To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Thursday, October 20, 2011

Hisson wali Qurbani: What's it
Dr. Rehan Ansari
عید الاضحی کے آتے ہی مسلمانوں کے اکثر اداروں کی جانب سے ’حصوں والی قربانی‘ کے تعلق سے اشتہارات اور پوسٹر لگنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اخبار کے کلاسیفائڈ کالم ان اشتہارات کی خصوصی سائٹ ہوتی ہیں۔ پھر شہر بھر میں مسلمانوں کی اکثریت والے مقامات پر بینر اور پوسٹر کے علاوہ نجی ملاقاتوں سے اس کی ترغیب دی جاتی ہے۔
ان اشتہارات کے مشمولات بھی بڑے متنوع ہوا کرتے ہیں۔ ہمیں ان سے کچھ کلام نہیں۔ یہ کام ابتدا میں چند مدرسوں نے شروع کیا تھا۔ بعد میں (پتہ نہیں کن دینی امور کے تحت) کچھ مساجد کی جانب سے بھی یہ اعلانات اور بینر سامنے آئے۔ پھر ہوا یہ کہ علاقائی مسلم جماعتوں اور تنظیموں نے بھی اسے فائدہ بخش سمجھ کر اس میدان میں کود پڑیں۔ اب سبھی کھال کھینچنے میں لگی ہوئی ہیں۔ یہاں عرضِ مدّعا یہ ہے کہ ہمارے یہاں کے ’جانور بازار‘ میں کوئی بھی ریوڑ کا ریوڑ یکساں قیمت پر فروخت کرنے کا رواج نہیں پایا جاتا۔ نہ اس بابت کبھی سننے کو ملتا ہے۔ اس لیے جو لوگ حصوں والی قربانی میں یکساں ’فی حصہ کچھ سو یا ہزار روپے‘ کا اعلان کرتے ہیں وہ کن بنیادوں پر ایسا کرتے ہیں۔ اس کی کوئی صراحت نہیں کی جاتی۔ ہر جانور کا نرخ اگر الگ الگ ہوتا ہے تو ہر حصہ کا نرخ بھی اسی کے حساب سے تبدیل ہوگا۔ جو لوگ یکساں قیمت فی حصہ کی ادا کرتے ہیں تو کیا شرعی طور پر وہ اپنی ’ادائیگئ    واجب‘ سے سرفراز ہو جاتے ہیں؟


ہم ان سینٹروں پر بھی مشاہدہ کے لیے گئے جہاں حصوں والی قربانی دی جاتی ہے۔ وہاں خریدے گئے جانوروں کو دیکھ کر بڑا افسوس ہوا کہ ناتواں (کبھی کبھی لاغر) اور بھدے نظر آنے والے جانوروں کی بہتات ہوا کرتی ہے۔ حصہ لینے والے اصحاب و خواتین کیا اس بات کے لیے کہ انھیں اچھا، خوبصورت، فربہ جانور دستیاب ہو سکے؛ ایک حصہ کے لیے زیادہ روپے نہیں دینا چاہیں گے؟ مگر صاحب... قربانی کا ذمہ لینے والے لوگ تو جس رقم کا فی حصہ اعلان کر چکے ہیں اس میں اس سے زیادہ بھلا جانور اور کون سا مل سکے گا؟... ہمارا خیال (مشورہ) تو ایسا ہے کہ جانور فراہم کرنے والے سے ریوڑ کا نظم کروا کر پیشگی (بازار کی مانند) باندھ دیا جائے اور سبھی کی علیحدہ علیحدہ قیمتیں لکھ دی جائیں۔ پھر جو جس قیمت والے جانور میں حصہ لینا چاہے اس کی قیمت اس سے (مع قصاب کے معاوضہ کے) لے لی جائے۔ رہی بات اشتہار کے مضمون کی تو اس میں بھی لکھا جا سکتا ہے کہ’’ اپنی پسند کے جانور میں حصہ لیں اور اسی کے مطابق فی حصہ ادائیگی کریں‘‘۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک مشکل کام ضرور ہے۔ یعنی ایک ہی جانور میں حصہ داروں کی تلاش؛ خصوصاً مہنگے جانور میں؛ محنت طلب ہے۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یکساں قیمت فی حصہ والی قربانی میں تو کسی نہ کسی درجہ میں بددیانتی کے در آنے کا احتمال رہے گا۔
یہ سلسلہ اصل میں کافی دراز اور طویل ہوتا چلا ہے اس لیے اس احقر نے اس اہم مسئلہ کی جانب توجہ دلانا اپنا فرض سمجھا ہے۔ براہِ کرم اس باب میں علماء اور اہلِ بصیرت برادرانِ اسلام اپنا خیال ظاہر کریں اور اس ناچیز کی بھی اصلاح فرمائیں.

