To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Monday, January 27, 2014

Isn't Somnath Bharti overly honest so far?
Dr Rehan Ansari
ایڈوکیٹ سومناتھ بھارتی ریاست دہلی کے وزیرِ قانون ہیں، ان کے پاس دیگر محکمے سیاحت، فن و ثقافت اور اصلاحِ انتظامیہ کے ہیں۔اس سے قبل وہ ہماری اور آپ کی مانند ایک عام آدمی تھے۔ مگر پیشے سے ایک کامیاب اور نامور وکیل تھے۔ آئی آئی ٹی کے پوسٹ گریجویٹ بھی ہیں۔ ریاضی سے ایم ایس سی کیا ہے اور قانون کی ڈگری ایل ایل بی بھی رکھتے ہیں۔ابھی مہینہ بھر کی دہلی میں عام آدمی پارٹی ( حسبِ اُردو ’ عآپ‘ یا مشہورِ عام ’آپ‘) کی حکومت میں ایک اہم اصلاحی کام کے لیے ان کی جانب سے کیے گئے اقدام کو لے کر ایک ہنگامہ سا کھڑا کردیا گیا ہے۔ اس ہنگامے کے پس منظر سے اور خبروں کی بین السطور سے بہت سے سوال بھی سر اُبھارتے ہیں؛ جن کا بیان آگے کیا جائے گا۔ سرِ دست یہ سوال ہمارے سامنے کسی ماہر جاسوس کی مانند عدسہ سے جھانک رہا ہے کہ ’’سومناتھ بھارتی کیوں یک بیک بی جے پی، میڈیا اور کانگریس کی آنکھ میں مساوی طور سے کھٹکنے لگے ہیں؟ کہیں وہ حد سے زیادہ ایماندار اور دیانتدار تو نہیں ہیں؟

ہمیں سومناتھ بھارتی کا اتنا ہی تعارف حاصل ہے جتنا میڈیا کے توسط سے مل سکا ہے۔ ان کے ماضی یا اصلی حال سے ہم اس لیے واقف نہیں ہیںکہ دلّی یہاں سے واقعی بہت دور ہے۔لیکن ان کے ذریعہ نیم شب کو گشت کرکے کسی فلیٹ پر چھاپہ مارنے کی کارروائی بہت معنی خیز عمل ہے۔ ایک معنی تو وہی ہیں جس کی تصویر اور تجزیہ میڈیا (نیشنل میڈیا پڑھیں؛ جو بڑی دو سیاسی پارٹیوں کی حسبِ منشا کچھ دہائیوں سے خبریں پھیلاتا ہے) پھیلانا اور دکھانا چاہتا ہے۔ اور دوسرے معنی وہ ہیں جو کسی بھی عادل حکمراں کا صدیوں سے مشہور و معروف وطیرہ و تقلید ہے کہ اپنی رعایا کی خبرگیری اور حفظ و امن کے لیے وہ راتوں کو اُٹھ کر گشت کرتے تھے۔ اور سومناتھ بھارتی کے زیرِ بحث قضیہ میں بین السطور یہی دوسرے معنی جھانکتے ہیں۔
ہمارا نیشنل میڈیا دہلی پولیس کے سامنے دو سیاہ فام افریقی عورتوں کے بیان کو یوں پیش کررہا ہے گویا وہ بالکل سچ کہہ رہی ہیں اور سومناتھ بھارتی نے ان کے ساتھ شدید غیراخلاقی برتاؤ کیا ہے۔ تفصیلات آپ کی نظروں سے بھی گذری ہوں گی۔ لیکن ان کی بین السطور میں کہیں یہ نہیں ملتا کہ آخر ان عورتوں کی دہلی میں موجودگی کی کیا وجوہ ہیں؟ کیا وہ طالبات ہیں یا کسی اور معاملہ میں اپنا ملک چھوڑ کر یہاں راجدھانی میں رہ رہی ہیں؟ان عورتوں کے ساتھ کوئی اور بھی رہائش پذیر ہے یا نہیں؟ اگر ہے یا ہیں تو وہ کون لوگ ہیں، ان کے رشتہ دار ہیں یا نہیں؟ وغیرہ۔ یہ سوال تشنہ جواب ہیں۔ میڈیا اور بھاجپا کا حملہ بس سومناتھ پر ہورہا ہے یا کیجریوال پر۔
