To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Sunday, July 13, 2014

International Terrorist Israel's Brutality
and Genocide Attack on Helpless Palestinians
Dr. Rehan Ansari

 ہماری پیدائش سے بھی قبل، عرصہ پہلے، 1958ء میں ایک ہندی فلم ’’یہودی‘‘ ریلیز ہوئی تھی۔ اس میں سلطانِ روم (عیسائی) کے دربار میں اپنی مظلومیت کی دہائی دیتے ہوئے ایک یہودی کردار (سہراب مودی) کا یہ ڈائیلاگ بیحد مشہور ہوا تھا۔ اس قدر مشہور ہوا تھا کہ ہمیں ہوش سنبھالنے کے بعد بھی ایک عرصہ تک اس کی گونج سنائی دیتی رہی۔
’’تمھارا غم ہے غم،اوروں کا غم خواب و کہانی ہے
تمھارا خون ہے خون! ہمارا خون پانی ہے؟‘‘
آج وہ بے طرح یاد آگیا۔ کاش ہم اس کے ساتھ سہراب مودی کا لہجہ بھی پیش کرنے پر قادر ہوتے تو قارئین اس کا صحیح وزن محسوس کرسکتے۔ آج اس کے یاد آنے کی وجہ دوسری ہے۔ یہاں ظالم اور مظلوم بدل گئے ہیں۔ ظالم یہودی ہیں اور مظلوم فلسطینی مسلمان۔