Tuesday, October 18, 2011

Respected Hajj Pilgrims
Have Patience and
Don't be in Hurry to Recite
"Labbaik-Allahumma-Labbaik"
At the Airports
عازمینِ حج احتیاط کریں!
ہر برس کے تجربے کی روشنی میں یہ بات لکھنا چاہتا ہوں کہ حجاج کے قافلوں کی روانگی کی خبریں اردو اخبارات عموماًااس قسم کی سرخیوں کے ساتھ شائع کرتے ہیں کہ ’’لبیک اللہم لبیک کی گونج میں حاجیوں کا قافلہ روانہ‘‘ یا ’’لبیک کی صداؤں کے درمیان حاجیوں کا قافلہ روانہ‘‘ ؛وغیرہ۔ یہ انتہائی غلط فہمی پیدا کرتا ہے اور عازمینِ حج کے لیے امتحان کا سبب بنتا ہے۔ بعض عازمین احرام کے کپڑوں کو ہی احرام سمجھتے ہیں جبکہ انھیں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ ’’تلبیہ‘‘ یعنی لبیک اللہم لبیک... کا پڑھنا احرام کی ابتدا ہے، یعنی احرام کی پابندیوں پر عمل پیرا ہو جانے کی شروعات۔ اس کے بعد احرام کی از ابتدا تا انتہا جملہ پابندیاں عاید ہو جاتی ہیں۔ یہ بالکل نماز کے لیے وضو کرنے اور نماز کی نیت کر کے اﷲ اکبر کہنے کی مانند معاملہ ہے۔ یعنی آپ نے وضو کیا ہے تو نماز کی پابندیاں فی الوقت عاید نہیں ہو ئی ہیں لیکن قبلہ رو ہوکر آپ نے اﷲ اکبر کہہ دیا تو اب نماز کی جملہ پابندیاں آپ پر لاگو ہو چکی ہیں۔ احرام کا کپڑا پہننے اور لبیک کہنے میں بھی ایسا ہی فرق ہے۔ یہاں مقصودِ تحریر یہ ہے کہ آپ (عازمین) کا سفر شروع ہوکر کتنے گھنٹے میں آپ عمرہ اور طوافِ قدوم سے فارغ ہو سکیں گے (جدہ ایئرپورٹ پر کارروائیوں کی رفتار کے پیشِ نظر) اس کا کوئی حتمی تعین نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے اگر آپ اخبارات کی سرخیوں کے تاثر میں رہ کر ایئرپورٹ پر ہی تلبیہ پڑھتے ہیں تو یقینا آپ کو احرام کی پابندیوں کا لحاظ یہیں سے کرنا پڑے گا اور ایک ایک قدم پھونک پھونک کر چلنا پڑے گا۔ ہوائی جہاز میں بعض خوشبودار اشیائے خور و نوش بھی عملہ پیش کرتا ہے، یا کوئی اور انداز سے فاسدِ احرام معاملہ پیش آسکتا ہے۔ نادانستگی میں اِلّا ماشاء اﷲ کوئی بداحتیاطی اگر ہوگئی تو اس کا کفّارہ یعنی دَم (قربانی) لازم ہو جاتی ہے۔ اس لیے بہتر تو یہی ہے کہ احرام کا لباس پہننے کے بعد میقات (ہمارے لیے یلملم) کے قرب سے پہلے تلبیہ نہ پڑھیں۔ جہاز کے اندر اس کی معلومات عملے سے مل جاتی ہے کہ کتنی دور ابھی میقات کا آنا باقی ہے۔
اردو اخبارات کے جو رپورٹر ایسی خبریں اور ایسی سرخیاں شائع کرتے ہیں انھیں بھی اس بات کی معلومات لے کر احتیاط اختیار کرنی چاہیے کیونکہ یہ ’’انتہائی حساس دینی امر‘‘ ہے۔ کم علمی کے سبب ایسا قدم اٹھانا آئندہ عازمین اور آئندہ قافلوں کے لیے تذبذب اور دشواری نیز گناہ کا سبب بنتا ہے۔ میری ناچیز گذارش یہی ہے کہ یہ احتیاط صحافی حضرات بھی برتیں اور عازمینِ حج تو خصوصی طور سے اس بارے میں خیال رکھیں اور کسی استفسار کے لیے علماء سے رجوع ہو کر اس بات کا اطمینان کرلیں۔

