To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Wednesday, October 12, 2011

We Salute Your Justice Your Honour
Justice Markandey Katju and PCI

Dr. Rehan Ansari
دہلی بم دھماکوں (7th Sept 2011) کے بعد اپنی کہنہ عادت کے مطابق قومی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا National Media نے شک کی سوئی کو نام نہاد اور جعلی مسلم تنظیم کی جانب موڑنے کی ناپاک سازش کی تھی۔ اﷲ کا شکر ہے کہ ان کو منہ کی کھانی پڑی۔جان لیوا اور نقصاندہ بم دھماکے پہلے بھی ہرلحاظ سے قابلِ مذمت تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔ ہمیں بہت افسوس ہے کہ ان کی تحقیق ابھی تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی ہے۔


The 'Urdu-Dareecha' image
of 8th Sept. 2011
قومی میڈیا کی نعزش پر ’اردودریچہ‘ کے میڈیم سے ہم نے فوری احتجاج اور ردّعمل ظاہر کرکے ’پریس کونسل آف انڈیا‘ Press Council of India : PCI کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی؛ (دیکھیے اردودریچہ، 8th Sept، جمعرات کی پوسٹنگ)۔ ہمیں بیحد مسرت ہوئی جب آج (12th October) کے ’انقلاب‘ (ممبئی اور دیگر ایڈیشن) ، راشٹریہ سہارا اردو، صحافت جیسے موقر روزناموں میں یو این آئی کی جانب سے جاری کردہ ریلیز دیکھی۔ پریس کونسل آف انڈیا کے صدر محترم جسٹس مارکنڈے کاٹجو Justice Markandey Katju کا بیان پڑھا اور انھوں نے اقدام کرتے ہوئے تمام میڈیا کے ذمہ داران کو شرم کا احساس دلاتے ہوئے تنبیہ کی کہ آئندہ ایسے حالات و معاملات میں سنسنی خیزی اور الزام تراشی سے احتیاط برتیں۔


The responsible
Urdu Media
carried the message
of today 12th October
محترم جسٹس کاٹجو صاحب! آج آپ کے بیان سے ہمارا خون منوں بڑھ گیا ہے، آپ سے اسے بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ آپ ہی جیسے مہان لوگ ہندوستان کے سیکولر فیبرک کی آبرو ہیں، بھارت ماتا کے سر کا آنچل سجانے کے قابل آپ جیسے ہی لوگ ہیں۔ آپ لوگوں کو بصد خلوص سلام و احترام ۔
لیکن ایک بات کھٹکی ضرور...!
کھٹکی یہ بات کہ پریس کونسل آف انڈیا کی گرفت اخباروں اور میڈیا پر ہوتی ہے ، وہی اصول و ہدایات مرتب کیے جاتے ہیں... اس کے صدر کی اتنی اہم اور ہندوستان کے سیکولر امیج کا تحفظ کرنے والی اس بات کو قومی میڈیا نے کیسے یکسر نظر انداز کر دیا!
آج ہم نے صبح کو ہی بیشتر غیر اردو اخبارات اور خصوصیت کے ساتھ انگریزی اخبارات میں مذکورہ خبر و بیان تلاش کرنے کی سعی کی۔ آدھ گھنٹے سے زیادہ کی ورق گردانی کے باوجود ہمیں بہت افسوس ہوا کہ پریس کونسل آف انڈیا کے صدر کی پریس کانفرنس؛ جس میں رپورٹ کے مطابق درجنوں اخبارات کے مدیر اور ٹی وی چینلوں کے ذمہ داران موجود تھے، کی روداد شائع کرنے سے احتراز کیا (بلکہ اعتراض کیا، شاید؟)۔ خیر۔ بقول ’جس کا درد ہے وہی محسوس کرتا ہے‘ کے مصداق اردو اخبارات نے پورے اعزاز و اکرام و اہتمام کے ساتھ محترم جسٹس کاٹجو کی گفتگو کو شایع کیا۔
انگریزی و دیگر لسانی میڈیا میں جسٹس کاٹجو کا بیان شائع نہ کرنے اور ٹی وی والوں کی بھی سنی ان سنی کرنے کی عادت کی مصلحتیں وہی جانیں؛ ہمیں تو محسوس ہوا کہ انھیں محض اپنی لنگوٹی بچا کر بھاگنے میں ہی عافیت نظر آئی۔ پھر بھی ہمیں یقین ہے کہ پریس کونسل آف انڈیا اپنے محترم صدر کے بیان اور اپیل کو پوری قوت اور اثرانگیزی کے ساتھ زیرِ عمل لائے گی۔ ایک بار پھر شکریہ۔ ’کہیں سے روشنی لاؤ بہت اندھیرا ہے‘۔ جاگتے رہیے۔ جے ہند.

