To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Monday, December 29, 2014

Muslim Reservation Cancelled
Congress Succeeded in it's Ploy
Dr. Rehan Ansari

ناگپور سے اس مرتبہ ہمارے لیے کھٹے سنترے آئے۔ مسلم ریزرویشن کی تجویز اپنے (متوقع) سیاسی انجام سے دوچار ہوئی۔ اسمبلی کا دو ہفتوں تک جاری رہنے والا سرمائی اجلاس اپوزیشن کے ناکارہ پن کے سبب بیشتر اوقات میں سرد تر ہی رہا۔پورے دوران میں کبھی کبھار اپوزیشن کی آوازیں کسی بیمار کے سینے سے ہوک کی مانند اٹھتی تھیں اور پھر کوئی نمایاں اثر ڈالے بغیر بند ہوجاتی تھیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سرمائی اجلاس کے خاتمے کے ساتھ ہی (مسلم علاقوں میں) سیاسی ماحول کو گرمایا جانے لگا۔ اور اس عمل میں کانگریس پارٹی پیش پیش نظر آئی۔ ہمارے پیدائشی سیاسی بھولے بھائی بندوں نے کانگریس کی اس ہائےہو کو اپنی نمائندگی بھی تسلیم کیا اور فڈنویس حکومت پر تعصب و تنگ نظری کا الزام بھی خوب خوب لگایا اور ناانصافی کا بھی۔ ہم بھی اس بات کو یکسر غلط نہیں کہتے کہ ریاستی حکومت نے تعصب و ناانصافی نہیں برتی۔ مگر کیا اسی نومنتخبہ حکومت نے یہ غلطی کی ہے؟ پتہ نہیں آپ کا کیا خیال ہے لیکن ہمیں تو زیادہ شورشرابہ کرنے والوں کے چہرے ہی مجرم نظر آتے ہیں۔ اس پر کوئی گفتگو کرنے سے قبل آئیے پہلے کچھ آموختہ پڑھ لیں۔
ہم ریزرویشن کی تحریکات کی تفصیل میں نہ جاتے ہوئے بس یہ نکتہ پیش کرنا چاہتے ہیں کہ قلیل مدتی نارائن رانے کمیٹی نے ایسی کیا پُراثر رپورٹ پیش کردی کہ اس پر ہائی کورٹ کا امتناع بھی اثرانداز نہیں ہوا اور کانگریسی حکومت کے کانگریسی وزیر کی پیش کردہ رپورٹ کو بھاجپا کی حکومت نے یکلخت اور بلا تردّد منظور کرلیا لیکن طویل مدت تک چھان پھٹک اور مشاہدہ و مطالعہ کرنے والے بالغ نظر سابق جسٹس سچر، سابق چیف جسٹس رنگناتھ مشرا اور سابق آئی اے ایس افسر محمود الرحمٰن کی تین کمیٹیوں کی رپورٹوں میں ایسی کیا خامیاں اور سقم تھے کہ وہ توجہ کے مستحق بھی نہیں بن سکے؟



Justice Rajendra Sachar Presenting the Committee's Report
to the then PM Manmohan Singh

یہاں یہ حوالہ بے محل نہیں ہوگا کہ کوزیکوڈے کے مقام پر ہونے والی مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے ۲۰؍ویں اجتماع، اپریل ۲۰۱۲ء، میں یہ ریزولیوشن پاس کیا گیا تھا کہ: ’’مسلمانوں کو جائز ریزرویشن دینے کی بابت کانگریسی حکومت جسٹس رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کو پارلیمنٹ کے ایوان میں مباحثہ کے لیے پیش کرنے کی بجائے اسے اترپردیش میں ہونے والے انتخابات میں سیاسی کھلونے یا حربے کے طور پر استعمال کررہی تھی۔اور ایسا کرتے ہوئے کانگریس نے فرقہ پرستوں کے ہاتھ مضبوط کیے اور انھیں بے لگام ہونے میں مدد کی، ساتھ ہی ساتھ سماج کے دیگر طبقات کو ایک کنفیوژن میں مبتلا کردیا۔ بائیں بازو کی پارٹیوں کے مسلسل مطالبہ کے باوجود کانگریسی حکومت نے ان رپورٹس سے چشم پوشی کی اور بے پروائی برتی‘‘۔
اسی طرح یہ بھی یاد کرلیں کہ ریاست میں تسلسل کے ساتھ منتخب ہونے والی کانگریسی حکومتوں نے متعدد مطالبات کے باوجود مذکورہ بالا رپورٹس کو زیرِ بحث ، زیرِ غور یا زیرِ عمل نہیں لایا۔ کیا ہم مسلم اتنے بے حس (یا زہر کے عادی) ہوچکے ہیں کہ ایک ہی بل سے بار بار ڈسے جانے کے باوجود ہوش میں نہیں آتے؟ کوئی مخلص متبادل قبول کرتے ہیں نہ تیار کرتے ہیں!