فلسطینیوں پر تازہ دہشت تھوپنے کے لیے اسرائیل کو نیا بہانہ ہاتھ آگیا ہے۔ باہم امن مذاکرات سے وہ اتنا نہیں تلملایا تھا جتنا الفتح اور حماس کے اتحاد سے۔ اور وہ اسی اتحاد کو ضرب پہنچانے اور شکستہ کرنے کی فکر میں غلطاں تھا۔کیونکہ برسوں سے دنیا کی بہترین عسکری اور اَچوک تکنیکوں کے استعمال اور لاکھوں جانیں لینے کے باوجود فلسطینیوں کے جذبۂ قومیت و حریت کو وہ ہلکا سا نقصان بھی نہیں پہنچا سکا ہے۔
گذشتہ دنوں غربِ اردن سے تین اسرائیلی نوجوانوں کے اغوا اور قتل کے بہانے اسرائیل نے حماس کو تازہ انتقامی دھمکیاں بنام ’جواب‘ دی ہیں۔ مغربی پٹی سے تین اسرائیلی نوجوانوں کے اغوا اور قتل کی واردات کو اسرائیل نے راست طور سے حماس کی کارروائی قرار دیا تھا۔ واضح ہوکہ اس اغوا اور قتل کی ذمہ داری کسی بھی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔ اور حماس نے تردید کی ہے۔ اس لیے اسرائیل کا یہ ’جواب‘ بِلاجواز ہے۔ حماس کو دھمکی دینے کے بعد ہی ایک سولہ سالہ فلسطینی لڑکے محمد حسین ابو خضیر کو وحشیانی انداز سے اس کے گھر سے اٹھا کر لے جایا گیا اور زندہ جلا دیا گیا۔ پہلے تو اسرائیل نے ابوخضیر کو زندہ جلادینے کی تردید کی مگر جب انھیں کے ڈاکٹروں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ سامنے آیا کہ اس کے سر پر گہری چوٹ تھی اور اس کی سانس کی نلیوں میں پھیپھڑے کے اندر تک راکھ موجود ملی؛ اور یہ ثبوت ہے کہ جلائے جانے کے وقت وہ سانس لے رہا تھا؛ تو اسرائیل نے اس کی تحقیقات کا حکم دیا۔اتوار (۶؍جولائی) کو اس جرم کے تحت چھ یہودیوں کو گرفتار بھی کرلیا گیا۔ واضح ہو کہ یہ گرفتاری اس اندیشہ کے تحت کی گئی ہے تاکہ غزہ پٹی پر اسرائیلی نوآبادیات پر فلسطینیوں کے احتجاجی حملے پر روک لگائی جاسکے۔ جبکہ پیر کے دن ملنے والی خبروں میں اسرائیل نے تازہ ’’ہوائی حملوں میں سات ’حماس دہشت گردوں‘ کو ہلاک بھی کیا‘‘۔ منگل کو ہوائی حملوں میں اضافہ کر دیاگیا۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ’جین ساکی‘ Jen Psaki  نے واشنگٹن میں یہ بیان جاری کیاکہ امریکہ راکٹ حملوں کی مذمت کرتا ہے اور اسرائیل کی حمایت کرتا ہے کہ اسے ان راکٹ حملوں سے اپنے دفاع کا پورا پورا حق ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ مذکورہ اسرائیلی نوجوان ۱۲؍جون کو لاپتہ ہوئے تھے اور ان کے لیے فلسطینی علاقوں اور غربِ اردن میں بڑا سرچ آپریشن کیا گیا تھا۔ چارسو سے زیادہ فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور اسرائیلی فوج کے ساتھ لڑائی میں پانچ لوگ ہلاک بھی ہوئے تھے۔ پھر اُن نواجوانوں کی لاشیں حلحول قصبے میں ملی تھیں۔ اطلاع پاتے ہی بڑی تعداد میں اسرائیلی فوجیں وہاں پہنچ گئی تھیں۔اسرائیل سیکوریٹی ایجنسی نے حماس کے دو ارکان مروان القواسمۃ اور عامر ابوعیشۃ کے اس واقعہ میں ملوث ہونے کا ’شبہ‘ ظاہر کیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے ان دونوں کے گھروں پر بارودی مواد کے ساتھ حملہ کیا، فلسطینی عینی شاہدین کے مطابق ابوعیشۃ کا گھر تباہ ہوگیا ہے۔
ابوخضیر کی تدفین کے بعد مشرقی یروشلم اور اسرائیل کی عرب بستیوں میں بے چینی پھیل گئی تھی۔ شدت پسند صیہونیوں نے ان کے گھروں کی دیواروں پر ’’خون کا بدلہ خون‘‘ جیسے اشتعال انگیز نعرے لکھ دئیے تھے اور اپنی تازہ انتقامی کارروائیوں کا آغاز کردیا تھا۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کھلے طور سے ’جواب‘ دینے کا اعلان کرکے اس دہشت کو دوچند کردیا تھا اور اس اشتعال میں تیل کا کام کیا تھا۔ یاد رہے کہ بنیامن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ’’حماس کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی!‘‘ اور جواب میں حماس نے اسرائیلی نوجوانوں کے اغوا و قتل کے الزامات کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ ’’ان کے خلاف کوئی بے سبب انتقامی کارروائی کی گئی تو اسرائیل کے لیے جہنم کے دروازے کھل جائیں گے‘‘۔ یہ بدبختی بھی سامنے آئی کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے یہودی بچوں کے اغوا اور قتل پر اپنا ردّعمل میڈیا میں تو ظاہر کیا لیکن فلسطینی لڑکے کی شہادت پر اپنا کوئی تاثر نہیں دیا۔ محمود عباس نے اسرائیلی نوجوانوں کے قتل کی مذمت کی تھی اور اس پر ندامت کا اظہار کچھ ایسے انداز میں کیا تھا کہ بِل حماس کے نام ہی پھٹتادکھائی دیتا ہے اور اسرائیل کے ناپاک عزائم کو کھادپانی ملتا نظر آتا ہے۔محمود عباس نے فلسطینیوں کو کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ یہ کیا سیاست ہے اور اس ڈپلومیسی کے کیسے اثرات مرتب ہوں گے ہم اس کا اندازہ لگانے سے قاصر ہیں۔ البتہ ہم ہی نہیں دنیا جانتی ہے کہ فلسطینیوں میں الفتح اور حماس کے نام سے ہو یا کسی اور نام سے، بنیادی طور پر اتحاد لازمی ہے تاکہ ان کے کاز اور حق کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔
یہ بات تو جگ ظاہر ہے کہ میڈیا میں جو بھی خبریں آتی ہیں اس کا سلسلہ یا تو اسرائیلی ذرائع ہوتے ہیں یا امریکی ذرائع۔ انھیں ذرائع نے یہ بات نشر کی کہ اسرائیلی بستیوں پر فلسطینیوں نے مسلسل راکٹ حملے کیے اور متعدد گھروں اور بلڈنگوں کو نقصان پہنچایا۔ اسرائیلی اخبار ’یدیوت احارنوت‘ نے لکھا کہ فلسطینی مزاحمت کاروں نے جمعرات کی شب میں اسرائیل کے ’سدیروت‘ اور ’سدوت ہنیغوف‘ نامی دو کالونیوں پر کئی راکٹ حملے کیے، کئی عمارتیں تباہ کیں، درجنوں اسرائیلی زخمی ہوئے اور علاقے کی بجلی منقطع ہوگئی۔ اسی طرح اس کالونی میں ایک راکٹ اس عمارت پر گرا جو اس کالونی کے میئر کی رہائش گاہ ہے۔ جبکہ ایک اور راکٹ اس وقت گرا جب صیہونی حکومت کے وزیرِ خارجہ ’یائیرلاپید‘ سدیروت کالونی میں موجود تھے۔ ان خبروں میں بے ایمانی اس طرح جھلکتی ہے کہ اسرائیلی نقصانات کو گن گن کر یا جھوٹ کی بنیادوں پر بھی گنا تو دیا جاتا ہے مگر اسرائیل کے تکنیکی طور سے پرفیکٹ حملوں اور فضائی بمباریوں میں فلسطینیوں کے کتنے نقصانات ہوتے ہیں انھیں کبھی بیان نہیں کیا جاتا۔



