To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Monday, December 19, 2011

Halala: Another Name for Rape
Think Beyond 

Dr. Rehan Ansari
ٹائمز آف انڈیا کی ہفتہ وار خصوصی اشاعت ’’کریسٹ ایڈیشن‘‘ The Times of India - Crest Edition کے ۳دسمبر ۲۰۱۱کے شمارے میں منجری مشرا Manjari Mishra کی ایک اسٹوری شائع ہوئی تھی۔ عنوان تھا ’’زنا کا نامِ دیگر‘‘۔  "Another Name for Rape" اس میں ’حلالہ‘ کو موضوع بنا کر بیحد تیکھے اور سخت تیور میں ایک کولاج پیش کیا گیا تھا۔ اصول کے مطابق اس خاکسار نے مختلف ذرائع اور علما سے رجوع کر کے اس کا مکمل و معتدل جواب انگریزی میں ہی لکھ کر اخبارِ مذکور کو ای میل کر دیا تھا۔ مگر آج کے صحافتی اداروں اور صحافیوں کی ترجیحات سے ہم خوب واقف ہیں اس لیے توقع کے عین مطابق انھوں نے پورے مضمون میں سے گنتی کی چند سطریں ’’خیال آرائی‘‘ کے ضمن میں شائع کیں اور پورا مضمون حذف نہیں بلکہ ہضم کرگئے۔




ہم نے ایک احساسِ ذمہ داری کے تحت اس مضمون کو اردو روپ دیا اور اب آپ کی خدمت میں اس نیت کے ساتھ پیش ہے کہ ہمارے لوگوں میں بھی ایک بڑا طبقہ اس سلسلے میں بات تک کرنا پسند نہیں کرتا؛ بہت سے تباہکار مولوی حضرات اور تجارت پیشہ قاضیوں نے اسی لیے اس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کا دھندہ بنا رکھا ہے؛ جب کہ یہ بلا تفریقِ مسلک و عقیدہ ایک شقِ شرعیہ ہے اور ہم سب کو ہی اس کا جاننا لازمی ہے۔ اس باب میں کوئی فرد سوال کرے تو اسے جھٹک دینا بے احتیاطی کا سبب ہے۔ ایک بات اور کہ روابط کے بعد مجھے حیرت ہوئی کہ لاعلمی یا مختلف عقیدہ کے سبب کچھ مسلمان اس سے خود کو دست کش کرتے ہیں اور محض احناف سے اسے جوڑتے ہیں۔ لیجیے پیش ہے اس مضمون کا اردو روپ:
منجری مشرا کا تحریر کردہ مضمون (ٹائمز آف انڈیا کریسٹ ایڈیشن، مورخہ ۳دسمبر) انتہائی تلخ لہجہ میں لکھا ہوا ہے۔ اس کا انداز متوازن نہیں ہے۔ پورا زور اس بات پر صرف کیا گیا ہے کہ کس طرح پوری مسلم کمیونٹی کہ ہدفِ ملامت بنایا جائے۔ میں پوری اسٹوری کے کسی بھی حصہ کی تنسیخ یا دفاع نہیں کروں گا کیونکہ مسلمانوں کے درمیان ایسے افراد لازماً موجود ہیں جن کا تذکرہ اور احوال اسٹوری میں دیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ زعم ہے کہ وہ ترقی پسند ہیں، معاذاﷲ، یہ وہی لوگ ہیں جو شرعی قوانین کا کوئی لحاظ نہیں کرتے اور مسلمانوں کی جگ ہنسائی اور انھیں دقیانوسی ٹھہرانے کا موقع بھی ڈھونڈتے رہتے ہیں۔
’حلالہ‘ کبھی پسندیدہ عمل نہیں رہا ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت نے ہمیشہ اسے لتاڑا ہے۔ مگر بہتوں (اور مسلمانوں میں بھی) نے اس کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ یہ کوئی فرض Mandatory نہیں ہے جس پر خواہی نخواہی عمل کرنا ہی پڑے گا بلکہ شریعت کی ایک شق Clause ہے جس سے روشنی پاکر جب ایسا معاملہ درپیش ہو تو اس کا حل نکالا جائے۔ بہت سے علما اور غیرعلما یہ بھی کہتے ہیں کہ ’حلالہ‘ لفظ شریعت میں موجود نہیں ہے بلکہ یہ  اختراع ہے۔ چلیے یہ مان لیں کہ ایسا ہے بھی تو جب ایسے حالات ابھریں تو اسے کوئی نام تو دینا ہی ہوگا نا؟... یہی ’حلالہ‘ ہے، یعنی نام، اسم!... اگر ایسا ہی ہے تو ہم بھی کیوں نہ اسے اپنے طور پر دیکھیں۔ لفظ حلالہ کی اصل عربی ہے۔ عربی میں اس کی دو صوتیات سمجھ میں آتی ہیں ایک ’’حلالۃٌ=حلالتُن‘‘ بمعنی حلال مؤنث اور ’’حلالہ= حلالَ ہ‘‘ بمعنی حلال برائے مرد، دونوں ہی صوتیات عورت (مؤنث) سے مراد ہیں اور ’’اسم‘‘ ہیں، یہ ’’فعل‘‘ نہیں ہیں۔
آگے بڑھنے سے قبل ایک بات اور صاف کرتے چلیں۔ ہم سبھی ’ہونے‘ اور ’کرنے‘ کے فرق سے واقف ہیں۔ اس لیے اس جملے کو نوٹ کریں کہ ’’(عورت)حلالہ ہوتی ہے، کی نہیں جاتی‘‘۔اور جب کوئی عورت حلالہ ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ کی جانب سے اس پر رحمت کے بھی کئی فیصلے ہوجاتے ہیں جنھیں بروقت محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ مگر جب حلالہ کیا جاتا ہے یا کروایا جاتا ہے تو اس پر کسی اور کی نہیں نبئ رحمت ؐ نے فرمایا اﷲ کی لعنت اور پھٹکار ہوتی ہے اور حلالہ کرنے اور کروانے والے نیز ان کے جملہ معاونین واصلِ جہنم ہوں گے سدا کے لیے۔نبی اکرم ؐ نے حلالہ کرنے والے مرد کو ’’کرایہ کا سانڈ‘‘ کہا ہے۔
قرآن کی سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۳۰ کا ترجمہ یوں کیا جاتا ہے کہ ’’پھر اگر طلاق دے دی مرد نے بیوی کو (تیسری مرتبہ) تو نہیں حلال ہوگی وہ اس کے لیے اس کے بعد جب تک کہ نہ نکاح کرے وہ کسی اور خاوند سے اس کے سوا، پھر اگر طلاق دے دے (دوسرا) خاوند اس کو تو نہیں ہے کچھ گناہ ان دونوں پر اس بات میں کہ رجوع کرلیں ایک دوسرے کی طرف بشرطیکہ دونوں یہ خیال کریں کہ قائم رکھیں گے اﷲ کی (مقرر کردہ) حدیں، اور یہ اﷲ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جن کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے وہ ان لوگوں کے لیے جو دانشمند ہیں‘‘۔
مشہور آن لائن انسائیکلوپیڈیا ’’وِکی پیڈیا‘‘ Wikipedia کا یہ اقتباس بھی ملاحظہ فرمائیں: ’’صاف سی بات یہ ہے کہ حلالہ منصوبہ بند طریقہ سے اور دانستہ ہرگز نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اس عورت اور دوسرے خاوند کے مابین اس طرح نکاح کو جائز نہیں قرار دیا جاتا کہ بعد میں طلاق لے لی اور دے دی جائے گی۔اس طرح کے تعلق کو زنا کہا جائے گا اور اس کے بعد جب وہ پہلے سے منصوبہ بند انداز میں پہلے شوہر سے حلالہ کرواکے رجوع ہوگی تو اسے بھی زنا ہی کہا جائے گا۔ محمد ؐ نے ایسے مرد پر جو حلالہ کرتا ہے اور اس پر بھی جو حلالہ کرواتا ہے لعنت بھیجی ہے۔امیرالمومنین ثانی حضرت عمر ؓ نے اپنے دور میں یہ اعلان کروایا تھا کہ جو بھی لوگ منصوبہ بند طریقہ سے حلالہ کا عمل انجام دیں گے ان سب کو سنگساری کے ذریعہ موت کی سزا دی جائے گی‘‘۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حلالہ ’’کرنے اور کروانے‘‘ کا عمل انتہائی کریہہ اور تباہ کن ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کی ہر جگہ اور ہر سطح پر مخالفت کی جاتی ہے۔