ہم مراٹھوں کے لیے ریزرویشن کے خلاف نہیں ہیں۔ نہ اس کے خلاف کوئی احتجاج یا ناخوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ نارائن رانے کمیٹی کی رپورٹ کی دستوری سطح پر مخالفت بھی ہوئی اور اس کے خلاف کیس بھی دائر کیا گیا۔ اور ادھر مسلمانوں سے متعلق تینوں کمیٹیوں کی رپورٹ کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس کے باوجود سابق ریاستی کانگریسی اور مرکزی حکومتوں نے ان رپورٹوں کو سیاسی ہتھکنڈہ ہی بنانے کو ترجیح دی اور کبھی کوئی سنجیدگی دیکھنے کو نہیں ملی۔ برا نہ لگے اگر یہ کہیں کہ ہم نے اپنے یعنی مسلمان ایوانی نمائندوں کو بھی اس جانب محض سیاسی خاطرداری تک متحرک پایا ہے۔ چند نعرے، ایوان کے باہر تصویر کشی کی حد تک مظاہرے اور اردو اخبارات میں اپنے اس فعل کی تشہیر کرنے سے زیادہ کچھ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (تمام پارٹیوں کے) ہمارے یہ ایوانی نمائندے تو انتخاب کے بعد اپنے عام ووٹروں سے ملنے جلنے اور انھیں کسی مثبت تحریک کے لیے اکٹھا کرنے کے بھی روادار نہیں دکھائی دیتے۔
اسمبلی کا سرمائی اجلاس دو ہفتوں تک چلا۔ خاتمے کے موقع پر خود وزیرِاعلیٰ فڈنویس نے اپوزیشن کی کارکردگی پر جو ریمارک دیا وہ اسے شرمندہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’کانگریس این سی پی کی سربراہی میں اپوزیشن بٹی ہوئی تھی، بے سمت تھی، اور بے اثر بھی‘‘۔ مگر افسوس اپوزیشن کا حال یہ ہے کہ ’’گالیاں کھاکے بے مزہ نہ ہوا‘‘۔
کارواں گذرنے کے بعد جب ہم غبار دیکھتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ ہمارے ایوانی اور نام نہاد سیاسی نمائندے طرح طرح کی حرکتوں میں مبتلا ہیں۔ سڑک اور گلیوں میں ریاستی حکومت پر الزام تراشیاں کر رہے ہیں۔ ان کی خدمت میں بڑے ادب کے ساتھ عرض ہے کہ بھائی صاحب ریاست میں جس پارٹی کی حکومت بن چکی ہے اس کے بہت سے ایجنڈے خفیہ ہوں تو ہوں؛ مگر مسلمانوں کے تئیں کوئی ایک موقع بتلا دیجیے کہ ان کا ایجنڈا آپ لوگوں کی مانند خفیہ رہا ہو؟ اس نے بار بار مسلمانوں کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ قومی سطح سے لے کر علاقائی سطح تک (پارٹی کے اندر یا باہر) اس نے مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا رویہ ہی رکھا ہے۔ تو آخر آپ نے ایسی حکومت سے کیوں یہ جھوٹی آس لگائی تھی؟ پھر آج کل آپ کی جانب سے جو احتجاج اور نعرہ بازیاں کی جارہی ہیں ان کو (اردو اخبارات کے علاوہ) کیا کسی بھی قسم کا قومی، ریاستی یا علاقائی میڈیا کوریج دے رہا ہے؟ کہیں کوئی ہنگامہ یا ہمدردی کا مظاہرہ ہو رہا ہے؟ کیا ریزرویشن کے آرڈیننس کے نابود یا مرحوم ہوجانے کے بعد اس احتجاج سے کچھ حاصل بھی ہونے والا ہے؟ آخر اپنی بھوک کا علاج کرنے کے لیے ملت کے مفادات کو نگل جانے کی عادت کیوں بنا لی ہے؟ کانگریس پارٹی تو سنجیدہ ہونے سے رہی، ملت کی ناگفتہ حالت کو دیکھتے ہوئے آپ لوگ تو سنجیدہ ہوجائیں۔
کانگریس نے مسلمانوں کو ریزرویشن نہ دیئے جانے کے بعد جو اچھل کود مچائی ہے وہ انتہائی مشکوک ہوجاتی ہے۔ جس حکومت نے دس برسوں تک کمیٹیوں کی رپورٹ پر جمنے والی دھول صاف کرنے کی ذمہ داری تک نہیں نبھائی، اس نے اچانک کس نیت کے ساتھ اپنی میعاد کے بالکل آخری دنوںمیں ایک آرڈیننس جاری کرنے کا کھیل کھیلا تھا؟ اسی آرڈیننس کی بنیاد پر مسلمانوں سے ووٹ بھی طلب کیے۔ کیا کچھ برسوں نہ سہی کچھ مہینوں قبل ہی وہ اسے بل کی صورت میں نہیں پیش کرسکتی تھی؟ کیا وہ اسے منظور نہیں کرواسکتی تھی؟ یقیناً وہ یہ سب کرسکتی تھی مگر جیسا کہ سی پی آئی (ایم) نے دو برسوں قبل ہی بتلا دیا تھا کہ کانگریس اسے صرف سیاسی ہتھیار بنانا چاہتی تھی، اس نے وہ کر دکھایا۔ افسوس کہ کانگریس فتح نہیں حاصل کرسکی مگر اس کی یہ سازش ضرور کامیاب ہوگئی کہ مسلمانوں کو ریزرویشن نہ دیا جائے اور اسے یہ موقع یا بہانہ بھی مل گیا کہ اس کے جرم کا طوق ریاستی بی جے پی حکومت کےگلے میں ڈال دیا جائے۔ سرِ دست مسلمانوں کی مجموعی حالت ایسی ہی ہے کہ وہ کانگریس کے اس جھوٹ کو سچ مان رہی ہے لیکن حق بات تو یہ ہے کہ بی جے پی نے ابتدا سے ہی کھلے بندوں یہ اعلان کیا ہے کہ وہ مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کے خلاف ہے، تو بھلا اس کا ایک ریاستی وزیرِ اعلیٰ یا اس کی پوری ٹیم کیونکر اپنے اس کھلے ایجنڈے کے خلاف جا سکتے تھے؟


