To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Thursday, June 20, 2013

Mushayere, Street Cricket or other like games and Muslim Youngsters
Dr. Rehan Ansari
ہمارا مسلم سماج کچھ عجیب و غریب بیماریوں میں مبتلا ہوچلا ہے۔ انتہا یہ ہے کہ ہم میں سے بہت سے لوگ انھیں امراض ماننے سے انکار بھی کرتے ہیں۔ بقول ’کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا‘۔ ان سماجی بیماریوں کی واضح علامات ہمارے نوجوانوں میں اور ان کی روزمرہ حرکات میں نظر آتی ہیں۔ان تمام حرکات کا نام ہے ’’مزہ، تفریح، اِنجوائمنٹ، ٹائم پاس، وغیرہ‘‘!
دیکھا جائے تو ان تمہیدی سطور میں ہی ہماری بات بھی مکمل ہو جاتی ہے لیکن ضروری ہے کہ عمومی ترسیل کے لیے کچھ باتیں مزید کھل کر کی جائیں۔
ان تمام بیماریوں یا ان کے جراثیم کو پھیلانے میں جو افراد چوبیسوں گھنٹے منہمک ہیں وہ چالاک قسم کے خودساختہ سوشل ورکر ان کے مقامی یا محلے دار آقا ہیں۔ ہر جگہ کے ’مقامی آقا‘ کو اب لوگ ’’صاحب (یا، بھائی)‘‘ جیسے منفرد اور ’بامعنی‘ لقب سے پکارنے لگے ہیں۔ اور مذکورہ بالا عوامی رابطہ کار سوشل ورکر ان کا ’’خاص‘‘ ہوتا ہے! یہ ’خاص‘ کبھی کبھی کئی افراد پر مشتمل ایک گروہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور یہ ’صاحب‘ بھی کسی قومی یا علاقائی پارٹی سے متعلق کوئی شخص ہوا کرتا ہے۔
جو بیماریاں پھیلائی جارہی ہیں ان کی فہرست کچھ یوں ہے ’’مشاعرہ (خصوصاً آل انڈیا)، کرکٹ (گلی کرکٹ اور اَنڈرآرم کرکٹ)، ٹینس بال ٹورنامنٹی کرکٹ، والی بال، فٹ بال، کبڈی، کیرم، (سبھی کھیل مقامی چینل پر ڈائرکٹ ریلے کے ساتھ، تاکہ حصہ لینے والے مزید سیلیبریٹک نشے میں مبتلا رہیں)، ان میں موٹربائک وغیرہ کے انعامات، ڈھابوں پر دیررات کی ڈنر پارٹیاں، تفریحی مقامات کی گروہی سیر یا پکنک وغیرہ‘‘۔
ہمارے ان نوجوانوں کی اکثریت پتہ نہیں
کس افیمی دوا کے زیرِ اثر ہے کہ اسے کوئی اچھی یا نصیحت آموز بات اب لطیفہ سے بھی گئی گذری سی کوئی چیز محسوس ہونے لگی ہے؛ جسے ایک کان سے سننا تو درکنار اس پر کان دھرنے کی بھی فرصت نہیں ہے اور جیسے وہ اس ’’ناوقت شور‘‘ پر اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں۔ ان کی مخفی اور فائدہ بخش صلاحیتوں  کا استعمال یہ صاحب لوگ اور ان کے خاص کبھی نہیں کرتے ( بلکہ ان سے وہ واقف بھی نہیں ہوتے!)؛ البتہ اپنی ڈائرکشن پر ان کرداروں کو سماجی اسٹیج پر کچھ اس طرح بھانڈ بنا کر پیش کرتے ہیں کہ غیرمسلم سماج کے نزدیک ہم سب اپنے ملک و قوم کے لیے ایک لائیبلیٹی بن چکے ہیں!
