To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Wednesday, May 23, 2012

Sooraj Achcha Bachcha Hai
Compiled by: Farhan Hanif
Review: Dr. Rehan Ansari
’’سورج اچھا بچہ ہے‘‘ فرحانؔ حنیف کی اس دور میں کسی قدر انوکھی تالیف ہے۔ انوکھی ان معنوں میں کہ آج کل سہولیات کے سبب ہرکوئی اپنا مجموعہ کلام یا مضامین مطبوع کرتا ہے لیکن فرحان حنیف نے اپنی پسند کا مجموعہ ترتیب دیا اور اسے کتابی شکل دے دی۔ اسے پڑھنا واقعی اچھا لگتا ہے۔ رشک ہوتا ہے کہ فرحان جیسا خیال ہمیں برسوں میں کیوں نہیں جاگا؟ ہم نے بھی تو کم نظمیں یا مضامین و کہانیاں نہیں پڑھی ہیں۔ انھی پڑھی ہوئی نظموں یا کہانیوں کو اپنی شخصیت میں جھلکانے کی کوشش کرتے ہوئے پہلے مسیں اور اب ریش حاصل کی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ ہم موروثی ہی رہے اور فرحان وارثی ثابت ہوئے۔ چھیانوے صفحات پر پھیلے ہوا لڑکپن کے اجالے میں جب ہم نے خود کو غور سے دیکھا تو رشید کوثرؔ فاروقی کا یہ شعر دھم سے یادداشت میں کود پڑا کہ:




سو ورق ہیں البم کے کودکی سے پیری تک
وقت کے مصور  کا    موقلم   نہیں  ٹھہرا
اتنے متغیر اور گوناگوں شعری گلیارے ہیں کہ ان میں کبھی املی کے بوٹے مل جاتے ہیں تو کہیں ٹافیوں کی برسات ہوجاتی ہے۔ سخت گیر دھوپ کا سامنا ہے تو ممتا کے آنچل کی ٹھنڈی چھاؤں بھی میسر ہوجاتی ہے۔ ہمیں اس پر نظم بہ نظم تبصرہ کرنے کی کوشش یا جرأت یا دونوں اس لیے نہیں کرنا چاہیے کہ ہر کسی کا اپنا بچپن ہوتا ہے اور بچپن پر تبصرہ ناگوار ہے۔ یہ انسان کی معصومیت پر تبصرہ ہوگا۔ وہ معصومیت جو اسے فطرت کی عطا ہوتی ہے۔وہ معصومیت جسے کہیں سے مستعار لیا جاسکتا ہے نہ خریدا جاسکتا ہے۔ وہ معصومیت جو صدفیصد خالص ہوتی ہے۔



Sooraj Achcha Bachcha Hai : Title
پھر یہ بھی گناہ ہوسکتا ہے کہ قاری کو ہم اپنی عینک سونپ دیں کہ بھائی اس سے دیکھو تو ایسا دکھائی دے گا۔ ہمیں یہ بھی ٹھیک نہیں لگتا۔ انھیں پڑھ کر ہر قاری اپنی رائے قائم کرے وہی اس کی کامیابی ہے۔
نظموں پر فنی نقطۂ نظر سے ضرور باتیں کی جاسکتی ہیں کیونکہ ان کا تعلق بچوں سے ہے نہ بچپن سے۔ یہ آموختہ ہے عمرِ رواں کا۔ پیرایۂ بیاں ہے ایک بالیدہ نظر شخص کا۔ فنی پہلوؤں کے اعتبار سے پورا مجموعہ ہمعصر معیار کی تلاش میں مرتب کیا گیا ہے لیکن روایتی کلاسیکی معیار بھی برقرار نظرآتا ہے۔ لفظوں کے دریچوں سے تہذیبِ نوی جھانکتی ملتی ہے تو بزرگوں کی نصیحتیں اور تربیتیں بھی ڈگمگ قدموں پر نگاہ رکھتی ملتی ہیں۔
نظموں کے تعلق سے جامع طور پر ہم ایک سطر میں یہی کہنا چاہیں گے کہ کلام اور شاعر سبھی معتبر ہیں۔ کئی نام اردو ادب، فلموں اور دیگر میڈیا کے لیے بھی بہت مشہور ہیں۔ ان میں جگن ناتھ آزاد، شمس الرحمن فاروقی، گلزار، محمد علوی، مظفر حنفی، قیصر الجعفری، ندا فاضلی، جاوید اختر، عبدالاحد ساز، ظفر گورکھپوری، سدرشن فاخر، زبیررضوی، صلاح الدین پرویز، افتخارامام صدیقی، ابراہیم اشک، احمدوصی، حامد اقبال صدیقی، عادل اسیر دہلوی، نور جہاں نور وغیرہ شامل ہیں.ان سب نے مل کر آدمی کے بچپن کے ان گوشوں کو آئینہ کر دیا ہے جو بصورت دیگر تحت الشعور میں بوسیدہ ہو جاتے ہیں.