تازہ وارداتوں کے بعداسرائیلی وزیرِ اعظم کا یہ جذباتی لطیفہ بھی قابلِ داد ہے ؛ کہتے ہیں ’’اخلاق ہمیں ہمارے دشمن سے ممتاز کرتا ہے، وہ موت کو مقدس سمجھتے ہیں، ہم زندگی کو مقدس سمجھتے ہیں‘‘! کاش نیتن یاہو کو کوئی آئینہ دکھا سکے کہ اصلی ’’موت کا سوداگر‘‘ کون ہے؛ کم از کم تازہ ترین ابوخضیر نامی معصوم بچے کے واقعہ میں ہی وہ اپنا چہرہ دیکھ لیں جسے زندہ جلا دیا گیا اور جلانے والے یہودی ہیں۔
جن چھ اسرائیلی نوجوانوں کو ابوخضیر کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے انھوں نے اعترافِ جرم کرلیا ہے۔ اسرائیل کے ٹی وی ’چینل 10‘ کے مطابق ان میں ایک انتہائی معروف ربّی کا بیٹا ہے اور پانچ اس کے پوتے ہیں۔ اس پر کافی افسوس اور مذمت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ کافی طویل رپورٹیں اور تاثرات بھی سامنے آ رہے ہیں، ابوخضیر کے والدین سے ٹیلفونک ہمدردیاں بھی کی جارہی ہیں مگر مجرمین کو سزا کیا ملے گی اس کا ہلکا سا ذکر بھی نہیں ملتا۔
جہاں تک قیامِ امن کی کوششوں کا تعلق ہے تو اس علاقے میں حماس سے ’قریبی رابطے‘ ہونے کی وجہ سے مصری انٹیلی جنس افسران اسرائیل اور حماس کے درمیان صلح کرانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ وہ ایسا پہلے بھی کرتے آئے ہیں۔ فلسطینیوں نے انتفاضہ ثلاثہ کی تحریک چھیڑنے کی خواہش ضرور ظاہر کی ہے مگر اس پر ابھی غوروفکر جاری ہے۔
فلسطینیوں سے زبانی ہمدردی دنیا بھر میں کئی دہائیوں سے کی جارہی ہے۔ اب وہ دن آچلے ہیں کہ انھیں دھیرے دھیرے (حماس کانام لے کر) میڈیا کے ذریعہ دہشت پسند بنا دیا گیا ہے۔ محض اس لیے کہ ان کی اکثریت مسلمان ہے۔ انصاف و عدل کی دہائیاں دینے والی دنیا کی بڑی طاقتوں کو پتہ نہیں فلسطینیوں کو انصاف دلانے میں کیا دشواری اور الجھن ہے یا دلچسپی نہیں ہے۔ کوئی ایک بڑا ملک بھی اسرائیل کو کھل کر یہ بات کہنے کے لیے تیار نہیں ملتا کہ وہ غاصب ہے، جابر ہے اور فلسطینیوں کی سرزمین پر گھس پیٹھیا ہے۔ یہودیوں پر پوری انسانی تاریخ میں مسلمانوں کے ہاتھوں کبھی ظلم کا شکار ہوتے نہیں دیکھا گیا ہے۔ البتہ عیسائیوں نے اپنے دورِحکومت میں ہمیشہ یہودیوں پر عرصۂ حیات رہ رہ کر تنگ کیا ہے۔ مگر کیا جادو کی دنیا ہے کہ آج یہودیوں اور عیسائیوں میں گاڑھی چھنتی ہے۔ خیر سے الٰہ العالمین نے پندرہ سو برسوں قبل ہی یہ انتباہ پوری انسانیت کے لیے لکھ دیا ہے کہ یہود و نصاریٰ ایک دوسرے کے دوست اور حلیف ہیں اور تاقیامت رہیں گے۔
مقطع کی بات میں بنیامن نیتن یاہو کا وہ بیان سن لیں جو بین السطور اصل درد اور وجہِ استبداد ظاہر کرتا ہے کہ ’’یہ (حالیہ) واقعہ حماس اور الفتح کے درمیان اتحاد کا نتیجہ ہے جو اسرائیل کے وجود سے ہی انکاری ہیں‘‘۔ دونوں فلسطینی تنظیموں کے درمیان برسوں کی تفریق کے بعد اپریل میں مفاہمت ہوئی تھی اور گذشتہ ماہ ہی دونوں نے مل کر حکومت بنائی ہے۔
ایک جانب پوری تربیت یافتہ اور جدید ترین اسلحوں سے لیس فوج ہے اور دوسری طرف ایک عوامی گروہ، بغیر کسی فوجی تربیت والا، جنھیں بین الاقوای میڈیا جارح ملیشیا، دہشت گرد اور نہ جانے کیسے کیسے الفاظ میں یاد کرتا ہے۔ نئی دنیا کے لوگوں اور میڈیا میں شامل نوجوانوں کو بھی ان وارداتوں کا ماضی نہیں معلوم، فلسطینیوں کی نئی نسل بھی شاید لڑائی کی اصل وجوہات سے واقف نہیں ہوگی۔ انھیں بھی بس اتنا ہی سمجھتا ہوگا کہ اسرائیلی کسی نہ کسی بہانے سے ان کے آشیانے اجاڑتے رہتے ہیں اور جانیں لیتے رہتے ہیں، انھیں دنیا میں انصاف دلانے کی آواز اٹھانے والے لوگ بھی شاید کم رہ گئے ہیں۔


Wednesday, June 18, 2014



At times instead of patting the back of Muslims
Credit is given to the Police

Dr. Rehan Ansari

 نریندر مودی کی حلف برداری کو ابھی تین ہفتے بیتے ہیں۔ ان تین ہفتوں میں ہندو فرقہ پرستوں کے حوصلے مبینہ طور سے کتنے بلند ہوئے ہیں اس کا مظاہرہ مہاراشٹر میں خصوصیت سے دیکھنے کو ملا ہے۔ آگے گفتگو سے قبل آئیے ہم ان تین ہفتوں کے دستاویزی واقعات کو مندرج کر لیں جن کی تفصیلات اخباروں میں آچکی ہیں: ۱] ناندیڑ میں ۳؍مئی کو ایک مسلم نوجوان کو پکڑ کر زبرستی داڑھی مونڈھ دی گئی اور مارا پیٹا بھی گیا۔ ۲] ۳۰؍ مئی کو بھیونڈی میں ’’گوونش رکھشا اہنسا مہا سبھا‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ ۳] پونہ میں ایک نوجوان آئی ٹی انجینئر محسن شیخ کو ۲؍ جون کو قتل کردیا گیا۔ ۴] ۹؍ جون کو شولاپور میں امبیڈکر کے مجسمے کی بےحرمتی کر کے مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ۵]چکھلی،بلڈانہ میں ایک اور محسن شیخ کو نام پوچھ کر آٹو میں بٹھا کر زدوکوب کیا گیا۔
ان کے علاوہ کچھ چھوٹے موٹے واقعات ہو سکتا ہے کہ خبر بننے سے رہ گئے ہوں۔کیا یہ سب اتفاقات ہیں؟ یا منظم طور سے فسادات بھڑکانے کی سازشیں؟ ان سازشوں میں کامیابی نہ مل پانے کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ کیا مہاراشٹر پولیس کی چابکدستی؟ ریاستی وزیرِ داخلہ آر آر پاٹل نے حسبِ سابق روایتی بیان دیا اور امن و امان کا کریڈٹ اپنی پولیس کو دیا۔

