور جنون حرارت بن کر گردش کرتے ہیں۔ یہ موضوع الگ بحث کا متقاضی ہے کہ اگر زبان روزگار فراہم نہ کرسکے تو کیا ہم اس سے اپنا ناطہ توڑ لیں اور اسے اپنی زندگی کے شب و روز سے خارج کردیں؟‘‘
۳) فیچر اور مضمون کا موازنہ کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں: کوئی ضروری نہیں کہ جو شخص اچھا مدیر، اچھا مضمون نگار اور اچھا صحافی ہو وہ اچھا فیچر نویس بھی ہو۔ کوئی بھی مضمون جہاں سنجیدگی کا متقاضی ہوتا ہے وہیں فیچر کے لیے دلچسپ اور پُرلطف پیرایۂ بیان ضروری ہے۔ مضمون کی عمارت جہاں ٹھوس حقائق کی بنیاد پر تعمیر کی جاتی ہے وہیں فیچر کی تعمیر مشاہدے اور وجدان کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ مضمون جہاں معلوماتی ادب کا نمائندہ ہوتا ہے وہیں فیچر تفریحی ادب کا علمبردار ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ تفریحی ادب بھی  اردو ادب کے خزانے کا ایک گراں قدر حصہ ہے، اس لیے فیچر کو تفریحی ادب کہہ کر نہ تو نظرانداز کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کی اہمیت کم کی جاسکتی ہے۔‘‘
’احوالِ صحافت‘ پڑھنے سے دلچسپی رکھنے والے اسے براہِ راست سہیل انجم سے حاصل کرسکتے ہیں۔ کتاب کی قیمت دو سو(200) روپے ہے آپ سے رابطہ درج ذیل پتوں پر ہوگا:

Suhel Anjum
370/6A, Zakir Nagar, New Delhi, 110025
M#: 9582078862 / 9818195929
email: sanjumdelhi@gmail.co

Wednesday, February 27, 2013

Indian Muzahikeen (Indian Mockers / IM) have No Hands No Brains
Dr. Rehan Ansari
گجرات (نڈیاڈ،کھیڈا) کے ۲۳ سالہ نوجوان دوسرے سال کے آئی ٹی انجینئرشیوم ویاسؔ (Shivam Vyas) کو چھوڑ دیا گیا۔ ۲۵فروری کو جب یہ خبر انٹرنیٹ پر ہم نے جس لمحہ پڑھی تھی اسی وقت اندازہ تھا کہ یہ ہوگا۔ یہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں نظر آیا تھا۔ لیکن شام کے بعد اس کی خبر بھی ویب سائٹ سے ہٹا لی جائے گی اس کی امید کم تھی لیکن وہ بھی خیر سے پوری ہوگئی۔ اس کورچشمی پر ہم تو ہوئے نثار!
شیوم ویاسؔ پاگل ہے، مجنون ہے، دیوانہ ہے، اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ گجرات سے دلسکھ نگر (حیدرآباد) بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے متعلق ایک نیوز چینل کو ’فیک ای میل‘ (Fake eMail) کرنے والے کے ای میل کا کوئی فیکٹ نہیں ہے۔ وہ محض ایک مضحکہ خیز اور دلخراش حرکت تھی۔ یہ ہم نہیں پولیس محکمہ کہتا ہے۔ سچ بھی ہو سکتا ہے۔ بھئی! پولیس کے بیان پر ہم شک کرنے کا گناہ کیوں کریں؟ البتہ ہمیں مسلسل لگتا ہے کہ اے ٹی ایس کی ساختہ ’انڈین مجاہدین‘ کے بالمقابل ایک نئی ٹیم بن رہی ہے جسے ’انڈین مضاحکین‘ (India Mockers) کا نام دینے میں شاید کوئی قباحت نہیں ہے۔دونوں کا مخفف بھی ایک (IM) ہی بنتا ہے۔
اور صاحب! ہمارے ملک میں مرکزی وزارتِ داخلہ کی جانب سے کیے گئے ’اسپیڈ پوسٹ‘ کی ڈیلیوری گھر کے افراد کو تین تین دن کی تاخیر سے ہوتی ہے،لیکن بی جے پی کی ریاستی یونٹ کے صدر کو ’سادہ پوسٹ کارڈ‘ بلاتاخیر مل جاتا ہے اور وہ میڈیا کو بھی آن کی آن میں دستیاب ہوجاتا ہے تاکہ ’دھماکوں کی ذمہ داری قبول کرنے والوں‘ کی نشادن دہی کے کام آسکے۔ اب پوسٹ آفسوں کو بھی میڈیا کے ساتھ تحقیقاتی ٹیم سے جوڑنے کی ضرورت آن پڑی ہے۔ سب مل کر کام کریں گے تو کوئی نہ کوئی ملزم چہرہ تو بنا ہی لیں گے!
 ویسے قارئین جان لیں کہ مذکورہ ای میل خبر کے مطابق بہت ’ویل ڈرافٹیڈ‘ تھا اور اس میں شیومؔ کو لشکرِ طیبہ کی بھی معلومات تھی۔ اس نے حیدرآباد کے بعد گجرات میں بھی دھماکوں کی دھمکی لکھی تھی۔اس میں اہم ترین جگہوں، تنصیبات اور تعلیمی  اداروں کا پتہ بھی تھا، چند موبائل فون نمبر بھی ٹھیک ٹھیک لکھے تھے۔ جعلی دستخط بھی کرنا اسے آتا ہے۔ لیکن شومئ قسمت کہ پولیس کے مطابق وہ ’مجنون‘ ہے! اگر یہ لنک سائٹ سے ہٹایا نہیں گیا ہو تو دیکھیں:
http://timesofindia.indiatimes.com/india/Gujarat-engineer-student-mails-terror-threat-held/articleshow/18683088.cms

