To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Thursday, December 15, 2011

Nocturnal Emissions or Wet Dreams
Do not have any bad effect on
General Health
Dr. Rehan Ansari
مغربی اور ترقی یافتہ ملکوں میں ہمارا ہندوستانی معاشرہ قدامت پرست کہلاتا ہے اور ہم اس قدامت پرستی کو تہذیبی قدروں کا عنوان دیتے ہیں۔ہمارے یہاں افرادِ معاشرہ کے مراتب کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔ ہاں جو لوگ (مغربی انداز کی) ترقی پسندی کے مرض میں مبتلا ہیں ان میں بھی قدریں کسی قدر رخصت پذیر ہیں۔تہذیبی قدریں جہاں بے شمار صحتمند صلاحتیں پیدا کرتی ہیں وہیں بعض اوقات افراد میں تفکرات اور منفی احساسات بھی پیدا کرتی ہیں۔انہی منفی احساسات میں شامل ہے ’احتلام‘۔ احتلام کو بعض طبی حلقوں میں ایک مرض خیال کیا جاتا ہے۔ جبکہ یہ متنازعہ فیہ ہے۔ آئیے اس موضوع پر کچھ کھلی کھلی باتیں کریں۔
تعارف
احتلام کے معنی ہیں خواب (شہوانی) دیکھنا۔ انسان جب خواب میں کوئی شہوانی تصویر یا عمل دیکھتا ہے تو اسے انزال ہو جاتا ہے اور کپڑے ناپاک ہو جاتے ہیں۔ عمر کے کسی نہ کسی حصے میں اسّی تا نوّے فیصدی مردوں کو احتلام ہوتا ہے۔ ویسے تو کوئی مخصوص عمر اور صنف نہیں ہے لیکن اکثریت کی عمر پندرہ سے بائیس سال کے درمیان ہوتی ہے۔ کنوارے افراد (لڑکا اور لڑکی) میں یہ شکایت بالکل عام ہے مگر لڑکوں کو شرمندگی کا شکار زیادہ دیکھا جاتا ہے کیونکہ ان کے زیرجامے یا پاجامے اسے ظاہر کردیتے ہیں۔جب لڑکا بلوغت کی عمر کو پہنچتا ہے تو دیگر ثانوی جنسی علامات ظاہر ہونے کے بعد فطری طور پر اسے کم و بیش شہوانی خیال و خواب آنے لگتے ہیں۔ مشاہدے سے خیالات اور پھر شہوانی تصورات سے خواب تک کے سفر کا انجام احتلام کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کو ہفتہ عشرہ اور بعض کو پندرہ بیس میں احتلام ہوا کرتا ہے۔
’’احتلام ہونا شہوانی تناؤ سے آزادی اور حفظانِ صحت و بدن کے لیے فطری واقعہ ہے۔‘‘ یہ حقیقتاً کوئی مرض نہیں ہے۔ یہ شکایت اکثر ایسے افراد میں پائی جاتی ہے جو غیرشادی شدہ ہوتے ہیں۔ خوشگوار اور مطمئن ازدواجی زندگی گذارنے والے افراد میں یہ شکایت تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔
غلط فہمی
احتلام کے ساتھ سماجی سطح پر ایک اہم غلط فہمی لپٹی ہوئی ہے کہ منی کا خارج ہونا جسم کے لیے انتہائی خطرناک اور شدید ناتوانی کا سبب ہے؛ اور یہ کہ منی کا وافر مقدار میں موجود رہنا ’’خزانۂ صحت‘‘ ہے!۔ اس مقام پر سب سے پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ منی آخر کیا ہے؟.... اور کیا حقیقتاً یہ کسی فرد کی جسمانی صحت کی ضمانت اور دلیل ہے؟