سچ کہوں تو ’’سورج اچھا بچہ ہے‘‘ کو پرکھنے کے لیے میں نے اپنی ڈھائی سالہ بیٹی کے سامنے کچھ نظمیں گا کر پڑھیں تو وہ غرق ہوکر سنتی رہی اور اس آنکھوں میں شرارت اور چہرے کی بشاشت مسلسل افزوں ہوتی رہی۔ یہ اس کتاب کی کامیابی کی دلیل ہے۔
رِدھم اور شرارت کا آمیزہ اس کے صفحات پر موجود الفاظ و اشعار کی زبردست توانائی بنا ہوا ہے۔ پڑھتے پڑھتے بچپن میں بچھڑے ہوئے کتنے ہی الفاظ سے بازملاقات ہوئی۔ مصرعے اور اشعار تو بچپن کی رفتارِقدم کی مانند پھدکتے اچھلتے ملتے ہیں۔ بچوں کے آہنگی اشعار ملتے ہیں جن میں معنی کا پایا جانا عنقا ہوتا ہے تو کچھ نظمیں بھرپور فلسفہ اور پیغام میں بھی ملفوف ملتی ہیں۔
اس مجموعہ میں نظم اپنے کئی فارم میں بیک وقت جلوہ گر ہے۔ مثنوی، مثلث، پابند، آزاد، معریٰ، دوبیتی اور قطعہ، مسدس، ترجیع بند اور تجرباتی وغیرہ۔ اس حیثیت سے بھی ایک طالبعلم کے لیے یہ ملاحظہ کی چیز ہے۔
نغموں اور نظموں سے نکلتی ہوئی روح و ریحاں ہمارے اندرون میں ایسے سرایت ہوئی کہ ہمیں فرحاں کر گئی۔ ہر کسی کا بچپن ایک الف لیلوی داستان کی مانند ہوتا ہے۔ کھٹی میٹھی، تلخ و شیریں۔ اس کا دَرک جس عمر میں ہوتا ہے وہاں صرف یادوں کا جزیرہ آباد ہوتا ہے اور صرف یہ صدا بازگشت کرتی ہے کہ ’’کوئی لوٹا دے مرے بیتے ہوئے دن!‘‘



Farhan Hanif
بہرحال ہم فرحان حنیف کو مبارکباد دیتے ہیں کہ انھوں نے ضیافتِ طبع کا جو سامان کیا ہے اس سے ہر اردو داں ان کے حق میں دعاگو ہوکر خوان سے اٹھتا ہے۔
شائقین اسے حاصل کرنے کے لیے مکتبہ جامعہ (دہلی/ علیگڑھ/ ممبئی) اور دیگر اداروں کے علاوہ [پوسٹ باکس نمبر 4546، ممبئی سینٹرل پوسٹ آفس، ممبئی 400008 (مہاراشٹر، اِنڈیا)]سے منگا سکتے ہیں ۔نیز فون نمبر +91-9320169397سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔کتاب کی قیمت صرف پچاس روپے (ہندوستانی) ہے۔

Tuesday, May 1, 2012

The Pity State Of Imams & Muazzins
Of Our Mosques

Dr. Rehan Ansari
ہمارے ہندوستانی مسلم معاشرے میں اور خصوصاً اردو شاعری میں بھی مسجد کے امام، ملا اور مؤذنین کو نشانے پر ہی رکھا جاتا رہا ہے۔ انھیں طعن و تشنیع سے نوازا گیا ہے۔ دیروحرم کا مضمون باندھ کرانھیں انسانوں میں تقسیم کا ذمہ دار بتایا جاتا ہے۔ ان سے سدا بدظنی ہی منسوب کی گئی ہے۔ انھیں ہمیشہ ایک ایسی علامت بنا کر پیش کیا جاتا رہا ہے کہ کریئرسازی کی مسابقت کے دور میں کوئی بھی صلاحیت مند نوجوان ان مناصب پر متمکن ہونے کی خواہش رکھتا ہوا پورے معاشرہ میں نہیں پایا جاتا۔ چند استثنائی صورتوںسے صرفِ نظر کریں تو معمولی سا آسودہ گھرانہ بھی ا پنے بچوں کو مساجد میں ان کاموں کی ترغیب دینا پسند نہیں کرتا۔ انجام کار مساجد میں ان خدمات پر مامور اکثر افراد شمالی ہند کی ریاستوں اور مدارس سے ’امپورٹیڈ‘ ہوا کرتے ہیں۔ ہمارے شہر بھیونڈی میں ایک باکمال شاعر و حکیم گذرے ہیں ان کا نامِ نامی تھا ’حکیم عبدالحئی ظریفؔ نظامپوری‘ صاحب؛ انھوں نے اردو کے ساتھ ہی ساتھ اپنی زبان کوکنی میں بھی شاعری کی ہے، آپ کا تنقیدی اور حقیقتِ حالات کا غماز ایک شعر یوں ہے کہ:
کنانچی یانچی مشیدی، کنانچی یانچی نماز؟
تمام بانگی مسافر،   امام باہرچے!
جسے اردو میں کسی قدر یوں لکھا جاسکتا ہے کہ:
کہاں کی اِن کی مساجد، کہاں کے اِن کے امام؟
تمام بانگی(مؤذن)  مسافر،   امام باہر کے!
آج جب ہم سوچنے بیٹھتے ہیں تو یہی چور ہمارے دل میں بھی بسیرا کرتا ہے۔مگر اس فیصلہ میں بھی دانشمندی کا پہلو ملتا ہے۔ مساجد کے ذمہ داران یا ٹرسٹیان وغیرہ سمیت اہلِ محلہ و اہالیانِ شہر تک ان خدامانِ دین و ملت کے ساتھ جیسا رویہ روا رکھتے ہیں وہ عبرت انگیز ہوتا ہے، حوصلہ شکن ہوتا ہے۔ آخر کیا وجوہات ہو سکتی ہیں ان سب باتوں کی؟ آئیے اپنے دامن میں جھانک کر دیکھیں۔
الٰہ العالمین کے حضورمسلمانوں کی صفوف کی رہبری کرنے والے کو یہ اختیار محض جماعت سے نماز کی ادائیگی تک ہی دیا جاتا ہے کہ وہ فرض کی ادائیگی کرکے مناجات پیش کردے۔ دن کی پانچ نمازوں میں یہ وقت زائد از زائد سوا گھنٹے ہوا کرتا ہے۔ جمعہ کے دن دو گھنٹے تک اس کی توسیع کرتے ہیں۔ باقی بچے ہوئے وقت میں امام صاحب کی حیثیت کیا رہتی ہے؟۔ انھی کی مانند مسجد میں حاضری کے وقت کی آگاہی دینے والے خادم یعنی مؤذن کو بھی کیسا مقام ملتا ہے اس پر بھی غور کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ ہم یہاں استثنائی صورتوں سے ایک مرتبہ پھر صرفِ نظر کرتے ہوئے عمومی صورت پر گفتگو کر رہے ہیں۔
مسجد کی تعمیر کئی باتوں اور ضرورتوں کے تحت کی جاتی ہے۔ مسجد اور جائے نماز (مصلیٰ) کے فرق سے بھی ہم سب واقف نہیں ہیں کہ مسجد ایک غیر منقولہ مستقل ملّی ملکیت، عبادت گاہ اور پورا قطعۂ زمین ہے جبکہ جو جگہ یا کمرہ عارضی طور سے بلڈنگوں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور محلّوں میں نماز کے لیے مختص یا وقف کیا جاتا ہے اسے مصلیٰ کہتے ہیں جو منہدم بھی کیا جاسکتا ہے اور منتقل بھی۔ اس کی حیثیت مستقل کی نہیں ہے۔ میں نے بظاہر چند غیرمتعلق سطریں لکھی ہیں لیکن مجھے ان کا تعلق زیرِ بحث مسئلے سے نظر آیا ہے۔ چنانچہ عرض ہے کہ مسجد میں امام یا مؤذن کا انتخاب ایک منتخبہ یا متعینہ ٹرسٹ مطلوبہ شرعی شرائط کے ساتھ کرتا ہے جبکہ مصلیٰ کے لیے عموماً جو شخص پابندی کے ساتھ مصلیٰ کو کھولنے اور بند کرنے کے ساتھ ساتھ نماز کی ادائیگی کروا دیا کرے نیز کم سے کم معاوضہ پر راضی ہو جائے،اسے مقرر کردیا جاتا ہے۔ اکثر ایسے فرد کی تلاش بھی کی جاتی ہے جو اذان و امامت دونوں کاموں کو انجام دے سکے۔ اس کے معاوضے کو دوچند کرنے کے لیے بلڈنگ میں رہائش پذیر افراد اپنے بچوں کو ناظرہ قرآن کی تعلیم ایک معقول معاوضہ پر طے کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے کھانے پینے کا معاملہ بھی اکثر مل جل کر گھروں سے باری کا ٹفن (ٹگارا) مہیا کروا کے حل کر دیتے ہیں۔ ’اندھا کیا چاہے دو آنکھ‘ کے مصداق انھیں ایسا بنگالی یا بہاری ’ملازم‘ مل ہی جاتا ہے جو کمالِ ہوشیاری کے ساتھ پوری بلڈنگ کو خوش رکھا کرتا ہے۔ ان کے کئی چھوٹے موٹے کام بھی مناسب محنتانہ کے عوض انجام دے کر ’اوورٹائم‘ کما لیتا ہے۔
اب آئیے دوسری جانب۔ مساجد میں امام و مؤذن کو منتخب کرنے کے پیمانے اور شرائط پر عمل کرنے کے بعد جنھیں منتخب کیا جاتا ہے ان کے ساتھ ہمیں کس رویہ کا مشاہدہ ہوتا ہے اور کن مسائل سے ہم انھیں دوچار دیکھتے ہیں۔
اکثر ائمۂ کرام کے متعلق ٹرسٹی حضرات کسی زرخرید غلام کی مانند برتاؤ کرتے ہیں۔ مسجد کا فنڈ تو چندے کے ذریعہ جمع ہوتا ہے مگر ٹرسٹی حضرات محسوس کرتے ہیں گویا امام کی تنخواہ وہ اپنی جیب سے ادا کررہے ہیں اس لیے امام صاحب کو ان کی ہر جا و بے جا بات سننی اور ماننی چاہیے۔ ذرا چوں و چرا کی تو امامت سے برخاست کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح کچھ بشری تقاضوں یا کمزوریوں اور مجبوریوں کے سبب جماعت میں ایک یا چند منٹ کی تاخیر ہوجائے تو اس پر ان کا پارہ اتنا چڑھ جاتا ہے کہ تشدد پر بھی اتر آتے ہیں۔ امام کے ساتھ انتہائی بدتمیزی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ مسلکی و فروعی معاملات میں امام یا مؤذن جتنی خاموشی  اختیار کرے (علمی طور پرگونگا اور بہرہ بن جائے) اتنااس کے حق میں اچھا ہوتا ہے۔


جہاں تک تنخواہ کا معاملہ ہے تو وہ ایسی ہوتی ہے کہ دوسرا کوئی پوچھے تو امام صاحب شرم کے مارے بتانا گوارا نہیں کرتے؛ عار محسوس کرتے ہیں یا بات کو دوسری جانب گھما دیتے ہیں۔حالانکہ ٹرسٹی حضرات معیاری تنخواہ دینا چاہیں تو یہ ان کے لیے ممکن بھی ہے اور اس سے ان کی اپنی عزتِ نفس کی حفاظت بھی ہوگی۔
مؤذنین کے ساتھ یہ رویہ مزید افسوسناک ہوتا ہے۔ انھیں مسجد کی خدمت کے نام پر تمام اضافی ذمہ داریاں بھی انجام دینی پڑتی ہیں۔ پانی کا انتظام، جھاڑو اور صاف صفائی، تمام لائٹ پنکھوں اور دیگر الیکٹرک و الیکٹرانی آلات کی دیکھ ریکھ کے ساتھ ہی ساتھ طہارت خانے کی صفائی کی ڈیوٹی بھی انھیں انجام دینی پڑتی ہے اور تنخواہ امام سے کسی قدر کم ہی رکھی جاتی ہے!
