To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Thursday, August 18, 2011

Growing Shadow of Anna Hazare and
UPA Govt's Helplessness  
Dr. Rehan Ansari
پورے ہندوستان پر بدعنوانیوں کا سایہ ہے اور آج بڑے بڑے بدعنوانوں پر انا ہزارے کا (عفریتی) سایہ ہے۔ حکومت کے دونوں ایوانوں کے درو دیوار شورشرابہ جھیل رہے ہیں۔ اور ہم خود کو تسلی دے رہے ہیں کہ ’’ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا؟‘‘
بدعنوانی اصل میں ہے کیا اور اس کا شکار کون لوگ ہوتے ہیں۔بدعنوانی کا سب سے زیادہ شکار اس ملک کے غریب اور شریف عوام ہوتے ہیں۔ زیرِ بحث بدعنوانی ایک عجب عنوان ہے کہ جس کے لیے کوئی مناسب لفظ بھی جگہ لینے کو تیار نہیں ہے۔ فرعونیت اور قارونیت جیسے (قدرے مناسب) الفاظ بھی شاید شرماتے ہیں۔ بس اسے ’’بدعنوان‘‘ corrupt  کہہ دینا ہی سب کو کافی لگتا ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ صرف اردو زبان میں یہ مسئلہ ہے۔ دیگر زبانیں بھی ’دہشت گردی‘ کی مانند ’بدعنوانی‘ کو مکمل طور پر بیان کرنے سے قاصر ہیں۔
انا ہزارے کی جاری تحریک بڑے بڑے بدعنوانوں کے خلاف ہے۔ وہ آج کمزوروں کی طاقت کی علامت بنے ہوئے ہیں۔ انھوں نے ایک امید جگائی ہے۔ بات بھی صحیح ہے کہ بڑے سدھریں گے تو چھوٹے ڈریں گے اور سدھریں گے۔ (یہ اور بات ہے کہ اناہزارے نے درمیانِ تحریک میں فرعونِ دوراں نریندر مودی کی تعریف کرکے ہم جیسوں کے نزدیک اپنے اقدامات کے تئیں خود کو مشکوک شخصیت بھی بنا لیا ہے)۔ اب اناہزارے کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں اور لوک پال بل کے قابلِ قبول مسودہ کی تیاری اور ممکنہ نفاذ کا انجام کیا ہوتا ہے اس پر کوئی رائے زنی کرنا قبل ازوقت ہے۔ کیونکہ سامنے کانگریسی سیاستدانوں کی ایک ایسی ٹیم ہے جس کی ذہنی آبیاری بڑی میڈم اندراگاندھی کے ساتھ ہوئی ہے جن کے دور میں ہر قسم کی بدعنوانیاں پورے شباب پر تھیں۔ جب اندراگاندھی سے ان کا احتساب کرنے کو کہا گیا تھا تو انھوں نے یہ تاریخی جملہ ادا کیا تھا کہ ’’بدعنوانی تو عالمی طریقِ کار ہے‘‘ (Corruption is universal phenomenon) اور اردو کے شاعر شبیر احمد راہی نے تڑپ کر احتجاج کیا تھا کہ:

