To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Thursday, January 26, 2012

DNA and Manjul desacreded
our TRICOLOUR
ڈی این اے اخبار اور اس کے کارٹونسٹ کی دیدہ دلیری
یوم جمہوریہ اور دستور ہند سمیت ترنگے پرچم کی حرمت سے کھلواڑ
ڈاکٹر ریحان انصاری



٢٦ جنوری ٢٠١٢ کی اشاعت میں معروف انگریزی روزنامہ "ڈی این اے" نے صفحہ اول پر ایک کارٹون شایع کیا ہے جس میں وطن کی ایک عید یعنی "یوم جمہوریہ" پر دریدہ دہن مصنف سلمان رشدی جیسے وطن سے کد رکھنے والے اور ہمیشہ ہندوستان کے منفی سماجی پہلوؤں کو پیش کرنے والے کی حمایت میں یوم جمہوریہ اور دستور ہند سمیت ترنگے پرچم کی حرمت سے کھلواڑ کیا ہے. اس میں کارٹونسٹ 'منجول' نے مستول کی جگہ قلم بنا کر اسکی نشاندہی کی ہے کہ جے پور لٹریری فیسٹول میں سلمان رشدی کی عدم آمد کے خلاف وہ احتجاج کرتے ہیں اور ترنگے کو نصف مستول پر لہرایا ہے جو کسی قومی شخصیت کے گزر جانے پر اعزازی حیثیت سے سرنگوں کیا جاتا ہے.




کیا ڈی این اے اور منجول سمیت ان کے سبھی ہم خیالوں کے نزدیک رشدی ملعون کی حیثیت کسی قومی شہید یا خدمتگار کی ہو گئی ہے؟ ہم اس موقع پر مذکورہ اخبار اور کارٹونسٹ کی مذمّت کرتے ہیں.

Sunday, January 15, 2012

Rushdie= Rush+Die
Dr. Rehan Ansari
ملعون و مردود رُشدی ایک مرتبہ پھر خبروں میں آگیا۔ اس کا سبب اس کی کوئی ہرزہ آمیز تحریر نہیں ہے بلکہ اس کی حالیہ خبرانگیزی اہلِ رُشد وہدایۃ یعنی مسلمانوں (ہندوستانی) کی وجہ سے ہے۔ پورے ملک میں تحریر و تقریر اور جلسے جلوس و مظاہروں سے متعلق مسلمان پوری شدومد کے ساتھ رُشدی کی ہندوستان آمد کے خلاف ہیں اور حکومت ہند سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسے ویزا نہیں دیا جائے۔ مرکزی وزیر سلمان خورشید کی زبانی حکومت نے بساط پر یہ پیغام دلوایا کہ ویزا دینے کا معاملہ ہی نہیں ہے کہ وہ ایک ’ہندوستانی نژاد ‘ ہونے کی شناخت رکھتے ہیں اور انھیں قانونی طور پر بغیر ویزا کے اس ملک میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ یہاں یہ سوال ضرور کیا جائے گا کہ آخر اسے ’کن قومی خدمات‘ کے صلے میں یہ اجازت نامہ حاصل ہے اور کیا ابتدا سے ہی ایسے ’متنازعہ شخص‘ کو اجازت نامہ تفویض کرنا حکومت کا قصور نہیں ہے؟ این او سی کس نے دی تھی اس کی تحقیق کرنا چاہیے۔ اس نے اپنے وطن میں ہڑبونگ پیدا کرنے کے علاوہ کیا کبھی اور کوئی ناطہ ہی رکھا ہے؟ اس کی مقبول کتابوں میں ہندوستان کی مکروہ سماجی صورت ہی پیش کی گئی ہے جس کی وجہ سے ملکِ عزیز کے تعلق سے بیرونِ ملک قارئین کے ذہنوں میں ایک منفی تصور ہی ابھرتا ہے!، جس شخص کی آمدورفت وسیع پیمانے پر لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ بنتی ہو تو کیا ایسے فرد کو سرحد سے باہر ہی رکھنا وطن کے مفاد میں نہیں ہے؟ ہم بھی اس کے خلاف اٹھنے والی آوازوں میں اپنی ناتواں آواز کو پورے زور کےساتھ شامل کرتے ہیں... مگر!
مگر، حالات کے پس منظر میں اپنے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ چند بے تکلف اور کسی قدر تلخ گفتگو بھی کرنا چاہتے ہیں۔ بقول شاعر:

مرغوب ہے محفل کو تری تلخ نوائی
زخمی سا کوئی گیت سنانے کے لیے آ
آگے بڑھنے سے قبل ہمارے بھائیوں سے شبیر احمد راہیؔ صاحب کی زبانی یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ:
’ناموسِ مصطفی کی حفاظت کے واسطے
مرنا قبول ہے  مجھے مرنا قبول ہے‘


The Blasphemy And the blasphemer
رُشدی کے کوائف جاننے کی کوشش کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک مغرب زدہ اور جدیدوآزادخیال ماں باپ کی اولاد ہے اور ہمارا تجربہ یہ رہا ہے کہ اس قسم کے بچوں کو اسلام کے تعلق سے زیادہ ترکمزور اور لاتعلق باتیں ہی سکھائی جاتی ہیں۔ خود رُشدی نے مسلمانوں کے درمیان رہنا پسند نہیں کیا اور نہ ہی اسلامی شعائر و عبادات سے متعلق رہا۔ ہر قسم کی عیاشیاں کی۔ اُس نے شہرت کا سب سے آسان نسخہ آزمایا اور اپنے منصوبے میں کامیاب ہوا۔ غیرمسلم دنیا میں وہ محض اس لیے معروف ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ وہ کامیاب چھیڑخانی کرلیتا ہے اور ہرزہ نویسی میں طاق ہے۔ وہ لوگ تورُشدی کی ادبی حیثیت بھی متعین نہیں کرسکے ہیں۔ مگر... مگر رُشدی مشہور ہے۔ اس کی شہرت ہمارے سبب ہے، ہماری بے کلی کے سبب ہے! اس بے کلی کو ہم خوب ظاہر کرنے کو ایمان کی علامت سمجھنے اور سمجھانے میں مبتلا ہیں۔کیا واقعی حالیہ بے کلی جذبۂ ایمانی کو ناپنے کا پیمانہ ہے۔ کیا اس کے بائیکاٹ یا  ویزا کی منسوخی یا اسی قبیل کی معمولی سزا یا تادیب ہمارے اُمڈتے بپھرتے جذبات کی تسکین کے لیے کافی علاج ہے؟ ہمیں تو پردۂ زنگاری سے کوئی اور معشوق جھانکتا دکھائی دیتا ہے۔ کچھ کھل کر لکھیں تو ہمارے سر پر بہت سے اپنوں کے جوتے پڑنے لگیں گے، اشارہ کرنا بھی اس وقت گناہ میں شمار ہوگا!
برسبیلِ تذکرہ ہمیں عمِّ رسولِ کریمؐ حضرت حمزہؓ کے قبولِ اسلام کا واقعہ یاد آگیا۔ اس کا خلاصہ یوں ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا گستاخِ رسول اور شاتم ابوجہل نے جب شانِ اقدسؐ میں کریہہ گستاخیاں کی تھیں تو حضرت حمزہؓ نے معلوم ہونے کے بعد ابوجہل کے سر پر اپنی کمان سے حملہ کرکے زخمی کردیا تھا اور اپنے تئیں بھتیجے ؐ اور خاندان کی بے عزتی کا بدلہ لے لیا تھا۔ نیز یہ بھی گمان تھا کہ آپؐ خوش ہو گئے ہوں گے۔ جب رسول اﷲؐ کو پتہ چلا تو آپؐ نے فرمایا کہ مجھے زیادہ خوشی اس بات سے ہوتی کہ چچا جانؓ دعوتِ حق کو قبول کرلیتے۔ حضرت حمزہؓ نے بلاتاخیر اپنے حلقہ بگوشِ اسلام ہونے کا اعلان کردیا۔ اس واقعے کے نقل کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمیں جمہوری تماشا کرنے سے زیادہ اہم ہے کہ ہم اصلی اسلامی کردار پیش کریں۔ گذشتہ پچیس برسوں سے جس شخص کو دنیا کے دیگر ملکوں میں حفاظت کے ساتھ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے اسے قرارِ واقعی انجام تک پہنچانے کی جانب مائل ہوں اور لاحاصل شورشرابہ سے گریز کریں۔ ہمارا شور شرابہ ہمارے لیے ہی نقصاندہ ثابت ہوتا ہے۔ اسکی حفاظت دوچند ہو جاتی ہے۔ہمارے مظاہرے مسلمانوں اور اسلام مخالفوں کو موقع فراہم کرتے ہیں اور ہماری امیج و شبیہ کو بین الاقوامی سطح پر مضحکہ خیز بناتے ہیں۔ کیا ہمیں اس کا احساس ہے؟ غم اور غصے سے بھری ہوئی بہت سی تحریریں اردو کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی ہمیں پڑھنے کو ملیں۔ میڈیا میں کچھ مظاہراتی تصویروں کی بھی اشاعت ہوئی۔ لیکن جس ایک اعلان نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ارتضیٰ نشاط صاحب کا قطعہ تھا جس سے ہم بھی مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ:
’پھر سے مطالبہ کرو رُشدی کے قتل کا
اُس کی پناہ گاہ کا توڑے تو کوئی لاک
موقع یہ کس کو ملتا ہے یارب ہمیں دِکھا
کرتا ہے اُس غلیظ سے دُنیا کو کون پاک
(الف، نون: انقلاب، ممبئی، ۱۲جنوری ۲۰۱۲)
ایک دلچسپ بات اور بھی لکھ دیں کہ رُشدی کے نام کے مروّجہ انگریزی املے Rushdie کو توڑ کر دیکھا تو نظر آیا کہ اس میں Rush (بھاگ) اور Die (مر) ایک دوسرے میں پیوست ہیں۔
ہم اپنی بات کو مزید طویل نہ کرتے ہوئے صرف یہی کہنا چاہتے ہیں کہ یہ مطالبہ ہی اصل فیصلہ ہے۔ یہ عمل دیوانگی کا نہیں ہوشمندی کا تقاضہ کرتا ہے۔ حکومت ہمیں بھی حقِ آزادئ تحریر دے تو اس سے زیادہ لکھنے پر بھی ہم قادر ہیں.

