To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Saturday, September 8, 2012

Why "As-SATTAR" is missing
from these designs of
ASMA-UL-HUSNA
Dr. Rehan Ansari
تین دہائیوں کا عرصہ بیتا۔ جب سے پرنٹنگ ٹیکنالوجی میں انقلابات داخل ہوتے گئے ہیں متنوع اور نادر ڈیجیٹل ڈیزائنوں میں اور مختلف طرح کے میڈیم پر آیاتِ قرآنی کے طغرے نیز اسماء الحسنیٰ اور نامِ نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے بھی فریم اور آویزے Hangers دستیاب ہونے لگے ہیں۔ آپ کا یہ خادم اور بندۂ ناچیز اس دنیا کا بھی سیاح واقع ہوا ہے اس لیے اسماء الحسنیٰ کے فریم یا طغروں کی پہلی دیدِ باصرہ نواز سے ہی ایک غفلت کو محسوس کرتا رہا ہے؛ یعنی اسماء الحسنیٰ کی پرنٹ Print  اور ری پرنٹ (Reprint) کے کاموں میں اﷲ سبحانہ و تعالیٰ کا ایک نام ’’الستار‘‘ ابتدا سے ہی شامل نہیں ملتا! اﷲ کے جملہ ننانوے (99) اسماء الحسنیٰ کی جو فہرست ملا کرتی ہے اس میں ایک چوکھٹے میں ’’المالک الملک‘‘ اور ایک اور چوکھٹے میں ’’ذوالجلال و الاکرام‘‘ لکھا جاتا ہے اور یہ ہم سب جانتے ہیں کہ ’’الملک‘‘ Al-Malik  اور ’’المالک‘‘  Al-Maalik دو جدا جدا نام ہیں۔ اس طرح ایک غفلت یہاں بھی ہے۔ دوسری بات کہ ’’ذوالجلال والاکرام‘‘ بھی اسم کی بجائے دعائیہ کلمات صفات  ہیں۔ (اگر میں غلطی کر رہا ہوں تو عرض ہے کہ میری اصلاح فرمائیں۔ اپنی کم علمی کا مجھے ہر گام پر اعتراف ہے). چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں :







بارہا کئی جگہوں پر اس جانب برسوں سے یہ ناچیز اشارہ کرتا رہا ہے۔ جن اصحاب سے بھی گفتگو رہی ان میں ہمارے سماج کے بااثر لوگ بھی رہے ہیں مگر سب کی جانب سے افسوس کے اظہار کے علاوہ کوئی اور اقدام نہیں ہوا۔ اب جبکہ عالمی سطح پر رابطہ کے وسائل مہیا ہو چکے ہیں تو ’’اردودریچہ‘‘ کے میڈیم سے میری درخواست جمیع مسلمانانِ عالم سے ہے کہ اس جانب اصلاح فرما کر آنے والی جنریشن تک ہمیں تصحیحِ فہرست کرکے جملہ اسماء الحسنیٰ پہنچانے کا کارِ ثواب انجام دینے کی سعی کرنی چاہیے۔ شاید آپ سب کے کاموں کے طفیل یہ بندۂ ناچیز بھی شاملِ ثواب ہوجائے۔

Sunday, June 24, 2012



One Question to Balaji Films
Can we call any Bitch with the Name of
Ekta Kapoor or Shobha Kapoor
Since they called a dog in "Kya Super Cool Hain Hum" with the name of
Fakhruddin
EKTA KAPOOR? Ah
ایک سوال
"کیا سوپر کول ہیں ہم " کے کتے کو ایکتا کپور یا شوبھا کپور نے "فخرالدین" کہنا پسند کیا ہے تو اگرکسی "کتیا" کو ہم لوگ ایکتا کپور یا شوبھا کپور کہنا چاہیں تو یہ لوگ  برا تو نہیں مانیں گے؟

Wednesday, June 13, 2012



Mehdi Hassan
THE MODEL GHAZAL SINGER
Dr. Rehan Ansari
پہلے پہل بچپن میں ہارمونیم کی دھونکنی سے پیدا ہونے والے جس آہنگ و آواز سے ہم مانوس ہوئے تھے اور اس سے مدغم جو طربیہ صدا بلند ہوتی تھی وہ نصف صدی کے عرصہ تک منفرد و مخصوص ہی رہی۔ یہ کمال مہدی حسن صاحب کا تھا۔ وہ اردو غزل گائیکی کا معیار تھے۔ آج وہ صاحبِ آواز و انداز ہم سے رخصت ہوگئے۔ اردوغزل کو دلوں میں بسا دینے والی آواز یوں تو بیسویں صدی کے خاتمے سے ہی خاموش ہوچکی تھی مگر اس آواز کے مالک بھی آج ہم سے رخصت ہوچلے۔


Aasman-e-Ghazal ke Do Sitare
Talat Mehmood & Mehdi Hassan
راجستھان میں پیدا ہونے والے مہدی حسن کا راج دلوں اور سماعتوں پر تھا۔ اردو زبان کی چاشنی کا لطف جیسا انھیں سنتے ہوئے ملتا تھا وہ سیکڑوں دوسرے غزل سنگرز کو سننے کے بعد بھی حاصل ہونا ممکن نہیں تھا۔ ان کی ہر پیشکش معراجِ فن کا نمونہ ہوا کرتی تھی۔ شعر، مصرعے اور  الفاظ کے دروبست اپنے پورے معنی و مفہوم کے ساتھ مہدی حسن کی آواز کی لہروں پر درویشانہ و شاہانہ رقصاں ہوجاتے تھے۔
ہم نے اپنی اس چھوٹی سی عمر میں غزل گائیکی کا کمرشیل دور بھی دیکھا ہے۔ اس دور میں ایک یلغار سی ہوئی تھی۔ اس پر تبصرہ کسی اور وقت کیا جائے گا مگر جن آوازوں نے غزل کو اس کا حقیقی وقار عطا کیا ان میں مہدی حسن، غلام علی اور جگجیت سنگھ کا مثلث فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ان اصحاب نے غزلوں کے انتخاب سے لے کر پیشکش تک کبھی معیار سے سمجھوتہ نہیں کیا اور پھوہڑپن یا مارکیٹ ڈیمانڈ سے اپنے دامن کو داغدار نہیں کیا۔
روایتی غزل گائیکی اور تمام ہندوستانی راگوں کے ساتھ اردوغزل کو آہنگ و انداز دینے کا جو کام مہدی حسن نے گذشتہ نصف صدی میں انجام دیا ہے ان سے قبل کسی دوسرے فنکار نے اتنے استقلال اور عزم و معیار کے ساتھ نہیں انجام دیا۔ حالانکہ مہدی حسن نے بھی پاکستانی فلموں میں گیت و نغمے گائے مگر ان کی انفرادی شناخت صرف اور صرف غزل گائیکی ہی بنی رہی۔ مہدی حسن نے اردو کے مشہور و معروف شعرا کے علاوہ اپنے عہد کے جن شعرا کے کلام کو اپنی آواز سے سجادیا وہ ناقابلِ فراموش اور دائمی شہرت کے حامل ہوگئے۔
مہدی حسن کے گلے سے جب الفاظ آواز کا لبادہ پہن کر برآمد ہوتے تو محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنے اصلی معانی کے ساتھ رقصاں و فرحاں ہیں۔
ہم اس خادمِ اردو زباں کے لیے اپنا بھرپور خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اﷲ ان کے معاصی کو معاف فرمائے اور ان کی خدماتِ معروفہ کو مزید مقبول کرے۔


The Picture of the last decade
Ab ke hum bichhde to...