Tuesday, October 11, 2011

We are very thankful to you Jagjit
Dr. Rehan Ansari

غزل کو اِک نیا آہنگ دے کر چل دیا جگجیت

غزل ہے منتظر کوئی ملے پھر اُن کے جیسا میت

شکریہ جگجیت بیحد شکریہ جگجیت!
کل (۱۰اکتوبر کو) جگجیت سنگھ کی موت کی خبر آئی۔ یوں تو برصغیر کی پوری سنگیت برادری میں ایک سوگ کی کیفیت چھا گئی؛ لیکن غزل گائیکی کے مداحان کو یقینا درست محسوس ہوا کہ ایک دور کا خاتمہ ہوگیا۔ کیونکہ ایک طویل فہرستِ مغنّیان میں صرف جگجیت سنگھ ہی ایک نام ایسا رہ گیا تھا جس کی حرارت مارکیٹ میں کم نہیں ہوئی تھی۔
موت کی خبر پھیلتے ہی صحافتی حلقوں میں روایتی طور پر سوگواری سرگرمی شروع ہوگئی۔ عوام و خواص سے ان کے تاثرات جاننے کا سلسلہ جاری کیا گیا۔ انھیں جگجیت کا کون سا نغمہ یا غزل سب سے زیادہ پسند ہے اس کی معلومات جمع کی جانے لگی۔ جبکہ یہی میڈیا جگجیت کے ۲۳ستمبر کو برین ہیمریج کے بعد اسپتال میں داخلے کی خبر تو دی لیکن اس کے بعد ایک دن سے زیادہ فالواَپ شاید ہی کسی نے کیا۔ ان کی صحت کا بلیٹن حاصل کرنے کے لیے لیلاوتی اسپتال میں صحافیوں کی بھیڑ نہیں لگی کسی دن!۔ دو ہفتوں سے زیادہ اسپتال میں گذرے مگر ان کی صحت کے تعلق سے ہمارے میڈیا میں سناٹا رہا۔ خیر ہمیں اس کا کوئی قلق اس لیے نہیں ہے کہ ہمارے یہاں میڈیا کی ترجیحات اور اس کی اخلاقیات بالکل تبدیل ہو چکی ہیں۔
البتہ ہم سوچنے لگے کہ یہی میڈیا جب ہم سے سوال کرتا کہ جگجیت سنگھ کے اس نغمہ کی نشاندہی کریں جس نے ہمیں سب سے زیادہ متاثر اور راغب کیا تو ہمارا جواب ہوگا کہ ایک ایسا نغمہ جس میں جگجیت سنگھ کی آواز تو نہیں ہے مگر میوزک کمپوزیشن انہی کا ہے اور ہمارا بچپن سے مرغوب نغمہ ہے علامہ اقبال کی تحریرکردہ ’بچے کی دعا‘ یعنی ’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘۔ وگرنہ جگجیت سنگھ کی گائی ہوئی ہزاروں غزلوں اور سیکڑوں نغموں میں ریٹنگ کرکے انھیں مرتب کرنے میں ہم شاید انصاف نہیں کرسکیں گے۔ ہم جگجیت سنگھ کی زندگی میں بھی ان کے شکرگذار تھے اور موت کے بعد بھی ان کا شکریہ اداکرتے ہیں کہ انھوں نے ’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘ کی کمپوزیشن کرکے اس نغمہ کو اردوداں حلقوں سے بھی دور دوسری زبان والوں میں بھی مقبول ترین نغمہ بنا دیا۔ یہیں ہم ہندوستانی تنظیم برائے طفلاں CRY (چائلڈ رائٹس اینڈ یو) کے بھی شکرگذار ہیں کہ اس نے اس نغمہ کو اپنے اشتہاری و امدادی آڈیو پروگرام کے لیے منتخب کیا تھا اور سیزا روئے (Siza Roy) نے اپنی متاثرکن آواز میں پیش کیا۔ ایک مرتبہ ممبئی کے نہروسینٹر کے پروگرام میں گرین روم میں جگجیت سے ملاقات ہوئی تھی تو یہی بات ہم نے ان سے بھی کی تھی اور انھوں نے ہمیں مسکراکر شاباشی بھی دی تھی۔