شہر کا کوئی نکڑ یا چوراہا ایسا نہیں ملتا کہ جہاں ہفتے یا مہینے بھر میں کسی کرکٹ، کبڈی یا اسی قبیل کے مقابلوں اور تفریحات کے رنگین بینروں سے اَٹا نہیں دیکھا جاسکتا۔ ان بینروں پر بیک گراؤنڈ میں پارٹی فلیگ کے رنگوں کے ساتھ ’صاحب‘، ’صاحب کے (نیشنل یا اسٹیٹ لیول) صاحب یا میڈم‘ اور ان کے حواریوں مواریوں کی ہنستی مسکراتی تصویریں ہوتی ہیں۔ انعامی موٹربائک کو بھی خوب نمایاں کرکے دکھایا جاتا ہے۔ یہ بھی بس ’اپنے محلوّں کی بات ہے!‘
ٹورنامنٹ اور مشاعرے تو آئے دن کا روگ بن چکے ہیں۔ ان ٹورنامنٹوں میں بھی کسی اعلیٰ صلاحیت اور پیمانے سے نہیں بلکہ محض ’تفریح یا مزہ‘ سے سروکار ہوتا ہے۔ انعام وِنعام تو بس شکست خوردہ ٹیم کے خلاف چھیڑخانی کے ہتھیار ہیں۔ اور مشاعرے... ارے توبہ!... زباں پہ بارِ خدایا یہ کس کا نام آیا... ان مشاعروں کو اب اس اِملے کے ساتھ لکھنا چاہیے ’’متشاعرے‘‘... یہی صحیح ہے۔ کیوں کہ اس میں شعرگوئی کے علاوہ شاعری کے نام پر سب کچھ ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ بھانڈگیری بھی۔ لپ اسٹک، ساڑی اور خوش لباسی کے ساتھ فقرے بھی اس کا لازمی جز بن چکے ہیں۔خوب پیسے لٹائے جاتے ہیں۔ اردو کا مذاق بنادیا جاتا ہے۔
ان دانوں کو چگنے کے بعد ہماری قوم کے چوزے ان کے دام میں پھنس جاتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے رنگ منچ جمنے لگتا ہے۔ ہر طرح کے تماشے ہونے لگتے ہیں۔ جو اپنے گھروں میں میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ سپلائی کیا ہوا پانی منہ بنا کر پیتے ہیں انھیں بِسلیری اور دوسرے منرل واٹر کی بوتلیں بغل میں دبائے گھومتے دیکھا جاتا ہے۔ چائے کافی اور ٹھنڈا تو بس ایک آواز پر ہوٹل کا ’باہروالا‘ دوڑ کر خدمت میں پیش کردیتا ہے۔ کھانا وانا تو کسی بھی مشہور ہوٹل میں اتفاقِ رائے سے کھایا  جاسکتا ہے یا پھر اپنی جگہ پیک کرکے منگوایا جاسکتا ہے۔یوں کچھ دنوں کی عیاشی کا سامان تو بہم ہو جاتا ہے۔ ’صاحب‘ کو تو بس کچھ مہینوں بعد ان چوزوں سے کام لینا ہے اور اتنا سستا سودا کرنے میں کسی طرح کی آناکانی کیسی؟
شہر کے شریف بیچارے اپنی بے بسی اور نوجوانوں کی سرکشی پر اپنا ماتھا پیٹتے رہتے ہیں مگر اپنے نوجوان اس طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتے تک نہیں۔نوجوانوں کے سامنے مستقبل کی کوئی تصویر ہوتی ہے نہ تصور۔ انھیں تو بس اپنے صاحب کی خوشنودی عزیز ہوتی ہے جو مالدار ہوتا ہے اور کسی قدر پولیسیا رسوخ بھی رکھتا ہے۔ اور یہ صاحب اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے مستقبل کے وارڈ یا اسمبلی الیکشن وغیرہ پر اپنی نظر رکھے ہوئے ہوتا ہے۔ اس میں وہ خود یا بدنصیبی سے ریزرویشن ہوگیا تو اپنی خانہ نشین اہلیہ کو یا بڑی توڑجوڑ کرنے کے لیے کودنا چاہتا ہے۔ کیونکہ اس کا دوہرا فائدہ ملنے کی امید ہوتی ہے۔ پہلے سے موجود ڈھیروں دولت میں کچھ اضافہ اور کچھ خفیہ و غیرقانونی امور یا مدات میں کارپوریشن کے دفاتر کو نرم کرنا۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ کام کچھ مخصوص راہوں پر چل کر ہی انجام دئیے جاسکتے ہیں اس لیے صاحب کو یہ سب بکھان پھیلانا ہی پڑتا ہے۔ اس میں وہ بظاہر ناکام رہ کر بھی کامیاب رہتا ہے۔ مقابل والے صاحب پر رعب بھی بنتا ہے اور سامنے خواہ کچھ بھی دکھائی دیں لیکن درپردہ ’’ہم سب بھائی بھائی‘‘ کا پیغام بھی پہنچ جاتا ہے۔
ہمیں صدمہ اس بات کا رہتا ہے کہ ان چالوں اور جالوں میں ہمارے اپنے بھائی برادر اور جھونپڑ پٹیوں کی پردہ دار خواتین تک پھنس جاتی ہیں۔ شہر کے محلّوں کے استعمال شدہ نوجوان انتخابات کے بعد کسی شماروقطار میں نہیں ملتے۔ صاحب کے گھر کی سیڑھیاں بھی اونچی ہو جاتی ہیں۔ ان پر سب کے قدم نہیں پڑ سکتے۔ آپ کے علاقے کے انتظامی مسائل تو ان کے لیے دودھ دینے والی گائے کی مانند ہوجاتے ہیں۔ اگر وہ حل ہوجائیں تو ظاہر سی بات ہے کہ آمدنی کا یہ سوتا سوکھ جائے گا۔ اس کی بھنک تک وارڈ کے لوگوں کو نہیں ملتی کہ وہ ان کے مستقل مسائل سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں۔ چھوٹے موٹے احتجاج یا مورچے کی وجہ سے ایک آدھ کام کردینا محلے میں مزید دھاک بٹھانے کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے صاحب اس مزاج کا بڑا خیال رکھا کرتے ہیں۔ خیر، یہ داستان کسی ایک محلے، کسی ایک وارڈ، کسی ایک شہر یا کسی ایک علاقے کی نہیں ہے بلکہ پورے ملک میں یہ وبا تمام مسلم اکثریتی علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے اور ہمارے نوجوانوں کی صلاحیتوں اور وقت کا استحصال کرنے والے الگ الگ روپ میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ ہمیں ان سے شکایت کم ہے مگر اپنے نوجوانوں سے زیادہ ہے کہ وہ اس بات کو پہچانتے ہیں... صاحب کو پہچانتے ہیں... خاص آدمی کو پہچانتے ہیں... اور نہ ہی خود کو پہچانتے ہیں۔ وہ کسی افیمی نشے کا شکار ہیں۔ کاش وہ جلد بیدار ہوجائیں۔ ان مشاعروں، مقابلوں اور رتجگوں کے مرض سے انھیں جلد چھٹکارا حاصل ہوجائے۔شاعرِ مشرق نے کیا خوب کہا تھا کہ:

پانی پانی کرگئی مجھ کو قلندر کی یہ بات
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا توبن!