یہ  کہہ  کے   اِک  جواز  مہیا  کیا   گیا
رشوت کہاں نہیں ہے کہ درماں کریں گے ہم
 آئیے ہم ماہِ اگست کے پس منظر میں ہی کچھ باتیں دوہرائیں بھی اور حاکمی بدعنوانی کی تاریخ بھی دیکھیں۔
ہمارے وطن ہندوستان نے دورِ غلامی سے نجات کے چونسٹھ برس مکمل کر لیے ہیں۔ یہ دورِ غلامی بیرونِ ہند کی نوآبادیات پسند اور جارح قوم کے ساتھ گذرا تھا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس دور میں صرف حاکمین کے خوشامدی ٹولے ہی خوشحال زندگی جی رہے تھے۔ سرکاریں انھیں عزت و سماجی رتبہ و وقار اور جاگیریں بھی عطا کرتی تھیں۔ محکوم عوام میں جو ان سے غیرمتعلق رہتے تھے، ان پر کسی بھی شاہی فرمان کی بلاچوں و چرا کیے تعمیل لازمی تھی۔ وہ ہر سطح پر پسماندگی کا شکار تھے۔ ان کی اپنی مرضی کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔انھی میں ایک گروہ حریت پسند تھا۔ وہ حکومتِ وقت کا باغی کہلاتا تھا۔ سب سے زیادہ آزمائشی زندگی اسی گروہ کی تھی۔مظالم اسی پر توڑے جاتے تھے اور وہ ظالم ہر ظلم کو ہنس کر سہتا ہی نہیں تھا بلکہ عجیب سی لذت محسوس کرتا تھا۔اس کا سینہ چوڑا ہو جاتا تھا اور جب ’جے ہند‘ کا نعرہ لگاتا تھا تو شدتِ جذبات سے اس کا چہرہ تابناک ہوجاتا تھا۔اسے اپنے وجود کے احساس اور تشخص کی چاہ تھی۔وطنِ عزیز کی خاک کے لیے قربانیاں دینا وہ باعثِ افتخار سمجھتا تھا۔ اسی جدوجہد کے نتیجہ میں بروز جمعہ، پندرہ اگست ۱۹۴۷ء کو ہندوستان میں آزادی کا سورج طلوع ہوا تھا۔
مجاہدینِ آزادی کی اکثریت جہانِ ثانی میں اپنا ٹھکانہ بنا چکی ہے۔چونسٹھ برسوں کے بعد بھی جو ہندوستانی ابھی بقیدِ حیات ہیں ان کی بوڑھی آنکھیں اپنی ہی نسل کے لیڈروں کو ایک نئے دشمن کے روپ میں دیکھ رہی ہیں۔ رہ رہ کر ان کے دلوں میں ہوک سی اٹھتی ہے۔ سوچنے لگتے ہیں کہ باہر کے دشمن سے لڑنا کتنا آسان ہے اور جب گھر کے اندر ہی دشمن پیدا ہوجائے تو اس سے لڑنا کتنا مشکل! کیا اسی دن کے لیے ہم نے آزادی کی لڑائی لڑی تھی؟ وہ دیکھتے ہیں کہ آدرش، اصول، جوش و جذبۂ قربانی، حب الوطنی، شجاعت، جنگ، محاذ، مورچہ، تحریک، بیداری، دیانتداری، ایمانداری جیسے لہو گرمانے والے عنوانات نہ صرف اپنی کشش کھو چکے ہیں بلکہ رفتہ رفتہ اپنے معنی بھی کھوتے جارہے ہیں۔ اور اب تو ان پر گفتگو کرنا کوئی لطیفہ بیان کرنے کے مصداق ہوگیا ہے۔
آج ہم ایک نئی جنگ کے محاذ پر کھڑے ہوئے ہیں۔ ہم نے جنھیں اپنے قیمتی ووٹوں سے سیاسی نمائندگی دی ہے؛ آج وہی لوگ وطن کو فراموش کرکے اپنی اور اپنی نسلوں کی محبت میں دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹ رہے ہیں۔ اپنے اور اپنی نسلوں کا مستقبل ہماری دولت کے بوتے پر سنوارنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ذلیل کرنے میں ان سب نے تمام اخلاقی و تہذیبی قدروں کو خودغرضی کی آگ کے حوالے کردیا ہے۔ ملک کے خزانے پر گھپلے بازوں کا راج ہے۔
آج جمہوری نظام صرف ’ہجومی‘ نظام بن گیا ہے۔ جہاں سر تو گنے جاتے ہیں لیکن ان میں دل اور دماغ کتنے ہیں ان کا حساب نہیں رکھا جاتا (بلکہ دل اور دماغ والوں کو اکثر باہر کا دروازہ دکھا دیا جاتا ہے!)۔
اس پورے نظام پر ہماری بے توجہی نے سیاسی بدعنوانیوں کی وہ پھپھوند لپیٹ دی ہے کہ اس کا اصلی چہرہ پہچاننا مشکل ہو گیا ہے۔ نچلی سے نچلی سطح سے لے کر مسندِ اعلیٰ و اعلیٰ ترین بھی شکوک کے گھیرے میں رہنے لگی ہے۔ دھیرے دھیرے ہم اس منزل پر پہنچ چکے ہیں کہ اس بدعنوان سسٹم سے نجات پانے کے لیے ہمیں ایک دوسری جنگ چھیڑنی پڑے گی جو انگریزوں کے خلاف لڑی گئی جنگ سے بھی زیادہ سنگین اور قربانیاں طلب کرنے والی ہو سکتی ہے۔ کیا ہم سب خود کو اس کے لیے تیار پاتے ہیں؟ پہل جو بھی کرے اس کے ساتھ جڑ جانا چاہیے۔