جگجیت سنگھ میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ ان سے دل کو ایک سلسلہ سا لگتا ہے؟ جب ہم نے خود کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ صرف ’اردو‘ ہی ایک ایسی شئے ہے جو اس قربت کا احساس دلاتی ہے۔ جگجیت سنگھ نے یوں تو موسیقی کی دنیا میں رہ کر گیت، نغمے، بھجن اور دوسری ہندوستانی زبانوں میں بھی اپنا فن پیش کیا مگر ان کی موت کے بعد خبر کے ساتھ ہر زبان میں یہی لکھا ملا ’غزل گایک جگجیت سنگھ‘ گذر گئے۔ اور دنیا میں کون نہیں جانتا کہ غزل کو جب ہندوستانی جانب منسوب کیا جاتا ہے تو یہ صرف اردو زبان کی دین ہے۔
جگجیت سنگھ نے تقریباً تین دہائیوں تک غزل کے حوالے سے اپنا فن پیش کیا اور ایک ایسے دورمیں پیش کیا جب ہندوستان میں ہندوستانی موسیقی کا دورِ ابتلا تھا، مغربی موسیقی نوجوان نسلوں کو اپنے جال میں اسیر کر چکی تھی۔ پھر غزل گائیکی کی دنیا پر پاکستانی فنکاران مہدی حسن اور غلام علی صاحبان کا اجارہ تسلیم کیا جاتا تھا۔ ہندوستان میں بھی کئی نام غزل گائیکی کے لیے مارکیٹ میں چلائے گئے مگر بین الاقوامی طور سے ان کا چراغ پاکستانی فنکاران کے سامنے نہیں جل سکا۔ اس بھیڑ میں جگجیت سنگھ نے نئی نسل کے تبدیل ہوتے رجحان کو بھی پرکھا اورمغربی ساز اور انداز کو ہندوستانی موسیقی سے ہم آہنگ کر کے ایک نئی راہ نکالی۔ مارکیٹنگ کے بدلتے ٹرینڈ کو بھی دیکھا اور بالکل کمرشیل سطح سے اس مہذب صنف یعنی غزل کو مارکیٹ میں یوں لائے کہ اردو تو اردووالے غیر اردوداں طبقہ بھی گیسوئے غزل میں آسودگی محسوس کرنے لگا۔ آڈیوکیسٹوں کو ڈولبی اسٹیریو اور خوبصورت ڈیجیٹل افیکٹ کے ساتھ پیش کرکے ہر طبقے کے نوجوانوں کو لیلائے غزل کی محبت میں گرفتار کروا دیا۔ جگجیت سنگھ نے یہ نئے طور اپنا کر اپنی شناخت ہی نہیں شخصیت کو بھی مستحکم کر دیا۔ اگر مہدی حسن اور غلام علی کو پاکستان میں شہنشاہانِ غزل کہا گیا تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں تھا بالکل ویسے ہی کہ ہندوستانی لہجہ میں جگجیت سنگھ کو ’غزل سمراٹ‘ کہا جاتا رہا ہے۔ معاف کیجیے گا ہم یہاں کوئی موازنہ اور تقابل کرنے نہیں بیٹھے ہیں بلکہ صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ان سبھی کی عزت و ناموس کا پیرہن غزل نے تیار کیا ہے جو اردو زبان کی مہربان ترین صنف ہے۔