 کیا یہ واقعی پولیس کی کارکردگی تھی یا مسلمانوں کا فرقہ وارانہ فسادات کےنتائج سے آگہی، صبر و تحمل، حسنِ تدبر اور بردباری، نیز ملک و ریاست سے ان کی وفاداری؟ آر آر پاٹل کےبیا ن کے فوراً بعد ان کے لیڈر شردپوار کا بیان ان واقعات کے پس منظر میں پیارے آرآر (آبا) کے لیے کسی تازیانہ سے کم نہیں تھا کہ مرکز میں بی جے پی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی فرقہ پرستی بڑھ گئی ہے، وہ تنظیمیں بھی اب سر ابھارنے لگی ہیں جو اب تک خاموش تھیں اور مسلمانوں پر حملہ کرنے لگی ہیں۔لیکن آرآر پاٹل کی موٹی چمڑی اسے بھی سہہ گئی۔
درج بالا واقعات کے علاوہ فرقہ واریت کا یہ نزلہ پڑوسی ریاست کرناٹک کے شہر منگلور تک پہنچا اور وہاں بھی ۲۷؍ مئی کو لاؤڈ اسپیکر پر فجر کی اذان سے متعلق ایک کم معروف ہندو تنظیم راشٹریہ ہندو آندولن نے آندولن چھیڑ دیا۔
ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان واقعات کی یاددہانی کے لیے ہلکی ہلکی متعلقہ تفصیلات قارئین کو بتلا دیں۔ لوک سبھا انتخابات کے خاتمے کے ساتھ ہی، نتائج کے اعلان سے پہلے ہی، ہندوتوا وادی چھوٹی بڑی تنظیموں کے حوصلے کچھ یوں بلند ہوئے کہ مشہورِ عام مقولہ ’’سیّاں بھئے کوتوال اب ڈر کاہے کا‘‘ ان کی حرکت و عمل سے منعکس ہونے لگا۔
ناندیڑ میں لوک سبھا انتخابات کے خاتمے کے ایک ہفتے بعد ہی ایک مسلم نوجوان محمد فردوس محمد ابراہیم کو شرپسندوں کے ایک گروہ نے نام پوچھا اور آٹورکشا میں ٹھونس کر اس کی ڈاڑھی مونڈھ دی اور کافی مارا پیٹا۔ حتیٰ کہ وہ کافی زخمی ہوگیا۔ بہرحال کسی طرح اس کی جان بچ گئی اور کئی دنوں تک اسپتال میں رہنا پڑا۔ ادھر مقدس گائے کا قصہ بھی چھڑا۔بھیونڈی میں مئی کی آخری تاریخوں میں یکے بعد دیگرے کئی عوامی مقامات پر ہورڈنگ نظر آنے لگے۔ ان ہورڈنگز میں ۳۰؍ مئی کو منعقد ہونے والی ’گوونش رکھشا اہنسا مہا سبھا‘ میں شرکت کی اپیل کے ساتھ چند باتیں اور گائے اور بچھڑے کی تصویر کچھ اس انداز سے پیش کی گئی تھی کہ ایک خوف حملہ آور ہوجاتا تھا۔ لوگوں میں عجیب قسم کی مشتبہ سرگوشیاں اور چہ میگوئیاں ہوتی رہیں۔ ہر ہفتے کے معمول کے برخلاف جمعہ کا دن ہونے کے باوجود ایک سناٹا سا سڑکوں پر پھیلا تھا۔ ان باتوں کی بنیاد میں ظاہر سی بات ہے کہ لوگوں کے دلوں میں عیدالاضحٰی پر مذہبی امور ی ادائیگی سے متعلق شک و شبہات اٹھ رہے تھے۔ اس مہاسبھا کو چند پابندیوں کے ساتھ اجازت نامہ ملنے پر نارضگی کا اظہار کیا گیا اور حکومت اور پولیس کو ’’مسلمانوں کا نام‘‘ لیتے ہوئے دبے لفظوں میں دھمکیاں بھی دی گئیں۔ جب حکومت کی جانب سے کوئی امتناعی ردّعمل سامنےنہیں آیا تو ان شرپسندوں نے فیس بک پر متنازعہ امیج کا حیلہ اختیار کرکے پونہ میں نماز کی ادائیگی سے گھرلوٹتے ہوئے نوجوان مسلم آئی ٹی انجینئر محسن شیخ پر جان لیوا حملہ کردیا۔ مساجد اور مذہبی مقامات کو خوب نقصان پہنچایا گیا۔ قرآن کی بے حرمتی کی گئی۔ محسن کی موت نے میڈیا کی لہریں کچھ اونچی اٹھا دی تو وسیع پیمانے پر اس پر مباحث ہوئے۔ ان مباحث میں خصوصی مذمتیں تو خوب ہوئیں مگر ہندوتواوادیوں کی عمومی سرکوبی کرنے کی کوئی تجویز سامنے نہیں آئی۔ شولاپور میں امبیڈکر کے مجسمے کی بے حرمتی (افواہ؟) کو بہانہ بنا کر ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کی املاک اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا۔ بلڈانہ میں ایک دیگر محسن شیخ کو نماز کے بعد گھیر لیا گیا اور آٹو میں بٹھاکر دوسرے مقام پر لے جاکر مارا پیٹا گیا۔ اگر وہ شور نہ مچاتا اور کچھ لوگوں کی بروقت امداد نہ ملی ہوتی تو ممکن ہے اسے بھی جان سے ہاتھ دھونا پڑتا!
یوں بھی اپنے وطن میں شرپسند مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے بہانے ڈھونڈتے یا پیدا کرتے رہتے ہیں اور دنیا جانتی ہے کہ مسلمانوں کا کوئی قصور نہ رہتے ہوئے بھی سرکاری اہلکاروں اور وزیروں کی سرپرستی میں انھیں ایسے بیشتر مواقع ملتے رہے ہیں۔ جانے کتنے بے گناہوں کو سالہا سال جیلوں اور کوٹھریوں میں گذارنے کے بعد ملک کی عدالتِ عالیہ نے بے گناہ قرار دیا ہے۔ لیکن ایک مفروضہ ہے جو سائے کی طرح ساتھ لگا ہوا ہے۔
اس ضمن میں ایک مشہور شعریاد آتا ہے کہ:
جب نیا فتنہ زمانے میں کہیں اٹھتا ہے
وہ اشارے سے بتا دیتے ہیں تُربت میری
درج بالا واقعات میں سے کوئی ایک بھی ماضیٔ قریب میں ہوتا تھا تو ہم سب جانتے ہیں کہ بڑے پیمانے پر فسادات کا سبب بن جاتا تھا۔ لیکن محض ایک مہینے کے اندر آدھ درجن واقعات پیش آئے اور کہیں کوئی فساد نہیں ہوا! کیا اس میں واقعی پولیس یا حکومت کی مستعدی اور فرض شناسی کو دخل ہے؟؛ اس باب میں ہم پُرزور آواز میں ’’نہیں، ہرگز نہیں‘‘ کہتے ہیں۔ یہ فسادات تو اس لیے نہیں ہو سکے کہ مسلمانوں نے عمومی طور سے، علاقہ در علاقہ، تدبر، صبر و تحمل، وطن کی سلامتی اور بردباری سے کام لیا۔ ماضی کے فسادات کے انجام سے سبق لیا۔ وگرنہ ایک علاقہ کا واقعہ دوسرے علاقے کے فساد کا سبب بنتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔

 یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مسلمانوں کو انفرادی طور سے گھیرنے اور مارنے والے عموماً یہ کہتے رہتے ہیں کہ ’’مسلمانوں کو اس ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے‘‘۔ کون اس ملک میں رہ سکتا ہے اور کون نہیں، آخر انھیں یہ حکم یا فیصلہ صادر کرنے کا اختیار کس نے اور کیونکر دیا ہے؟ یہ کس بنیاد اور ذہنیت کی پیداوار ہے؟
مسلمانوں کو ہمیشہ شک کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ حساس دنوں میں جب پولیس میٹنگیں لیتی ہے تو سبق مسلمانوں کو پڑھاتی ہے۔ دوسری قومیں اور اقلیتیں مبرا سمجھی جاتی ہیں۔ مسلمانوں کو قابلِ اصلاح سمجھنے والوں کے سامنے دست بستہ یہ سوال کیا جاتا ہے کہ دوسری (ہندو پڑھیں) قوموں کو فارغ الاصلاح کیوں سمجھا جاتا ہے۔ ان کے کیمپوں اور مہاسبھاؤں میں کیسی حب الوطنی سکھائی جاتی ہے؟ ان کو تادیب و تنبیہہ کب کی جاتی ہے؟
آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مہاراشٹر کی موجودہ سیاسی صورتحال ایسی ہے کہ کانگریس اور این سی پی کا ایک دوسرے کے بغیر وجود ہی بے معنٰی ہے۔ وہ ایک دوسرے پر سیاسی مجبوریوں کے تحت تنقیدیں کرسکتے ہیں لیکن ایک دوجے کے بغیر اقتدار میں باقی نہیں رہ سکتے۔ مہاراشٹر کے مسلمان کو نسبتاً زیادہ حساس بھی سمجھا جاتا ہے۔ درج بالاواقعات کو اسٹیج کرنے کے لیے لوک سبھا انتخابات کے بعد مہاراشٹر کو ہی چنا جانا برسرِ اقتدار پارٹیوں کے در پر دستک دینے کے لیے کافی سمجھنا چاہیے۔ کیونکہ یہاں کی بیشتر لوک سبھا سیٹوں پر بھگوا محاذ قابض ہوا ہے اور اس کامیابی کی تہہ میں کام کرنے والے جذبات و احساسات کو ٹھنڈا پڑنے سے پہلے اسمبلی انتخابات کے لیے بھنانا ضروری ہو گیا ہے۔ کانگریس این سی پی محاذ مسلمانوں کو سمجھانے بجھانے کی بجائے برادرانِ وطن کو وطن سے اصلی محبت کے سبق پڑھانے کی جانب توجہ دے تو شاید اس کی نیّا پار لگ سکے گی۔ نہیں تو، منترالیہ پر یک رنگا پرچم لہرا سکتا ہے۔

