To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Tuesday, May 1, 2012

The Pity State Of Imams & Muazzins
Of Our Mosques

Dr. Rehan Ansari
ہمارے ہندوستانی مسلم معاشرے میں اور خصوصاً اردو شاعری میں بھی مسجد کے امام، ملا اور مؤذنین کو نشانے پر ہی رکھا جاتا رہا ہے۔ انھیں طعن و تشنیع سے نوازا گیا ہے۔ دیروحرم کا مضمون باندھ کرانھیں انسانوں میں تقسیم کا ذمہ دار بتایا جاتا ہے۔ ان سے سدا بدظنی ہی منسوب کی گئی ہے۔ انھیں ہمیشہ ایک ایسی علامت بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے کہ کریئرسازی کی مسابقت کے دور میں کوئی بھی صلاحیت مند نوجوان ان مناصب پر متمکن ہونے کی خواہش رکھتا ہوا پورے معاشرہ میں نہیں پایا جاتا۔ چند استثنائی صورتوںسے صرفِ نظر کریں تو معمولی سا آسودہ گھرانہ بھی ا پنے بچوں کو مساجد میں ان کاموں کی ترغیب دینا پسند نہیں کرتا۔ انجام کار مساجد میں ان خدمات پر مامور اکثر افراد شمالی ہند کی ریاستوں اور مدارس سے ’امپورٹیڈ‘ ہوا کرتے ہیں۔ ہمارے شہر بھیونڈی میں ایک باکمال شاعر و حکیم گذرے ہیں ان کا نامِ نامی تھا ’حکیم عبدالحئی ظریفؔ نظامپوری‘ صاحب؛ انھوں نے اردو کے ساتھ ہی ساتھ اپنی زبان کوکنی میں بھی شاعری کی ہے، آپ کا تنقیدی اور حقیقتِ حالات کا غماز ایک شعر یوں ہے کہ:
کنانچی یانچی مشیدی، کنانچی یانچی نماز؟
تمام بانگی مسافر،   امام باہرچے!
جسے اردو میں کسی قدر یوں لکھا جاسکتا ہے کہ:
کہاں کی اِن کی مساجد، کہاں کے اِن کے امام؟
تمام بانگی(مؤذن)  مسافر،   امام باہر کے!
آج جب ہم سوچنے بیٹھتے ہیں تو یہی چور ہمارے دل میں بھی بسیرا کرتا ہے۔مگر اس فیصلہ میں بھی دانشمندی کا پہلو ملتا ہے۔ مساجد کے ذمہ داران یا ٹرسٹیان وغیرہ سمیت اہلِ محلہ و اہالیانِ شہر تک ان خدامانِ دین و ملت کے ساتھ جیسا رویہ روا رکھتے ہیں وہ عبرت انگیز ہوتا ہے، حوصلہ شکن ہوتا ہے۔ آخر کیا وجوہات ہو سکتی ہیں ان سب باتوں کی؟ آئیے اپنے دامن میں جھانک کر دیکھیں۔
الٰہ العالمین کے حضورمسلمانوں کی صفوف کی رہبری کرنے والے کو یہ اختیار محض جماعت سے نماز کی ادائیگی تک ہی دیا جاتا ہے کہ وہ فرض کی ادائیگی کرکے مناجات پیش کردے۔ دن کی پانچ نمازوں میں یہ وقت زائد از زائد سوا گھنٹے ہوا کرتا ہے۔ جمعہ کے دن دو گھنٹے تک اس کی توسیع کرتے ہیں۔ باقی بچے ہوئے وقت میں امام صاحب کی حیثیت کیا رہتی ہے؟۔ انھی کی مانند مسجد میں حاضری کے وقت کی آگاہی دینے والے خادم یعنی مؤذن کو بھی کیسا مقام ملتا ہے اس پر بھی غور کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ ہم یہاں استثنائی صورتوں سے ایک مرتبہ پھر صرفِ نظر کرتے ہوئے عمومی صورت پر گفتگو کر رہے ہیں۔