Wednesday, October 12, 2011

We Salute Your Justice Your Honour
Justice Markandey Katju and PCI

Dr. Rehan Ansari
دہلی بم دھماکوں (7th Sept 2011) کے بعد اپنی کہنہ عادت کے مطابق قومی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا National Media نے شک کی سوئی کو نام نہاد اور جعلی مسلم تنظیم کی جانب موڑنے کی ناپاک سازش کی تھی۔ اﷲ کا شکر ہے کہ ان کو منہ کی کھانی پڑی۔جان لیوا اور نقصاندہ بم دھماکے پہلے بھی ہرلحاظ سے قابلِ مذمت تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔ ہمیں بہت افسوس ہے کہ ان کی تحقیق ابھی تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی ہے۔


The 'Urdu-Dareecha' image
of 8th Sept. 2011
قومی میڈیا کی نعزش پر ’اردودریچہ‘ کے میڈیم سے ہم نے فوری احتجاج اور ردّعمل ظاہر کرکے ’پریس کونسل آف انڈیا‘ Press Council of India : PCI کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی؛ (دیکھیے اردودریچہ، 8th Sept، جمعرات کی پوسٹنگ)۔ ہمیں بیحد مسرت ہوئی جب آج (12th October) کے ’انقلاب‘ (ممبئی اور دیگر ایڈیشن) ، راشٹریہ سہارا اردو، صحافت جیسے موقر روزناموں میں یو این آئی کی جانب سے جاری کردہ ریلیز دیکھی۔ پریس کونسل آف انڈیا کے صدر محترم جسٹس مارکنڈے کاٹجو Justice Markandey Katju کا بیان پڑھا اور انھوں نے اقدام کرتے ہوئے تمام میڈیا کے ذمہ داران کو شرم کا احساس دلاتے ہوئے تنبیہ کی کہ آئندہ ایسے حالات و معاملات میں سنسنی خیزی اور الزام تراشی سے احتیاط برتیں۔


The responsible
Urdu Media
carried the message
of today 12th October
محترم جسٹس کاٹجو صاحب! آج آپ کے بیان سے ہمارا خون منوں بڑھ گیا ہے، آپ سے اسے بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ آپ ہی جیسے مہان لوگ ہندوستان کے سیکولر فیبرک کی آبرو ہیں، بھارت ماتا کے سر کا آنچل سجانے کے قابل آپ جیسے ہی لوگ ہیں۔ آپ لوگوں کو بصد خلوص سلام و احترام ۔
لیکن ایک بات کھٹکی ضرور...!
کھٹکی یہ بات کہ پریس کونسل آف انڈیا کی گرفت اخباروں اور میڈیا پر ہوتی ہے ، وہی اصول و ہدایات مرتب کیے جاتے ہیں... اس کے صدر کی اتنی اہم اور ہندوستان کے سیکولر امیج کا تحفظ کرنے والی اس بات کو قومی میڈیا نے کیسے یکسر نظر انداز کر دیا!
آج ہم نے صبح کو ہی بیشتر غیر اردو اخبارات اور خصوصیت کے ساتھ انگریزی اخبارات میں مذکورہ خبر و بیان تلاش کرنے کی سعی کی۔ آدھ گھنٹے سے زیادہ کی ورق گردانی کے باوجود ہمیں بہت افسوس ہوا کہ پریس کونسل آف انڈیا کے صدر کی پریس کانفرنس؛ جس میں رپورٹ کے مطابق درجنوں اخبارات کے مدیر اور ٹی وی چینلوں کے ذمہ داران موجود تھے، کی روداد شائع کرنے سے احتراز کیا (بلکہ اعتراض کیا، شاید؟)۔ خیر۔ بقول ’جس کا درد ہے وہی محسوس کرتا ہے‘ کے مصداق اردو اخبارات نے پورے اعزاز و اکرام و اہتمام کے ساتھ محترم جسٹس کاٹجو کی گفتگو کو شایع کیا۔
انگریزی و دیگر لسانی میڈیا میں جسٹس کاٹجو کا بیان شائع نہ کرنے اور ٹی وی والوں کی بھی سنی ان سنی کرنے کی عادت کی مصلحتیں وہی جانیں؛ ہمیں تو محسوس ہوا کہ انھیں محض اپنی لنگوٹی بچا کر بھاگنے میں ہی عافیت نظر آئی۔ پھر بھی ہمیں یقین ہے کہ پریس کونسل آف انڈیا اپنے محترم صدر کے بیان اور اپیل کو پوری قوت اور اثرانگیزی کے ساتھ زیرِ عمل لائے گی۔ ایک بار پھر شکریہ۔ ’کہیں سے روشنی لاؤ بہت اندھیرا ہے‘۔ جاگتے رہیے۔ جے ہند.