جگجیت سنگھ کے تعلق سے یہ بات بھی کافی مشہور ہے کہ وہ دیگر فنکاروں کی مانند صرف فن پروری نہیں کرتے یعنی گلے سے نہیں بلکہ وہ ’دل سے‘ گاتے تھے۔ اس کا ثبوت ہم یوں دے سکتے ہیں کہ ان کی کمپوز کی ہوئی غزلوں اور نغموں کے اندر جو موسیقی بھری جاتی تھی وہ ایک نفسیاتی ٹچ رکھتی تھی۔ بالکل دل میں اترجانے والے غزل کے خوبصورت شعر کی مانند۔ مثالیں بہت ہیں۔ آپ بھی کسی غزل کو سنیں اور خود پرکھیں۔ یہاں ہم دو مثالیں ایسی ضرور دیں گے جو ہماری بات کی تائید کریں گی اور اتفاق سے ان دونوں میں جگجیت کی اپنی آواز نہیں ہے۔ ایک تو محولہ بالا دعا ’لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری‘ اور دوسرا گیت ’لکڑی کی کاٹھی، کاٹھی پہ گھوڑا...‘۔ جب جب یہ نغمے فضا میں پھیلتے ہیں تو ہر سننے والا خود کو ان میں جذب Involve محسوس کرتا ہے۔ شکریہ جگجیت بیحد شکریہ جگجیت.
جگجیت سنگھ نے جب غزلوں کی مارکیٹ میں قدم رکھا تھا تو ایک اور رجحان پنپنے لگا تھا؛ یعنی ڈوئیٹ غزل کا۔ غزل گائیکوں کی جوڑی کا۔ جگجیت سنگھ کی اہلیہ چترا سنگھ ان کے لیے بہترین پارٹنر سنگر ثابت ہوئیں۔ ایک طویل دور تک دونوں کی جوڑی جمی رہی۔ ان کی نقالی میں اور جوڑیاں بھی بنیں لیکن از خود ٹوٹتی بھی رہیں یا محض کاروباری معاہدوں تک جاری رہیں۔ جگجیت اور چترا کی جوڑی کو بھی غزل کے شائقین نے ’دل سے‘ ہی قبول کیا۔ یہ جوڑی ٹوٹی نہیں بلکہ موقوف ہوگئی ان کے بیٹے وویک کی سانحاتی موت کے بعد۔ چترا سنگھ کنارہ کش ہو گئیں۔ مگر جب تک انھوں نے جگجیت کے ساتھ گایا تو ان کی غزلیں درونِ خانہ بھی انہماک حاصل کرتی تھیں۔ وہ دور ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کی گلف کے روزگار میں رغبت کا دور بھی تھا۔ پردیس کے موضوع پر دل کی باتیں کہنے اور سننے والوں کو جگجیت کی گائی ہوئی غزلوں سے زیادہ کسی دوسرے وسیلے کی ضرورت نہیں تھی۔پردہ کا پردہ ہوتا تھا اور بات کی بات۔ جگجیت سنگھ نے ہر کلام کو اس کے وقار اور تہذیب کی شناخت کے بعد ہی منتخب کیا۔ پھوہڑ اور بازاری انداز کے کلام کو کبھی انھوں نے گھاس نہیں ڈالی۔ انھوں نے اردو کے کلاسیکی ادب سے بھی کلام منتخب کیے اور تازہ لہجہ کی جدید شاعری کو بھی اٹھایا۔ وہ لفظ و شعر سے بہت شناسا تھے۔ کلام کی گہرائی و گیرائی ہی نہیں اس کی اپیل کا دائرہ بھی جانتے تھے۔ اسی سبب انھیں وہ آڈینس ملی جو سماج کے ہر طبقہ میں موجود ہے۔ ایک معمولی سا کام کرنے والا عام شخص ہو یا کسی مسند اعلیٰ پر براجمان کوئی وی وی آئی پی۔ موسیقی کے تعلق سے بالکل کورا فرد ہو یا سنگیت کا کوئی گیانی ہو۔ جگجیت سنگھ اپنے میدان میں سب کی اوّلین پسند بنتے گئے۔ جگجیت سنگھ نے پیچیدہ سے پیچیدہ راگ کو بالکل سلیس انداز سے گاکر کچھ یوںپیش کیا کہ عام لوگوں کو انھیں گنگنانے کی عادت سی ہوگئی تھی۔ ان کی آواز میں گرج تھی لیکن اس پر حلاوت حاوی تھی۔ ان کی غزلیں خلوت اور جلوت دونوں میں یکساں مزہ دیتی ہیں۔ ایسا کم ہی مغنیوں کے بارے میں کہا جاسکتا ہے.