Thursday, March 28, 2013

Beware of the Faceless Blasphemers
on FaceBook and Internet
Don't get Deceived

Dr. Rehan Ansari
بھیونڈی کے ہندو اور مسلم شہریوں کو ایک پُرامن احتجاج کے لیے آج (۲۸جنوری ۲۰۱۳؁ء کو) شہر کا ہر ’’کاروباربند‘‘ میں شانہ بشانہ شامل رہنے پر مبارکباد۔ پولیس کا تحمل اور بندوبست بھی قابلِ تعریف رہا۔ درمیان میں طرح طرح کی افواہوں کے باوجود لوگوں نے ان افواہوں کی تصدیق کا عمل جاری رکھا۔ اس کے لیے یقینا موبائل فون ٹیکنالوجی نے بڑا کردار ادا کیا۔ یہ دانشمندی رہی اور ’’کوّا کان لے گیا‘‘ پھیلانے والوں کو منہ کی کھانی پڑی۔ بند تقریباً مکمل اور کامیاب رہا۔
شہر بھیونڈی کے عوام یوں بھی ۱۹۹۲؁ء سے امن و امان کی پرورش کے لیے ملک و بیرونِ ملک میں مثال بنے ہوئے ہیں۔ اس مرتبہ بھی مسلمانوں نے انتظامیہ کے ساتھ تعاون اور امن کی برقراری میں میں کلیدی رول ادا کیا ہے۔ حالانکہ قریب کے دنوں میں کچھ شرپسندوں نے مذہبی بنیادوں پر فرقہ وارانہ جذبات کو مشتعل کرنے کی دو ایک مرتبہ منظم کوششیں بھی کی تھی لیکن دونوں فرقوں اور خصوصاً چھیڑے جانے والے مسلمانوں نے ان کی سازشوں کو بڑی حکمت کے ساتھ ناکام بنا دیا تھا۔ ہم اس اقدام کے لیے عوام کے ساتھ ہی بھیونڈی مغرب و مشرق کے اراکینِ اسمبلی کی بھی سراہنا ضرور کریں گے جو ہر موقع پر ایک ساتھ رہنے کے لیے آگے آئے اور اپنے اپنے علاقوں میں قیامِ امن کی کامیاب کوششیں کی ہیں۔علما اور ائمہ نے بھی پولیس کے ساتھ ہر موقع پر تعاون کیا ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہاں کے عوام نے ان سب کوششوں کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ چند جذباتی نوجوانوں کی ناپسندیدہ حرکات کو بھی قابو میں کرنے کے لیے سب ایک ساتھ ہوجایا کرتے ہیں۔ آج بھی ایسا ہی ہوا۔
یہاں فکر کا پہلو یہ ہے کہ ایسا ماحول اچانک کیسے پیدا ہوجاتا ہے۔ آج کے ماحول میں بنیادی عنصر ’خانۂ کعبہ کی تصویر میں انٹرنیٹ (فیس بک) پر اس کی بے حرمتی کا اندازِ پیشکش‘ ہے۔ کسی بھی مسلمان کے دل کو چیر کر رکھنے اور دماغ کو کھولانے کے لیے ان مجرموں کا سب سے کارگر اور آسان ہتھیار یہی ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی عقائد کو چھیڑ دیا جائے۔ خانۂ کعبہ اور مقاماتِ مقدسہ کی تصاویر یا رسولِ اکرمؐ کی شانِ اقدس میں ابلیسانہ حرکات کر دی جائیں اور اپنا یہ ’’میاں بھائی‘‘ کیسے تلملاتا ہے اس کا تماشا دیکھتے رہیے، قانون اور قانون والوں کے ہاتھ میں کیسے پھنستا ہے اس کا مزہ لیجیے... اور گاہے گاہے یہ کام کیا کیجیے!