ایک وہ دور تھا کہ ترنگا لہرانے کے لیے بیتاب رہتا تھا اور ایک آج کا دور ہے کہ وہ فخر سے لہرانے کی بجائے شرما کر اپنا پہلو سمیٹ لینا چاہتا ہے.

Sunday, August 14, 2011

Happy Independence Day to All Countrymen and Happy Birthday to Pakistan
Dr. Rehan Ansari



اہل وطن کو جشن و یوم آزادی مبارک اور
پاکستان کو یوم پیدائش مبارک
اس مبارک مہینے میں رب کریم سے دعا ہے کہ وہ ہر دو جانب سے
منفی جذبات کا خاتمہ فرماے اور ٦٤ برسوں سے پالی ہوئی مخاصمت اور بانجھ و بے ثمر دشمنی کا مکمّل خاتمہ فرماے نیز مثبت، اصلی و برادرانہ جذبہ کی پیدائش و پرورش کرے. (آمین)...... تاکہ دفاعی معاملات میں خرچ ہونے والی کثیر رقومات دونوں ملکوں کی ترقی کی مدات میں صرف ہوں  اور عوام راحت و امن سے جی سکیں. اپنی صلاحیتیں صد فی صد لگا سکیں. اس طرح یہ خطہ دنیا کا حقیقی سپر پاور بن سکتا ہے.
 ڈاکٹر ریحان انصاری

Wednesday, August 10, 2011



What an Independance
Abuse One Day and Applaud 364
Dr. Rehan Ansari
۱۵ اگست کا دن عیدالوطن ہے، ہم نے برطانوی ظلم و استبداد سے اسی روز نجات حاصل کی تھی۔ اسی لیے ہم سب اس دن کو خصوصی اہتمام کے ساتھ مناتے ہیں اور اسے ’’یومِ آزادی‘‘ کہتے ہیں۔
ہوش سنبھالنے کے بعد ہمیں جب میونسپل پرائمری اسکول میں داخل کروایا گیا تھا تو سب سے پہلے ہمیں گاندھی جی والا ’’عہد‘‘ اور راشٹریہ گیت ’’جن گن من...‘‘ رٹایا گیا تھا جسے ہم معمول کے ساتھ پڑھا کرتے تھے البتہ ان کے معانی و مطالب سے ہمیں کوئی علاقہ نہیں تھا۔ جس نغمہ نے سب سے پہلے شعوری طور پر ہمیں حب الوطنی سے آشنا کیا تھا وہ کوئی اور نہیں بلکہ ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ ہی تھا۔اس وقت ہم چوتھے درجہ میں پڑھ رہے تھے اور یومِ آزادی کی مناسبت سے ہمیں اپنی جماعت میں اسے پیش کرنے کے لیے یاد کروایا گیا تھا۔ وہ دن اور آج کا دن، ہنوز اس سے زیادہ پیارا کوئی اور نغمہ دل و ذہن کو نہیں محسوس ہو پایا۔