مگر جب بغیر کسی نیت کے حلالہ از خود ’’ہوجاتا ہے‘‘ یعنی پیش آتا ہے تو اس کے کچھ فرحت بخش نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔ یہ بات ملحوظ رہے کہ حلالہ پیش آنے کے باوجود عورت اپنے نئے خاوند کے انتخاب اور نکاح کے لیے مکمل آزاد اور خود مختار ہے اور اس پر اپنے سابقہ شوہر سے رجوع کے لیے کسی بھی قسم کا دباؤ کسی بھی حال میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ یہ حلالہ اس طرح بھی پیش آسکتا ہے کہ دوسرے خاوند سے نکاح کے بعد اس خاوند کا جلد ہی انتقال ہوگیا اور وہ بیوہ ہو گئی۔ پھر تنہا ہوگئی۔ایسے وقت اس کا دل اپنے سابقہ شوہر کی جانب مائل ہو اور وہ کسی طرح بھی ظالم نہ رہا ہو، طلاقِ مغلظہ ایک حادثہ کی صورت پڑ گئی ہو تو بیوگی کی عدت کے بعد وہ اپنے سابقہ خاوند کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے اور دونوں خوش و خرم زندگی کا آغازِنو کرسکتے ہیں۔
حلالہ کے تعلق سے جتنی بھی برائیاں ہمارے اندر دکھائی دیتی ہیں اور عورت کو جس طرح شرمندہ نیز اس کا استحصال کیا جاتا ہے، وہ سب خرابیاں ہماری اپنی پیداکردہ ہیں، ان سب کا اصل اسلامی تعلیمات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اﷲ ہم سب کو راستی پر رکھے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے (آمین)۔


The Muslim Woman Has
All the Rights to Choose
Her Life Partner And Nobody
Could Compel Her
درجِ بالا مضمون کے آگے بھی کچھ سطریں لکھنا چاہتا ہوں کہ حلالہ اصل میں دیکھا جائے تو عورت کی بے عزتی نہیں ہے بلکہ اس مرد کی بے عزتی اور رسوائی ہے جو ایک اچھی عورت کہ جس کے تعلق سے رسولِ اکرم ؐ کا فرمان ہے کہ دنیا کی سب سے اچھی نعمت ایک نیک بیوی ہے، سے خود کو محروم کر لیتا ہے۔ سماج میں اس کا جینا اور چلنا پھرنا اس وقت تک دشوار ہی رہتا ہے جب تک اس کا ایک بھی شاہد بستی میں موجود ہو۔ اس کے برخلاف مطلقہ عورت کے ساتھ عموماً پورے سماج کا رویہ ہمدردانہ اور مشفقانہ ہوا کرتا ہے نیز اسے دوسرا خاوند ملنا کافی آسان بھی ہوتا ہے۔ لوگ اس کی امداد کو تیار رہتے ہیں۔ جبکہ طلاق دہندہ مرد کو دوسری ’شریف‘ عورت نصیب ہونا انتہائی دشوار بلکہ اکثر ناممکنات میں ہوتا ہے۔
بعض مسلمان ان باتوں کے باوجود مطمئن نہیں ہوتے تو ان کی خدمت میں یہ آسان سا سوال ہے کہ خدا نخواستہ ان کے کسی اپنے کے ساتھ تین طلاقوں کے بعد رجوع کی خواہش یا نوبت آن پڑے تو وہ کس نام اور پروسیس کے ساتھ اس معاملہ کو نمٹائیں گے؟ یا ایک اچھی عورت کو بے آسرا چھوڑ دیں گے؟

Thursday, December 15, 2011

Nocturnal Emissions or Wet Dreams
Do not have any bad effect on
General Health
Dr. Rehan Ansari