مسجد کی تعمیر کئی باتوں اور ضرورتوں کے تحت کی جاتی ہے۔ مسجد اور جائے نماز (مصلیٰ) کے فرق سے بھی ہم سب واقف نہیں ہیں کہ مسجد ایک غیر منقولہ مستقل ملّی ملکیت، عبادت گاہ اور پورا قطعۂ زمین ہے جبکہ جو جگہ یا کمرہ عارضی طور سے بلڈنگوں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور محلّوں میں نماز کے لیے مختص یا وقف کیا جاتا ہے اسے مصلیٰ کہتے ہیں جو منہدم بھی کیا جاسکتا ہے اور منتقل بھی۔ اس کی حیثیت مستقل کی نہیں ہے۔ میں نے بظاہر چند غیرمتعلق سطریں لکھی ہیں لیکن مجھے ان کا تعلق زیرِ بحث مسئلے سے نظر آیا ہے۔ چنانچہ عرض ہے کہ مسجد میں امام یا مؤذن کا انتخاب ایک منتخبہ یا متعینہ ٹرسٹ مطلوبہ شرعی شرائط کے ساتھ کرتا ہے جبکہ مصلیٰ کے لیے عموماً جو شخص پابندی کے ساتھ مصلیٰ کو کھولنے اور بند کرنے کے ساتھ ساتھ نماز کی ادائیگی کروا دیا کرے نیز کم سے کم معاوضہ پر راضی ہو جائے،اسے مقرر کردیا جاتا ہے۔ اکثر ایسے فرد کی تلاش بھی کی جاتی ہے جو اذان و امامت دونوں کاموں کو انجام دے سکے۔ اس کے معاوضے کو دوچند کرنے کے لیے بلڈنگ میں رہائش پذیر افراد اپنے بچوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم ایک معقول معاوضہ پر طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے کھانے پینے کا معاملہ بھی اکثر مل جل کر گھروں سے باری کا ٹفن (ٹگارا) مہیا کروا کے حل کر دیتے ہیں۔ ’اندھا کیا چاہے دو آنکھ‘ کے مصداق انھیں ایسا بنگالی یا بہاری ’ملازم‘ مل ہی جاتا ہے جو کمالِ ہوشیاری کے ساتھ پوری بلڈنگ کو خوش رکھا کرتا ہے۔ ان کے کئی چھوٹے موٹے کام بھی مناسب محنتانہ کے عوض انجام دے کر ’اوورٹائم‘ کما لیتا ہے۔
اب آئیے دوسری جانب۔ مساجد میں امام و مؤذن کو منتخب کرنے کے پیمانے اور شرائط پر عمل کرنے کے بعد جنھیں منتخب کیا جاتا ہے ان کے ساتھ ہمیں کس رویہ کا مشاہدہ ہوتا ہے اور کن مسائل سے ہم انھیں دوچار دیکھتے ہیں۔
اکثر ائمۂ کرام کے متعلق ٹرسٹی حضرات کسی زرخرید غلام کی مانند برتاؤ کرتے ہیں۔ مسجد کا فنڈ تو چندے کے ذریعہ جمع ہوتا ہے مگر ٹرسٹی حضرات محسوس کرتے ہیں گویا امام کی تنخواہ وہ اپنی جیب سے ادا کررہے ہیں اس لیے امام صاحب کو ان کی ہر جا و بے جا بات سننی اور ماننی چاہیے۔ ذرا چوں و چرا کی تو امامت سے برخاست کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح کچھ بشری تقاضوں یا کمزوریوں اور مجبوریوں کے سبب جماعت میں ایک یا چند منٹ کی تاخیر ہوجائے تو اس پر ان کا پارہ اتنا چڑھ جاتا ہے کہ تشدد پر بھی اتر آتے ہیں۔ امام کے ساتھ انتہائی بدتمیزی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ مسلکی و فروعی معاملات میں امام یا مؤذن جتنی خاموشی  اختیار کرے (علمی طور پرگونگا اور بہرہ بن جائے) اتنااس کے حق میں اچھا ہوتا ہے۔


جہاں تک تنخواہ کا معاملہ ہے تو وہ ایسی ہوتی ہے کہ دوسرا کوئی پوچھے تو امام صاحب شرم کے مارے بتانا گوارا نہیں کرتے؛ عار محسوس کرتے ہیں یا بات کو دوسری جانب گھما دیتے ہیں۔حالانکہ ٹرسٹی حضرات معیاری تنخواہ دینا چاہیں تو یہ ان کے لیے ممکن بھی ہے اور اس سے ان کی اپنی عزتِ نفس کی حفاظت بھی ہوگی۔
مؤذنین کے ساتھ یہ رویہ مزید افسوسناک ہوتا ہے۔ انھیں مسجد کی خدمت کے نام پر تمام اضافی ذمہ داریاں بھی انجام دینی پڑتی ہیں۔ پانی کا انتظام، جھاڑو اور صاف صفائی، تمام لائٹ پنکھوں اور دیگر الیکٹرک و الیکٹرانی آلات کی دیکھ ریکھ کے ساتھ ہی ساتھ طہارت خانے کی صفائی کی ڈیوٹی بھی انھیں انجام دینی پڑتی ہے اور تنخواہ امام سے کسی قدر کم ہی رکھی جاتی ہے!