Saturday, October 8, 2011

Hemiplegia : Cerebral Stroke

Dr. Rehan Ansari
لقوہ یا فالج جتنی عام حالت ہے ہمارے سماج میں اس کے سلسلے میں اسی قدر تجاہل بھی پایا جاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے ’ہوا میں آگیا‘ کوئی کہتا ہے سردی لگ گئی‘ کسی کا گمان ہے مریض کے اوپر سے سانپ گذر گیا، اردھنگ ہو گیا ہے، اور نہ جانے کیا کیا!... پھر اس کا علاج مالش اور کبھی کبھار جنگلی کبوتر کے خون سے مالش وغیرہ سے کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے... لیکن ہمارا تجربہ ایسا ہے کہ بہت کم لوگ ڈاکٹروں یا اطباء کی اس بات کو فی الفور تسلیم کرتے ہیں کہ یہ چند کہنہ تکالیف کو مسلسل اور طویل عرصہ تک نظرانداز کر تے رہنے کا انجام ہے۔ ان تکلیفوں میں سب سے عام ہے ’’ہائی بلڈ پریشر‘‘ High Blood Pressure۔ فالج یا لقوہ اصل میں پہلے سے موجود چند امراض کی پیچیدگی کی شکل ہے۔ اس میں جسم کا دایاں یا بایاں کوئی بھی نصف حصہ بے قوت ہو جاتا ہے اور اسی لیے متاثرہ جانب کے پٹھے (عضلات) اپنا فعل انجام نہیں دے سکتے۔ ان میں قوت باقی نہیں رہ جاتی۔ لفظ لقوہ شاید عربی کے ’لاقوّۃ‘ کی اردو میں مستعمل شکل ہے۔ مالش وغیرہ کا معاملہ اصل میں قدیم طبی تدابیر میں نظر آتا ہے۔ چونکہ قدیم دور میں تحقیقی وسایل نہیں تھے اس لیے دماغ کے متعلق زیادہ تفصیلی معلومات نہیں تھیں۔ اُس وقت یہ قیاس کیا جاتا تھا کہ یہ مقامی طور پر بدن کے عضلات کا ڈھیلا پن ہے، ان کے خون کی سپلائی متاثر ہوئی ہے اس لیے دَلک (مالش) کے ذریعہ رگوں کو کھولا جائے۔ اسٹروک کے عارضہ کو بھی اُن کتابوں میں استرخائے عضلات (پٹھوں کا ڈھیلا ہو جانا) لکھا گیا ہے۔ جدید تحقیقات، جن میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی کا بڑا رول ہے، نے اسٹروک کی اصل کیفیت کو اظہر من الشمس کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں اب قیاسات کے لیے جگہ نہیں رہ گئی ہے۔ لقوہ کے تعلق سے یہ بات صاف ہو چکی ہے کہ اس میں ہاتھ پیروں کے عضلات میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے نہ نیچے کے اعصاب ہی متاثر ہوتے ہیں. بلکہ سارا معاملہ دماغ کے اندر پیش آتا ہے.