ہمیں تو یہ سوچ کر ہی تھرتھری سی بھر گئی کہ اُس نوجوان کا نام اگر شیوم کی جگہ ’شاہ رخ‘ وغیرہ ہوتا تو شاید اس کے ’حقیقی پاگل‘ رشتہ دار تک پولیس اسکیننگ میں ’شریکِ سازش‘ مل سکتے تھے۔
ماضی میں ہماری ریاستی پولیس کے ہاتھ دھماکہ خیز مادوں اور بم سازی کے سامان کے ساتھ چند لوگ لگے تھے لیکن جیسے ہی ’ان کے نام‘ معلوم ہوئے تو میڈیا میں پولیس کے ذرائع سے یہ اطلاع ملی کہ وہ مادّے ان کے لیے کنووں یا پہاڑیوں کی کھدائی یا کھیتوں کی سینچائی وغیرہ میں امداد کی خاطر تھے اور ان کا ریاست یا بیرونِ ریاست ہونے والے بم دھماکوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ انھیں گرفتار تک نہیں کیا گیا، اور اگر گرفتاری ہوئی بھی تو ہمیں کسی ذریعہ سے ان کا فالواَپ نہیں معلوم ہوا۔

دلسکھ نگر بم دھماکوں کی تحقیقات کا رخ بھی کیا دلچسپ ہے۔ میڈیا اور پولیس تو کوششِ بسیار کے بعد حاصل کردہ سی سی ٹی وی کے کلپ میں (گمان ہے کہ) اُس سائیکل بردار شخص کے دھندلے سے عکس میں کوئی داڑھی اور ٹوپی کی تلاش میں سرگرداں ہیں، مگر CCTV کے آپریٹرس سے اس بات کے جواب کے طلبگار نہیں ملتے کہ آخر ’پانچ دنوں تک‘ انھوں نے منقطع کیبل کا کوئی نوٹس لیا اور نہ اس کی ضرورت سمجھی۔ ہمیں یہ اطلاع بھی اب تک نہیں ملی کہ ان کیبلوں کو دوبارہ قابلِ عمل بنا بھی لیا گیا یا ہنوز ویسے ہی پڑے ہیں۔ تحقیق کاروں کو یہ اطلاع تو ضرور ہونی چاہیے کہ مہاتما کا قتل کرنے والے ناتھورام گوڈسے سے لے کر ناندیڑ پٹاخہ فیکٹری اور مالیگاؤں سمیت سبھی سائیکل اور موٹر سائیکل والے دھماکوں میں ملوّث افراد بے نقاب ہوچکے ہیں اور سب نے اصلی و نقلی داڑھیوں اور ٹوپی کا استعمال جس مقصد سے کیا تھا اس کے بھی شرمناک نتائج معلوم ہوچکے ہیں۔ پھر یہ افواہ یا Hoax  اور ’فیک ای میل‘ کی بیماری بھی کوئی نئی تو ہے نہیں۔ ماضی میں جو بم دھماکے ہوئے اس وقت بھی یہ کھیل کھیلا جا چکا ہے۔ کسی اسٹیڈیم میں بم کی افواہ، کسی ریلوے اسٹیشن اور ہوائی اڈے پر افواہوں کا پسارا، سابق صدر جمہوریہ عبدالکلام کو بھیجے جانے والے فیک ای میل وغیرہ اس کی چند مثالیں ہیں۔ اتفاق سے ان سبھی افراد کے اصلی نام ظاہر ہونے کے بعد تقریباً سب کو پولیس نے ’’ذہنی معذوری‘ کا سرٹیفکیٹ دلوایا تھا!
خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
ہمارا خیال (خام) ہے کہ اپنا میڈیا بھی مذکورہ بالا تاریخ سے خوب واقف ہے لیکن اس کے اغراض و مقاصد تو ’’سب سے آگے آگے‘‘ چلنے کے ہیں اس لیے اسے اب ’’میڈیا ٹرائل‘‘ Media Trial جیسی استناد سے بھی نوازا جاچکا ہے۔ میڈیا کے دُھریندر تو خبر پھوٹتے ہی ہندوستانی عدلیہ کو منہ چڑانے لگتے ہیں۔ اور اتنا چلّاتے ہیں کہ انصاف پسندوں کا مطالبہ اس شور میں بالکل دم توڑ دیتا ہے۔ خیر!
کوئی بھی ملک عوام سے بنتا ہے۔ ہندوستان اس دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے اور اس کے عوام سے ہی بنا ہے۔ عوام میں اگر ان کے مذہب، ذات پات یا چند دوسری بنیادوں پر تفریق کی عادت رکھیں گے تو بھلا انتظامیہ کیسے سب کا (خصوصاً مسلمانوں کا) اعتماد حاصل کرسکے گا، اور کس طرح ملک میں سکون و ترقی کی راہیں کھل سکیں گی؟
اصحابِ اقتدار کو اب بھی ہوش میں آنا چاہیے۔ اپنی آنکھوں سے رنگین شیشے اتارنا چاہیے۔ اگر یہ نہیں کریں گے اور آج جب کل تاریخ بن جائے گا، ہم سب نہیں ہوں گے تو آئندہ نسلیں آپ کو مجرموں کے نام سے یاد کریں گی؛ ملک کے معماروں یا محافظوں کے نام سے نہیں! خواجہ یونس، عشرت جہاں اور اس کے ساتھیوں کے جعلی انکاؤنٹر نے تو آپ کے اس سسٹم کی سڑاند کا ڈھکن بھی پوری طرح کھول دیا ہے
۔