Monday, June 2, 2014

Pope Favours Palestine State
Invites Israel and Palestine for Joint Prayer for Peace

Dr. Rehan Ansari
مئی کے آخری ہفتے میں عیسائی مذہبی پیشوا پوپ فرانسس کا دورۂ ’ارضِ مقدس‘ اپنے اندر کئی خصوصیات رکھتا ہے۔مشرقِ وسطیٰ کے اپنے سہ روزہ دورہ کے دوران پاپائے روم فرانسس نے جو بیانات دیئے اور خطہ میں جن کوششوں کی ضرورت پر زور دیا اس کی بابت یہ کہا جاسکتا ہے کہ دوجانبی گفتگو اور مسئلہ میں ایک تیسرا اور خوشگوار راس وجو د میں آیا ہے اور اب یہ مثلث بن گیا ہے۔ سرِدست یہ تیسرا راس امید افزا بھی ہے اور خوش آئند لگتا ہے۔
دنیا میں ایک عجیب مشاہدہ یہ کیا جاسکتا ہے کہ اسلام کے علاوہ (چونکہ اسلام میں کوئی اعلیٰ ترین عالمی مذہبی شخصیت کا منصب نہیں ہوتا؛ یہاں صرف اور صرف قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی اہمیت ہے) تمام چھوٹے بڑے مذاہب کے پیشواؤں یا عالموں کو عوام اور جملہ حکومتیں ایک خصوصی اہمیت اور وقار عطا کرتی ہیں۔ ان کی باتوں پر کوئی تنقید شاذونادر بھی نہیں دیکھی جاتی۔ ان میں بھی پاپائے روم کو امتیازی شان و مقام حاصل ہے۔اس سبب سے بھی اس دورہ اور پوپ کے فرمان کی اہمیت زیادہ ہے۔
اپنے دورے کے دوسرے دن بیت اللحم میں مانجر اسکویر کے مقام پر آؤٹ ڈور ماس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی حکام اور فلسطینی اتھاریٹی کو انھوں نے تنازعہ کا ’’امن پرور حل‘‘ نکالنے کے لیے ویٹیکن مدعو کیا ۔ پوپ نے حضرت عیسیٰؑ کے حوالے سے اپنے خطاب میں کہا کہ ’شہزادۂ امن و سلامتی‘ کی اس جائے پیدائش پرمیں فلسطینی صدر محمود عباس اور اسرائیلی صدر شمعون پیریز کو میرے ساتھ خدا کے حضور صدقِ دل سے عطائے امن طلب کرنے کے لیے دعوت دیتا ہوں۔ اس دعا کے لیے میں ویٹیکن میں آپ کو اپنے گھر  پر مدعو کرتا ہوں۔ پوپ نے مزید کہا کہ قیامِ امن ایک مشکل ترین کام ہے لیکن امن کے بغیر جینا تو حد سے زیادہ دشوار اور مستقل تردّد و پریشانی کا منبع ہے۔ اس سرزمین کی ( اور پوری دنیا کی) عورتوں اورمردوں نے ہم سے درخواست کی ہے کہ اس خطہ میں امن کی پیدائش و قیام کے لیے خدا کے حضور دعا کریں۔
فلسطینی صدر نے پوپ کی دعوت کو قبول کرلیا ہے اور وہ ویٹیکن جانے کے لیے تیار ہیں۔ ایسی اطلاع فلسطینی لیجسلیٹیو کونسل کے رکن حنان اَشروی نے دی ہے۔اسرائیلی صدر کے دفتر سے بھی یہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے کہ پوپ کی  دعوت کو خوش آمدید کہا جاتا ہے اور اسرائیلی صدر اس خطہ میں قیامِ امن کے لیے  اٹھنے والے ہر قدم کی ستائش کرتے ہیں۔ مگر اسرائیل کی جانب سے ابھی تک قبولِ دعوت کی ہامی نہیں بھری گئی ہے۔