مغربی اور ترقی یافتہ ملکوں میں ہمارا ہندوستانی معاشرہ قدامت پرست کہلاتا ہے اور ہم اس قدامت پرستی کو تہذیبی قدروں کا عنوان دیتے ہیں۔ہمارے یہاں افرادِ معاشرہ کے مراتب کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔ ہاں جو لوگ (مغربی انداز کی) ترقی پسندی کے مرض میں مبتلا ہیں ان میں بھی قدریں کسی قدر رخصت پذیر ہیں۔تہذیبی قدریں جہاں بے شمار صحتمند صلاحتیں پیدا کرتی ہیں وہیں بعض اوقات افراد میں تفکرات اور منفی احساسات بھی پیدا کرتی ہیں۔انہی منفی احساسات میں شامل ہے ’احتلام‘۔ احتلام کو بعض طبی حلقوں میں ایک مرض خیال کیا جاتا ہے۔ جبکہ یہ متنازعہ فیہ ہے۔ آئیے اس موضوع پر کچھ کھلی کھلی باتیں کریں۔
تعارف
احتلام کے معنی ہیں خواب (شہوانی) دیکھنا۔ انسان جب خواب میں کوئی شہوانی تصویر یا عمل دیکھتا ہے تو اسے انزال ہو جاتا ہے اور کپڑے ناپاک ہو جاتے ہیں۔ عمر کے کسی نہ کسی حصے میں اسّی تا نوّے فیصدی مردوں کو احتلام ہوتا ہے۔ ویسے تو کوئی مخصوص عمر اور صنف نہیں ہے لیکن اکثریت کی عمر پندرہ سے بائیس سال کے درمیان ہوتی ہے۔ کنوارے افراد (لڑکا اور لڑکی) میں یہ شکایت بالکل عام ہے مگر لڑکوں کو شرمندگی کا شکار زیادہ دیکھا جاتا ہے کیونکہ ان کے زیرجامے یا پاجامے اسے ظاہر کردیتے ہیں۔جب لڑکا بلوغت کی عمر کو پہنچتا ہے تو دیگر ثانوی جنسی علامات ظاہر ہونے کے بعد فطری طور پر اسے کم و بیش شہوانی خیال و خواب آنے لگتے ہیں۔ مشاہدے سے خیالات اور پھر شہوانی تصورات سے خواب تک کے سفر کا انجام احتلام کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کو ہفتہ عشرہ اور بعض کو پندرہ بیس میں احتلام ہوا کرتا ہے۔
’’احتلام ہونا شہوانی تناؤ سے آزادی اور حفظانِ صحت و بدن کے لیے فطری واقعہ ہے۔‘‘ یہ حقیقتاً کوئی مرض نہیں ہے۔ یہ شکایت اکثر ایسے افراد میں پائی جاتی ہے جو غیرشادی شدہ ہوتے ہیں۔ خوشگوار اور مطمئن ازدواجی زندگی گذارنے والے افراد میں یہ شکایت تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔
غلط فہمی
احتلام کے ساتھ سماجی سطح پر ایک اہم غلط فہمی لپٹی ہوئی ہے کہ منی کا خارج ہونا جسم کے لیے انتہائی خطرناک اور شدید ناتوانی کا سبب ہے؛ اور یہ کہ منی کا وافر مقدار میں موجود رہنا ’’خزانۂ صحت‘‘ ہے!۔ اس مقام پر سب سے پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ منی آخر کیا ہے؟.... اور کیا حقیقتاً یہ کسی فرد کی جسمانی صحت کی ضمانت اور دلیل ہے؟


منی کے تعلق سے طب کی پرانی کتابوں میں بہت زیادہ درج نہیں ہے۔ جو کچھ ہے وہ ظاہری مشاہدے کی بنیاد پر ہے۔ہم نے پہلے بھی لکھا ہے کہ ایسے عنوانات پر علوم کا تشنہ ہونا زمانہ کی مجبوری تھی۔ اُس دور میں خوردبین نہیں تھی اس لیے قیاسی مضامین ہی پائے جاتے ہیں۔ اُن مضامین میں سب سے معتبر تذکرہ جو موجود ہے اس کا خلاصہ ہے کہ: ’’منی نوعِ انسانی کے تحفظ کا سامان ہے، آلہ ہے، اور قوتِ تناسلیہ غذا میں تصرف کرکے اس کی پیدائش کا سبب بنتی ہے۔‘‘ منی کی پیدائش اعضاءِ تناسلیہ کے عضوِ رئیس خصیتین میں ہوتی ہے۔