اونچے درجہ میں پڑھائی کے لیے ہمیں رئیس ہائی اسکول میں داخل کروایا گیا تو وہاں سے تاریخِ ہند سے بھی درجہ بہ درجہ آشنائی ہونی شروع ہوئی۔ ابتدا میں وادئ سندھ اور آریائی عہد، موریہ عہد، اشوک عہد اور پھر مغلوں کے دور تک ہمارے ملک میں جس قسم کی (متعدد و مختلف) چھوٹی موٹی سیاسی جنگیں لڑی جاتی رہیں وہ اکثر اقتدار کے حصول کی خاطر صرف حکمرانوں اور ان کی فوجوں کے مابین ہی رہیں۔ استثنائی معاملات سے اعراض کریں تو ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کسی راجہ، نواب، بادشاہ، چھترپتی یا راج گھرانے نے پوری ہندوستانی تاریخ میں اپنی پرجا (عوام) کے ساتھ عمومی ظلم و بربریت اور استحصال و ناانصافی کا کبھی کوئی باب نہیں لکھا۔ کہیں سے کوئی مستند ثبوت نہیں ملتا۔ لیکن انگریزوں نے اس ملک کو مجموعی طور سے لوٹا اور اپنے مفاد کے لیے عام ہندوستانی عوام پر ظلم و استبداد کی وہ داستانیں رقم کیں کہ ہر انصاف پسند ان سے پناہ مانگتا ہے۔ یہ خلاصہ ہے ہماری پڑھی ہوئی تاریخ کا۔ یہیں آزادی کے معنی بھی پیدا ہوتے ہیں۔
جب ہمارا تعلق بیرونی دنیا سے ہوا تو یہاں جھوٹ اور سچ کے ایک بڑے پٹارے سے سابقہ پڑا جسے اردو والے پہلے ذرائع ابلاغ کہتے تھے مگر اب نئی اصطلاح میں سب کے ساتھ یہ بھی ’’میڈیا‘‘ Media کہتے ہیں۔
میڈیا نے اس تاریخ کے چند ابواب پر جھوٹ کا ایسا ملمع چڑھایا کہ ہمارے دماغ کے چودہ طبق روشن ہوگئے۔ جن حکمرانوں نے اپنی اور اپنی نسلوں کو اس ملک کی خاک کا حصہ کردیا، اپنی صلاحیتیں اور اپنا سب کچھ اسی ملک کے حوالے کیا انھیں غاصب، ظالم اور جانے کیا کیا القاب دئیے اور جن انگریزوں نے اسی میڈیا کے مطلبی آبا و اجداد کو خطابات اور نوازشوں کے لالی پاپ دئیے اور عام ہندوستانیوں پر ظلم کی سیاہ راتیں طویل تر کر دیں انھیں یہ میڈیا ایک دن یعنی یومِ آزادی کی روایت کے تحت گالی دیتا ہے اور باقی دن ان کی داد و تحسین میں تالیا ں بجاتے ہوئے نہیں تھکتا۔