Cerebro-Vascular-Accident : Stroke
تعارف Introduction
طبی زبان میں لقوہ کو اسٹروک یا سیریبرو ویسکولر ایکسیڈنٹ (CVA) اور ہیمی پلیجیا Hemiplegia بھی کہتے ہیں۔ جدید دور میں ایک نئی اصطلاح بھی استعمال ہوتی ہے یعنی ’’برین اٹیک‘‘ Brain Attack [جیسے ہارٹ اٹیک؛ کیونکہ دونوں کی نوعیت ایک ہی ہے]۔ اس کی تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ دماغ کے بڑے حصوں کو خون کی سپلائی کرنے والی شریان (رگ/ Artery) کو مڈل سیریبرل آرٹری (MCA)کہتے ہیں۔ اُس کے اچانک مسدود ہو جانے یا پھٹ جانے کی وجہ سے دماغ کا متعلقہ حصہ خون کی سپلائی سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کا تغذیہ متاثر ہو جاتا ہے۔ اسی سبب وہ حصہ مردہ ہو جاتا ہے اور وہاں موجود تمام مراکزِ افعالِ بدن بھی تباہ اور ختم ہو جاتے ہیں۔ پھر جسم کے افعال پر سے دماغ کا کنٹرول اٹھ جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ایک جانب جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔ دماغ کی دائیں جانب کی شریان MCA اگر پھٹ جائے یا مسدود ہو جائے تو بائیں جانب کا جسم مفلوج ہوتا ہے اور اگر بائیں جانب کی شریان متاثر ہو تو دائیں جانب کا جسم مفلوج ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ دماغ سے نکلنے والی نسیں اور ریشے دماغ کے نچلے حصے میں ایک دوسرے کو قطع کرتے ہوئے سائیڈ تبدیل کرلیتے ہیں۔ دائیں حصے والے ریشے بائیں جانب جاتے ہیں اور بائیں جانب والے دائیں جانب کو۔ البتہ چہرے پر اسی جانب اثر ہوتا ہے جس جانب کی شریان متاثر ہوتی ہے کیونکہ چہرے پر آنے والے عصبی ریشے قطع سے پہلے ہی نکلتے ہیں۔ اسٹروک ایک طبی ایمرجنسی ہے۔ اگر مریض کی فوری اور بروقت طبی امداد نہ کی جائے تو اس کے ساتھ عصبی تکالیف تا حیات لگی رہ جاتی ہیں۔کبھی کبھار شدید حملہ میں مریض فوت بھی ہو جاتا ہے۔مردوں میں عورتوں کی نسبت فالج تین گنا زیادہ ملتا ہے اور عموماً پچاس برس سے زیادہ کی عمر کے لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ عام طور پر ستّر اور اسّی سال کی عمر والوں میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔


اسباب Causes
جیسا کہ اوپر تمہیدی سطروں میں لکھا گیا ہے کہ سب سے زیادہ کیس ہائی بلڈپریشر کا علاج نہ کرنے یا ناقص انداز میں کرنے سے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے کیس میں طویل عمر، ذیابیطس، سگریٹ نوشی، ہائی کولیسٹرول، آدھے سر کا درد (شقیقہ /مائیگرین) Migraine، اور رگوں میں خون کے جم جانے سے بھی ایسا ہوتا ہے۔
علامات Signs and Symptoms
فالج کی علامات بہت تیزی کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں یعنی محض چند سیکنڈوں یا منٹوں میں۔ علامات کا پھیلاؤ اور شدت اس بات پر منحصر ہے کہ شریان کا کتنا اور کون سا حصہ ؛ پھر وہ بھی کس درجہ میں متاثر ہے۔ اسی لیے ہر مریض میں علامات کم یا بیش ہو سکتی ہیں۔
لقوہ اپنی وجوہات کی بنا پر دو قسم کا ہوتا ہے۔ اوّل یہ کہ دماغ کی شریان میں کسی وجہ سے سدّہ (رکاوٹ) Obstruction پیدا ہو جائے جیسے خون کا چھوٹا سا لوتھڑا (Thrombus) جم جائے یا ایسا ہی منجمد خون Clot یا ہوا کا بلبلہ یا چربی کا ٹکڑا یا کینسر کے خلیات وغیرہ خون کے ساتھ گردش میں آ جائیں (Embolus)یا پھر خون میں کسی وجہ سے آکسیجن کی مقدار ِ شمولیت کم ہوتی ہو، تو فالج واقع ہوتا ہے؛ اور دوم یہ کہ دماغ کی شریان کسی سبب پھٹ جائے اور خون اس سے باہر نکل آئے اور راستہ مسدود کردے۔
انہی اسباب کے پیشِ نظر لقوہ کے مریضوں میں وقت اور نشانیاں مختلف ملتی ہیں۔ لیکن عموماً ایک جانب کے عضلاتِ بدن بالکل ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور ان میں قوت نہیں ملتی، مریض کو جھنجھناہٹ کا احساس رہتا ہے ۔ دماغ سے نکلنے والے اعصاب کے افعال بھی متاثر ہوتے ہیں جن کی وجہ سے سونگھنے، سماعت، ذائقہ اور دیکھنے میں مریض کو تکلیف ہونے لگتی ہے، آنکھیں کھولنے اور بات کرنے یا نگلنے کا عمل متاثر ہو جاتا ہے، ایک جانب چہرے کے عضلات لٹک جاتے ہیں، مریض اپنے طور پر روزانہ کے معمولات انجام نہیں دے سکتا اور خود سے کھڑا نہیں ہو سکتا، گردن نہیں گھما سکتا، اسی قسم کی کئی اور اعصابی علامات پائی جاتی ہیں اور اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ مریض بے ہوش و حواس ہو جاتا ہے۔