منی کے تعلق سے طب کی پرانی کتابوں میں بہت زیادہ درج نہیں ہے۔ جو کچھ ہے وہ ظاہری مشاہدے کی بنیاد پر ہے۔ہم نے پہلے بھی لکھا ہے کہ ایسے عنوانات پر علوم کا تشنہ ہونا زمانہ کی مجبوری تھی۔ اُس دور میں خوردبین نہیں تھی اس لیے قیاسی مضامین ہی پائے جاتے ہیں۔ اُن مضامین میں سب سے معتبر تذکرہ جو موجود ہے اس کا خلاصہ ہے کہ: ’’منی نوعِ انسانی کے تحفظ کا سامان ہے، آلہ ہے، اور قوتِ تناسلیہ غذا میں تصرف کرکے اس کی پیدائش کا سبب بنتی ہے۔‘‘ منی کی پیدائش اعضاءِ تناسلیہ کے عضوِ رئیس خصیتین میں ہوتی ہے۔
جدید طب کی کتابوں میں نئی تحقیقات کی روشنی میں مادۂ منویہ اور منی (یعنی مجموعۂ رطوباتِ مذی و مجرئ بول اور مادۂ منویہ) کے تعلق سے بڑا لٹریچر دستیاب ہے۔ مگر یہاں بھی یہ سوال تشنۂ جواب ہی رہتا ہے کہ آیا منی خود مرد کے لیے جسمانی طور پر مفید ہے یا نہیں؟۔ دوسرے الفاظ میں فیکٹری کے لیے اپنا پروڈکٹ کتنا کارآمد ہے؟