کچھ مقامات پر ائمہ و مؤذنین سے ایک کام اور کروایا جاتا ہے کہ محلہ محلہ گھوم کر چندے کی رسیدیں کٹوائیں اور اس طرح مسجد کے غلہ کے لیے رقم جمع کریں۔
اکثر دیکھا یہ بھی گیا ہے کہ امام و مؤذن کو دنیاوی معاملات اور کاموں خصوصاً کاروبار و دیگر روزگار میں لوگ مشغول اور ترقی کرتے ہوئے دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ وہ اسے خلافِ تقویٰ خیال کرتے ہیں۔ جس کے سبب امام و مؤذن معاشی و اقتصادی بدحالی کا شکار ملتے ہیں۔ چالاک امام و مؤذن اس کا راستہ دعا تعویذ اور جھاڑپھونک و عملیات میں تلاش کرکے آسودہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔
مسجد کے ٹرسٹیوں اور عوام میں بھی اکثر کا خیال ایسا رہتا ہے کہ امام و مؤذن مسجد کی حدود و رقبہ سے باہر کی دنیا میں رہنے کی قطعی کوشش نہ کریں، عوام سے بھی (بے تکلف) رابطہ میں نہ رہیں، مسجدومحراب کے علاوہ کہیں نشست و برخاست نہ کریں، یہ سارے عمل کسی متقی انسان کے نہیں ہیں! جو امام و مؤذن ان کاموں میں خود کو ملوث کرتا ہے وہ طرح طرح کے الزامات سہتا ہے اور لوگ اس سے بدظن ہوجاتے ہیں۔
جن مساجد میں فل ٹائم امامت اور خدمت کے لیے تقرری کی جاتی ہے ان میں بیشتر کی داستان یوں ہے کہ ’رہنے کا کمرہ‘ کے نام پر ایک تنگ سی نیم روشن کوٹھری کا اہتمام کیا جاتا ہے جس کی چھت اکثر پہلے منزلے پر جانے والے زینے کی ہوتی ہے اس لیے ترچھی رہتی ہے۔ اس کی چوڑائی زینے کی چوڑائی کے مطابق ہوتی ہے۔ لمبائی اور اونچائی  کا بیان پیمائشوں کو شرماتا ہے۔ ہوا کا گذر صرف دروازہ کھلا رکھنے پر ہی ہو سکتا ہے۔ اب بھلا ایسی ٹھسی ٹھسائی کوٹھری میں روزوشب بسر کرنے والا انسان ذہنی و جسمانی آرام و آسودگی کیسے حاصل کرسکے گا؟ ان کوٹھریوں کا دروازہ بھی مسجد کے آنگن میں کھلا کرتا ہے۔ اس لیے کوئی شادی شدہ امام اور مؤذن اپنے بال بچوں کو تو اس میں آباد کرنے سے رہا۔ اس طرح ٹرسٹی حضرات اور ذمہ داران اس پر ’تجرّد‘  temporary Asceticismتھوپتے ہیں، وقتی رہبانیت، وہ اپنی نفسانی خواہشات کے ساتھ کتنے عرصہ تک صلح کرسکتا ہے؟۔ ٹرسٹی حضرات کو ان خدامان کی آمدورفت کے لیے علیحدہ دروازے والی یا کسی دوسری عمارت میں معقول رہائش کا انتظام کرنا انسانی ہی نہیں دینی ذمہ داری بنتی ہے، جہاں وہ اپنے بال بچوں کے ساتھ رہ سکیں۔ وگرنہ ایک امام یا مؤذن ہی نہیں اس کی بیوی کی بھی نفسانی خواہشات کو گناہوں کی جانب پھیرنے اور اس خادم کے بال بچوں کی نگہداشت اور تعلیم و تربیت میں خلل انداز ہونے کا الزام ٹرسٹی حضرات کے ہی سر جائے گا۔
محرومی کا شکار ان افراد یعنی ائمہ و مؤذنین کا بھی اس میں کچھ قصور ضرور ہے۔ اچھے برے سبھی اس ناانصافی کا شکار ہیں۔ داستان طویل ہے لیکن مشہور ہے کہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ یہاں گیہوں میں گھن زیادہ پڑ گئے ہیں۔ ائمہ و مؤذنین اپنے علم یا علمی حیثیت کو بچا کررکھتے ہیں۔ وہ اسے عام کرنے کی جانب سے تغافل برتتے ہیں یا اپنا مزاج سماج سے غیرآمیز رکھتے ہیں۔ لوگوں کے روزانہ کے معاملات و مسائل کے دینی حل کو پیش کرنے میں چوک جاتے ہیں۔ باحوالہ دوٹوک دینی رہنمائی کرنے کی جگہ چہرہ دیکھ کر مصلحت اپناتے ہیں۔ شادی بیاہ اور موت مٹی یا تیوہاروں کے موقع پر بھی وہ اکثر غلط یا غیراسلامی امور کی ادائیگی سے منع نہیں کرتے۔ جمعہ اور عیدین یا رمضان کے ایام میں کچھ دینی خطابات ضرور کیے جاتے ہیں لیکن ان میں مسلکی اور مکتبی تنگ نظری حاوی رہتی ہے۔ دین کو جانے کتنے خانوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ مسلم سماج کی باطنی اصلاح کا کام اتنے خلوص و استقلال کے ساتھ انجام نہیں دیا جاتا جتنا ظاہری شناخت کو مخصوص کرنے پر دیا جاتا ہے۔ ساغرؔ خیامی نے اس پر طنز کا جو تیر تاکا ہے وہ یوں ہے کہ:

محشر میں پہنچے شیخ تو اعمال ندارد
جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد
 اس طرح جو مسجد اسلامی معاشرت کی داغ بیل ڈالنے کا ذریعہ بن سکتی ہے وہ محض فرض نمازوں کی ادائیگی اور نکاح خوانی یا قرآن خوانی سے زیادہ کسی اور استعمال میں خال خال ہی آتی ہے۔ اس میں ہم سبھی کا اجتماعی قصور ہے۔

Thursday, March 1, 2012

Israel Using US Shoulder to
Target Iran
Dr. Rehan Ansari
ایران پر حملہ کرنے کی جتنی کھجلی اسرائیل کو ہو رہی ہے دنیا کے کسی دوسرے ملک کو اس کی کچھ پڑی بھی نظر نہیں آتی۔ برخلاف اسکے ہمارا اندازہ تو یہی کہتا ہے کہ سب اس بات کے متمنی ہیں کہ امریکہ ایران کے اپنے معروضات سننے کے لیے کسی ثالث کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنے کے لیے راضی ہو جائے۔مگر امریکہ کے اپنے مفادات ہیں اور اسرائیل کے اپنے۔ دونوں کی نیت میں کھوٹ ہے؛ وہ ایران کو مل کر ہڑپنا چاہتے ہیں۔ اسرائیل نے ہمارے ملک ہندوستان میں اپنے ہی سفارتکار کی گاڑی پر ہونے والے حملہ کو بہانہ کر ایک پھلجھڑی چھوڑ کے ایران کو بدنام کرنے اور دہشت پروری کا ملزم بنانے کی (ناکام) کوشش بھی کی۔ اس کی تحقیقات ہنوز بے نتیجہ ہیں۔
 اسرائیل کا معاملہ اکھا ڑے میں پہلوان کے اس بغلی کردار کی مانند ہوتا ہے جسے مقابل پر دھونس جمانا ہوتا ہے تو وہ پہلوان کی مچھلیاں ٹھونکتا اور دکھلاتا ہے ؛ پہلوان کو چابی بھرتا رہتا ہے۔ شرم اسے چھو کر بھی نہیں گذرتی۔ اسرائیل امریکہ کو اکساتا رہتا ہے اور اسی کا دم بھرتا ہے۔ دراصل امریکہ بھی اسی کا ہم قبیل ہے۔ بلکہ کہا جائے کہ اسرائیل کا استاد ہے تو غلط نہیں ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سمیت تمام ایشیائی ممالک پر امریکہ کی دھونس جمانے کے لیے اسرائیل شطرنج کی بساط پر شہ دینے والا مہرہ ہے۔