Sunday, August 31, 2014


ISIS: A Political Force, Not Islamic
Dr. Rehan Ansari
اسلامی گروہ اور مسلمان مسلح گروہ میں وہی بنیادی فرق ہے جو اسلامی مملکت اور مسلم ملک یا سلطنت میں ہوتا ہے؛ مسلم امیر اور مسلمان بادشاہوں میں ہوتا ہے؛ خدمتِ دین اور دین داری ( و دُنیاداری) میں ہوتا ہے۔ اسی مناسبت سے عراق کے نوخیز گروہ داعش کو ہم اسلامی نہیں سرِ دست مسلمان گروہ تسلیم کرتے ہیں۔
اس گروہ کا اچانک عالمی سیاسی منظر نامہ پر ایک ہنگامہ خیز داخلہ ہوا ہے۔ کیا اپنے کیا بیگانے اکثر اس کے خلاف ہیں۔ اس کی تاریخ اور اس کے صحیح اغراض و مقاصد بھی پوری طرح واضح نہیں ہیں۔ ہم میڈیا سے دستیاب معلومات پر پوری طرح اکتفا بھی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ اکثر میڈیا پر مغربی طاقتوں کی خواہش و منشا کا غلبہ ہے اور یہ ان طاقتوں کے مفادات کا پورا پورا لحاظ رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اسے دہشت گرد اور شدت پسند گروہ سے تعبیر کرتا ہے۔
جو بھی فرد یا گروہ (خصوصاً اسلامی گروہ یا جماعت) مغربی یا امریکی (تجارتی یا مادّی) مفادات کے خلاف ہوجاتے ہیں یا مزاحمت آمادہ ہوتے ہیں انھیں عالمی میڈیا کے ذریعہ انھی القابات سے نوازا جاتا ہے۔ اتفاق سے تازہ تاریخ میں طالبان، القاعدہ، صدام حسین،  اخوان المسلمون، وغیرہ چند مثالیں ہیں جن کے وجود تک انھیں طرح طرح کے الزامات اور حملوں کا سامنا رہا اور جب یہ ختم ہو گئے یا کمزور ہوگئے تو ان پر لگے الزامات کافور ہوگئے، دنیا کو بھی ان الزامات کی حقیقت کی دریافت یا بازپرس سے کوئی غرض نہیں رہی، استبدادی طاقتیں یوں بھی جوابدہی کی ذمہ داری سے بالا ہوتی ہیں، دنیا کے بیشتر ممالک تو امریکہ اور یورپ کے بندۂ بے دام بننا ہی پسند کرتے ہیں، خواہ اس کے لیے انھیں کیسی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔
اقوامِ متحدہ کے استفسار پر اپنا موقف واضح کرتے ہوئے الجامعۃ الازہر کے سربراہ مفتیِ اعظم شوقی عالم نے داعش کی مذمت کی ہے اور اسے ایک ایسی بدعنوان انتہاپسند تنظیم قرار دیا ہے جو اسلام کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ان کے مطابق داعش ایک ایسا نتہاپسند اور خونی گروپ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے لیے ضرر کا باعث ہے۔جس کا تشخص خونریزی اور بدعنوانی سے آلودہ ہے۔
مفتیِ اعظم شوقی عالم نے مزید رائے یہ دی ہے کہ داعش کی کارروائیاں ان اسلام دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرنے کا ذریعہ بن رہی ہیں جو مسلمانوں کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے معاملات میں مداخلت کرنا چاہتے ہیں۔