The Actual Causes of CVA


تفتیشی ٹیسٹ  Investigations
گو کہ اسٹروک کی جانچ کلّی طور پر معالج کے اپنے مشاہدے اور معائنہ پر مبنی ہے لیکن اسباب کی تحقیق و تفتیش کے لیے عکاسی کی مدد لی جاتی ہے اور اس میں سب سے اہم ذرائع سی ٹی اسکین، سی ٹی اینجیوگرافی اور ایم آر آئی ہیں۔ دماغی شریانوں کی جانکاری حاصل کرنے کے لیے ڈاپلرالٹراسونوگرافی بھی کروائی جاتی ہے۔ دل کے امراض کی بھی تحقیق لازمی ہوتی ہے اس لیے مریض کا الیکٹروکارڈیوگرام بھی نکالا جاتا ہے۔
علاج Treatment
جس قدر جلد ممکن ہو اسٹروک کی تشخیص کے ساتھ ہی علاج شروع کرنا مریض کے لیے اچھا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے مریض کی علامات کو کم سے کم کرنے کی تدبیر و امداد کی جاتی ہے۔ ان تدابیر کی بنیادی فکر یہ ہوتی ہے کہ مریض نفسیاتی اور سماجی طور سے خود کو ایڈجسٹ کر سکے۔ اسٹروک کے سبب کی تفتیش ہوتے ہی اس کے ازالے کی تدابیر اختیار کی جائیں۔ جمے ہوئے خون کو پتلا کر کے نکالنے کی دوائیں دی جاتی ہیں۔ اگر خون رگوں سے خارج ہوا ہے تو مشینی جراحتی عمل (نیوروسرجری) Neurosurgery کے ذریعہ اس کو نکالنے کی تدبیر کی جاتی ہے۔
جب مریض کسی قابل ہوجاتا ہے تو اس کے لیے مشقی ورزشیں (فزیوتھیراپی) سکھائی جاتی ہیں جن پر مریض کی تیمارداری پر مامور فرد یا افراد کو زیادہ دھیان دینا پڑتا ہے۔ نگلنے، بولنے، کھڑا رہنے اور چلنے نیز دوسرے امور انجام دینے کی روزانہ مشق کروائی جاتی ہے۔
انجام Prognosis
لقوہ کا مریض جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور سماجی طور سے متاثر ہوتا ہے۔ پورے عرصہ میں چوکنّا رہ کر علاج کے باوجود وہ مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہوپاتا۔ اس میں کوئی نہ کوئی معذوری موجود رہ جاتی ہے۔ بہت زیادہ دور تک بھی جو صحتیاب ہوتا ہے تو ۹۰فیصدی تک نارمل ہو پاتا ہے۔ مریض کو ہر ایسے قدم سے بچنا چاہیے جو آئندہ اسے دوبارہ اس حالت تک لا سکتا ہے؛ یعنی رِسک فیکٹر سے بچاؤ۔ اپنے طبی مشیر (ڈاکٹر) کی نگرانی میں اپنے بلڈپریشر کو نارمل رکھنے کی کوشش کرتا رہے، ذیابیطس کا چیک اپ اور کنٹرول رکھے، دل کے امراض کے علاج سے بے پروا نہ ہو، تمباکو نوشی یا تمباکوخوری، شراب نوشی، بسیار خوری وغیرہ سے گریز کرے.