ایران کا قصور (سچ کہیں تو اس سے حسد کا سبب) یہ ہے کہ وہ ایک مسلم جمہوریہ ہو کر جوہری توانائی کی افزونی اور استعمال کے معاملہ میں ترقی کرتا جارہا ہے؛ یہ گویا ایک خاموش للکار ہے، اس کے پاس ایک جغادری اور نڈر، دانشور، غیرمصلحت پسند، راست گو، مخلص رہنما احمدی نژاد ہے جو دنیا کے سپرپاور کی آنکھ سے آنکھ ملاکر بات کرتا ہے۔ اسے شیر کی زندگی عزیز ہے؛ گیدڑ کی نہیں!... دنیا کے سیاسی مصلحت پسند اسے ’پاگل پن‘ کہتے ہیں۔ انسانی تاریخ میں ایسے لیڈروں کو ’’ہیرو‘‘ کی دائمی حیثیت حاصل رہی ہے۔ انھیں وقتی مفاد کے لیے قوم کی عزت و ناموس کا سودا کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ملک ایران کے عوام کو مرحبا کہنے کو جی کرتا ہے یعنی انھیں اپنے رہنما پر مکمل اعتماد بھی ہے اور وہ اس کے ساتھ ہر سرد و گرم میں کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی عزتِ نفس کو جانتے پہچانتے ہیں۔



The Predators and the Oppressed
The history of tomorrow
اسرائیلی روزنامہ ’’ہاریتس‘‘ Haaretz کی ۲۹ فروری کی اشاعت کے مطابق اسرائیلی وزیرِ اعظم جب ۵ مارچ کو امریکی صدر اوبامہ سے ملاقات کریں گے تو انھیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے کہ ’’ایران کے لیے ہمارے پاس سبھی آپشن کھلے ہیں‘‘ جیسی مبہم بات سے اب گریز کرتے ہوئے ’’ایران پرفوج کشی کی ساری تیاریاں ہو چکی ہیں اور ایران نے مقررہ حدود کو پار کیا تو اسے نتائج بھگتنے ہوں گے‘‘ جیسی راست دھمکی دیں۔ نیتن یاہو اس گمان میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ایسے اعلان سے ایران کو واقعتاً محسوس ہوگا کہ امریکہ اس پر حملہ کر سکتا ہے۔
اخبارِ مذکور میں یہ بھی لکھا ہے کہ یروشلم اور واشنگٹن میں اس بات پر اتفاق ابھی تک نہیں پایا جاتا کہ نیوکلیائی تنصیبات کو بہانہ بنا کر ایران پر حملہ کر دیا جائے۔ دونوں ممالک کے سرکاری اہلکار مارچ کی ملاقات کو کامیاب بنانے اور ہم خیالی پر منتج کرنے کی ہر ممکن کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ پسِ پردہ اسرائیل امریکہ کے کاندھے پر بندوق رکھنا چاہتا ہے اور اس میٹنگ میں ایک مشترکہ قرارداد پاس کر کے ایران پر دباؤ ڈالا جائے گا۔ اس کام کے لیے نیتن یاہو امریکی کانگریس اور صدارت کے ریپبلیکن امیدواروں کو بھی استعمال کرکے اوبامہ پر دباؤ ڈالنے کی حرکت کر رہے ہیں۔ نیتن یاہو کے قریبی کروڑپتی قمارخانہ کے مالک نے اوبامہ کے قریبی حریف امیدوار کی انتخابی مہم کے لیے کئی ملین ڈالر جھونک دیئے ہیں پھر بھی اوبامہ اور نیتن یاہو کے مابین ایران کے معاملہ میں اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہوا ہے۔ حالانکہ یہ کوشش بھی کی جارہی ہے کہ اوبامہ کے مقابل کی زبان سے ’امریکی اسرائیلی عوامی معاملہ کمیٹی‘ کی میٹنگ میں یہ تک کہلوایا جائے کہ ’’ایرانی خطرہ سے مقابلہ میں اوبامہ کمزور ثابت ہوئے ہیں‘‘۔
اسرائیلی امریکی مذاکرات کے تعلق سے ایک اسرائیلی اہلکار کا یہ تبصرہ معنی خیز ہے کہ ’’ان مذاکرات کی تعداد اہم نہیں ہے بلکہ ان کے نتائج اہم ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک ہونے والے مذاکرات خارپشتوں (Porcupines) کی ہمبستری کے مانند نکلے ہیں یعنی بہت سست رفتار، احتیاط اور مزید احتیاط!‘‘
