To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Thursday, December 27, 2012

Nobody wrestled Modi
The results were obvious, Nothing astonishing

Dr. Rehan Ansari
نریندرمودی نے ہیٹ ٹرک کی، کیا کوئی خاص بات ہوئی؟... گجرات الیکشن میں اس بار بھی بی جے پی کی جیت ہوئی، کیا یہ غیرمتوقع تھی؟... ہرگز نہیں! گجرات کے اسمبلی انتخابی نتائج توقع کے عین مطابق ہی نکلے۔ یہ تو ہونا ہی تھا۔ البتہ ہماچل پردیش کے نتائج یقینا کسی قدر حیرت انگیز نکلے۔ جس کے نتیجہ میں ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ امسال کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو کراری شکست ہوئی ہے۔ گجرات جیتنا بی جے پی کی جیت ہرگز نہیں ہے بلکہ ہماچل ہار جانا بی جے پی کی شکست ہے!
گجرات انتخابات میں کسی نے مقابلہ کیا ہی نہیں تو بھلا ہار جیت کی گفتگو ہی کیوں ہو۔ جس طرح گجرات میں مودی کی جیت ہوئی ہے اسے بی جے پی کی جیت سے ہرگز تعبیر نہیں کیا جاسکتا، یہ مودیتوا کی جیت ہے، اسی کی مانند گجرات میں کانگریس سمیت سونیا گاندھی، منموہن سنگھ اور راہل گاندھی کی زبردست شکست ہوئی ہے۔