Wednesday, December 28, 2011

Nothing New About the New Year
Expect and Wish You All  the Best

Dr. Rehan Ansari
ایک پرانے گیت کا مکھڑا یاد آتا ہے کہ ’’پینے والوں کو پینے کا بہانہ چاہیے‘‘۔ ہر برس 31دسمبر ایک ایسا ہی بہانہ ہے۔ اس روز دل و دماغ اور نظرودید کے لیے ہر طرح کا نشہ عام ہوتا ہے، اور پینے والوں کو ۳۱دسمبر کا بہانہ ہاتھ ہوتا ہے۔
ہمارا ملک ہندوستان کثیرمذہبی ملک ہے۔ ہر مذہب کے چند تیوہار ہیں۔ ان تیوہاروں کو منانے کے کوئی اصول اگر متعین ہیں بھی تو انھیں جملہ مذاہب کے ماننے والوں کی اکثریت کبھی خاطر میں نہیں لاتی۔جب تک یہ سب اپنے اپنے معبودوں کے دربار میں کھڑے یا بیٹھے ہوتے ہیں تب تک ان کے دل اور نگاہ پر ایک طرح کی پابندی نظر آتی ہے۔ مگر جیسے ہی یہ اس آستاں سے اٹھ کر دنیائے رنگ و بو میں قدم رکھتے ہیں ان کی ساری شرافت اور انسانیت عریاں ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ان کے اندر سانس لینے والا اصلی وجود ظاہر ہوجاتا ہے۔پھر عیش میں یادِ خدا نہیں رہ جاتی! یہ سب ہوتا ہے بنامِ جشن و خوشی۔