میاں بھائی تذبذب میں رہتا ہے کہ کس سے لڑے؟... اصلی دشمن سامنے ہوتا نہیں!... طبیعت میں قرار اور صبر آتا نہیں۔ جذبۂ ایمانی جوش مارتا رہتا ہے۔ اسی میں کچھ بھائی ہوش کھوبیٹھتے ہیں اور ایسا کام کرجاتے ہیں جس پر بعد میں طویل عرصہ تک پچھتاوا بھی ہوتا ہے؛ لیکن اس اطمینان کے ساتھ کہ ’ہم نے اپنے دین و عقیدہ کے تحفظ و تقدس لیے کچھ توکیا!۔ قابلِ تحسین و تکریم ہے یہ جذبہ۔ لیکن کیا صرف یہی ایک کام احتجاج میں کیا جاسکتا ہے کہ خود کو اور اپنے برادران کو نقصان میں ڈال دیا جائے۔ بھائی! اصل دشمن تو نظر نہیں آیا۔ ہم لڑ گئے اپنے برادرانِ وطن سے۔ جن کے ساتھ ہمیں نسلاً در نسل رہنا ہے۔ کیا اس جذبے کے ساتھ کوئی پُرامن بقا ممکن ہے؟ تو آخر حکمتِ عملی تبدیل کرنے یا نئی تلاش کرنے کی ذمہ داری اور اسے اپنانے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟
انٹرنیٹ ابلیسانہ طبیعتوں کے لیے سب سے کارگر ہتھیار بنا ہوا ہے۔ مفت تماشا کرنے اور دیکھنے کا۔ جہاں تک ہمارے مذہب، مقاماتِ مقدسہ، شانِ اقدسؐ، امہاتُ المؤمناتؓ نیز دیگر پیغمبرانِ اسلامؑ کا تعلق ہے ان پر رکیک سے رکیک ترین حملے اور ان کی شان میں گستاخیاں، ان کے تقدس کی پامالیاں یہ بے چہرہ دشمن کسی دور میں بند رکھے ہیں نہ بند کریں گے۔ ارے، جب آپؐ کی حیاتِ مقدسہ میں آپؐ پر کوڑے پھینکنا، جسمِ اطہر پر اونٹ کی اوجھڑی کا بوجھ رکھ دینا، دشنام طرازیاں اور سنگ باریاں کرنا کیا جاچکا ہے تو ہم یہ کیسے تسلیم کرلیں کہ ان کے شیطانی کرتوت اس دور میں رک جائیں گے؟ مگر جس تحمل اور ردّعمل کا مظاہرہ آپؐ نے کیا تھا اور ان کے لیے دعائے ہدایت کی تھی ہمیں اسی کی اتباع اوّل لازم ہے۔جمہوری طریقۂ احتجاج جو اہالیانِ بھیونڈی شہر نے آج بے اشتعال کیا ہے اس کے لیے ہم جملہ شہریان کو مبارکباد دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ برادرانِ وطن اور پولیس انتظامیہ ہمارے مذہبی جذبات کو صحیح پرسپیکٹیو میں سمجھتے ہوئے آئندہ بھی ہمارے ساتھ ایسا ہی تعاون فرمائیں گے۔ ہمیں یقینا شدید غم و صدمہ ہے کہ آئے دن انٹرنیٹ پر ہمارے ہی نہیں تمام انسانوں کے جملہ مذہبی جذبات و اعتقادات سے کھلواڑ کرنے اور چھیڑنے کی حرکتیں اور سازشیں مسلسل جاری ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ کرائم برانچ کا سائبرسیل ایسے افراد کو تلاش کرکے ان کی قبیح حرکات کا قلع قمع کرے گا۔ یہ کام آسان ہے نہ مکمل کیا جاسکتا ہے لیکن یہ عمل یقینا لازم ہے کہ ہمیں اپنے جذبات و احساسات کو قابو میں رکھ کر صحیح حکمتِ عملی کے ساتھ احتجاج کرنا چاہیے، جیساکہ آج کیا گیا۔

Sunday, March 17, 2013


"Ahwal-e-Shafat"
A Concise Encyclopedia of Urdu Journalism
Compiled by Suhel Anjum
An Introduction: Dr. Rehan Ansari
سہیل انجم لکھتے ہیں: ’’صحافت کسی بھی واقعہ کو نشر کرنا یا دوسروں تک پہنچانا ہے اور اس انداز میں پہنچانا ہے کہ اسے لوگ سمجھ سکیں‘‘۔