Oh! Congress... High Drama
انتخابات پر اور اس کے نتائج پر ابھی ماہرین کا تبصرہ اور اعدادوشمار کی پیشکش کچھ دنوں تک جاری رہے گی۔ ہم یہاں انتخابی مہم کے دوران کانگریس کے ہیوی ویٹس کی کارکردگی کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ کانگریس اور آلِ کانگریس نے شروع سے ہی دفاعی پوزیشن لے رکھی تھی۔ اسے برسرِاقتدار مودی کے خلاف کھلا پرچار کرتے ہوئے کسی دن بھی نہیں دیکھا گیا۔ بلکہ اس کے ہیوی ویٹس کے بیانات مودی کے لیے کسی ٹانک کی مانند ثابت ہوتے رہے۔ مودی نے اپنی پروپیگنڈہ مشینری کا خوب استعمال کیا۔ کانگریسی جغادری تو کچھ اس انداز میں بیانات دیتے تھے جیسے پہلے سے پلاننگ کے تحت مودی کو بغیر تھکے ہارے پلٹ کر وار کرنے کا بندوبست کرنے آئے تھے۔ ایک مضحکہ خیز صورت پیدا ہوچلی تھی۔ کانگریسی ماں بیٹے نے اپنے دورے میں ہر موقع پر یہ خیال رکھا کہ ان کی زبان سے ایسا کوئی جملہ نہ نکلنے پائے جو مودی یا اس کی طرزِحکومت پر حملہ تصور کیا جائے۔ اور اقلیتوں کے نمائندہ وزیرِ اعظم نے تو گجرات کی مٹی پر جانے کے بعد وہاں گذشتہ زائد از دس برس سے اقلیتوں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافی کو ’’محسوس‘‘ کیا!... ہائے اس زودپشیماں کا پشیماں ہونا!۔ شرم کا مقام ہے۔ اپنے دورے میں وزیرِاعظم نے اقلیتوں (مسلمانوں پڑھیں) کے علاقوں میں حاضری تو چھوڑئیے وہاں کی سڑک سے گذرجانے میں بھی احتیاط ہی روا رکھی۔ یہاں یہ تذکرہ بے محل نہیں ہوگا کہ راجیوگاندھی فاؤنڈیشن ، جس کی سربراہ سونیاگاندھی ہیں، نے ماضی میں (May 2005) مودی برانڈ کو ’’بہترین معاشی منتظم کا راجیوگاندھی قومی ایوارڈ‘‘ بھی دیا ہوا ہے۔ پھر بھلا ایسے ’بہترین منتظم‘ کے خلاف وہ انتخابات میں حصہ کیسے لے سکتے تھے؟ مودی کو ہیٹ ٹرک تو کرنی ہی تھی۔
ریاستی سطح پر دیکھا جائے تو کیشوبھائی پٹیل نے بھی کسی ایشو کے بغیر محض اپنی ’پٹیل برادری‘ کے تحفظات اور حصہ داریوں کی بابت الیکشن میں حصہ لیاتھا۔ اس بات میں ریاست بھر کے عوام کو دلچسپی بھلا کیونکر ہو سکتی تھی۔ وہ گجرات الیکشن نہیں مودی سے نجی لڑائی لڑ رہے تھے۔ انھیں تو کثیر ووٹ ملنے کے امکانات پہلے اعلان کے ساتھ ہی ختم ہوچکے تھے۔ وہ بھی مقابلہ میں نہیں تھے۔ جتنی سیٹیں وہ اسمبلی انتخاب میں جیت کر لائے ہیں اس سے زیادہ مودی کے ساتھ سودے بازی سے مل جاتیں۔ ویسے ہمارا ایک شک یہ بھی ہے کہ وہ درپردہ مودی سے ملے ہوئے ہیں اور مودی کے ہاتھ نہ آنے والے علاقوں میں دوسری پارٹیوں کا اثر و رسوخ کم کرنے کے لیے ڈمی انداز سے انتخاب میں اترے تھے، یہ بات جلد ہی کھل سکتی ہے اگر وہ دوبارہ سیاسی مفاہمت کے بہانے اپنی پارٹی کو بی جے پی میں ضم کرنے کا ڈرامہ کریں گے۔
غور سے دیکھا جائے تو انتخابات میں اس مثلث کا ایک ہی راس مستحکم تھا اور باقی دونوں راس ’ہرچند کہیں ہے نہیں ہے‘ کے مصداق نظروں سے اوجھل ہی رہتے تھے۔
اس انتخاب کا سب سے کربناک پہلو یہی تھا کہ مسلم اقلیت کو ہر پارٹی نے اچھوت کی مانند نظر انداز کر رکھا تھا۔ مودی کا ترقیات کا ’پاپ سانگ‘ کچھ اتنی تیز آواز میں بجتا رہا کہ بےچارے مظلوم مسلمانوں کی نحیف آواز کا نمائندہ کوئی نہیں بنا۔ (ان ترقیات کے تعلق سے بھی بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے مگر سرِ دست ہمارا موضوع دوسرا ہے)۔ ایسی ترقیات کس کام کی جس میں کسی ریاست کی عوام کا ایک طبقہ محض تحفظِ جان و مال کی ضمانت کو ترستا ہو۔ ریاست میں اس کے حقوقِ جمہوری تو کجا حقوقِ انسانی بھی اسے نہ ملتے ہوں۔ انھیں حقوق دلانے کی بات کرنے والوں کی کھلے عام تذلیل و تضحیک کی جاتی ہو۔ کانگریس نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ مسلمانوں کے پڑنے والے صد فیصد ووٹ اسی کو مل سکتے ہیں؛ ان کے حقوق کی بازیابی کی بات بھی منہ سے نہیں نکالی۔ کیا اسے جمہوریت کہتے ہیں؟ یہ استفسارِ معترضہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ کیا گجرات واقعی کسی جمہوری عمل سے گذر رہا تھا؟ یا وہاں کسی ڈکٹیٹر کی بازنشینی میں بھرپور تعاون دیا جارہا تھا؟، اس کے لیے راستہ ہموار کیا جارہا تھا۔ کانگریس نے جس بھیگی بلی کی مانند گجرات کی سرزمین پر قدم رکھا اور جگہ جگہ مودی کے مکھوٹے سے ڈرتے ہوئے گجرات کو سرینڈر کردیا ہے، قربان کردیا ہے، اس کا اپنا مہیب سایہ کانگریس کا بہت دور تک پیچھا کرے گا۔ دوسری ریاستوں میں بھی مسلمانوں کی نئی جنریشن اب ہوش کی آنکھیں کھول چکی ہے۔ اسے صرف کانگریس کی ماضی کی کارستانیاں ’ڈھنگ سے‘ سنانے اور بتانے والے افراد کی ضرورت ہے۔ جو یقینا ہمارے درمیان کم ملتے ہیں۔