کثیر مذہبی معاشرے کی ایک عجیب و غریب چاہت بھی کوئی اطمینان بخش منطقی نتیجہ پیش نہیں کرتی کہ ہم مذہبی تیوہاروں (عبادات و رسوم) کی ادائیگی میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی شرکت کو کیوں لازمی سمجھتے ہیں۔ اس شرکت کو مذہبی رواداری، وسیع المشربی، کشادہ ذہنیت جیسے خوبصورت اور دل پذیر ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔بلکہ سچ کہا جائے تو ان اصطلاحات کے ساتھ ایک دوسرے کو بہکایا جاتا ہے یا بہلایا جاتا ہے۔
جہاں تک تہذیبی یا معاشرتی تقریبات کا تعلق ہے تو انھیں ہمارے مشترکہ معاشرے میں ساتھ ساتھ انجام تک پہنچانے میں ہم بھی وسیع المشرب ہیں یا کہہ لیجیے روادار ہیں۔ مگر خالص مذہبی تقریبات یا مذہب سے متعلق رسوم میں پوری مشابہت کے ساتھ شرکت کرنا تو منافقت ہی کہی جانی چاہیے۔چنانچہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ ہولی دیوالی ہو، نوراتری اُتسو ہو یا گنیش اُتسو، رکھشا بندھن، کرسمس ہو یا ۳۱ دسمبر کی رات، ہم صرف اپنے نشے کے چکر میں تیوہار منانے والی ان قوموں سے تشبّہ اختیار کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ ’’رواداری‘‘ کا پاس رکھتے ہوئے یہ قومیں بھی ہماری عید کی سوئیوں اور شیرخرمے کی پیالیوں سے رسم و راہ نباہتے ہیں۔
مگر رواداری کے ایسے نباہ میں ہم نے مسلمان بھائیوں کو بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے پایا ہے۔ خصوصاً ممبئی (اور اس کے جیسے دوسرے شہروں) میں چونکہ رہائشی بلڈنگیں اب مخلوط معاشرہ کی دلیل بن چکی ہیں چنانچہ معاشرتی اور تہذیبی اثرات بھی بے پناہ خلط ملط ہو چکے ہیں۔ حتیٰ کہ مذہبی تقریبات اور تیوہاروں کو نظرانداز کرکے غور کریں تو پورا سال ان کے تہذیبی و معاشرتی آئینہ میں تفریق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون کس مذہب کا پیرو ہے۔نفسیاتی طور پر یہ شہری معاشرہ ان کے ذہنوں میں بھی مذہبی شناخت کا احساس دن بہ دن کم کرتا جاتا ہے۔ (یہاں مذہبی شناخت کو مذہبی تعصب سے مراد نہ لیں)۔اسی گمشدہ شناخت کا احساس لاشعوری طور پر اس دن سارے جذبات میں اُبال پیدا کردیتا ہے جب کوئی مذہبی تیوہار آن پڑتا ہے۔ اس وقت ہر مذہب کا ماننے والا پوری شدومد کے ساتھ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ کس مذہب کا پیرو اور وفادار ہے۔پھر اپنی یا پڑوسی بلڈنگ کے مکینوں کو یہ باور کرانے کے لیے اپنی حد سے گذرتے ہوئے تیوہار منانا پسند کرتا ہے۔ ہر تیوہار منانے والا خوشیوں (جذبات) کی افراط میں اپنے پڑوسیوں کو بھی شریک کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔ پڑوسی بھی حقِ ہمسائیگی کی ادائیگی کے لیے ان کے ساتھ ہنسی خوشی شریک ہوتے ہیں۔ اصلاً یہ سب خود کو سمجھانے اور اس احساسِ محرومی کو رام کرنے کے لیے ہے کہ اس بھرے پرے شہر میں انھیں جاننے پہچاننے والے بھی کچھ لوگ رہتے ہیں۔ بعد از تقریب ’’آج مزا آگیا!‘‘ پر بات ختم ہو جاتی ہے۔سب مشترکہ طور پر اسی بات پر رضامند ملتے ہیں کہ ’’رِند کے رِند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی‘‘