اب صحافت کی اصطلاح ’’میڈیا‘‘ میں ضم ہو چکی ہے۔ لیکن صحافت کا عمل اور کینوس وسیع تر ہوا ہے۔ پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا دونوں کی پیشکش میں صحافت کو ہی اعتبار حاصل ہے۔پرنٹ میڈیا بھی رنگدار ہوچکا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا میں بھی انٹرنیٹ پر تعلیم یافتہ انسانی گروہ تحریری مواد کو فوقیت دیتا ہے۔صرف توثیقِ خبر کے لیے ویڈیو یا تصویری میڈیا کی جانب رجوع ہوتا ہے۔ ویسے تحریری و تصویری میڈیا بھی ایک دوسرے میں بالکل پیوست اور اب ایک ہی وجود سمجھے جاتے ہیں۔دنیا کی ہرزبان کے میڈیا نے ترقیات کی جانب پیش قدمی کی ہے اور اردو زبان بھی اس میں شامل ہے۔
اردو زبان برصغیر ہندوپاک میں زیادہ اور پوری دنیا میں بیشتر ممالک میں اب اپنا وجود اور ترویج رکھتی ہے۔ اس کا میڈیا بھی اپنے تنوع اور پیشکش کے لحاظ سے معاصر زبانوں کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہے۔ اس کا ثبوت وہ اعدادوشمار ہیں جو اردو پرنٹ میڈیا کے تعلق سے رجسٹریشن آف نیوزپیپرس اِن انڈیا (RNI) کی سالانہ رپورٹ سے آشکارا ہے کہ ہندوستان میں اردو اخبارات تعداد کے لحاظ سے ہندی اور انگریزی کے بعد تیسرے نمبر پر ہیں۔یقینا ابھی اردو والوں کی نئی جنریشن کو اردو تعلق سے سنجیدہ نہیں دیکھا جا رہا ہے مگر جب ہم اپنی زبان کو باقی رکھنے میں دلچسپی لیں گے اور اردو کے اخبارات اور رسائل کو انٹرنیٹ پر یا گھر پر منگوا کر دیکھتے رہیں گے تو نئی جنریشن کو بھی ترغیب مل سکتی ہے۔ اسی عمل میں اپنی تہذیبی اور اخلاقی شناخت بھی پوشیدہ ہے۔

The Cover Page of the Book and Author
’احوالِ صحافت‘ ایک ایسی کتاب ہے جس نے درجِ بالا تاثرات ہی نہیں ابھارے بلکہ ہماری برسوں کی تشنگی کی تسکین کا سامان ثابت ہوئی۔ سہیل انجم (دہلی) نے بظاہر ایک کتاب لکھی ہے مگر اصلاً یہ اردوصحافت کا ایک مختصر انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اس میں طلبائے صحافت کے ذہنوں میں اٹھنے والے بیشتر سوالات کا جواب اجمالاً موجود ہے۔ اس میں تاریخِ اردوصحافت، ہمارے چند اسلافِ صحافت کے مختصر حالات مع ان کی بیباک منتخبہ تحریروں کے نمونے اور تحریکیں، تحریکِ آزادی کی ابتدا سے آزادی تک حریت پسندی و جرأت خیزی کے ساتھ انگریزوں سے مقابلہ آرائی، قربانیاں اور بیباکیاںمذکور ہیں۔ طلباء کے لیے صحافت کے رموزونکات کے ساتھ ہی دورِ جدید میں اردوصحافت کے تقاضے و رہنمائیاں، اردو صحافت کی کارپوریٹ سیکٹر سے رشتہ داری اور اس کے اثراتِ نیک و بد باب وار درج ہیں۔جو نتیجہ خیز ہی نہیں بلکہ کہیں باعثا ہمت ہیں تو کہیں باعثِ عبرت بھی ہیں۔میڈیا کا معاشرہ سے اٹوٹ رشتہ ہے۔ اور یہ میڈیا ہماری مشترکہ ہندوستانی تہذیب پر کس کس انداز سے اثرانداز ہوتا ہے اس کا بھی بھرپور تجزیہ ہے۔