گجرات انتخابات کے دوران یہ تبصرہ بھی بڑے زوروشور سے ہوتا آیا کہ مودی کا اگلا پڑاؤ نئی دہلی ہوگا۔ ۲۰۱۴؁ء کے پارلیمانی انتخابات میں وہ بی جے پی کے وزیرِ اعظم کے امیدوار ہوں گے۔ اگر ایسا ہوتا ہے اور اﷲ کرے کہ ایسا ہی ہو تو گجرات کے مسلمانوں کو بالواسطہ طور سے مودی اور اس کی اذیتوں سے چھٹکارا ملنے کی سبیل پیدا ہو سکتی ہے۔ مودی کو گجرات کی سرحد سے دور مصروف رہنا لازمی ہوگا۔ منوواد (ہندوتوا) میں یقین رکھنے والی جماعت میں اپنی ذات کی لڑائی لڑنی ہوگی، کیونکہ مودی بنیا ہیں۔ انتخابی نتائج کے بعد بی جے پی کا مرکزی دفتر میڈیا کے اس سوال کا جواب بڑے گول مول انداز سے دے رہا ہے کہ کیا واقعی مودی آئندہ پارلیمانی الیکشن میں مرکزی کردار نبھانے والے ہیں۔ مودی کی ہیٹ ٹرک بی جے پی کے لیے خوشی کا باعث کتنی ہے اس کا اظہار کم ملتا ہے مگر اس کی پیشانی پر تردّد کے آثار بہت نمایاں نظر آتے ہیں۔ ہندوتوا اور مودیتوا ایک ہی سکے کے دو رخ نہیں ہیں بلکہ ان میں بعدالمشرقین پایا جاتا ہے۔ دونوں کی تعریفیں الگ ہیں۔ مودی کی شبیہ پر لگے گجرات فسادات کے داغ دھوئے نہیں دھلتے۔ بی جے پی مرکز میں تنہا پارٹی نہیں ہے بلکہ وہ این ڈی اے کا ایک حصہ ہے اور این ڈی اے کی دوسری پارٹیاں مودی کے ساتھ نمایاں اختلاف رکھتی ہیں۔ یوں مودی خود بی جے پی کے لیے مسئلہ بن چکے ہیں۔ بی جے پی کے لیے وہ گلے کی ہڈی ثابت ہو رہے ہیں اور ہوسکتا ہے وہ اس کی لائبلیٹی (Liability) بھی ثابت ہوں۔
بہرحال گجرات کے اسمبلی نتائج (مودی پڑھیں) پر قومی میڈیا ایک دکاندار کی مانند کچھ دنوں تک خیالات اور آرا کی پُڑیاں بیچے گا جبکہ یہ حیرت انگیز قطعی نہیں ہیں۔ ہاں، اس بیچ بی جے پی کی پریشانیاں مودی کی وجہ سے بڑھ جانے کے امکانات ہیں کیونکہ سنگھ پریوار کسی غیربرہمن کو اپنے شانوں کے برابر اٹھنے دینے کا روادار کبھی نہیں رہا ہے۔

Tuesday, November 20, 2012

Why the harmed will respect Bal Thackeray
Dr. Rehan Ansari
بال ٹھاکرے ایک اچھے اور نافع انسان تھے، مراٹھیوں کے لیے۔ ایک اچھے لیڈر تھے، مراٹھیوں کے لیے۔ اور کہیں عقیدوں میں بھگوان بھی تھے، مراٹھیوں کے لیے۔ کوئی شک نہیں۔ یہ بالکل سچی بات ہے۔ مگر... وہ کوئی عام شخص تو تھے نہیں! دوسروں کی زندگیوں پر بھی ان کے اثرات تھے۔ مراٹھیوں کے علاوہ بھی دیگر لوگ یاتو مہاراشٹرین ہیں یا یہاں بودوباش اور روزگار رکھتے ہیں۔ اِن دیگر مہاراشٹرینوں اور ہندوستانیوں کے لیے وہ کتنے اچھے تھے کیا یہ سوال نہیں کیا جاسکتا؟ اُن کی ذات سے مہاراشٹر یا ہندوستان کے دوسرے لوگوں کو کتنا فائدہ یا نقصان ہوا کیا یہ سوال نہیں کیا جاسکتا؟ کیا ان سوالوں سے ان کا احترام مجروح ہوتا ہے؟
ان کی موت پر ہونے والا بند (میڈیا کی زبانی چلّا کر) صرف کہنے سے رضاکارانہ تھا یا اصل میں برائے خوف و اندیشہ تھا، اس کی حقیقت افشا کرنے کا گناہ فیس بک پر کرنے والی دو عورتوں کو جس انداز میں سزا کا موجب ٹھہرایا گیا اور ایک کے چچا کے اسپتال کو جو نقصان پہنچایا گیا وہ اس بات کا غماز ہے کہ ’’پرانی عادتیں مشکل سے ہی چھوٹتی ہیں‘‘ اور اس عادت کو ڈالنے والا کون ہے اسے بیان کرنے کی شاید کوئی ضرورت نہیں ہے۔عقلمند را اشارہ کافی است۔
یہاں سوال ہمارا ریاستی حکومت سے ہے جو پوری طرح شہ دینے کی سازش میں ملوث معلوم ہوتی ہے۔ وہ شیوسینکوں کے جذبات کو کیش کرنا چاہتی ہے تبھی تو بال ٹھاکرے کے انتم سنسکار کو بھی شیواجی پارک جیسے عوامی مقام پر انجام دینے کی خصوصی اجازت کا پرویژن تلاش کرنے پر ایڈمنسٹریشن کو لگا دیا جس نے محض کچھ گھنٹوں میں انگلی رکھ کر حکومت کو بتلا دیا اور پولیس کے ذریعہ یہ کام آسان کروا لیا۔ ہمیں کسی بھی خبر نامہ میں یہ نہیں نظر آیا کہ اس کی اجازت طلب کرنے والا اصلی شخص کون تھا؟ حکومت ہی کیا ایک عام آدمی بھی یہ جانتا تھا کہ اب کل کے روز اسی جگہ پر ’بال ٹھاکرے میموریل‘ کی تعمیر کرنے کا مطالبہ شیوسینک ضرور کریں گے۔
 شیواجی پارک پر میموریل کے قیام کے لیے بھی وہ دبی زبان سے ’ہاں‘ کہتی دکھائی دے رہی ہے۔ جبکہ سبھی جانتے ہیں کہ اس جگہ میموریل کے قیام سے دہائیوں اور صدیوں تک تنازعہ کا ایک بیج بھی بو دیا جائے گا۔