کیتھولک عیسائیوں کے پیشوا کا ’ارضِ مقدس‘ کی جانب یہ پہلا سفر تھا۔ پوپ فرانسس نے دورہ کے روایتی پروٹوکول سے اعراض کرتے ہوئے اچانک دورانِ سفر اس سخت اور مضبوط ’دیوارِ حائل‘ Separation barrier پر رکنے اور اترنے کا ارادہ کرلیا جسے اسرائیل نے ’انتفاضۂ ثانی‘ کے بعد یہودیوں پر نام نہاد فلسطینی حملوں سے حفاظت کے لیے مغربی سرحد (غزہ) پر تان دیا ہے (اور فلسطینیوں کی زرعی زمینوں کو بھی ہتھیا لیا ہے)، اپنے مقبوضہ علاقے پر ایک تاریخی خطِ تفریق کھینچ دیا ہے۔ اصل میں اس دیوار پر جابجا کچھ دلدوز نوشتے ہیں جنھوں نے پوپ کی توجہ کھینچ لی اور اس کے بعد یہ تاریخی وقفۂ سفر وجود پایا۔ اس دیوار پر پوپ نے اپنی ہتھیلیاں رکھ کر دعائیں کی۔ ان کے قریب ہی ایک بچی نے اپنے ہاتھوں میں فلسطینی پرچم تھام رکھا تھا اور بہت سارے معصوم فلسطینی بچوں نے انھیں گھیر لیا۔ پوپ نے اُن بیچاروں کی اَن کہی داستانَ الم سن لی جو آنکھوں سے بیان ہو رہی تھی۔ان کے اندر کے انسان نے کربِ بیکراں کا احساس کیا اور مشرقِ وسطیٰ کے اپنے دورے کے آخری (تیسرے) دن تمام مشاہدات کے بعد وہ کہہ اٹھے کہ ’’کیا ہم سب بھائیوں اور بہنوں کی مانند ایک دوسرے سے محبت اور احترام نہیں کر سکتے؟، کیا ہم ایک دوسرے کی تکلیفوں کو محسوس نہیں کرسکتے؟، کیا ہم سب تشدد کے ذریعہ خدا کے نام کو بدنام کرنے سے باز نہیں آئیں گے؟‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ تشدد کا جواب تشدد نہیں ہو سکتا بلکہ اسے صرف امن ہی ختم کرسکتا ہے۔
فلسطینی نیشنل اِنیشیئیٹیو (PNI) کے جنرل سکریٹری مصطفیٰ برکتی نے پوپ کے ’دیوارِ حائل‘ پر ہتھیلیاں رکھنے اور سر جھکا کر دعا کرنے کے عمل کی ان الفاظ میں تشریح کی کہ ’’پاپائے اعظم نے صرف کنکریٹ کی دیوار پر ہاتھ نہیں رکھا بلکہ انھوں نے قبضہ جات پر ہاتھ رکھا، انھوں نے نسلی تفریق و تفوق اور تعصب کے نظام پر ہاتھ رکھا، نظامِ تسلب پر ہاتھ رکھا، نظامِ تذلیل و استبداد پر ہاتھ رکھا ہے‘‘۔
پاپائے اعظم نے راست تل ابیب کا سفر کرنے کی بجائے اردن سے فلسطین کے راستے اسرائیل میں داخلہ لیا۔ یہ روایتی پاپائی سفر کے برخلاف رُوٹ تھا۔ اس لیے سبھی اس پر حیرت کا اظہار کر رہے تھے۔ پوپ نے فلسطینی صدر محمد عباس سے گفتگو کرتے ہوئے ’’آزاد فلسطینی ریاست‘‘ کا بھی ذکر کردیا۔اور فلسطین و اسرائیل سے خطہ میں امن کے قیام و فروغ میں حصہ لینے کی درخواست بھی کی۔ پوپ نے کہا کہ کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ میں دردناک تصادم اور جنگیں ہورہی ہیں۔ یہ خطہ لہولہان ہے۔ اس کے جسم پر گہرے، بہت گہرے زخم ہیں، انھیں بھرنا دوبھر ہوچلا ہے۔ یہ بیحد ناقابلِ قبول ہے، اب یہ سلسلہ بند ہوجانا چاہیے۔ جن دنوں یہاں تشدد نہیں ہوتا تب بھی یہاں باہمی بے چینی اور بے اعتمادی کا ڈیرہ ہوتا ہے۔ خطرات موجود رہتے ہیں۔ عدم تحفظ کا احساس گھیرے رہتا ہے۔ حقوق کی سلبی اور نسلی تفاوت کا احساس گہرایا رہتا ہے۔ ہر قسم کی اذیت اور تنازعات کا اندیشہ ہوتا ہے۔


پاپائے اعظم نے دیوارِ حائل سے ہٹنے کے بعد فلسطینی عیسائیوں سے مانجر اسکویر پر خطاب کیا، اس خطاب سے قبل بیت اللحم پر حضرت عیسیٰؑ کی بچپن کی شبیہ سے مزین اسٹیج پر چند نغمے پیش کیے گئے جن میں حضرت عیسیٰؑ کی فلسطینیوں کے تئیں محبت اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد پر مضامین شعربند تھے۔ پوپ اس سے بھی بہت متاثر ہوئے۔ پھر وہاں موجود رفیوجی کیمپ میں مقیم چند خاندانوں کے ہمراہ لنچ لیا۔ اور اس کے بعدبیت اللحم سے تل ابیب کی جانب ہیلی کاپٹر سے پروا ز کیا۔
عیسائی پیشوا کا تل ابیب میں خیر مقدم کرنے کے لیے اسرائیلی صدر شمعون پیریز بذاتِ خود موجود تھے۔ انھوں نے مزامیرِ داؤدؑ (مناجاتِ داؤدؑ) کی پاسداریٔ روایت میں ان الفاظ میں پوپ خوش آمدید کہاکہ ’’خدا کے نام سے خیرمقدم کرتا ہوں، بابِ یروشلم پر آپ کا استقبال ہے‘‘۔ یہاں بھی جواب میں پوپ اپنے روایتی انداز سے ہٹ گئے اور ’’بروسیلز‘‘ میں یہودی میوزیم پر سنیچر کے روز ہونے والے حملہ کی مذمت کرتے ہوئے اپنے گہرے رنج کا اظہار کیا اور ایسے حملوں کو بند کرنے کی اپیل کی۔ یروشلم میں حفاظتی انتظامات اس قدر سخت رکھے گئے تھے کہ مقامی عیسائیوں نے عمومی طور پر پوپ کو نہ دیکھ پانے اور نہ مل سکنے کی شکایت کی۔