نیتن یاہو نے سینہ پھلا کر یہ چال بھی چلی کہ ’’اسرائیل امریکہ کے اندرونی سیاسی معاملات میں دخل نہیں دیتا اسی لیے امریکہ بھی اس کے داخلی سیاسی معاملات میں دخل نہ دے۔‘‘ بین السطور یہ کہنا مقصد ہے کہ ایران کا معاملہ دونوں کا مشترکہ خارجی معاملہ ہے اس لیے اس میں مل کر دخل دیا جائے!... اگر ہماری جانب سے یہ تبصرہ کیا جائے کہ ایران کا معاملہ اس کا بھی داخلی معاملہ ہے تو کیا بے جا ہوگا؟
اسرائیل کو اس بات کا خطرہ ضرور ہے کہ حملہ کی صورت میں ایران جوابی حملہ کر سکتا ہے مگر اس کی منطق یہ ہے کہ یہ حملے نقصان تو پہنچائیں گے لیکن نیوکلیر ایران کے وجود سے بہتر ہیں!، (یعنی بہر صورت ایران کا گلا گھونٹ دیا جانا چاہیے)۔
جہاں تک صدرِ ایران محمود احمدی نژاد کی بات ہے تو وہ دوٹوک کہتے چلے آئے ہیں کہ جوہری توانائی سے استفادہ کرنا دنیا کے ان ممالک کی طرح اس کا بھی استحقاق ہے جنھیں یہ صلاحیت حاصل ہے۔ ان ممالک میں امریکہ اور اسرائیل دونوں بھی شامل ہیں۔
ایران پر حملے کے لیے بہانہ تراشی کی وجہ صاف سمجھ میں آتی ہے کہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ کی میان میں تنہا تلوار بنے رہنا چاہتا ہے۔ یہ اس کی بقا کا بھی سوال ہے۔ اس کی بدنیتی صاف نظر آتی ہے کہ وہ خود تونیوکلیائی طاقت بنے لیکن علاقے کے دیگر ممالک اس کے دست نگر رہیں۔
مگر اسرائیل کے بڑے دماغ یہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ ان کی لاکھ کوششوں کے باوجود ابھی تک ایران پر دہشت گردی یا دہشت پروری کے الزامات چپک نہیں پائے ہیں۔ بین الاقوامی نیوکلیائی تفتیشی ایجنسیوں نے بھی ایران کے خلاف اب تک کسی سنگین سبب کی اطلاع نہیں حاصل کی ہے۔ عالمی برادری بلاثبوت ان کی کسی بات کا اعتبار نہیں کر سکتی۔ اور ثبوت ہنوز عالمِ عدم میں ہیں۔
دوسرا کوئی جواز اور نہیں ہے کہ ایران پر فوج کشی کی جائے۔ دنیائے عرب کی حالیہ تبدیلیوں کو اخباری مبصرین نے Arab Spring یا ’بہارِ عرب‘ کا خوشنما نام دیا تھا جس کے نتیجہ میں عرب سرزمینوں پرعوامی انقلابات نے حکومتوں کو تبدیل کر دیا اور وہاں جمہوری حکومتوں کی زمین تیار ہونے لگی۔ ایران کی پوزیشن اس تناظر میں الگ ہے۔ ایران کا معاملہ اس حیثیت سے مختلف ہے کہ وہاں پہلے ہی عوامی منتخبہ حکومت موجود ہے اور اسے اپنے عوام کی ہی نہیں بین الاقوامی طور پر بھی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ اس کی پالیسیاں شفاف، معتدل اور قابلِ قبول ہیں۔ امریکہ یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ ایسی صورت میں ایران کوئی ترنوالہ نہیں ہے۔ ایران کے اندرونی پر امن ماحول میں عوام میں سے حکومت مخالف کسی (باغی) جتھہ کی تشکیل بھی سرِ دست ناممکنات میں سے ہے۔ سرحدسے باہر بھی ایران کے ہمدرد و بہی خواہ پائے جاتے ہیں جبکہ اسرائیل کے حامی سبھی ممالک کسی نہ کسی منفی جذبے کے پالے پوسے ہیں جو اسرائیل و امریکہ کی بین الاقوامی دہشت گردی و دہشت پروری کو امنِ عالم کا نقیب سمجھنے کی غلطی کر رہے ہیں۔ ابھی تو وقت کا انصاف باقی ہے۔ اصلی دہشت گرد اور دہشت پرور بے نقاب ہو کر رہیں گے۔ کاش ہم سب یہ جلد ہی دیکھ سکتے۔