Areas captured by ISIS
داعش کی حالیہ کارروائیاں اسے ان الزامات سے بری بھی نہیں کرتیں۔ان کے ماضی میں ایسی کوئی تعمیراتی سماجی خدمات یا تحریکات بھی نہیں ہیں جنھیں مثبت عمل کہا جائے۔ داعش کے مقبوضہ علاقوں کی حدیں شمالی عراق اور شام میں ہیں۔ خصوصاً تیل سے مالامال علاقے۔اس کا پورا اعمال نامہ ابھی علاقے ہتھیانے اور ان علاقوں پر اپنی مرضی کے مطابق عوام پر حکومت کرنے سے بھرا ہوا ہے۔ ان کی کوئی ایک مثبت قدر ہم ہندوستانیوں کے سامنے آئی ہے تو وہ یہ کہ ہندوستانی نرسوں کو بخیروعافیت وطن واپسی میں امداد اور تعاون کیا۔ گوکہ اس جانب نرسوںکی واپسی تک اپنے وطن کا میڈیا (ماہِ رمضان میں بھی) انھیں جابر اور بدخواہ و بدکردار ثابت کرنے میں ایک دوسرے پر بازی مارنے کی کوششوں میں مبتلا دکھائی دے رہا تھا اور اس کی اکلوتی وجہ داعش کا اسلامی خلافت کے قیام کا اعلان اور ان کا سخت گیر اسلامی تشخص تھا۔ جب نرسوں نے واپسی کے بعد اپنے انٹرویوز میں داعش کے اخلاق کی تعریف کی تواس میڈیا کے منہ پر تالے اور آنکھوں پر پٹیاں پڑگئیں۔ نرسوں کی ہمدردی اور روزگار کے معاملہ میں (سرکاری و غیرسرکاری) گھگھیانے والے ان کی واپسی کے بعد بدنام جانور کی سینگ کی طرح غائب ہوگئے؛ اور نرسیں اپنے ملک میں بے یارومددگار ہیں۔