کچھ مقامات پر ائمہ و مؤذنین سے ایک کام اور کروایا جاتا ہے کہ محلہ محلہ گھوم کر چندے کی رسیدیں کٹوائیں اور اس طرح مسجد کے غلہ کے لیے رقم جمع کریں۔
اکثر دیکھا یہ بھی گیا ہے کہ امام و مؤذن کو دنیاوی معاملات اور کاموں خصوصاً کاروبار و دیگر روزگار میں لوگ مشغول اور ترقی کرتے ہوئے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ وہ اسے خلافِ تقویٰ خیال کرتے ہیں۔ جس کے سبب امام و مؤذن معاشی و اقتصادی بدحالی کا شکار ملتے ہیں۔ چالاک امام و مؤذن اس کا راستہ دعا تعویذ اور جھاڑپھونک و عملیات میں تلاش کرکے آسودہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
مسجد کے ٹرسٹیوں اور عوام میں بھی اکثر کا خیال ایسا رہتا ہے کہ امام و مؤذن مسجد کی حدود و رقبہ سے باہر کی دنیا میں رہنے کی قطعی کوشش نہ کریں، عوام سے بھی (بے تکلف) رابطہ میں نہ رہیں، مسجدومحراب کے علاوہ کہیں نشست و برخاست نہ کریں، یہ سارے عمل کسی متقی انسان کے نہیں ہیں! جو امام و مؤذن ان کاموں میں خود کو ملوث کرتا ہے وہ طرح طرح کے الزامات سہتا ہے اور لوگ اس سے بدظن ہوجاتے ہیں۔
جن مساجد میں فل ٹائم امامت اور خدمت کے لیے تقرری کی جاتی ہے ان میں بیشتر کی داستان یوں ہے کہ ’رہنے کا کمرہ‘ کے نام پر ایک تنگ سی نیم روشن کوٹھری کا اہتمام کیا جاتا ہے جس کی چھت اکثر پہلے منزلے پر جانے والے زینے کی ہوتی ہے اس لیے ترچھی رہتی ہے۔ اس کی چوڑائی زینے کی چوڑائی کے مطابق ہوتی ہے۔ لمبائی اور اونچائی  کا بیان پیمائشوں کو شرماتا ہے۔ ہوا کا گذر صرف دروازہ کھلا رکھنے پر ہی ہو سکتا ہے۔ اب بھلا ایسی ٹھسی ٹھسائی کوٹھری میں روزوشب بسر کرنے والا انسان ذہنی و جسمانی آرام و آسودگی کیسے حاصل کرسکے گا؟ ان کوٹھریوں کا دروازہ بھی مسجد کے آنگن میں کھلا کرتا ہے۔ اس لیے کوئی شادی شدہ امام اور مؤذن اپنے بال بچوں کو تو اس میں آباد کرنے سے رہا۔ اس طرح ٹرسٹی حضرات اور ذمہ داران اس پر ’تجرّد‘  temporary Asceticismتھوپتے ہیں، وقتی رہبانیت، وہ اپنی نفسانی خواہشات کے ساتھ کتنے عرصہ تک صلح کرسکتا ہے؟۔ ٹرسٹی حضرات کو ان خدامان کی آمدورفت کے لیے علیحدہ دروازے والی یا کسی دوسری عمارت میں معقول رہائش کا انتظام کرنا انسانی ہی نہیں دینی ذمہ داری بنتی ہے، جہاں وہ اپنے بال بچوں کے ساتھ رہ سکیں۔ وگرنہ ایک امام یا مؤذن ہی نہیں اس کی بیوی کی بھی نفسانی خواہشات کو گناہوں کی جانب پھیرنے اور اس خادم کے بال بچوں کی نگہداشت اور تعلیم و تربیت میں خلل انداز ہونے کا الزام ٹرسٹی حضرات کے ہی سر جائے گا۔
محرومی کا شکار ان افراد یعنی ائمہ و مؤذنین کا بھی اس میں کچھ قصور ضرور ہے۔ اچھے برے سبھی اس ناانصافی کا شکار ہیں۔ داستان طویل ہے لیکن مشہور ہے کہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہاں گیہوں میں گھن زیادہ پڑ گئے ہیں۔ ائمہ و مؤذنین اپنے علم یا علمی حیثیت کو بچا کررکھتے ہیں۔ وہ اسے عام کرنے کی جانب سے تغافل برتتے ہیں یا اپنا مزاج سماج سے غیرآمیز رکھتے ہیں۔ لوگوں کے روزانہ کے معاملات و مسائل کے دینی حل کو پیش کرنے میں چوک جاتے ہیں۔ باحوالہ دوٹوک دینی رہنمائی کرنے کی جگہ چہرہ دیکھ کر مصلحت اپناتے ہیں۔ شادی بیاہ اور موت مٹی یا تیوہاروں کے موقع پر بھی وہ اکثر غلط یا غیراسلامی امور کی ادائیگی سے منع نہیں کرتے۔ جمعہ اور عیدین یا رمضان کے ایام میں کچھ دینی خطابات ضرور کیے جاتے ہیں لیکن ان میں مسلکی اور مکتبی تنگ نظری حاوی رہتی ہے۔ دین کو جانے کتنے خانوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ مسلم سماج کی باطنی اصلاح کا کام اتنے خلوص و استقلال کے ساتھ انجام نہیں دیا جاتا جتنا ظاہری شناخت کو مخصوص کرنے پر دیا جاتا ہے۔ ساغرؔ خیامی نے اس پر طنز کا جو تیر تاکا ہے وہ یوں ہے کہ:

محشر میں پہنچے شیخ تو اعمال ندارد
جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد
 اس طرح جو مسجد اسلامی معاشرت کی داغ بیل ڈالنے کا ذریعہ بن سکتی ہے وہ محض فرض نمازوں کی ادائیگی اور نکاح خوانی یا قرآن خوانی سے زیادہ کسی اور استعمال میں خال خال ہی آتی ہے۔ اس میں ہم سبھی کا اجتماعی قصور ہے۔

Thursday, March 1, 2012

Israel Using US Shoulder to
Target Iran
Dr. Rehan Ansari
ایران پر حملہ کرنے کی جتنی کھجلی اسرائیل کو ہو رہی ہے دنیا کے کسی دوسرے ملک کو اس کی کچھ پڑی بھی نظر نہیں آتی۔ برخلاف اسکے ہمارا اندازہ تو یہی کہتا ہے کہ سب اس بات کے متمنی ہیں کہ امریکہ ایران کے اپنے معروضات سننے کے لیے کسی ثالث کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنے کے لیے راضی ہو جائے۔مگر امریکہ کے اپنے مفادات ہیں اور اسرائیل کے اپنے۔ دونوں کی نیت میں کھوٹ ہے؛ وہ ایران کو مل کر ہڑپنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل نے ہمارے ملک ہندوستان میں اپنے ہی سفارتکار کی گاڑی پر ہونے والے حملہ کو بہانہ کر ایک پھلجھڑی چھوڑ کے ایران کو بدنام کرنے اور دہشت پروری کا ملزم بنانے کی (ناکام) کوشش بھی کی۔ اس کی تحقیقات ہنوز بے نتیجہ ہیں۔
 اسرائیل کا معاملہ اکھا ڑے میں پہلوان کے اس بغلی کردار کی مانند ہوتا ہے جسے مقابل پر دھونس جمانا ہوتا ہے تو وہ پہلوان کی مچھلیاں ٹھونکتا اور دکھلاتا ہے ؛ پہلوان کو چابی بھرتا رہتا ہے۔ شرم اسے چھو کر بھی نہیں گذرتی۔ اسرائیل امریکہ کو اکساتا رہتا ہے اور اسی کا دم بھرتا ہے۔ دراصل امریکہ بھی اسی کا ہم قبیل ہے۔ بلکہ کہا جائے کہ اسرائیل کا استاد ہے تو غلط نہیں ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سمیت تمام ایشیائی ممالک پر امریکہ کی دھونس جمانے کے لیے اسرائیل شطرنج کی بساط پر شہ دینے والا مہرہ ہے۔
ایران کا قصور (سچ کہیں تو اس سے حسد کا سبب) یہ ہے کہ وہ ایک مسلم جمہوریہ ہو کر جوہری توانائی کی افزونی اور استعمال کے معاملہ میں ترقی کرتا جارہا ہے؛ یہ گویا ایک خاموش للکار ہے، اس کے پاس ایک جغادری اور نڈر، دانشور، غیرمصلحت پسند، راست گو، مخلص رہنما احمدی نژاد ہے جو دنیا کے سپرپاور کی آنکھ سے آنکھ ملاکر بات کرتا ہے۔ اسے شیر کی زندگی عزیز ہے؛ گیدڑ کی نہیں!... دنیا کے سیاسی مصلحت پسند اسے ’پاگل پن‘ کہتے ہیں۔ انسانی تاریخ میں ایسے لیڈروں کو ’’ہیرو‘‘ کی دائمی حیثیت حاصل رہی ہے۔ انھیں وقتی مفاد کے لیے قوم کی عزت و ناموس کا سودا کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ملک ایران کے عوام کو مرحبا کہنے کو جی کرتا ہے یعنی انھیں اپنے رہنما پر مکمل اعتماد بھی ہے اور وہ اس کے ساتھ ہر سرد و گرم میں کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی عزتِ نفس کو جانتے پہچانتے ہیں۔