جدید طب کی کتابوں میں نئی تحقیقات کی روشنی میں مادۂ منویہ اور منی (یعنی مجموعۂ رطوباتِ مذی و مجرئ بول اور مادۂ منویہ) کے تعلق سے بڑا لٹریچر دستیاب ہے۔ مگر یہاں بھی یہ سوال تشنۂ جواب ہی رہتا ہے کہ آیا منی خود مرد کے لیے جسمانی طور پر مفید ہے یا نہیں؟۔ دوسرے الفاظ میں فیکٹری کے لیے اپنا پروڈکٹ کتنا کارآمد ہے؟

حقیقت
منی دراصل بدن سے خارج ہونے والی دیگر فاضل رطوبات جیسے تھوک، آنسو، پسینہ، ناک اور کان کی رطوبات کی مانند ایک قابلِ اخراج رطوبت ہے۔ اب قارئین خود غور فرمائیں کہ تھوک، آنسو اور پسینے کی پیدائش اور زائد مقدار کے اخراج میں بدن کے کتنے فائدے مضمر ہیں۔ جبکہ یہی رطوبات اگر بدن میں رک جائیں اور خارج نہ ہوں تو (ان کے امتلاء سے) بدن کو کیسی کیسی تکلیفوں کاسامنا ہو سکتا ہے۔ بس یہی کیفیت احتلام کی ہے۔ منی کی پیدائش اور امتلاء مردانہ جنسی ہارمون کے زیرِ اثر ہوتا ہے اور یہ فی نفسہٖ مرد کے لیے کسی کام کی چیز نہیں ہے۔بلکہ فطرت نے اس کی پیدائش کا نظام محض نوعِ انسانی کی بقا کے لیے برپا کیا ہے۔ تو بھلا بتائیے کہ اس کے کسی صورت اَزخود ضائع ہونے سے بدن کو کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ پھر اس کی زیادتی اور کمی پر بحث کا سلسلہ کئی صدیوں سے ( دنیا کے ہر انسانی سماج میں) آج تک ختم نہیں ہو سکا ہے اور ہنوز بے نتیجہ ہے! قرآنِ پاک میں بھی اسے ایک ’گرنے والا قطرہ‘ ہی کہا گیا ہے۔ اس لیے اس پورے پس منظر میں ہمیں جس نکتہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے وہ ’’مادۂ منویہ اور منی کی طبعی مقدار اور حالت‘‘ ہو سکتا ہے جو کہ تولید کے لیے اصل ہے۔
آج ہم صرف یہ غلط فہمی دور کرنا چاہتے ہیں کہ احتلام سے قوتِ مردانہ کم ہو جاتی ہے۔احتلام بدن کا ایک فطری تقاضہ ہے اور منی کے احتلام میں ضائع ہونے سے بدن کے دیگر افعال و اعضاء پر کوئی غلط اثر نہیں پڑتا بلکہ اعضاءِ تناسلیہ پر گرانی کم ہو جاتی ہے۔ اس کی فکر میں شکوک و شبہات اور شرمندگی کا شکار ہونا عبث ہے۔ اس کے علاج پر خرچ کرنا ضیاع ہے۔
اسبابِ احتلام
جیسا کہ بتایا گیا احتلام خصوصیت سے کنواروں (دونوں جنسوں) کا عارضہ ہے۔جس قدر شہوانی تصورات پالنے والا ذہن ہوگا اسی قدر وہ احتلام میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ ٭چت سونا، بالخصوص گدگدے، نرم و گرم اور ریشمی بچھونوں پر سونا عضو میں انتشار پیدا کرتا ہے۔ ایسے ہی پھسلتے رہنے والے مصنوعی ریشوں کے کپڑے اور لنگی وغیرہ بھی عضو میں انتشار پیدا کرکے وہاں کی شریانوں کو خون سے بھر دیتے ہیں اور احساس جاگ جاتا ہے۔ ٭عورتوں کی مصاحبت اور معاشرت سے جو فی زمانہ شادی بیاہ کی تقریبات، پارٹیوں اور محفلوں اور ناچ گانوں جیسے ڈانڈیاراس جیسے کلچرل پروگراموں میں بہت آسانی کے ساتھ مہیا ہوتی ہے۔ ٭شہوت انگیز اصاویر، کتب اور فحش لٹریچر نیز محرکِ شہوت کھیل وغیرہ معاون اسباب و عوامل ہیں۔
علامات