Indian Nurses from Iraq back at home
ایک دوسرا سنگین واقعہ داعش کے ہاتھوں یزیدی فرقہ کے افراد کا قتلِ عام تھا۔اس واقعہ کے بعد ایک عراقی وزیر نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ داعش نے سیکڑوں یزیدیوں کو ہلاک کر دیا ہے اور ان کی عورتوں کو کنیزیں بنا لیا ہے۔مزید یہ کہ بعض یزیدیوں کو زندہ درگور کردیا ہے۔ ان الزامات کی حقیقت و ثبوت ہنوز پردۂ اخفا میں ہیں۔ اسی الزام کا آسرا لے کر امریکہ نے داعش پر کوہستانی علاقوں میں فضائی حملے شروع کیے ہیں۔
داعش نے عراق اور شام میں اپنے زیرِ تسلط علاقوں میں اسلامی خلافت قائم کرنے کا اعلان کررکھا ہے۔ اس پر گفتگو آگے ہوگی البتہ جو تفصیلات ہم تک پہنچی ہیں ان کے مطابق داعش کی ماضی میں القاعدہ سے وابستگی تھی اور اس گروہ کو ابتدا میں ’القاعدہ آف عراق‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ بعد میں اس کے نام کی تبدیلی عمل میں آئی۔ موجودہ داعش مخفف ہے ’دولت الاسلامیۃ العراق و الشام‘‘ کا۔گذشتہ آٹھ برسوں میں اس کا وجود عراقی خانہ جنگی اور مختلف جنگجویانہ وارداتوں کے دوران رفتہ رفتہ ظاہر ہوا۔ لیکن اسے قبولیت عام حاصل ہونے میں اس کی کارروائیاں مانع ثابت ہوئیں۔ بیشتر کے نزدیک یہ شیعہ مخالف اور صوفی اِزم کے خلاف ایک دستہ کے روپ میں سامنے آیا؛ کیونکہ انھوں نے مقدس تصور کیے جانے والے مقابر پر حملہ کردیا تھا۔ اس تنظیم کا حالیہ سپریمو ابوبکر البغدادی ہے جو کوئی معروف شخصیت بھی نہیں ہے۔
تبصرہ نویسوں نے لکھا ہے کہ امریکہ نے بعث کی طاقت ختم کرکے غلطی کی ہے، اس کی وجہ سے اندرونی مزاحمت کم ہوگئی جس کے نتیجہ میں داعش کو ابھرنے کا موقع ملا۔ تصادم کی نیتی داعش کے لیے نفع بخش نہیں ہے۔ ایسا کرنے والی تنظیمیں بہت کم عرصہ میں نیستی کا شکار ہوجاتی ہیں یا تاریخ میں بدنام رہتی ہیں۔
امریکہ اور دیگر یورپی طاقتیں مشرقِ وسطیٰ میں مستحکم و فعال ریاستوں کا قیام چاہتی ہی نہیں۔اپنے منصوبوں کو مفاد بخش بنائے رکھنے کے لیے وہ داعش اور طالبان وغیرہ جیسے گروہوں کو زندہ رکھتی ہیں۔ عراق کی حالیہ تباہی کا صد فیصد ذمہ دار امریکہ ہے لیکن دنیا کا میڈیا امریکہ کو اس طرح پیش کیے جارہا ہے گویا عراق کے جملہ مسائل کا حل کرنے کی صلاحیت صرف امریکہ اور اوبامہ میں ہے۔ اوبامہ بھی اپنی چالیں مہرے اور گھر دیکھ کر چل رہے ہیں۔ کبھی آگے چلتے ہیں تو کبھی ڈھائی کی جست لگاتے ہیں۔ داعش کے ہاتھوں یزیدیوں کی ہلاکت کے بہانے امریکی فضائی حملے اس کی تازہ مثال ہیں۔ ورنہ اس کے پہلے وہ عراق میں کسی تازہ فوجی مداخلت سے انکار کر رہے تھے۔ ان کا یہ قول بھی کتنی تہیں رکھتا ہے ملاحظہ فرمائیں: ’امریکہ اس مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں رکھتا، بلکہ اس کا عراقی روپ (حل) پیش کرنا چاہتا ہے اسی لیے حملے مخصوص و محدود اہداف پر ہی کیے جائیں گے۔‘ امریکی فضائیہ شمالی کُردِستان میں داعش کی پیش رفت کو روکنے اور کوہستانی علاقوں میں محصور یزیدی اقلیت کو تحفظ دینے کی غرض پوری کرے گی۔
برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ ’داعش کے جنگجوبرطانیہ کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں،اگر ہم نے ’’غیرمعمولی خطرناک دہشت گرد تحریک‘‘ کو روکنے کے لیے اقدام نہ اٹھایا تو یہ زیادہ مضبوط ہوتی جائے گی اور ہمیں برطانیہ کی سڑکوں پر نشانہ بنانے لگے گی!‘ یہ کون سی بڑ ہے یہ تو ڈیوڈ کیمرون ہی جانیں مگر انھیں ایسے اندیشے سوتے میں لاحق ہوئے ہیں یا جاگتے میں یہ ہماری سمجھ سے بالا ہے۔ کیونکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ داعش کی عسکری طاقت تو ٹوٹے پھوٹے عراق کی عسکری طاقت سے بھی کم ہے! البتہ ڈیوڈ کیمرون کے اعلان میں ان کی بدنیتی صاف اور واضح ہے۔
جب بھی مغربی اور امریکی طاقتوں کی مزاحمت میں یا ان کی پسندیدہ حکومتوں کی مخالفت کوئی سر ابھارتا ہے اسے یہ دہشت گرد اور پوری دنیا کے لیے خطرناک بتانے لگتے ہیں۔
داعش کا عندیہ ایک سخت گیر (سنّی؟) اسلامی مملکت کے قیام کا ہے۔ اوّل تو سخت گیری اسلام کا وطیرہ ہی نہیں ہے۔ خلافت تو جمہوری طریقہ سے قائم ہوتی ہے۔ داعش کا طریقۂ کار اسلامی خلافت کے مسلمہ و مقبول اکرام کو بدنام کرنے والا ہے۔
آبزرور اخبار کو تحریر کردہ ایک خط میں بشپ آف لیڈز نکولس بینز نے کہا کہ ’’دنیا میں تیزی سے پروان چڑھتے ہوئے اسلامی انتہاپسندی کے رجحان کو روکنے کے لیے ہمارے پاس مربوط اور جامع اپروچ کی کمی ہے۔‘‘ یہ زبان کسی معاملہ میں عیسائیوں یا یہودیوں سے متعلق ایک اسلامی رہنما کی ہوتی تو دنیا بیک زبان اسے دہشت گردی کا ترجمان بولتی مگر پادری اس الزام سے بری ہیں۔
داعش نیا اسلامی گروہ ہے مگر غلطیاں وہی جذباتی اور جارحانہ انداز میں دُہرا رہا ہے جو اس سے قبل طالبان اور اخوان المسلمون وغیرہ نے کی تھیں۔ اس زمرے میں آیت اللہ خمینی ایک استثنا ہیں۔ انھوں نے (شیعی) اسلامی ایران کے قیام کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی مگر ان کا وقت الگ تھا اور ایران کے عوام ان کے ساتھ جی جان سے لگ چکے تھے۔ اسی لیے بین الاقوامی سُوپرطاقتیں شکست کھا گئی تھیں وگرنہ رضاشاہ کو جلا وطنی نہ کرنی پڑتی۔
مصر میں اخوان المسلمین کا حالیہ انجام بھی عاقبت نااندیشی کی ایک عبرت انگیز مثال ہے۔ محمد مرسی اور اخوان نے انتخابات جیتنے کے بعد یہ سمجھ لیا تھا کہ انتخابات انھوں نے اپنے دم خم پر جیتا تھا۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ حسنی مبارک سے تنگ آئے ہوئے عوام نے موقع غنیمت سمجھ کر تبدیلیٔ آب و ہوا کی خاطر ’بہارِ عرب‘ کے جھونکوں کے طفیل اخوان کو واضح اکثریت دلائی تھی۔ان کی طاقت مصر کے سبھی طبقوں اور عقیدوں کے عوام بنے تھے۔اسی لیے فوج بھی عوام کی رائے کے خلاف ایک قدم بھی اٹھانے سے گریزاں تھی۔ مگر جب مرسی نے نئے دستور (اسلامی) کے نفاذ کا اعلان کیا تو تاک میں بیٹھے ہوئے ملکی و بین الاقوامی بدخواہ اندھوں کو گویا دو آنکھیں مل گئیں۔انھوں نے فوری طور پر بدامنی پھیلانے کی سازش رچی بھی اور بروئے کار بھی لائی۔ نتیجتاً ہٹ دھرم اخوان کو معزول کردیا گیا۔ اخوان کو یہ کام جلد بازی کی بجائے حسنِ تدبّر کے ساتھ طویل وقتی منصوبے کے ساتھ دھیرے دھیرے بلا اعلان کرنا چاہیے تھا۔
اسلامی عدل و انصاف تمام انسانوں کا دل ماضی میں بھی جیت چکا ہے اور تاقیامت اس کا یہ اثر قائم رہنے والا ہے۔ البتہ اس کے نفاذ میں صرف عدل و انصاف اور سماجی مساوات و عدم تشدد کا ہی نام لیا جانا اس کے طویل مدتی نفاذ کی ضمانت بنے گا۔ اسلامی قوانین اور دستور جیسے ناموں سے اپنی دنیا کافی الرجِک ہو چکی ہے۔ آپ کو کئی دہائیوں اورممکن ہے صدیوں تک اس ذہنیت کی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملے گی۔