اب سے چوسٹھ (64) برس قبل اسی دن ہمارا ملک آزاد ہوا تھا۔ اس سے قبل پوری ساڑھے تین صدیوں (350 years) تک اس ملک کی شہ رگ پر انگریزی دانت گڑے رہے اور مسلسل اس کا لہو چوستے رہے۔ ان ساڑھے تین صدیوں میں ہمارے بزرگوں کی کئی بڑی اور چھوٹی جماعتوں نے زبردست مزاحمت کی لیکن جنگی و جدلیاتی تکنیک کی کمزوری نے ہمیشہ انھیں شکست سے دوچار کیا۔ محدود تعلیم اور زمانے نے ان کا جغرافیہ صرف خشکی تک محدود رکھا تھا جبکہ دشمن خشکی، آبی اور ہوائی وسائل کا بھرپور استعمال کرنے کی صلاحیت اور تکنیک سے لیس تھا اس لیے رہ رہ کر وہ حاوی ہوتا رہا۔ انجام کار ابتدائی مزاحمتوں کو اس عیار دشمن نے ناکام بغاوتوں کا عنوان دے کر تحریکِ آزادی کے باب سے اٹھا کر الگ کردیا۔ اسی میڈیا کے حوالے سے ہم سب بھی ابتدائی جنگِ آزادی کو بغاوت ہی سمجھتے آئے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بعد میں ہمارے ’’کالے انگریزوں‘‘ نے بھی اپنے گورے آقاؤں سے پوری وفاداری کا ثبوت دیتے ہوئے اسے میڈیا سے حاصل کرکے نصابی کتابوں میں ایسے ہی رکھ دیا۔ اس کا سبب شاید یہ ہے کہ تین سو سال کی اس مزاحمت میں چند ایک واقعات ہی استثنائی ہیں وگرنہ کلی طور پر یہ ’’بغاوتیں‘‘ مسلمانوں سے عبارت ہیں۔ اگر یہ بغاوتیں ہی تسلیم کی جائیں تب بھی ان میں موجود حرارتِ حریت کو کیوں محسوس نہیں کیا جاتا۔ یہ حرارت انگریزی استبداد کے خلاف ہی تو تھی۔ وہ انگریزی استبداد جو عام ہندوستانیوں کی گھریلو اور چھوٹی موٹی صنعتوں کا گلا دبائے جارہا تھا، ان کی روزمرہ کی معیشت کو کچلے جارہا تھا، ان کی زمینوں اور دوسری املاک پر لگان کی صورت میں تیزاب چھڑک رہا تھا۔ کیوں ہم سب تین صدیوں کے بعد چلائی جانے والی (مصنوعی) صرف کانگریسی تحریک کو ہی آزادی کی تحریک مانتے چلے آرہے ہیں؟
The Lahore Train 1947
 کیا گاندھی جی کے فلسفۂ عدم تشدد سے یہ مسلح انگریز اتنے خوفزدہ ہو چکے تھے کہ وہ شکست کھا کر چل دئیے؟ نہیں حقائق کچھ اور ہیں اور گاندھی جی اینڈ کمپنی کو انگریزوں نے جس طرح عام ہندوستانیوں کو جل دینے کے لیے خوبی کے ساتھ استعمال کیا وہ ایک تحقیق طلب موضوع ہے۔ تاریخ کے اوراق میں اس کے بڑے شواہد مل جائیں گے۔ اس موضوع کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر ۱۹۳۵؁ء میں دوسری عالمی جنگ نہ چھڑی ہوتی اور اس میں برطانوی فوجوں کی اضافی کمک کی ضرورت نہیں ہوتی تو انگریز ہندوستان کو کبھی نہیں چھوڑتے۔ وہ خود کو بھگوڑا ثابت نہیں کرنا چاہتے تھے اس لیے گاندھی جی اینڈ کمپنی کو سامنے کرکے بڑی خوبیوں اور چالبازیوں کے ساتھ ان برسوں میں استعمال کیا اور ساتھ ہی ساتھ ہندوستانیوں کے دلوں کو مذہبی تعصب سے بھر دیا، نتیجہ کے طور پر ہندوستانی پچھڑی، نچلی، اور مذہبی ذات برادریوں میں وسیع پیمانے پر انھی کے دور میں تقسیم ہو گئے۔ یہ تقسیم ہنوز قائم ہی نہیں ہے بلکہ مزید مستحکم ہوتی جارہی ہے۔ یہ کام بھی وہی کالے انگریز کیے جارہے ہیں جن کا شیوہ ہے ایک دن انگریزوں کو گالی دینا اور باقی دن تالیاں بجانا۔ جاتے جاتے ان انگریزوں نے یہ تک کیا کہ ہم سگے بھائی بہنوں کو ایک دوسرے سے اس قدر متنفر کردیا کہ ان کے درمیان ایک جغرافیائی لکیر کھینچ گئے اور اس لکیر نے طرفین کو ایک دوسرے کا بے ثمر اور بانجھ دشمن بنا کر رکھ دیا۔ دونوں جانب اقتدار پر قابض ہونے والے افراد یا جماعتیں اس دشمنی کو موقع بے موقع بساطِ سیاست پر پیدل کی مانند خانے کے آگے اور پیچھے چلتے رہتے ہیں۔