حقیقت
منی دراصل بدن سے خارج ہونے والی دیگر فاضل رطوبات جیسے تھوک، آنسو، پسینہ، ناک اور کان کی رطوبات کی مانند ایک قابلِ اخراج رطوبت ہے۔ اب قارئین خود غور فرمائیں کہ تھوک، آنسو اور پسینے کی پیدائش اور زائد مقدار کے اخراج میں بدن کے کتنے فائدے مضمر ہیں۔ جبکہ یہی رطوبات اگر بدن میں رک جائیں اور خارج نہ ہوں تو (ان کے امتلاء سے) بدن کو کیسی کیسی تکلیفوں کاسامنا ہو سکتا ہے۔ بس یہی کیفیت احتلام کی ہے۔ منی کی پیدائش اور امتلاء مردانہ جنسی ہارمون کے زیرِ اثر ہوتا ہے اور یہ فی نفسہٖ مرد کے لیے کسی کام کی چیز نہیں ہے۔بلکہ فطرت نے اس کی پیدائش کا نظام محض نوعِ انسانی کی بقا کے لیے برپا کیا ہے۔ تو بھلا بتائیے کہ اس کے کسی صورت اَزخود ضائع ہونے سے بدن کو کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ پھر اس کی زیادتی اور کمی پر بحث کا سلسلہ کئی صدیوں سے ( دنیا کے ہر انسانی سماج میں) آج تک ختم نہیں ہو سکا ہے اور ہنوز بے نتیجہ ہے! قرآنِ پاک میں بھی اسے ایک ’گرنے والا قطرہ‘ ہی کہا گیا ہے۔ اس لیے اس پورے پس منظر میں ہمیں جس نکتہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے وہ ’’مادۂ منویہ اور منی کی طبعی مقدار اور حالت‘‘ ہو سکتا ہے جو کہ تولید کے لیے اصل ہے۔
آج ہم صرف یہ غلط فہمی دور کرنا چاہتے ہیں کہ احتلام سے قوتِ مردانہ کم ہو جاتی ہے۔احتلام بدن کا ایک فطری تقاضہ ہے اور منی کے احتلام میں ضائع ہونے سے بدن کے دیگر افعال و اعضاء پر کوئی غلط اثر نہیں پڑتا بلکہ اعضاءِ تناسلیہ پر گرانی کم ہو جاتی ہے۔ اس کی فکر میں شکوک و شبہات اور شرمندگی کا شکار ہونا عبث ہے۔ اس کے علاج پر خرچ کرنا ضیاع ہے۔
اسبابِ احتلام
جیسا کہ بتایا گیا احتلام خصوصیت سے کنواروں (دونوں جنسوں) کا عارضہ ہے۔جس قدر شہوانی تصورات پالنے والا ذہن ہوگا اسی قدر وہ احتلام میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ ٭چت سونا، بالخصوص گدگدے، نرم و گرم اور ریشمی بچھونوں پر سونا عضو میں انتشار پیدا کرتا ہے۔ ایسے ہی پھسلتے رہنے والے مصنوعی ریشوں کے کپڑے اور لنگی وغیرہ بھی عضو میں انتشار پیدا کرکے وہاں کی شریانوں کو خون سے بھر دیتے ہیں اور احساس جاگ جاتا ہے۔ ٭عورتوں کی مصاحبت اور معاشرت سے جو فی زمانہ شادی بیاہ کی تقریبات، پارٹیوں اور محفلوں اور ناچ گانوں جیسے ڈانڈیاراس جیسے کلچرل پروگراموں میں بہت آسانی کے ساتھ مہیا ہوتی ہے۔ ٭شہوت انگیز اصاویر، کتب اور فحش لٹریچر نیز محرکِ شہوت کھیل وغیرہ معاون اسباب و عوامل ہیں۔
علامات
احتلام کو ایک مرض سمجھنے والے افراد میں چند علامات بالکل عام ہیں۔ جیسے سستی، کاہلی، پست ہمّتی، عمومی کمزوری اور لاغری، مریض تنہائی پسند ہو جاتا ہے۔ متفکر اور گھبرایا ہوا رہتا ہے۔اس میں اعتماد کی کمی پائی جاتی ہے۔مغموم اور پریشان رہتا ہے۔بدہضمی، نفخ، قبض، دردِ سر اور چکر کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے جو نفسیاتی وجوہ سے ہوتی ہے۔دماغی قویٰ میں کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔اکثر کمر اور خصیوں میں درد کی شکایت کرتا ہے۔
مشورے
٭احتلام یوں تو ایک فطری امر ہے مگر نفس کا دخل اس کی تعداد بڑھا دیتا ہے۔ اس لیے نفس کو قابو میں کرنے کے لیے حضرت محمد ؐ نے جو طریقے اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے ان سے بہتر کوئی علاج ممکن ہی نہیں ہے۔یعنی نفلی روزوں اور نفلی نمازوں کا اہتمام کرنا اور دائیں پہلو سے بستر پر سونا۔
٭ ٹھنڈے اور قدرے سخت بچھونوں کا انتخاب کیا جائے۔
٭رات کے وقت غذا پیٹ بھر کر نہ کھائیں اور ممکن ہو تو سونے سے چند گھنٹوں قبل ہی کھا لیا کریں تاکہ سوتے وقت معدہ کچھ ہلکا ہو جائے۔
٭مستقل قبض ہو تو اس کا مناسب علاج کروائیں۔
٭گرم مصالحہ، مرچیں، کھٹائی، اور چٹ پٹی چیزیں مزاج میں گرمی پیدا کرتی ہیں اس لیے ان کا استعمال کم کریں۔
٭گرم و محرک غذاؤں جیسے گوشت، مچھلی، انڈا، چائے، قہوہ، شراب سے بھی اجتناب کریں۔
ذہن اور نفس کو سکون دینے والی تدابیر اختیار کی جائیں اور تبدیلئ رجحان کے لیے مفید اور فاضل وقت میں مصروف رکھنے والے نئے مشاغل اختیار کیے جائیں۔
٭بستر پر جانے سے قبل پیشاب کر لیں کیونکہ بھرے ہوئے مثانے کے سبب بھی انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔
٭کسی بھی قسم کے اشتہاری ہتھکنڈے سے بچیں۔ اپنا اعتماد بحال کریں۔
علاج
علاج کی افادیت کے تعلق سے اب تک کوئی بھی معتبر اسٹڈی سامنے نہیں آئی ہے
۔


Wednesday, December 7, 2011

Mazr-e-Sharif Incidence
A Condemnable Act

Dr. Rehan Ansari
افغانستان میں پھر بم دھماکہ کر کے شیعوں کامنصوبہ بند قتل عام کردیا گیا۔ روایتی طور سے پہلے انگلی طالبان کی جانب اٹھی۔ طالبان نے ان دھماکوں سے خود کو بری الذمہ قرار دیا اور اس کی مذمت بھی کی۔ انھوں نے بیرونی گھس پیٹھوں کے تعلق سے شک ظاہر کیا۔ افغانی حکومت کی جانب سے تادمِ تحریر رپورٹ کے مطابق یہ حرکت کسی پاکستانی خودکش بمبار کی تھی۔ کسی کی بھی رہی ہو۔ قابلِ صد مذمت ہے۔ غیرانسانی ہے۔
جانے یہ کون سے مسلمان ہیں، اگر عقیدوں کے اختلافات کا علاج ایک دوسرے کو قتل کردینے میں مضمر ہے تو دنیا انسانوں سے خالی ہو جائے گی؛ پھر بھی یہ اختلافات موجود ہی رہیں گے۔