The Predators and the Oppressed
The history of tomorrow
اسرائیلی روزنامہ ’’ہاریتس‘‘ Haaretz کی ۲۹ فروری کی اشاعت کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم جب ۵ مارچ کو امریکی صدر اوبامہ سے ملاقات کریں گے تو انھیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ ’’ایران کے لیے ہمارے پاس سبھی آپشن کھلے ہیں‘‘ جیسی مبہم بات سے اب گریز کرتے ہوئے ’’ایران پرفوج کشی کی ساری تیاریاں ہو چکی ہیں اور ایران نے مقررہ حدود کو پار کیا تو اسے نتائج بھگتنے ہوں گے‘‘ جیسی راست دھمکی دیں۔ نیتن یاہو اس گمان میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ایسے اعلان سے ایران کو واقعتاً محسوس ہوگا کہ امریکہ اس پر حملہ کر سکتا ہے۔
اخبارِ مذکور میں یہ بھی لکھا ہے کہ یروشلم اور واشنگٹن میں اس بات پر اتفاق ابھی تک نہیں پایا جاتا کہ نیوکلیائی تنصیبات کو بہانہ بنا کر ایران پر حملہ کر دیا جائے۔ دونوں ممالک کے سرکاری اہلکار مارچ کی ملاقات کو کامیاب بنانے اور ہم خیالی پر منتج کرنے کی ہر ممکن کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ پسِ پردہ اسرائیل امریکہ کے کاندھے پر بندوق رکھنا چاہتا ہے اور اس میٹنگ میں ایک مشترکہ قرارداد پاس کر کے ایران پر دباؤ ڈالا جائے گا۔ اس کام کے لیے نیتن یاہو امریکی کانگریس اور صدارت کے ریپبلیکن امیدواروں کو بھی استعمال کرکے اوبامہ پر دباؤ ڈالنے کی حرکت کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو کے قریبی کروڑپتی قمارخانہ کے مالک نے اوبامہ کے قریبی حریف امیدوار کی انتخابی مہم کے لیے کئی ملین ڈالر جھونک دیئے ہیں پھر بھی اوبامہ اور نیتن یاہو کے مابین ایران کے معاملہ میں اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہوا ہے۔ حالانکہ یہ کوشش بھی کی جارہی ہے کہ اوبامہ کے مقابل کی زبان سے ’امریکی اسرائیلی عوامی معاملہ کمیٹی‘ کی میٹنگ میں یہ تک کہلوایا جائے کہ ’’ایرانی خطرہ سے مقابلہ میں اوبامہ کمزور ثابت ہوئے ہیں‘‘۔
اسرائیلی امریکی مذاکرات کے تعلق سے ایک اسرائیلی اہلکار کا یہ تبصرہ معنی خیز ہے کہ ’’ان مذاکرات کی تعداد اہم نہیں ہے بلکہ ان کے نتائج اہم ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک ہونے والے مذاکرات خارپشتوں (Porcupines) کی ہمبستری کے مانند نکلے ہیں یعنی بہت سست رفتار، احتیاط اور مزید احتیاط!‘‘
نیتن یاہو نے سینہ پھلا کر یہ چال بھی چلی کہ ’’اسرائیل امریکہ کے اندرونی سیاسی معاملات میں دخل نہیں دیتا اسی لیے امریکہ بھی اس کے داخلی سیاسی معاملات میں دخل نہ دے۔‘‘ بین السطور یہ کہنا مقصد ہے کہ ایران کا معاملہ دونوں کا مشترکہ خارجی معاملہ ہے اس لیے اس میں مل کر دخل دیا جائے!... اگر ہماری جانب سے یہ تبصرہ کیا جائے کہ ایران کا معاملہ اس کا بھی داخلی معاملہ ہے تو کیا بے جا ہوگا؟