بال ٹھاکرے کی چتا پر آخری رسوم میں حکومت کے ذریعہ قومی اعزاز کی شمولیت بھی استفسار طلب ہے کہ جو شخص زندگی بھر اعلانیہ جمہوریت کا مذاق اڑاتا رہا ہے، اور ہٹلرشاہی یا تانا شاہی کا علمبردار رہا ہے، وہ راتوں رات خادمِ ملک و قوم کا اعزاز کیسے حاصل کرلیتا ہے؟ جس نے زندگی بھر ترنگے کی جگہ بھگوا جھنڈے کو پسند کیا تھا ،اس لیڈر کی نعش کو بھگوا پرچم میں ہی لپیٹنے کے لیے کسی معتقد نے مطالبہ کیوں نہیں کیا؟


ہم محسوس کرتے ہیں کہ شاہین ڈھوڈھا کا معاملہ گرما کر حکومت شیوسینکوں کو اکسا نے اوردوسروں کو (شیوسینکوں کی زبان اور ہاتھ سے) دھمکانے کا کام کررہی ہے کہ کسی نے اس میموریل کی تنصیب و تعمیر میں رکاوٹ ڈالنے یا بننے کی کوشش کی تو اس کی اور اس کے جملہ متعلقین کی خیر نہیں ہوگی! وگرنہ کیا معنی ہیں کہ حکومت آزادئ اظہار رائے پر حملہ کرنے والوں اور جسمانی و مالی نقصان پہنچانے والوں کو اچانک غائب بھی کردیتی ہے۔
ہم بال ٹھاکرے کے معتقدین کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔ کچھ دہائیوں تک بال ٹھاکرے کی مہاراشٹر کے بے تاج بادشاہ یا ریموٹ کنٹرول رہنے کی حیثیت کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ مگر یہ بھی تسلیم کرنے والی بات ہے کہ دنیا میں اس شخصی یا روحانی درجہ یا تقدیس کو پانے والی وہ تنہا شخصیت تو تھے نہیں۔ اور بھی محترم شخصیات زندہ بھی رہی ہیں اور مرتی بھی رہی ہیں۔مگر کسی کے احترام و عقیدت کو اپنالینا یہ شخصی انتخاب ہے۔ ہم بھی چاہیں گے کہ شیوسینکوں کی خواہش یعنی میموریل کی تعمیر و تنصیب ہو، ہو، ضرور ہو، اور اس بارے میں ہمارا تو مشورہ ہے کہ بال ٹھاکرے نے جہاں اپنی زندگی کے اہم ترین شب و روز گذارے ہیں یعنی ’ماتوشری بنگلے‘ میں یا کلانگر (باندرہ) میں ہی ان کا میموریل قائم کرکے انھیں صحیح خراجِ عقیدت پیش کیا جائے۔ وگرنہ عوامی مقامات پر دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بھی اب میموریل کی تعمیر یا مقبروں اور سمادھیوں کی تعمیر کا ایک مضبوط حوالہ ہاتھ آجائے گا اور ہندوستان میں جگہ جگہ صرف میموریل ہی رہ جائیں گے اور زندہ لوگوں کے لیے ہمیشہ نئے مسائل پیدا ہوتے رہیں گے
۔