کتنی شرم کی بات ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو عقیدے کے اختلاف کی وجہ سے جان سے مار دیتا ہے۔ محرم الحرام کے مہینے کی حرمت کا بھی پاس و لحاظ نہیں رکھتا۔ ماضی میں بھی متعدد مرتبہ ایسا ہوا ہے۔ امسال تو امن رہا ورنہ پاکستان میں تو یہ گویا سالانہ رسم کی مانند انجام دیا جانے والا کام ہوگیا ہے۔ درمیان سال میں بھی مساجد میں مصلیان پر گولیاں برسانا اور ان کی جانوں سے کھیلنا کچھ لوگ مشغلہ کی مانند انجام دیتے ہیں۔ یومِ عاشورہ عقائد کے اختلاف کے باوجود ایک کربِ مشترک کی یاد بھی دلاتا ہے۔ عراق اس کرب کا مرکز ہے۔ اس حرمت والے مہینے کے ابتدائی دس دنوں میں شیعہ مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھنا بھی لازم ہے کہ یہ انسانوں کے لطیف ترین احساسات میں مدوجزر سے معنون ہے۔
اصل میں تمام ہی مدارسِ اسلامیہ میں تعلیمات اب جس انداز میں دی جاتی ہیں ان میں فرقہ واریت بین المسلمین کا درس غیرمحسوس طور سے شاملِ نصاب رہتا ہے۔ ظاہری کریکولم curriculum میں یہ موجود نہیں رہتا۔ اسی وجہ سے جب مدرسہ کے فارغین سے کسی معاملہ پر گفتگو کیجیے تو ہر مکتبِ فکر اور ہر فرقہ کے افراد کے خیالات اور افکار میں اختلافات پوری طرح کھل کر سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ اختلافات اب مدرسہ کی چہاردیواری سے نکل کر عوام الناس کے دلوں میں جاگزیں ہونے لگے ہیں۔ انھیں عقائد کا لبھاؤنا نام دیا جاتا ہے۔ اور سبھی کا یہ عقیدہ ہے کہ انھی کے مخصوص عقائد انھیں جنت میں لے جانے والے ہیں۔ واﷲ اعلم۔ ان کا کوئی لٹمس ٹیسٹ بھی موجود نہیں ہے۔ علما کے بیانات میں اس نعرہ کی بھرپور انداز سے تبلیغ ملتی ہے کہ وہ ’اتحاد بین المسلمین‘ کے لیے جی اور مر سکتے ہیں۔ مگر انھیں جینے اور مرنے کا موقع تو کب ملتا ہے ان کے پیروکار ایک دوسرے کو مارنے پر ضرور اُتارو ہوجاتے ہیں۔ جس کا مظاہرہ رہ رہ کر دنیا دیکھتی ہے۔
ہم نے وہ جلسے اور مورچے بھی اٹینڈ کیے ہیں جن میں ’’لا سُنّیہ و لا شیعیہ... اسلامیّہ اسلامیّہ!‘‘  اور ’’لاشرقیّہ و لاغربیّہ... اسلامیّہ اسلامیّہ‘‘ جیسے جذبات انگیز نعرے بھی لگائے جاتے ہیں، لیکن ہم نے دیکھا کہ یہ نعرے بھی ان مظاہروں کے گھیرے سے آگے گھروں اور مدرسوں میں داخل نہیں ہوپاتے۔ دلوں کی بات تو دیگر ہے۔
مسلمان یوں تو بہت سے فرقوں میں تقسیم ہیں۔ لیکن بنیادی طور سے یہ سنی ہیں یا پھر شیعہ۔ ذیلی فرقے دونوں میں بے گنتی ہیں۔ ہم نے بے گنتی اس لیے لکھا ہے کہ ہم نے آج تک کوئی مرتبہ فہرست نہیں دیکھی۔ لوگوں سے سنا ہے کہ کل تہتر (73) فرقے ہیں۔ سنی اور شیعہ کی تقسیم کو ختم کرنے کے لیے اور امتِ مسلمہ کو ایک ہی بنانے میں اصل میں مسلمانوں کو ہی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا۔ کیونکہ ہر دوجانب یہی ارادہ رکھے ہوئے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ سب کی اپنی اپنی تاویلیں ہیں۔ گویا اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ۔ اس تقسیم کو چودہ سو برس بیت گئے ہیں۔ اس عرصہ میں ہر ایک کے عقیدہ میں راسخی اور پختگی پیدا ہوئی ہے۔
فرقہ واریت بین المسلمین کے تحت تشدد کےواقعات کی مجموعی تعداد دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ تعداد کے لحاظ سے جذباتی سنی مسلمان زیادہ حملہ آور ہوئے ہیں۔ پہلے پہل علاقائی جھڑپیں اور خونیں تصادم ہوتے تھے مگر اب اس نے بمباری تک ترقی کرلی ہے۔ یہ بے حد افسوسناک ہے۔ نفرت کے بیجوں کی آبیاری کرنے والوں کی ہم ہر درجہ میں مذمت کرتے ہیں
۔