اسرائیل کو اس بات کا خطرہ ضرور ہے کہ حملہ کی صورت میں ایران جوابی حملہ کر سکتا ہے مگر اس کی منطق یہ ہے کہ یہ حملے نقصان تو پہنچائیں گے لیکن نیوکلیر ایران کے وجود سے بہتر ہیں!، (یعنی بہر صورت ایران کا گلا گھونٹ دیا جانا چاہیے)۔
جہاں تک صدرِ ایران محمود احمدی نژاد کی بات ہے تو وہ دوٹوک کہتے چلے آئے ہیں کہ جوہری توانائی سے استفادہ کرنا دنیا کے ان ممالک کی طرح اس کا بھی استحقاق ہے جنھیں یہ صلاحیت حاصل ہے۔ ان ممالک میں امریکہ اور اسرائیل دونوں بھی شامل ہیں۔
ایران پر حملے کے لیے بہانہ تراشی کی وجہ صاف سمجھ میں آتی ہے کہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کی میان میں تنہا تلوار بنے رہنا چاہتا ہے۔ یہ اس کی بقا کا بھی سوال ہے۔ اس کی بدنیتی صاف نظر آتی ہے کہ وہ خود تونیوکلیائی طاقت بنے لیکن علاقے کے دیگر ممالک اس کے دست نگر رہیں۔
مگر اسرائیل کے بڑے دماغ یہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ ان کی لاکھ کوششوں کے باوجود ابھی تک ایران پر دہشت گردی یا دہشت پروری کے الزامات چپک نہیں پائے ہیں۔ بین الاقوامی نیوکلیائی تفتیشی ایجنسیوں نے بھی ایران کے خلاف اب تک کسی سنگین سبب کی اطلاع نہیں حاصل کی ہے۔ عالمی برادری بلاثبوت ان کی کسی بات کا اعتبار نہیں کر سکتی۔ اور ثبوت ہنوز عالمِ عدم میں ہیں۔
دوسرا کوئی جواز اور نہیں ہے کہ ایران پر فوج کشی کی جائے۔ دنیائے عرب کی حالیہ تبدیلیوں کو اخباری مبصرین نے Arab Spring یا ’بہارِ عرب‘ کا خوشنما نام دیا تھا جس کے نتیجہ میں عرب سرزمینوں پرعوامی انقلابات نے حکومتوں کو تبدیل کر دیا اور وہاں جمہوری حکومتوں کی زمین تیار ہونے لگی۔ ایران کی پوزیشن اس تناظر میں الگ ہے۔ ایران کا معاملہ اس حیثیت سے مختلف ہے کہ وہاں پہلے ہی عوامی منتخبہ حکومت موجود ہے اور اسے اپنے عوام کی ہی نہیں بین الاقوامی طور پر بھی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ اس کی پالیسیاں شفاف، معتدل اور قابلِ قبول ہیں۔ امریکہ یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ ایسی صورت میں ایران کوئی ترنوالہ نہیں ہے۔ ایران کے اندرونی پر امن ماحول میں عوام میں سے حکومت مخالف کسی (باغی) جتھہ کی تشکیل بھی سرِ دست ناممکنات میں سے ہے۔ سرحدسے باہر بھی ایران کے ہمدرد و بہی خواہ پائے جاتے ہیں جبکہ اسرائیل کے حامی سبھی ممالک کسی نہ کسی منفی جذبے کے پالے پوسے ہیں جو اسرائیل و امریکہ کی بین الاقوامی دہشت گردی و دہشت پروری کو امنِ عالم کا نقیب سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں۔ ابھی تو وقت کا انصاف باقی ہے۔ اصلی دہشت گرد اور دہشت پرور بے نقاب ہو کر رہیں گے۔ کاش ہم سب یہ جلد ہی دیکھ سکتے۔

Monday, February 13, 2012

Thank You Letter to M. Aslam Kiratpuri
Penned by: Dr. Rehan Ansari

On Behalf of: M. Aslam Kiratpuri Felicitation Forum, Mumbai