Monday, August 4, 2014

Israel will be forgiven by the world for it's crimes and Muslims too will start enjoying Pepsi again
Dr. Rehan Ansari


بیش و کم ایک مہینے تک اسرائیل نے اپنی پوری عسکری طاقت جھونکنے کی کوشش کرکے غزہ پٹی کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا۔ بیچارے نہتے فلسطینیوں کو الزامات لگا لگا کر اپنے دفاع کے نام پر ختم کرنے میں دنیا کی تاریخ کامکروہ ترین سلسلۂ قتل وخوں (نسل کشی پڑھیے) جاری رکھا۔ ہزاروں جامِ شہادت پی کر عالمِ باقی میں پہنچ گئے۔ ایک مبصر نے کیا خوب لکھا ہے کہ’’ دفاع تو ڈھال کا نام ہے تلوار اُٹھانے کا نہیں‘‘ اور اسرائیل نے تلوار اٹھائی ہوئی ہے۔ پھر یہ خونیں کھیل نیا بھی نہیں ہے۔ اسرائیل عادت کے مطابق اور اپنے ناپاک صیہونی ایجنڈوں کو رُوبہ عمل لانے کے لیے برسوں سے بہانوں کے ہاتھ آتے ہی یہ فعل دُہراتا رہتا ہے۔ فلسطینیوں کی نسلِ نو کا قتل وہ جان بوجھ کر کرتا ہے تاکہ مستقبل میں اسے کسی مضبوط اور نڈر مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسرائیل نے پوری دنیا میں خصوصاً حماس کے حوالے سے مسلمانوں کے خلاف عمومی نفرت و تعصب کا سماں باندھ دیا ہے۔ اِدھر برِّ صغیر کے مسلمانوں نے بھی اپنی ایمانی غیرت و حمیت کے کچوکے لگنے سے اسرائیل کے خلاف کچھ نہ سہی تو اس کی مصنوعات، وہ بھی اکثر اشیائے خورونوش، کا استعمال ترک کیا اور ان کا بائیکاٹ کرنے کی ہر ممکن سعی کی۔ اس عید کو ہمارے گھروں میں سافٹ ڈرنک کی کوئی بوتل اور بچوں کو مرغوب اسنیکس نہیں لائے گئے۔ بہت سے بھائیوں نے اپنی حساب دانی کا چرچا کرنے کے لیے اس نقصان کی مالیت کا تخمینہ بھی سوشل میڈیا پر مسلسل پیش کیا یا فارورڈ کیا۔ گلی محلوں میں بینر، ہورڈنگ، پلے کارڈ، پمفلٹ، جلسے، جلوس کا انعقاد ہوا۔ کچھ سماجی، کچھ دینی، کچھ سیاسی اداروں نے بھی سرکاری دفاتر اور سفارتی دفاتر تک اپنی احتجاجی آوازیں پہنچائیں۔ اخباروں (اکثر اُردو) میں ان سب کی رنگین تصویروں کی اشاعت کی گئی۔ ہم بھی فقیروں کا بھیس بنا کر یہ سب دیکھتے رہے۔ نجی سطح پر اس بائیکاٹ میں شامل بھی رہے۔ نیت تو ہماری بالکل خالص تھی مگر خلوص کی جانچ اور خود احتسابی کرنے بیٹھے تو دل میں ایک دردِ نہاں کے علاوہ اپنے سوال کا کوئی جواب موجود نہیں پایا۔