Monday, October 29, 2012

Let's Propagate the Message of
Hajj Sermon 1433 H

Dr. Rehan Ansari
امسال یوم العرفہ یعنی یومِ حج Hajj Day 2012  کو مفتئ اعظم سعودی عربیہ شیخ عبدالعزیز بن عبداﷲ آل الشیخ صاحب کے خطبۂ حج کو آپ نے ملاحظہ کیا؟ ہم اس کے چند جملے یا اقتباسات کو یہاں نقل کریں گے مگر یہ انتخاب محض اپنی تحریری ضرورت کے لیے ہے؛ وگرنہ پورا خطبہ اپنے موضوع پر محیط، بے حد جامع اور کسا ہوا ہے۔ اسے ضرور ملاحظہ کرنا چاہیے۔اس میں دئیے گئے پیغام کا ابلاغ عام کرنا چاہیے۔ 
ہم کچھ لکھنے سے قبل یہ بھی تحریر کرنا چاہیں گے (جو رفتہ رفتہ ایک رسم کی صورت بن گئی ہے) کہ دنیا کا دیگر میڈیا مسلمانوں کے مرکز سے جاری ہونے والے بیش و کم ایک گھنٹہ طویل اس اہم فرمان کی چند سطریں بھی دینا مناسب خیال نہیں کرتا۔ ہم اس رویہ کو ’کتنی عجیب بات ہے‘ جیسے بے معنی مکالمہ کی نذر بھی نہیں کرنا چاہتے۔بلکہ اسے ’نرا تعصب‘ Open bias  کہتے ہیں۔ کیونکہ اس خطبۂ حج میں ہر سال ہمارا بین الاقوامی مقدمہ بھی پیش کیا جاتا ہے، اصلاح و تعمیر کی باتیں بھی ہوتی ہیں، احادیثِ نبویؐ کے درس کی روشنی میں پند و نصائح بھی کیے جاتے ہیں، رواداری کی تعلیم بھی دی جاتی ہے، مظلوم قوموں اور ممالک کی آہ و بکا اور استحصال کا تذکرہ بھی کیا جاتا ہے، ان کے حقوق کی پامالی اور سلبی کا بیان بھی ہوتا ہے، اقوامِ عالم کے لیے امن و سلامتی اور ہدایت کی دعائیں بھی مانگی جاتی ہیں، دشمنانِ انسانیت سے پناہ اور ان کی تباہی نیز جملہ انسانوں کے تحفظ و بقا کے لیے مناجات کی جاتی ہیں۔اور بھی بہت کچھ احسن اس میں شامل رہتا ہے مگر دنیا کا دُھرندر میڈیا اپنے بایوسکوپ میں اس جھانکی کو شامل نہیں کرتا، وہ سبھی انسانوں کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ دیتا ہے اور کانوں میں انگلیاں ٹھونس دیتا ہے کہ اس بامقصد پیغامی و دعائیہ اجتماع کو وہ دیکھ اور سن نہ سکیں۔
بہرکیف ہمیں اس جانب آئندہ بھی کوئی خوش فہمی نہیں ہے کہ سب صحیح ہوجائے گا، مگر جائے شکایت پیدا ہوئی ہے تو اس سے مفر کرنا غیرذمہ داری ہے، اس لیے یہ معترضہ سطور ہم نے لکھی ہیں۔
اردو اخبارات ایجنسیوں سے موصولہ اقتباسات شائع تو کرتے ہیں مگر کبھی ان پر تبصراتی و تجزیاتی گفتگو نہیں کرتے۔ ہم مسلمانوں کی معاشرت بھی ایسی ہوئی ہے کہ مرکزِ اسلام سے آنے والے اس پیغام کا تصور بھی ہم ایک رسم سے زیادہ نہیں کرتے۔ یوں بھی یوم الحج کو ہمارے یہاں عیدِ قرباں کی تیاریوں کی ہماہمی ہوتی ہے۔ اس لیے لوگ باگ حج کی خبریں حاصل کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ امامِ حج کا خطبہ بات چیت کا موضوع نہیں بن پاتا۔ گویا ہم بھی اپنی اپنی سطح پر اس جانب تساہلی برتنے کے عادی ہیں۔ یہ بات بھی ہمارے یہاں طویل عرصہ سے منفی انداز سے پروپیگنڈہ حاصل کرتی ہے کہ امامِ حرم یا امامِ حج جو بھی خطبہ دیتے ہیں وہ سعودی حکام کی ایما پر تحریر کردہ ہوتا ہے۔ اس میں کتنا سچ ہے یا دروغ ہمیں نہیں پتہ! البتہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ دوسرے دن بھی اﷲ کے اُن بندگان سے ہماری ملاقات نہیں ہو پاتی جو خطبہ کے اہم نکات پر کوئی رائے یا خیال ظاہر کرتے! جبکہ ہماری ناچیز رائے یہ ہے کہ ہمیں اس پیغام کو محض عرفات کی حدود سے متعلق نہ سمجھتے ہوئے جمیع مسلمینِ عالم کو اس کے اہم اور بنیادی و رہنما نکات کا ابلاغ کرنا چاہیے۔
آئیے ہم ان پیغامات کا ابلاغ کریں جو امامِ حج نے اپنے خطبہ میں دیئے ہیں۔ اتفاق سے یہ پیغامات اہلِ دوَل و اہلِ ثروت لوگوں کے لیے مخصوص بھی ہیں۔ اس لیے بھی کہ حج کی فرضیت صاحبِ استطاعت پر ہی ہے۔ مگر یہ پیغام جملہ عالمِ اسلام کو دیا جاتا ہے۔ اس پیغام کو ملت کے ان تمام دولتمندوں تک بھی پہنچنا چاہیے اور متاثر بھی کرنا چاہیے جو میدانِ عرفات میں حاضر نہیں تھے۔ ان لوگوں تک بھی پہنچنا چاہیے جو آج زمرۂ مستحقین میں ہیں مگر کل جب دن پلٹیں گے تو صاحبِ استطاعت ہو سکتے ہیں۔ اس حکیمانہ پیغام میں درج ذیل نکات شامل ہیں:
’’دہشت گردی اور ظلم کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، اظہارِ رائے اور جمہوریت کے نام پر اسلام کو بدنام کیا جارہا ہے،مسلمان اپنے مال کو علم کی ترویج کے لیے خرچ کریں، مسلم امت کو ترقی کرنی ہے تو ٹیکنالوجی کی طرف جائیں، مسلمان معاشرے کا مفید فرد ہوتا ہے، اسلام میں جبر اور ظلم کی کوئی گنجائش نہیں ہے، مسلمان باہر کے ملکوں سے اپنی دولت نکال کر اپنے معاشروں میں لائیں، مسلمانوں کو اپنی مشکلات اپنے وسائل سے حل کرنا ہوں گی، وسائل کو مسلمانوں کی ترقی اور بہبود پر خرچ کرنا چاہیے، مسلمانوں کو پورے وسائل سے استفادہ اور ان میں اضافہ بھی کرنا چاہیے،مال حلال ذریعہ سے کمایا جائے اور ایسے خرچ کیا جائے جیسے ہمیں حکم دیا گیا ہے، مسلمانوں کو باہمی نفرتوں سے بچنا ہوگا، مسلمانوں کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ بھی نیکی کرتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ بھی بھلائی کرتے ہیں، نبی کریمؐ کی بعثت تمام انسانیت کے لیے ہے، اس دین میں نہ کوئی (نجی) فیصلہ ہے نہ کوئی خاندان ہے نہ حسب نسب کا (مقام) ہے، یہ ایک ایسا دین ہے جو تقویٰ کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، جس شخص کے پاس جتنا تقویٰ ہے اتنا ہی وہ زیادہ عظیم ہے، اس امت میں صحت کے مسائل ہیں، اس امت میں باہمی اتحاد کے بھی مسائل ہیں،یہ امت باہمی اتحاد سے ہی طاقت اور تقویت حاصل کر سکتی ہے، دنیا میں شر کا غلبہ ہے، خیر کو فروغ دینے کے لیے ہمیں اسلامی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا،مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دائرے سے سود کو ہٹادیں اور تجارت کو فروغ دیں
۔