 یہ ہماری خوش نصیبی ہے اور ہم اپنے بخت پر بجا طور سے ناز کرتے ہیں کہ عالی جناب ’شیخ محمد اسلم حبیب الرحمن کرتپوری صاحب‘ المعروف اسلم کرتپوری کی چار دہائیوں پر محیط بے لوث خدماتِ جلیلہ کا اعتراف کرنے کا موقع ہمیں میسر ہوا ہے۔ یہ ہمارے لیے کلاہِ افتخار ہے۔ اسلم صاحب ممبئی کی اردو دنیائے صحافت کی ایک اہم شخصیت ہیں۔ آپ کی لازوال فنی و صحافتی خدمات کا ایک زمانہ ہی معترف نہیں ہے بلکہ آنے والے نونہالانِ قوم بھی اسے یاد رکھیں گے۔آپ فن کار ہیں اور جملہ شعبہ ہائے اردو صحافت و طباعت کے فن دان بھی ہیں۔ ’لاہوری اسکول‘ سے متعلق ہوتے ہوئے بھی روادار ایسے ہیں کہ دوسرے مکاتبِ خوشنویسی سے کبھی تعصب نہیں برتا اور اپنے شاگردوں کو بھی اس کی تعلیم دی۔ اسلم صاحب نے اسکولی عمر میں ہی خطاط الہند فیض مجدد لاہوری کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا، استفادہ کیا، مشق کرتے رہے، الفاظ کی نوک پلک سنوارتے رہے، فیض صاحب کے شاگردِ رشید ثابت ہوئے۔ ان سے اکتسابِ فن کا کبھی کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔
 آپ نے ممبئی کے بیشتر اردو اخبارات میں خدمات انجام دیں۔ آپ خوشنویس بھی رہے اور تیز نویس بھی۔ ہزاروں صفحات کی کتابت نیز کتابوں اور رسائل کے ٹائٹل ڈیزائن کرچکے ہیں۔
عبدالمجید سالک ؔ صاحب نے ہر چند کہ خطاط الملک تاج زرّیں رقم کی رحلتِ پُراَندوہ پر ایک تعزیتی نوٹ لکھا تھا مگر ہم اسلم صاحب کی تہنیتِ پُرشکوہ کے موقع پر اس کی اک سطر کا حوالہ من و عن دینا پسند کرتے ہیں کہ پیغام میں ایک زبردست ترسیل مخفی ہے۔ ملاحظہ کیجیے: ’’سلاطین کے زمانے میں زیادہ تعجب انگیز نہیں مگر جمہوریت کے اس دور میں جب فن کے قدردان محض لفظی ہمدردی کرتے ہیں خطاط الملک جیسے فنکار کا پیدا ہونا ان کے اپنے فن سے لگاؤ اور محنت کی دلیل ہے‘‘۔
اسلم صاحب کا سب سے زیادہ قابلِ سپاس کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے استادِفن خطاط الہند فیض مجدد لاہوری کا ’مرقعِ فیض‘ ترتیب دے کر مبتدیان اور کاتبین و خوشنویسان کے لیے ایک لاثانی و رہنما کتاب منصہ شہود پر لے آئی جو ہنوز تشنگانِ علم و فن کے لیے ایک مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔



The "Sipasnama" image
Please click on the image to enlarge
پونہ کے سرکاری ادارہ ’بال بھارتی‘ کے قیام کے بعد پہلی جماعت کی اوّلین کتاب کو جب فیض صاحب اور ان کے شاگردوں بمع اسلم صاحب نے سپردِ کتابت کیا تو وہ ازخود خوشنویسی کا ایسا مرقع ثابت ہوئی کہ اکثر لوگوں نے اسی کے سہارے کتابت کے ابتدائی درس بھی حاصل کیے۔
اسلم صاحب ۱۹۷۴ء میں ’اردو کیلی گرافرز ایسوسی ایشن‘ کے صدر منتخب ہوئے تو اس وقت کاتبوں کے بیشتر مسائل اورالجھنوں کے تعلق سے کئی حل بھی پیش کیے۔ وہ ہر لحاظ سے اس جماعت کو خوشحال دیکھنا چاہتے تھے۔ آپ اخبارات کو عملۂ کتابت بھی فراہم کرنے کا ذریعہ تھے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ اردو اکیڈیمی کے قیام کے بعد ایک سہ ماہی جریدہ ’نورس‘ جاری ہوا تو اسلم صاحب کو اس کی کتابت و تزئین کے شعبہ کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس جریدہ کا نام بعد میں ’امکان‘ سے تبدیل ہو گیا۔ وہ جب تک جاری رہا اپنے دور کے لحاظ سے بالکل منفرد اندازِ پیش کش لیے ہوئے تھا۔