Saturday, December 3, 2011

Is It Mandatory To Be Part Of
Deep-Prajwalan Ceremony

Dr. Rehan Ansari
بڑی احتیاط کے ساتھ اس عنوان پر قلم اٹھانا چاہا ہے۔ یہ وضاحت کردوں کہ میرا قلم سچ لکھنے سے نہیں ڈرتا۔ احتیاط اس احساس سے عبارت ہے کہ ہمارے کچھ برادرانِ ملت، جن کا شیوہ ’’رواداری‘‘ کے نام پر (مشرکین و ملحدین کے) رسوم و رواج میں شامل ہونے کا رہتا ہے، کا مزاج بگڑ جانے اور مجھے طرح طرح سے کوسنے کا ہے، مجھے منفی یعنی نگیٹیو سمجھنے کا ہے۔ خیر ان سب باتوں کا مجھے کوئی اصلی خوف بھی نہیں ہے۔ میرا مقصد صرف آگاہ و اصلاح کرنے کا ہے۔ آمدم برسرِ مطلب۔
مختلف سماجی و ثقافتی تقریبات میں دعوت پر شمولیت کرنا ایک ذمہ داری اور بصورتِ دیگر ایک مشغلے کی مانند تصور کرتا ہوں ۔ ایسے پروگرام جو برادرانِ وطن کی جانب سے منعقد کیے جاتے ہیں ان کے افتتاحی لمحات میں ’’دیپ جلانے کی رسم‘‘ ادا کی جاتی ہے۔ اس میں یہ بات بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ ہمارے یعنی مسلم سماج کی نمایاں اور غیر نمایاں شخصیات کو جب کبھی مہمان بنایا جاتا ہے تو اس ’’دیپ پرجولن‘‘ Deep Prajwalan میں بھی شریک کیا جاتا ہے، اور وہ بخوشی اس میں حصہ لیتے ہیں!
ان مسلمانوں میں بہت سے ادیب و شاعر، اسکرپٹ رائٹر، مکالمہ نویس، نغمہ نگار، فنکار و قلمکار، ڈاکٹر اور انجینئر، مقتدر و غیرمقتدر سیاستداں، اور ہر طرح کے لوگ ملتے ہیں۔
سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ کیا ایسی تقریبات میں ’’دیپ پرجولن‘‘ کی رسم ادا کرنا یا اس میں شرکت کوئی ضروری امر ہے؟ اگر آپ مذہبِ اسلام کے پیرو ہیں تو آپ کا اندرون بلا تردّد احتجاج کرتے ہوئے کہے گا کہ یہ اسلامی تعلیمات کے برعکس ہے۔ اس کے لیے نہ کسی عالمِ دین کی ضرورت ہے نہ کسی فتوے کی۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ یہ ایک مبینہ مشرکانہ رسم ہے اور اس کے دیپ کی بناوٹ میں بھی اس کا خاص التزام رکھا جاتا ہے کہ اس میں ہندوئیت جھلکے۔
آگے بڑھنے سے قبل یہ لکھنا لازمی ہے کہ دیپ جلانے کا مقصد کیا ہے؟ ہندوؤں میں صبح اور شام کو اپنے معبود کے سامنے دیا (دیپ، دیپم یا دیپک) جلانے کو عبادت کی ابتدا مانا جاتا ہے۔ دیپک کی روشنی کو علم کی روشنی کی علامت مانا جاتا ہے اس کے علاوہ کچھ کے نزدیک اس سے ’’وِشنو دیوتا‘‘ کا علامتی وجود بھی متصور ہے۔ اس کے ساتھ ہی دیپ سے کچھ فلسفے بھی جڑے ہیں۔ دیا مٹی کا ہونا چاہیے، اس کا شعلہ علم کی روشنی کی علامت ہے جو اندرون کا اندھیرا دور کرتا ہے، اس کی باتی (فیتہ) جسم کی مانند ہے اور گھی یا تیل اس کی غذا ہے وغیرہ۔ پھر اس فلسفے کی اپنی تفصیلات ہیں جو طرح طرح کی عقیدتوں اور دلچسپ، مرغوب و خوش کن وضاحتوں سے بھری ہوئی ہیں۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ اسلام کے علاوہ دنیا کے بیشتر مذاہب میں چراغ یا دیا جلانا اس کے علاوہ موم بتی کی ایجاد کے بعد اسے اپنے معبودوں کے سامنے جلانے کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ان کے بھی اپنے اپنے فلسفے ہیں۔ ان کے دیپک کی شبیہ ان کی عقیدتوں کے مطابق ہوتی ہے۔