احتلام کو ایک مرض سمجھنے والے افراد میں چند علامات بالکل عام ہیں۔ جیسے سستی، کاہلی، پست ہمّتی، عمومی کمزوری اور لاغری، مریض تنہائی پسند ہو جاتا ہے۔ متفکر اور گھبرایا ہوا رہتا ہے۔اس میں اعتماد کی کمی پائی جاتی ہے۔مغموم اور پریشان رہتا ہے۔بدہضمی، نفخ، قبض، دردِ سر اور چکر کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے جو نفسیاتی وجوہ سے ہوتی ہے۔دماغی قویٰ میں کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔اکثر کمر اور خصیوں میں درد کی شکایت کرتا ہے۔
مشورے
٭احتلام یوں تو ایک فطری امر ہے مگر نفس کا دخل اس کی تعداد بڑھا دیتا ہے۔ اس لیے نفس کو قابو میں کرنے کے لیے حضرت محمد ؐ نے جو طریقے اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے ان سے بہتر کوئی علاج ممکن ہی نہیں ہے۔یعنی نفلی روزوں اور نفلی نمازوں کا اہتمام کرنا اور دائیں پہلو سے بستر پر سونا۔
٭ ٹھنڈے اور قدرے سخت بچھونوں کا انتخاب کیا جائے۔
٭رات کے وقت غذا پیٹ بھر کر نہ کھائیں اور ممکن ہو تو سونے سے چند گھنٹوں قبل ہی کھا لیا کریں تاکہ سوتے وقت معدہ کچھ ہلکا ہو جائے۔
٭مستقل قبض ہو تو اس کا مناسب علاج کروائیں۔
٭گرم مصالحہ، مرچیں، کھٹائی، اور چٹ پٹی چیزیں مزاج میں گرمی پیدا کرتی ہیں اس لیے ان کا استعمال کم کریں۔
٭گرم و محرک غذاؤں جیسے گوشت، مچھلی، انڈا، چائے، قہوہ، شراب سے بھی اجتناب کریں۔
ذہن اور نفس کو سکون دینے والی تدابیر اختیار کی جائیں اور تبدیلئ رجحان کے لیے مفید اور فاضل وقت میں مصروف رکھنے والے نئے مشاغل اختیار کیے جائیں۔
٭بستر پر جانے سے قبل پیشاب کر لیں کیونکہ بھرے ہوئے مثانے کے سبب بھی انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔
٭کسی بھی قسم کے اشتہاری ہتھکنڈے سے بچیں۔ اپنا اعتماد بحال کریں۔
علاج
علاج کی افادیت کے تعلق سے اب تک کوئی بھی معتبر اسٹڈی سامنے نہیں آئی ہے
۔


Wednesday, December 7, 2011

Mazr-e-Sharif Incidence
A Condemnable Act

Dr. Rehan Ansari
افغانستان میں پھر بم دھماکہ کر کے شیعوں کامنصوبہ بند قتل عام کردیا گیا۔ روایتی طور سے پہلے انگلی طالبان کی جانب اٹھی۔ طالبان نے ان دھماکوں سے خود کو بری الذمہ قرار دیا اور اس کی مذمت بھی کی۔ انھوں نے بیرونی گھس پیٹھوں کے تعلق سے شک ظاہر کیا۔ افغانی حکومت کی جانب سے تادمِ تحریر رپورٹ کے مطابق یہ حرکت کسی پاکستانی خودکش بمبار کی تھی۔ کسی کی بھی رہی ہو۔ قابلِ صد مذمت ہے۔ غیرانسانی ہے۔
جانے یہ کون سے مسلمان ہیں، اگر عقیدوں کے اختلافات کا علاج ایک دوسرے کو قتل کردینے میں مضمر ہے تو دنیا انسانوں سے خالی ہو جائے گی؛ پھر بھی یہ اختلافات موجود ہی رہیں گے۔


کتنی شرم کی بات ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو عقیدے کے اختلاف کی وجہ سے جان سے مار دیتا ہے۔ محرم الحرام کے مہینے کی حرمت کا بھی پاس و لحاظ نہیں رکھتا۔ ماضی میں بھی متعدد مرتبہ ایسا ہوا ہے۔ امسال تو امن رہا ورنہ پاکستان میں تو یہ گویا سالانہ رسم کی مانند انجام دیا جانے والا کام ہوگیا ہے۔ درمیان سال میں بھی مساجد میں مصلیان پر گولیاں برسانا اور ان کی جانوں سے کھیلنا کچھ لوگ مشغلہ کی مانند انجام دیتے ہیں۔ یومِ عاشورہ عقائد کے اختلاف کے باوجود ایک کربِ مشترک کی یاد بھی دلاتا ہے۔ عراق اس کرب کا مرکز ہے۔ اس حرمت والے مہینے کے ابتدائی دس دنوں میں شیعہ مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھنا بھی لازم ہے کہ یہ انسانوں کے لطیف ترین احساسات میں مدوجزر سے معنون ہے۔