گذشتہ بیش از چالیس برسوں سے آپ فنِ کتابت و طباعت سے وابستہ ہیں۔ یہ سننے میں محض ایک معمولی سی بات لگتی ہے؛ مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ انقلاباتِ دنیائے طباعت کا وہ زمانہ ہے کہ جس کے ہر دوپانچ برسوں میں ایک نئی تکنیک کی آمد ہوتی رہی اور پرانی تکنیک کباڑ کی نذر کی جاتی رہی تھی۔ان تیزترین تبدیلیوں کے ہم رفتار ممبئی کی دنیائے اردو صحافت نے جس اکلوتے شخص کو مستقل سفرانداز پایا وہ کوئی اور نہیں صرف محمد اسلم کرتپوری ہیں۔ آپ محض کاتب اور خوشنویس ہی نہیں رہے بلکہ اردو اخبارات میں ’صفحہ اوّل‘ نیز ’سینٹر اسپریڈ‘ جیسے صفحات کی تزئین و آرائش (لے آؤٹ ڈیزائننگ) میں بھی ندرت اور زیبائش پیدا کرنے نیز قارئین کے لیے قابلِ توجہ و مرغوب بنانے کی مسلسل کاوشیں کی۔ آپ نے صحافت کے تمام شعبوں میں جدید مشینی تکنیک پر شائع ہونے والے انگریزی اخبارات کے مساوی دستی (Manual) فن پیش کرکے دادِ تحسین پائی۔
رنگین طباعت کے شروع ہوتے ہی ممبئی میں سب سے پہلا اردو چہاررنگی ماہنامہ ’’ہیما‘‘ (۱۹۷۳) دے کر اسلم صاحب نے صرف اخبار نہیں پیش کیا بلکہ یہاں کی اردو دنیا کو حوصلہ و نظر دیا۔اس کے بعد ۱۹۸۶ء میں بھی رنگین ہفت روزہ اخبار ’’الفتح‘‘ کی رسمِ اجراء مشہور پنج ستارہ ہوٹل ’’تاج اِنٹرکانٹی نینٹل‘‘ میں کرواکے یہ پیغام دیا کہ اردو اخبارات کا اجرا بھی باوقار انداز میں کیا جاسکتا ہے اور سب نے دیکھا کہ ابتدا سے ہی ’الفتح‘ اردو دنیا میں ایک ہلچل کا سبب بنا رہا۔
رفتہ رفتہ اردو دنیا کے افق پر بھی کمپیوٹر کی روشنی پھیل گئی۔ اسلم صاحب کی خواہش کے مطابق ان کے شاگرد ڈاکٹر ریحان انصاری نے فیض صاحب کے عکسِ کتابت کو ڈیجیٹل روپ دیا جس کی نوک پلک کو اسلم صاحب نے پورے استقلال کے ساتھ درست کیا۔اسے فونٹ کی صورت میں سید منظر حسن زیدی نے منتقل کیا اور اس فونٹ کو ’فیض نستعلیق‘ سے موسوم کرکے فیض صاحب کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اسلم صاحب خوش خلق ہیں، بردبار و متحمل طبع شخص ہیں، صلحِ کل اور باغ و بہار طبیعت کے مالک ہیں۔ آپ کسی کا بھی تعاون کرنے میں پیچھے نہیں رہتے۔ اسی لیے ان کی بیٹھک کے احوال تو دیکھنے یا سننے سے زیادہ تجربہ لینے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہاں ادیب و شاعر، صحافی و فنکار ، سیاستداں، علمی و فلمی ہستیاں اور تمام ہی شعبۂ حیات سے متعلق افراد کی آمدورفت رہا کرتی ہے۔ یہ دروازہ ہر کسی کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ یہ مقبولیت و التفات کی علامت ہے۔
ہمیں اعتراف ہے کہ ممدوح نے ہر موقع و محل پر بہت بڑی خدمات انجام دی ہیں اور آج کمپیوٹر کے ذریعہ ڈیجیٹل طغروں کی تشکیل کا انقلابی کام بھی انجام دیا ہے جو ایک نیا سنگِ میل قائم کرتا ہے۔ اس جشنِ تہنیت پر ہم جملہ احباب و تلمیذانِ اسلم ان کی خدمت میں مبارکباد کے ساتھ ہدیۂ سپاس بھی پیش کرنا چاہتے ہیں۔
’’گرقبول افتد زہے عز و شرف‘‘
منجانب: محمد اسلم کرتپوری فیلی سٹیشن گروپ، ۱۰فروری ۲۰۱۲ء، بروز جمعہ
بمقام: کریمی لائبریری، انجمن اسلام، سی ایس ٹی، ممبئی