پاپائے اعظم نے محمود عباس سے ملاقات کے دوران فلسطینی ریاست کو تسلیم کیے جانے کی بھرپور وکالت کی لیکن ساتھ ہی اسرائیل کو بھی اسی حیثیت سے تسلیم کیے جانے کی بات کہی تاکہ دونوں ممالک مستقل جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ بین الاقوامی حیثیت سے مسلّم رہیں اور خطہ میں امن قائم ہو۔قیامِ امن کی کوششیں چہار جانب سے یکساں ہونی چاہیے اور کسی بھی ملک یا قوم کو اسے سبوتاژ کرنے یا تباہ کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ذمہ داری سب کی ہو نہ کہ کسی ایک ملک یا قوم کی۔ بیت اللحم کے خطاب میں پوپ نے محمود عباس سے فلسطینی عیسائیوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی درخواست کی اور ان کے مبینہ انخلا پر اپنی فکر جتائی۔
واضح ہوکہ فلسطین اسرائیل گفتگو کو حال ہی میں جھٹکا پہنچا تھا جبکہ اسرائیل نے فلسطینیوں کی ریاست کو تسلیم کیے جانے کی کوششوں کو یکطرفہ قرار دیا تھا اور فلسطینیوں نے مغربی کنارے پر نئی اسرائیلی بستیوں پر اعتراض کیا۔
پوپ کے اس دورہ کے ایک ایک لمحہ اور ایک ایک بات کا، ہر حرکت و تصویر اور ویڈیو کا انتہائی باریک بینی سے تجزیہ اور تبصرہ کیاجارہا ہے۔ پوپ کی آمد اور دیوارِ حائل سے متعلق واقعات اور عیسائیوں سے خطاب کی قدامت پسند اسرائیلی عوام نے مخالفت بھی کی۔
جن حالات میں پوپ کا یہ دورۂ ارضِ مقدس پورا ہوا ہے اسے یقینی طور سے مشہور ہونا تھا۔ واضح ہو کہ پوپ کے ہمراہ سفر میں ان کے دو دیرینہ دوست ارجنٹینا کے ربیّ (یہودی عالم) ’ابراہام اسکورکا‘ اور ایک مسلم مفتی ’شیخ عمر عبود‘ بھی ہیں۔ عمر عبود، ارجنٹینا کی مسلم کمیونیٹی میں کافی مقبول ہیں۔ اپنے ہمسفروں کی وجہ سے پوپ نے اپنے اس سفر کو بین العقائد رواداری کی علامت و اشاعت کا نقیب بھی قرار دیا ہے۔


ہم نے اوپر لکھا ہے کہ پوپ کو اور ان کے فرامین کو دنیا کے دیگر ادیان کے پیشواؤں کے مقابلے میں ایک امتیازی حیثیت دی جاتی ہے۔ دنیا کی اکثریتی آبادی عیسائی مذہب اور خصوصاً کیتھولک ہی ہے۔ اس لیے پوپ کی شخصیت اور فرامین کو یکسر نظرانداز کرنا کسی بھی ملک کے لیے مناسب نہیں ہوتا۔ مشرقِ وسطیٰ میں اہلِ کتاب بستے ہیں۔ مسلمان، عیسائی اور یہودی۔ فلسطین میں مسلمانوں اور یہودیوں کے مابین حرب و جدال کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ اس کے اثرات عیسائی آبادیوں پر بھی پڑتے ہیں۔ اس پس منظر میں یہاں قیامِ امن کی پاپائی کوششیں خود عیسائیوں کے تحفظ اور سلامتی کو بھی یقینی بنانے کی جانب ایک قدم کہا جا سکتا ہے۔ اسرائیل میں قدامت پسند یہودی جتنا مسلمانوں سے متنفر ہیں اس سے کہیں زیادہ عیسائیوں سے بھی نفرت کرتے ہیں۔ اسی لیے پاپائے روم کے پیغامِ امن کو اس سے قبل کہ پیریز اینڈ کمپنی قبول کریں، اسرائیلی میڈیا میں انتہائی اسٹریٹیجک کالم نویسیاں اور تبصروں کی اشاعت و نشریات شروع ہوچکی ہیں تاکہ اس دورہ کی اہمیت کو کم یا ختم کیا جاسکے اور اسے خالصتاً مذہبی دورہ کرکے بتلایا جا سکے۔ یہ کوشش کی جارہی ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک اور سربراہانِ مملکت اس دورے کی تفصیلات نہ جان سکیں اور اسرائیل کی من مانیوں پر کسی بھی قسم کا خارجی دباؤ نہ لایا جاسکے۔ لیکن یہ وقت ہے کہ پوپ کے دورہ کو نہ سہی ان کے فرامین اور پیغامات کو اہمیت دی جائے اور فلسطین اسرائیل تنازعہ کا پائیدار اورمستقل حل نکالا جاسکے۔ اس موقع کو ہاتھ سے جانے دیا گیا تو نہ جانے کتنے برسوں یا دہائیوں کے بعد ایسا وقت نصیب ہوگا۔ کم سے کم اسرائیل پر اس وقت ویٹیکن میں پوپ کے گھر میں جانے اور دعا میں حصہ لینے کے لیے تو دباؤ ڈالنا ضروری ہے۔
ہمیں اچانک منیر آرزوؔ کا ایک شعر حسبِ حال یاد آگیا:

دل نے گھبرا کے پکارا ہے خدا کو شاید
آج آوازِ اذاں آتی ہے بُت خانے سے