اسی مشترکہ کلچر کی دین ہے کہ کرسمس کو گھل مل کر منایا جاتا ہے۔کرسمس خاصا رنگیلا تیوہار سمجھا جاتا ہے۔ اس کی رنگینی کے سبب اکثریت اسے مذہبی سے زیادہ معاشرتی تیوہار تصور کرتی ہے۔ عیسائی روایات کے مطابق یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یومِ پیدائش ہے۔ مگر ان کے یہاں بھی کوئی واثق روایت موجود نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یکے از پیغمبرانِ اسلام ہیں۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو آپ علیہ السلام کے یومِ پیدائش پر ہمیں بھی دعاؤں کا اہتمام کرنے کی سعادت حاصل کرنی چاہیے لیکن اسلام ان سب باتوں سے منع کرتا ہے اور تشبّہ کے خوف نیز حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں ہمیں اس سے بہرحال احتراز ہی کرنا چاہیے۔
کرسمس تو کسی طور بچتے بچاتے گذار دیا جاتا ہے لیکن دلوں میں جو رنگینیوں کا تصور اور نظر کو خیرہ کرنے والی تقریبات کی جو تصویر سمائی ہوتی ہے کرسمس کے دن اس کی پوری تسکین حاصل نہیں ہو تی اس لیے سماج کے شریر و چالاک طبقات نے ۳۱ دسمبر کو سال کا یوم الآخر منانے کے نام پر ہر طرح کی دھینگا مشتی اور ہر طرح کے نشے کو رواج دے دیا ہے۔ کسی کو رقص و سرود کی محفلوں میں مزہ ملتا ہے تو کسی کو ہنگامہ خیزی سے، کسی کو آتش بازی سے دلچسپی ہوتی ہے تو کسی کو چھیڑ چھاڑ سے قرار حاصل ہوتا ہے۔بعض نوجوان فراٹے بھرتی ہوئی چارچکہ یا دوچکہ گاڑیوں پر خالی سڑکوں پر بے ہنگم شور مچاتے مل جاتے ہیں تو کچھ عیش و مستی میں ڈوبے نظر آتے ہیں۔ ٹیلی ویژن آجانے کے بعد بلاتفریقِ مذہب و ملت و معاشرہ ہر گھر میں چھوٹے پردے سے یہ سماجی ناسور رِستا ہوا نظر آتا ہے۔اس روز، بلکہ نصف شب کو ان سب باتوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ملتا۔ سوچنے کا مقام ہے کہ ان سب باتوں کو دینِ فطرت تو کجا خود عیسائی مذہب سے کیا علاقہ ہو سکتا ہے۔ یہ سب تو کھلی ہوئی شیطنت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ ہماری آواز بے حد کمزور ہے اور شاید سماعتوں کو متاثر کیے بغیر ہی دم توڑ دے گی۔ کیونکہ ۳۱ دسمبر تو ہر قسم کا نشہ ساتھ لاتا ہے اور مخمور ماحول میں کوئی اخلاقیات پر لکچر پسند نہیں کرتا؛ خصوصاً آج کا مسلم نوجوان، اسے بھی ایک لت ہے اور اس لت کا تقاضہ ہے کہ ’’پینے کا بہانہ چاہیے!‘‘