اصل میں تمام ہی مدارسِ اسلامیہ میں تعلیمات اب جس انداز میں دی جاتی ہیں ان میں فرقہ واریت بین المسلمین کا درس غیرمحسوس طور سے شاملِ نصاب رہتا ہے۔ ظاہری کریکولم curriculum میں یہ موجود نہیں رہتا۔ اسی وجہ سے جب مدرسہ کے فارغین سے کسی معاملہ پر گفتگو کیجیے تو ہر مکتبِ فکر اور ہر فرقہ کے افراد کے خیالات اور افکار میں اختلافات پوری طرح کھل کر سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ اختلافات اب مدرسہ کی چہاردیواری سے نکل کر عوام الناس کے دلوں میں جاگزیں ہونے لگے ہیں۔ انھیں عقائد کا لبھاؤنا نام دیا جاتا ہے۔ اور سبھی کا یہ عقیدہ ہے کہ انھی کے مخصوص عقائد انھیں جنت میں لے جانے والے ہیں۔ واﷲ اعلم۔ ان کا کوئی لٹمس ٹیسٹ بھی موجود نہیں ہے۔ علما کے بیانات میں اس نعرہ کی بھرپور انداز سے تبلیغ ملتی ہے کہ وہ ’اتحاد بین المسلمین‘ کے لیے جی اور مر سکتے ہیں۔ مگر انھیں جینے اور مرنے کا موقع تو کب ملتا ہے ان کے پیروکار ایک دوسرے کو مارنے پر ضرور اُتارو ہوجاتے ہیں۔ جس کا مظاہرہ رہ رہ کر دنیا دیکھتی ہے۔
ہم نے وہ جلسے اور مورچے بھی اٹینڈ کیے ہیں جن میں ’’لا سُنّیہ و لا شیعیہ... اسلامیّہ اسلامیّہ!‘‘  اور ’’لاشرقیّہ و لاغربیّہ... اسلامیّہ اسلامیّہ‘‘ جیسے جذبات انگیز نعرے بھی لگائے جاتے ہیں، لیکن ہم نے دیکھا کہ یہ نعرے بھی ان مظاہروں کے گھیرے سے آگے گھروں اور مدرسوں میں داخل نہیں ہوپاتے۔ دلوں کی بات تو دیگر ہے۔
مسلمان یوں تو بہت سے فرقوں میں تقسیم ہیں۔ لیکن بنیادی طور سے یہ سنی ہیں یا پھر شیعہ۔ ذیلی فرقے دونوں میں بے گنتی ہیں۔ ہم نے بے گنتی اس لیے لکھا ہے کہ ہم نے آج تک کوئی مرتبہ فہرست نہیں دیکھی۔ لوگوں سے سنا ہے کہ کل تہتر (73) فرقے ہیں۔ سنی اور شیعہ کی تقسیم کو ختم کرنے کے لیے اور امتِ مسلمہ کو ایک ہی بنانے میں اصل میں مسلمانوں کو ہی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا۔ کیونکہ ہر دوجانب یہی ارادہ رکھے ہوئے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ سب کی اپنی اپنی تاویلیں ہیں۔ گویا اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ۔ اس تقسیم کو چودہ سو برس بیت گئے ہیں۔ اس عرصہ میں ہر ایک کے عقیدہ میں راسخی اور پختگی پیدا ہوئی ہے۔
فرقہ واریت بین المسلمین کے تحت تشدد کےواقعات کی مجموعی تعداد دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ تعداد کے لحاظ سے جذباتی سنی مسلمان زیادہ حملہ آور ہوئے ہیں۔ پہلے پہل علاقائی جھڑپیں اور خونیں تصادم ہوتے تھے مگر اب اس نے بمباری تک ترقی کرلی ہے۔ یہ بے حد افسوسناک ہے۔ نفرت کے بیجوں کی آبیاری کرنے والوں کی ہم ہر درجہ میں مذمت کرتے ہیں
۔