 ایک طرف یہ سب کچھ چلتا رہا اور دوسری طرف اسرائیل ہر گذرتے دن کے ساتھ اپنے حملوں کی شدت بڑھاتا رہا۔ ہمارے معصوم فلسطینی بھائی مع اہالیانِ خانہ جان سے جاتے رہے۔
 سارے  پس منظر میں پتہ نہیں کیوں اندر سے ایک بے اطمینانی بھی دل دھڑکاتی تھی کہ ہم اپنے قول و فعل میں بہت فرق رکھتے ہیں۔ ہم دیانتدار نہیں ہیں۔ مستقل مزاج نہیں ہیں۔ کوئی منصوبہ بناتے ہیں وہ ایک مختصر مدت کے بعد نسیان کے قبرستان میں مدفون ہوجاتا ہے۔ بائیکاٹ ایک مدت کے بعد اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ یہودی مصنوعات کے بائیکاٹ شروع کرنے کا تو اعلان کیا جاتا ہے مگر پتہ نہیں چلتا کب خاموشی سے یہ ختم ہوجاتا ہے۔ اور ہم پھر اپنے منہ کو لگے مشروب کی بوتلوں سمیت اوڑھنے بچھونے میں بھی مرغوب مصنوعات کا استعمال کرنے لگتے ہیں۔ اسی موقع پراردو کے شہرہ آفاق مزاح نگار علامہ اکبر الٰہ آبادی کا ایک شعر یاد آرہا ہے 
ابھی بیمار ہیں، سب کررہے ہیں قول و عہد اکبرؔ 
اُسی کوچے میں پھر پہنچیں گے، ہونے دو ذرا اچھا