Thursday, February 7, 2013

The Side Effect of being a lady IAS officer
and other News of today

Dr. Rehan Ansari
آج کے مختلف اخبارات میں مندرجہ بالا تین خبریں شائع ہوئی ہیں۔ سرخیاں اور متن معمولی طور سے الگ الگ ہیں۔ ہم نے یہاں ممبئی سے شائع ہونے والے روزناموں ’اردوٹائمز‘ اور مراٹھی ’سامنا‘ کے عکس مع متن پیش کیے ہیں۔ اور ان پر اپنی خیال آرائی!
٭پہلی خبر (یواین آئی کے حوالے سے) کا تعلق ایک ریاستی وزیر کے تعلق سے ہے جس نے اپنی ریاست کی ایک لیڈی آئی اے ایس افسر اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم) کی عوامی جلسے میں بنام پذیرائی ایسی تعریف کیا جو غیرڈپارٹمنٹل ہی نہیں اسے جنسی لذت خیزی Sexist سے تعبیر کیا جائے گا۔

Click the photo to enlarge to read
ہمیں  یاد آیا کہ ہم ایک بچی کے تعلیمی مستقبل کے تعلق سے فکرمندی لے کر ممبئی میں ماہرِ تعلیم جناب مبارک کاپڑی صاحب سے رجوع کیا تھا اور یہ عندیہ ظاہر کیا تھا کہ بچی کو تعلیمی جلسے اٹینڈ کرتے ہوئے آئی اے ایس افسر یا چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بننے کی خواہش ہے اور وہ اس کے لیے ایلی جیبل eligible بھی ہے، تو انھوں نے یہ راز کھولا تھا کہ کسی بھی بچی اور خصوصاً مسلم بچی کے لیے یہ دونوں جگہیں ایسی ہیں جو پروفیشنل لائف میں مردوں کی اکثریت والی دنیا ہے۔ اس میں مسلسل خطرات رہیں گے۔ اس لیے اہلیت رکھنے والی طالبات کے لیے اور بھی میدان ہیں ان پر توجہ مرکوز کریں۔ آج کی خبر پڑھنے کے بعد عبرت بھی ہوئی اور جانے کتنے غیرمنکشف کونوں سے کئی چیخیں عدم تحفظ کی ہمارے کانوں سے ٹکرائیں! ہمیں ڈی ایم بھاگیہ لکشمی (یا کیپشن کے مطابق دھن لکشمی) کے بھاگ سے ہمدردی بھی ہے اور ان کے لیے حفاظت کی دعا دل سے نکلتی ہے۔
٭ دوسری خبر کو غیر اردوداں اخبارات نے بڑے طعنہ باز انداز میں شائع کیا ہے۔ 
Click the photo to enlarge to read
یعنی مرکزی وزیرِ داخلہ سشیل کمار شندے نے اپنے جے پور والے ’بھگوا دہشت واد‘ والے بیان سے ’یوٹرن‘ لیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی رنگ نہیں ہوتا!... کیا نئی بات کہی ہے؟!... جب مسلمانوں پر الزام لگایا جاتا ہے تو اسے مراٹھی میں ’ہیروا دہشت واد‘ (بہ معنی گرین ٹیررِزم) مسلم ٹیرر اور اسلاموفوبیا جیسے جانے کتنے نئے اور پرانے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے اور مسلمان وضاحت کرتے ہیں کہ دہشت اور دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہے تو یہی عناصر اسے نظر انداز کرتے رہتے ہیں ... سُنی اَن سنی کرتے ہیں... خیر، ہمیں پوری امید ہے کہ اس عادت کو یہ اب بھی نہیں چھوڑیں گے... لیکن، ہمیں جو فکر لگی ہے وہ یہ کہ مہاراشٹر ہو یا ملک کی کوئی اور ریاست ہو یا مرکز ہی ہو، جب بھی بھگواوادیوں کی دہشت کے خلاف کسی وزیرِ داخلہ نے کوئی بیان دیا ہے تو اس کے بعد ناقابلِ تردید ثبوت پیش کرنا اور اقدام تو دور کی بات ہے وہ ایسے بزدل ثابت ہوا کیے ہیں کہ اپنا بیان واپس لینے میں ہی عافیت جانی ہے۔ ہمیں کوئی بہادر ریاستی یا مرکزی وزیرِ داخلہ کیوں نصیب نہیں ہوتا؟ ایسے مقتدر عہدہ پر متمکن ہونے کے بعد کسی بھی شخص کو اس عہدہ کی رسوائی کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ جبکہ سشیل کمار شندے نے اپنے جے پور والے بیان میں واضح طور سے ثبوت اور رپورٹ کی تحویلی کی بات کی تھی اور ان کے بعد داخلہ سکریٹری نے بھی اس کی توثیق کی تھی۔ لیکن آج کی خبر سے تو محسوس ہوا کہ مرکزی وزیرِ داخلہ کو سادھوؤں سے ڈر کر برسرِ اقتدار جماعت نے ہی ’دماغ کاجلاب‘ دیا ہے تاکہ وہ سیاسی گنگا میں اشنان کرلیں۔
٭ تیسری اور تشویشناک خبر یہ کہ مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (MPSC) امتحانات کے پرچے حکومت اردو اور ہندی میں شائع نہ کرے۔

Click the photo to enlarge to read
ہمیں کمل ہاسن کی نئی فلم پر احتجاج کے تعلق سے ان کے مشہور کردہ اختراعی جملے Cultural Terrorism میں کسی قدر ترمیم کے ساتھ کہنے دیجیے کہ ’ایم پی ایس سی کے لیے اردو/ہندی پرچہ‘ کے خلاف مہاراشٹر میں شیوسینا نے ’’ایجوکیشنل ٹیررِزم‘‘ Educational Terrorism پھیلا دیا ہے اور اس کے ایم پی سنجے راؤت سمیت نومنتخبہ شیوسینا چیف اُدھوٹھاکرے نے حکومت کو انتباہ دیا ہے کہ ’اردو/ہندی میں MPSC کے پرچے ہرگز نہ نکالے، کیونکہ اس سے مراٹھی طلبہ کا نقصان ہوگا!... شیوسینا نے اسی خبر میں یہ دھمکی بھی دی ہے کہ بصورتِ دیگر نتائج کی ذمہ دار ریاستی حکومت ہوگی۔ہمیں آغاحشرکاشمیری کا وہ مشہور مکالمہ یاد آگیا ’’تمہاراخون خون ہے، ہمارا خون پانی!‘‘۔
٭ایک خبر یہ بھی ہے کہ کل ہند سطح پر ہونے والے ’پری میڈیکل امتحان: نیٹ‘ NEET کے پرچے سی بی ایس ای بورڈ اردو زبان میں شائع نہیں کرے گا۔ یہ ملک کی ایک سرکاری زبان ہی نہیں بلکہ ملک کی (ملک گیر) ’اکلوتی اصلی زبان‘ کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ مانا کہ اس کی حالت ملک گیر سطح پر اردووالوں نے ہی خراب کی ہے مگر ابھی مہاراشٹر سمیت دیگر کئی ریاستوں میں اردومیڈیم سے طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ خود مہاراشٹر میں ایک سو اڑسٹھ 168 جونیر کالج اردو میڈیم کے جاری ہیں۔ اس کے خلاف احتجاج نما دفتری درخواست کی تحریک چلی ہوئی ہے۔ ہم بھی اس تحریک کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