Only 14 years later our so called freedom fighters
were seen welcoming the cruel English Queen! Where the
hatred towards English rulers rested? Astonishing
انگریزوں نے اس ملک کے ساتھ اور اس کی عوام کی نفسیات کے ساتھ کتنا اور کیسا گھناونا کھلواڑ کیا ہے اس کے لیے ایک چھوٹا سا مضمون ناکافی ہے۔  چند اشارے شاید تشفی کا سبب ہو سکتے ہیں اس لیے رقم کرتے ہیں۔ آپ اور ہم انگریزوں کی تعمیرکردہ جتنی بھی عمارتیں دیکھیں تو وہ انجینئرنگ کا ایک اعلیٰ نمونہ نظر آتی ہیں۔ یہ سبھی عمارتیں ’’ نوآبادیاتی کام کاج‘‘ کے لیے تعمیر کردہ ہیں۔ عوام کے فائدے یا تفریح کے لیے نہیں تھیں۔ اگر ہم اس دور کی مناسبت سے غور کریں تو یہ عمارتیں ہندوستانیوں کے مقابلے میں کسی قلعہ کی مانند تھیں۔ اس قلعہ کی تعمیر میں دماغ اور تکنیک انگریزوں کی تھی مگر مزدور اور خون بہانے والے نیز اس کی محافظت اور چوکیداری پر مامور لوگ ہمارے ہندوستانی عوام ہی تھے۔ یہ انگریز اتنے عیار تھے کہ تین سو برسوں سے زیادہ کی حکومت کے باوجود ہندوستانیوں کو جدید تعلیم و تکنیک سے آراستہ کرنے کی سہولیات یہاں نہیں رکھی تھی۔ ایک بھی کالج اس عرصہ میں انگریزوں نے ایسا تعمیر نہیں کیا جہاں عام ہندوستانیوں کو جدید تکنیک اور فنون سے آراستہ کرنے کی تربیت دی جاتی۔ ارے ایک بات بے موقع یاد آگئی کہ اومابھارتی میڈم نے کہا تھا کہ ’’بابری مسجد کلنک کا ٹیکہ تھی، اسے دیکھ کر غلامی کی یاد آتی تھی‘‘ ؛ اومامیڈم سے یہ ضرور پوچھنا چاہیے کہ آپ کو پارلیمنٹ ہاؤس، راشٹرپتی بھون، گیٹ وے آف انڈیا، انڈیا گیٹ، (نام کی تبدیلی کے باوجود) وی ٹی اسٹیشن، پرنس آف چارلس میوزیم اور اس طرح کی عمارتیں دیکھ کر کبھی کچھ یاد نہیں آتا۔
میڈیکل کالجوں اوراسپتالوں کی بنیاد بھی اپنے سپاہیوں اور انگریزی عملہ کی بہتری کے لیے اس وقت کی گئیں جب ایلوپیتھک دوائیں آنے لگیں اور بڑی چالاکی کے ساتھ سبھی ہندوستانی طبوں کا گلا کاٹ دیا گیا۔ انگریزوں کی روانگی کے وقت تک (غیر منقسم) ہندوستان میں کل ملا کر ۱۲۰۰ اسپتال اور ڈسپنسریاں تھیں۔ اوسطاً ۳۳۰ مربع میل کے لیے ایک اسپتال تھا۔
بیوروکریسی میں بابووں کی پیدائش بھی اسی سازش کا ایک حصہ ہے۔  ایڈمنسٹریشن والوں کو ہر میڈیا آج بھی ’’بابو لوگ‘‘ کہتا ہے اور بابو نگری کو Babudom، یہ برطانوی اثرات ہی کا ثمرہ ہے۔ یہ بابو لوگ آج تک اسی تعلیم کے زیرِ اثر کام کرتے ہیں جو انگریزوں نے جاری کی تھی۔ ہماری پارلیمنٹ کے سارے کام کاج اور اس کے انتخابات کا پورا نظام آج بھی اسی ڈگر پر چل رہا ہے جوانگریزوں کا پردان کیا ہوا ہے۔ عدالتی کارروائیاں بھی آج تک انھی اداکار و مستعار خطوط پر گامزن ہیں جو انگریزوں نے مرتب کیے تھے اور اس میں کتنے چھید موجود ہیں یہ تو ایک معمولی سا ہندوستانی بھی دیکھ لیتا ہے۔ انتظامی امور میں ہندوستانیوں کو شامل کرنے کے لیے انگریزوں نے انھیں ٹیبل اور کرسیاں عنایت کر دیں۔ انھیں بابو کا لقب عطا کیا۔ انھیں مخصوص انداز میں تعلیم دی اور ان کے ذہنوں میں سپریمسی  Supremacy کا احساس بھر دیا۔ اس طویل سازش کے لیے حوالے کے طور پر لارڈ میکالے کے ’’منٹ: Minute‘‘ فروری ۱۸۳۵؁ء، کا ایک اقتباس پیش کیا جاتا ہے جو ایک Hidden Agenda  ہے  اور تعلیمی اصلاحات کے نام سے دانستہ چالاکی کا مظہر ہے۔
Macaulay`s clarification: "We must do our best to form a class who may be interpreters between us and the millions whom we govern, a class of persons Indian in blood and color, but English in taste, in opinions, words and intellect."
 یہ اصل میں غلامی پسند طبیعت والے سماج کے اونچے طبقے (جنھیں انگریزی آفس کا پیون کہنا زیادہ مناسب لگتا ہے) کے لیے انگریزوں کی بہتر (غیرمزاحم) غلامی کا ہتھیار تھا جسے وہ باعزت منصب سمجھ کر انگریزوں کے ساتھ ہورہے۔ لارڈ میکالے نے خود اخیر سطروں میں انھیں ’’کالے انگریز‘‘ بنا دیا ہے۔