 مگر اب اسرائیل نے شاید تھک ہار کر (جیتا تو ابھی بھی نہیں) یہ ’نام نہاد‘ جنگ بند کرنے کی آمادگی کا عندیہ دیا ہے۔ اس عندیہ کا لطیفہ ساز پہلو یہ ہے کہ وہ یکطرفہ جنگ بندی اپنی مرضی سے کر رہا ہے (گویا یہ جنگ دو طرفہ جاری تھی!؟) اور وہ مصر کی ثالثی میں سمجھوتے میں شریک نہیں ہوگا۔ پھر یہ بھی کہ غزہ کی سرحد سے اسرائیلی ٹینک ہٹائے نہیں جائیں گے۔ یہ دھمکی بھی کہ حماس نے دوبارہ کوئی شرارت کی تو حملے کے ’’تمام آپشن‘‘ کھلے رکھے گئے ہیں۔ اب تک کے حملوں کو وہ تین اسرائیلی نوجوانوں کے قتل کا انتقام بتلاتا رہا اور اس عذر کو توسیع دینے کے لیے حماس کے ذریعہ تیار کی جانے والی دفاعی سرنگوں کو دہشت خیزی کے منابع کے طور پر مشہور کر دیا۔ تازہ حملوں کی توجیہہ یہ بیان کی گئی کہ ایک اسرائیلی فوجی ہدرگولڈن کو حماس نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ اسرائیل کے بیان پر دنیا نے اعتبار کیا لیکن حماس نے اس لاپتہ فوجی کے پکڑے جانے کے تعلق سے اپنی لاعلمی ظاہر کی اور یہ کہ وہ اب کہاں ہے اس کا بھی اسے کوئی پتہ نہیں، بالفرضِ محال وہ ہمارے جنگجوؤں کے ہاتھ لگا تھا تو اسرائیل کی بھاری بمباری میں ہوسکتا ہے وہ ان کے ساتھ فوت ہوگیا ہو؛ تو دنیا نے اسے قابلِ اعتنا نہیں سمجھا۔ حتیٰ کہ امریکہ نے اسے حماس کی جانب سے ’معاہدۂ امن‘ کی وحشیانہ خلاف ورزی تک قرار دیا ہے!۔ مینڈکی کو بھی زکام ہونے میں دیر نہیں لگی اور اقوامِ متحدہ نے فلسطینیوں کی فکر جتاتے ہوئے ہدرگولڈن کی فوری سپردگی کا مطالبہ کردیا۔ اسرائیل تو اس معاملے میں یدِ طولیٰ رکھتا ہے کہ جھوٹ کو سچ کیسے بنایا جاسکتا ہے اور دنیا اس کے جھانسے میں بے دام غلام کی مانند آتی بھی ہے۔
 دنیا کے نقشے پر مصر بھی وہ امتیازی ملک ہے جو فلسطین و اسرائیل کے مابین گفتگو میں صرف ثالثی کے لیے تیار رہتا ہے۔ حالانکہ اس وقت جتنا بڑا مجرمِ انسانیت اور دہشت گرد اسرائیل ہے اسی کی مانند مصر میں السیسی نے جرم کیا ہے۔ اس فوجی حکمراں نے مصر کی تاریخ کی پہلی باقاعدہ جمہوری منتخبہ حکومت کو یرغمال بنا کر طاقت کا استعمال کرکے، جڑ کاٹ کر اقتدار پر قبضہ کیاہے۔ مصر نے اسرائیل سے حملے بند کرنے کی کوئی اپیل نہیں کی لیکن حماس پر دباؤ ڈالتا رہا کہ وہ معاہدہ کرلے۔ معاہدہ کی شرائط پر غور کیا جائے تو بین الاقوامی دباؤ کے تحت یہ ذلت آمیزشکست و شرائط قبول کرنے کے مصداق ہیں۔ یہ ایک مختلف موضوع ہے اس لیے یہاں اس پر گفتگو نہیں ہوگی۔ قارئین نے ضرور محسوس کیا ہوگا کہ میڈیا کی خبروں کا سورس صرف اسرائیل ہی کیوں بنا رہا؟ کسی نے فلسطین کی سرزمین سے خبریں جمع کرنے اور وہاں کے زمینی حالات بیان کرنے کی زحمت کیوں نہیں کی؟ اسرائیل نے جتنی فلسطینی جانیں لی ہیں اس سے کئی گنا ان کے گھروں کو تباہ و برباد کردیا ہے۔ کسی ایک اسرائیلی کی جان بھی حماس کے راکٹوں سے گئی اور نہ کوئی گھر ٹوٹا۔ پھر غزہ اور حماس ہی تو پورا فلسطین بھی نہیں ہے۔ وہاں تو محمود عباس، الفتح اور دیگر فلسطینی عوام بھی بستے ہیں۔ اس پورے عرصہ میں ان کا کوئی ردِّعمل سامنے آیا نہ کوئی اور خبر۔ ایک طرف حماس ہماری آس بنا رہا تو دوسری طرف الفتح کی شکست (بے عملی) باعثِ عبرت بنی۔ جبکہ حکومت میں دونوں جماعتیں شریک ہیں۔ الفتح سے ہم مزاحمتی نہیں مگر ڈپلومیٹک مداخلت کی امید تو رکھتے ہی تھے مگر ’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘۔
 اور عالمی انسانی برادری؟ یہ کہاں ہے ہمیں تلاش کے باوجود نہیں ملی۔ ہمیں کچھ لوگوں نے اس دھندلے شیشے کے ایک حصہ کی گرد ہٹا کر یہ دکھلانے کی کوشش کی کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ملک سعودی عرب ہے جو فلسطین کا ساتھ نہیں دے رہا ہے۔ جب ہم نے اس دھند کو ذرا زیادہ صاف کرکے منظر دکھا تو یورپ تک وہاں درجن بھر سے زیادہ ممالک نظر آئے جنھوں نے سعودی عرب کی مانند فلسطین یا غزہ کا ساتھ دینے میں غیر ضروری احتیاط برتی ہے۔ کم سے کم ان میں اتنی طاقت ضرور ہے کہ وہ اسرائیل کو ایک مضبوط ڈانٹ دے سکتے ہیں۔ اور متحدہ آواز اٹھے تو وہ بم سے خطرناک انداز سے گرے گی۔مگر… مگر لگتا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کی جانوں اور آشیانوں پر بمباری نہیں کی، انھیں نہیں مارا، بلکہ (صرف خلیجی نہیں دنیا بھر کی) عالمی انسانی برادری کے احساس پر بمباری کرکے اسے مردہ کردیا ہے، بے حس بنا دیا ہے۔
 اسرائیل نے تھک ہار کے جنگ بند کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ یقینا ایک نہ ایک دن تو یہ ہونا ہی تھا۔ اور جب یہ ہوجائے گا تو پوری دنیا بلا تاخیر اسرائیل کو معاف کرکے اور اس کا شکریہ ادا کرکے اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوجائے گی۔ اور ہمارے بھائی؟؟؟ دیکھنا، ماضی کی مانند وہ بھی دوبارہ اسرائیلی پروڈکٹس کو غٹا غٹ گلے سے اتارنے لگیں گے۔ اپنے دیوان خانوں میں سجانے لگیں گے۔ فریج میں وقت بے وقت استعمال کے لیے ذخیرہ کرنے لگیں گے۔ہمارے شہر میں ایک آٹو رکشا چلتا تھا، اس کے ہوڈ کے عقبی شیشے پر ایک چہار لفظی جملہ لکھا تھا جس کی پھیلی ہوئی معنویت ہمیں پہلی مرتبہ پڑھنے کے بعد سے لے کر ہنوز متاثر کرتی آ رہی ہے، ہمارے حالیہ احتجاج کے پس منظر میں ایک مرتبہ پھر بے ساختہ یاد آگیا کہ ’’سب کچھ تھوڑے دن‘‘۔


 ابھی نہ اسرائیل ختم ہوا ہے نہ فلسطینیوں کے حوصلے ٹوٹے ہیں۔ کوئی ہارا ہے نہ کوئی جیتا ہے۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ ہتھیاروں کا اسٹاک مزید ستم آزمائی کے لیے شاید باقی نہیں رہا ۔ لیکن ہم بارہا اس کے بائیکاٹ کا عزم کرتے ہیں۔