Christians have Cross-Replica atop their lamp
ہمارے ہندوستان میں (پاکستان/ بنگلہ دیش/ سری لنکا سمیت)  صدیوں سے ملے جلے تہذیبی اثرات ہم پر بھی پڑے ہیں، ہم بھی چراغ جلانے اور چراغاں نیز شمع فروزی کرنے میں خود کو الگ الگ بہانوں کے ساتھ مبتلا کر لیتے ہیں اور کبھی کوئی اشارہ کرتا ہے تو اندر سے سبکی محسوس ہوتی ہے، پھر اس پر نادم ہونے کی بجائے اپنی اس سبکی کو چھپانے کے لیے طرح طرح کی تاویلات پیش کرنے لگتے ہیں۔ خود کو صحیح سمجھنے اور سمجھانے لگتے ہیں۔ ہماری باتوں کو تسلیم نہ کرنے والے سے اکثر جھڑپ بھی کر لیتے ہیں۔
خیر، ہم بات کر رہے تھے کہ کیا ایسی ’دیپ پرجولن‘ کی تقریب میں ہمارا حصہ لینا ضروری ہے؟ کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ یہ موقع یعنی ڈائس پر موجود رہنے کی مجبوری ہے!... ممکن ہے ایسا ہوتا ہو... مگر اس سلسلے میں منتظمین کو پیشگی بتلایا جاسکتا ہے کہ جب دیپ پرجولن کا انعقاد ہو تو مسلمان مہمان کو اس سے مستثنیٰ رکھا جائے کہ یہ اس کے دینی عقائد کے خلاف ہے، اگر یہ ممکن نہ ہو تو کچھ ایسا حیلہ اختیار کیا جائے کہ چند ساعتوں کے لیے وہاں سے ہٹ جایا جائے۔ ہم انھیں منع تو نہیں کرپائیں گے اور نہ وہ اس موقع پر مانیں گے، اس لیے انھیں کہہ سکتے ہیں کہ آپ لوگوں کو جو کچھ کرنا ہے وہ سب کرگذریں اس کے بعد ہی ہمیں اسٹیج یا موقعۂ تقریب پر بلایا جائے۔
رواداری ہرگز اس کا نام نہیں ہے کہ ان کے شرکیہ کاموں میں خود کو شریک و شامل رکھیں، بلکہ رواداری اس کا نام ہے کہ وہ جوکچھ کرتے ہیں انھیں کرنے دیا جائے اور اس میں رخنہ نہ ڈالیں اس کے علاوہ وہ بھی ہمیں ہماری اسلامی شناخت و شعائر کے ساتھ تسلیم کریں۔ اس طرح رواداری ہی نہیں قومی یکجہتی بھی پیدا ہوگی۔ ماضی میں یہی ہمارے (ہندو اور مسلمان) بزرگوں نے بھی کیا ہے
۔