Even after only 60 years we show the similar
passion and preference as in pre-independance
towards the Enemy and Cruel English Rulers
انگریزوں کی غلامی کا ایک اور بڑا مظہر ہم ہندوستانیوں کی اپنے قومی کھیل یعنی ’’ہاکی‘‘ سے دور ہوجانا ہے اور ان کے کھیل ’’کرکٹ‘‘ پر دل و جان سے فدا ہوجانا ہے۔ آج ہاکی کا حال ہماری اپنی (اصلی ہندوستانی) زبان ’’اردو‘‘ سے بھی زیادہ پراگندہ اور ناقابلِ رفو ہو چکا ہے۔ اسی کے مانند اور بہت سی ہندوستانی قدروں اور فنون کا حال بھی برا ہوتا جارہا ہے اور مغربیت خصوصاً انگریزیت ہمارے تن بدن اور اعصاب و دماغ پر حاوی ہے۔ یہ انگریزیت کسی قدر امریکیت سے بھی مزین ہوتی جارہی ہے۔
جہاں تک ایک دن گالی اور باقی دن تالی والا معاملہ ہے اس کی ایک اور  مثال اکثر اپنا مکھڑا دکھاتی رہتی ہے۔وہ ہے برطانوی مہمانوں کے ساتھ ہمارا حسنِ سلوک۔ کوئی معمولی سا انگلستانی نمائندہ بھی حکومت کا مہمان ہو جائے تو اس کی آؤ بھگت میں شاہانہ انداز اختیار کیا جاتا ہے۔ اس سے ہنس ہنس کر ملا جاتا ہے، مسکراتے ہوئے تصویریں کھنچوائی جاتی ہیں گویا بڑے کرم فرما سے ملاقات ہوتی ہے اور پورے اہتمام کے ساتھ انھیں میڈیا کے ذریعہ نشر و اشاعت کے مراحل سے بھی گذارا جاتا ہے۔ اگر برطانوی شاہزادہ یا ملکہ قدم رنجہ فرمادیں تو مت پوچھیے کہ ہم غلامانِ انگریز ابھی تک ان کے لیے کیسے سرخ قالین بچھانے میں سر پر پیر رکھ لیتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے پڑوسی ملک کے نمائندوں کے ساتھ تصویریں بالکل معاندانہ انداز میں ہی کھنچوائی جاتی ہیں، ان کے چہرے کا تاثر بھی من و عن ویسا ہی رہتا ہے جیسے اکھاڑے کے پہلوان آنکھیں ملاتے ہیں۔ جبکہ ہر دو جانب کسی نہ کسی درجہ میں خون کا رشتہ بنتا ہے۔


Our Sports, Art and Cultural people
They too abuse the English Rulers in general population
but try to be loyal when in The English Royal company
ایسی ہی اور جانے کتنی باتیں ہیں جو ’’گاہے گاہے بازخواں...‘‘ کی مانند سامنے آتی ہیں۔ ہم نئے ہندوستانیوں نے تحریکاتِ آزادی کا ساڑھے تین سو برسوں پر محیط خونبار اور پرآشوب دور نہ کبھی دیکھا ہے اور نہ اس کی حرارت ہی محسوس کی ہے ۔ لیکن اس روایت کو ضرور سنبھالے ہوئے چل رہے ہیں کہ انگریزوں کو سال کے ایک دن تو ضرور گالی دیجیے لیکن باقی دن ان کی داد و تحسین میں تالیاں بجا کر ’’آزادغلام‘‘ کا احساس دلا دیا کریں

Mr. Jinnah was also a loyal fellow of
the Britishers. This is the proof. TOI 15th Aug. 1947 front page