سہیل انجم چاہتے تو دوسرے اردو صحافیوں کی مانند خبریں لکھ پڑھ کر، مضامین سپردِقلم کرنے اور چھپانے کے کام کرکے اور دوسرے حربے استعمال کرکے مست رہ سکتے تھے لیکن سہیل انجم نے اس کتاب کو تحریر کرکے سچ پوچھیے تو اردو والوں کے سر سے ایک قرض اتارا ہے۔آپ نے اس سے قبل بھی کئی تلخ و شیریں کتابیں صحافت کے موضوع پر دی ہیں جن کی پذیرائی ہمارے دور کے اکابرین کر چکے ہیں۔
’احوالِ صحافت‘ مبتدیانِ صحافت کے لیے ورق ورق رہنما اور ایک دستاویز ہے تو مشّاقان و مشتاقانِ اردو صحافت کے لیے ایک ریمائنڈر اور ریفریشر کی حیثیت رکھتی ہے۔
سہیل انجم ایک ایسے صحافی ہیں جن کی نظروں سے عصری حسیت یا تقاضوں سے متعلق کوئی موضوع چھپ نہیں پاتا اور فوراً ان کا خامہ سبک روی سے چلنے لگتا ہے۔ ادب و فنون، مذہب و جنون، معاشرت و سماج، سیاسیاتِ ملکی و بین الاقوامی، پیشہ و مالیات،شخصیات و سفریات وغیرہ ہمہ قسم کے موضوعات ان کے قلم کی روشنائی مستعار لے کر مرقوم ہوچکے ہیں۔مگر یہ خیال نہ لائیں کہ وہ کافی سن رسیدہ ہیں۔ وہ نئی نسل کے نمائندہ ہیں اور ان کے اساتذہ ان پر فخر کرتے ہیں۔انھوں نے اپنے قلم پر کسی بھی مصلحت کا دباؤ کبھی قبول نہیں کیا اور اپنے محسوسات و مشاہدات کو من و عن لکھا ہے۔ یوں بھی ان کی شخصیت کے ظاہر و باطن سے شرافت و نجابت پھوٹتی رہتی ہے۔ نہایت خوش خصال اور محبت لٹانے والے آدمی ہیں۔ ان کا خلوص دیکھ کر بے ساختہ یہ مصرعہ یاد آتا ہے کہ ’’اتنے مخلص بھی نہ بن جاؤ کہ پچھتانا پڑے‘‘۔
زبان کے معاملے میں بھی بیحد شستہ، بامحاورہ، سلیس و رواں اردو لکھتے ہیں۔ اور انھیں یہ دستاویز ہم نہیں بلکہ ہمارے عہد کی ایک معتبر ترین ہستی پروفیسر عبدالحق صاحب دیتے ہیں۔ ان کے الفاظ ہیں: ’’ان کی تحریر کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ادبیت ہے، اسلوبِ تحریر بہت جان لیوا ہے اور اندازِ تحریر دامنِ دل کو کھینچتا ہے۔ سہیل انجم نئی نسل کے صحافیوں میں ایک امتیاز رکھتے ہیں، ان کے خبر و نظر میں موجود واقعہ کی منصفانہ تعبیر ہمیں متاثر کرتی ہے، اردوصحافت کے ماضی و حال پر ان کی بصیرت افروز نظر ہے، وہ تحریر و قلم کی حرمت کا حتی المقدور پاس رکھتے ہیں۔ وہ اس لیے بھی مجھے عزیز ہیں کہ ان کی تحریریں شگفتگی سے خالی نہیں ہوتیں۔ ادب و انشا سے ہم آمیزی صحافت کے جوہر آشکار کرتی ہے اور دلنوازی بھی بخشتی ہے۔ ان سے بہت توقعات ہیں‘‘۔
’احوالِ صحافت‘ کے ساتھ سہیل انجم ایک درجن کتابوں کے مصنف ہوچکے ہیں جن میں سے بیشتر کا موضوع صحافت ہی ہے۔ اس کثیرتصنیفی عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کتنے باخبر، باریک بین اور دوربین صحافی ہیں۔سہیل انجم ایک کثیرالمطالعہ اور میدانِ عمل کی ایک متحرک شخصیت ہیں۔ ’احوالِ صحافت‘ موصول ہونے کے بعد ہمیں لگا کہ اسے سرسری طور سے پڑھ لیں گے مگر افسوس کہ ہمیں اپنے ارادہ میں ناکامی ہوئی۔ اس کے ایک ایک صفحہ کو ٹھہرٹھہر کر پڑھنا ہوا اور انجام کار ’احوالِ صحافت‘ کو پڑھ کر ہم تو سہیل انجم کے پرستار ہوگئے۔ ذیل میں ان کی کاٹ دار اور تجزیہ نگار تحریر کے چند نمونے ملاحظہ کریں:
۱) اردو صحافت میں کارپوریٹ سیکٹر والے مضمون میں لکھتے ہیں، ’’یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اردو صحافت کی جانب محبت پاش نظروں سے اچانک کیوں دیکھنے لگے جن کا کردار اردوزبان کے حوالے سے واضح نہیں رہا ہے یا جن کو اس لٹی پٹی زبان سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی ہے۔ اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں جن کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ عام طور پر لوگوں کا خیال ہے کہ کارپوریٹ یا تجارتی ادارے کسی بھی معاملہ میں اس وقت تک ہاتھ نہیں ڈالتے جب تک انھیں اس سے کسی قسم کے مالی فائدے کی امید نہ ہو‘‘ اس مضمون کا اختتام بھی بہت خوب کیا ہے کہ ’’جس کو ان اداروں سے نکلنے والے اخبار پسند ہوں گے وہ ان میں دلچسپی لے گا۔ فی الحال اس اندیشے میں بھی کوئی دم نظر نہیں آرہا کہ ان اخباروں سے مسلمانوں کا عقیدہ خراب ہوجائے گا اور ان کے ایمان پر تلوار لٹک جائے گی۔ مسلمانوں کا عقیدہ اتنا کمزور اور ان کا ایمان اتنا متزلزل نہیں ہے کہ چند اخبارات ان کو بگاڑ سکیں۔ ہمیں ہر اس تبدیلی کا خیرمقدم کرنا چاہیے جس کے دامن میں اثبات کے امکانات زیادہ ہوں اور نفی کے کم‘‘۔
۲) ’ہمعصر اردو صحافت کے تقاضے‘ میں آپ ان سطور سے ابتدا کرتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ زندہ زبانیں روزگار کی بنیاد پر نہیں بلکہ جذبہ کی بنیاد پر باقی رہتی ہیں اور ان کی شریانوں میں اقتصادیات و معاشیات کے لہو کے بجائے جوش اور جنون حرارت بن کر گردش کرتے ہیں۔ یہ موضوع الگ بحث کا متقاضی ہے کہ اگر زبان روزگار فراہم نہ کرسکے تو کیا ہم اس سے اپنا ناطہ توڑ لیں اور اسے اپنی زندگی کے شب و روز سے خارج کردیں؟‘‘
۳) فیچر اور مضمون کا موازنہ کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں: کوئی ضروری نہیں کہ جو شخص اچھا مدیر، اچھا مضمون نگار اور اچھا صحافی ہو وہ اچھا فیچر نویس بھی ہو۔ کوئی بھی مضمون جہاں سنجیدگی کا متقاضی ہوتا ہے وہیں فیچر کے لیے دلچسپ اور پُرلطف پیرایۂ بیان ضروری ہے۔ مضمون کی عمارت جہاں ٹھوس حقائق کی بنیاد پر تعمیر کی جاتی ہے وہیں فیچر کی تعمیر مشاہدے اور وجدان کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ مضمون جہاں معلوماتی ادب کا نمائندہ ہوتا ہے وہیں فیچر تفریحی ادب کا علمبردار ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ تفریحی ادب بھی  اردو ادب کے خزانے کا ایک گراں قدر حصہ ہے، اس لیے فیچر کو تفریحی ادب کہہ کر نہ تو نظرانداز کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کی اہمیت کم کی جاسکتی ہے۔‘‘
’احوالِ صحافت‘ پڑھنے سے دلچسپی رکھنے والے اسے براہِ راست سہیل انجم سے حاصل کرسکتے ہیں۔ کتاب کی قیمت دو سو(200) روپے ہے آپ سے رابطہ درج ذیل پتوں پر ہوگا:

Suhel Anjum
370/6A, Zakir Nagar, New Delhi, 110025
M#: 9582078862 / 9818195929
email: sanjumdelhi@gmail.co