آئیے ہم بھی دیکھیں کہ خود سومناتھ کے اسمبلی حلقۂ انتخاب جنوبی دہلی کے مالویہ نگر کی اُس کھڑکی ایکسٹینشن کے جھروکے سے دکھائی کیا دیتا ہے جس کی وجہ سے یہ ’بوال‘ کھڑا ہوگیا ہے۔ خبروں میں آتا ہے کہ یہ علاقہ برسوں سے منشیات اور جسم فروشی کے لیے معروف ہے اور وہاں رہنے والے شریف گھرانوں کے افراد کے لیے ایک آزار و ناگوار بنا ہوا ہے۔ اس علاقے میں فلیٹ کے مالکان نے انھیں کرایہ پر دے رکھا ہے اور کرایہ داروں کی اکثریت سیاہ فام افریقی ہیں، خصوصاً یوگانڈہ ملک کے۔ ان میں طلبہ بھی ہیں اور دیگر بھی۔ یہاں رہنے والی عورتیں افریقی اندازوادا سے ہی رہتی ہیں اس لیے دہلی کے منچلے اور بگڑے امیر نوجوان ان سے ہر قسم کی شرارت بھی سرِ عام کیا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ کھلے عام جنسی طور سے چھیڑا بھی کرتے ہیں۔ نشہ آور ادویات اور شراب کی خریدوفروخت کے معاملات بھی پرانے معمولات بتائے جاتے ہیں۔ اب ایسے عالم میں ’کھڑکی‘ میں کسی خیر کی امید کہاں سے کی جاسکتی ہے۔ لیکن باربار کی شکایتوں پر سابقہ کانگریس حکومت نے جانے کیوں کانوں میں انگلیاں ٹھونس رکھی تھی۔ اس پر طرہ یہ کہ بی جے پی بھی اندھی بہری اور گونگی تھی۔میڈیا سے بھی ’کھڑکی‘ کا نام ہم نے اس باب میں کبھی نہیں سنا۔ ابھی کے سومناتھ مخالف حالات میں کھڑکی کا ایک افریقی تاجر اپنا دفاع ان جملوں میں کرتا ہے کہ ’’ہم سب تو ہندوستان کے کسی بھی ایئر پورٹ پر اپنے ملک کا پاسپورٹ لے کر آتے ہیں اور ہمارے سامان کی جانچ کے مراحل بھی طے کیے جاتے ہیں، پھر یہ الزام کیسا کہ ہم منشیات لے کر آتے ہیں اور بیچتے ہیں۔ یہ نشہ آور چیزیں تو یہیں مقامی لوگوں سے ملا کرتی ہیں۔ یہ مسئلہ تو مقامی ہے۔ ہمارا نہیں۔ (بحوالہ ’ڈیلی میل آن لائن انڈیا‘ جمعہ ۲۴؍ جنوری)
درج بالابیان میں اس بزنس مین نے اپنے دفاع کے ساتھ ہی یہ اعتراف ضرور کیا کہ کھڑکی میں منشیات مل جاتی ہیں! ہم نہیں جانتے کہ وہاں کن ذرائع سے یہ پہنچتی ہیں لیکن ملتی ضرور ہیں۔ یہ دیگر بات ہے کہ وہاں بسنے والے سبھی افریقی سیاہ فام ایسے غیرسماجی معاملات میں ملوث نہیں ہیں ، ان میں شریف کاروباری بھی ہیں، لیکن اس علاقے کا بدنامِ زمانہ ہونا ازخود ایک سوال ہے۔
اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ سابقہ حکومت اور اپوزیشن اتنے برسوں تک کسی کارروائی سے گریزاں کیوں رہیں؟ میڈیا میں بھی کبھی کھڑکی کا نام کیوں نہیں سنائی دیا؟ اگر سومناتھ بھارتی کھڑکی میں شبینہ گشت اور چھاپہ کی کارروائی کرتے ہیں تو اس لیے کہ ان پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ایک تو وہ اسی حلقہ کے رکنِ اسمبلی ہیں دوسرے یہ کہ وہ ریاست کے وزیرِ قانون بھی ہیں۔ اب دیکھیے اس بات کو بھی کہ پوری دہلی دہلنے لگی اور ملک و بیرونِ ملک بھی اس کا چرچا ہوگیا مگر خود کھڑکی کے عوام کا کوئی منفی ردّ عمل سامنے نہیں آیا! آخر کیوں؟ کیوں موقعۂ واردات سے دہلی پولیس نے بھی اپنا دامن کھینچے رکھا؟ جہاں تک سومناتھ کے کسی قدر بداخلاقی سے پیش آنے کی خبروں کی بات ہے اس کی شکایت پولیس اسٹیشن میں عجیب سی لگتی ہے۔ کسی معمولی سے جرم کے مرتکب کو ملک کے کسی بھی پولیس اسٹیشن میں کیسے اخلاق کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ کبھی تو شریف شہریوں کو معمولی سی دستاویزی جانچ پڑتال کے معاملے میں بھی پولیس جس اخلاق سےپیش آتی ہے اس کی داستانیں بھی کم نہیں ہیں۔ چہ جائیکہ منشیات اور جنسی معاملات کی بات پر وزیرِ قانون سومناتھ کو خوش اخلاقی سے پیش آنے کا سوال اٹھایا جائے؟
یہ بات بھی خبر میں شامل ہے کہ سیاہ فام باشندوں کو دہلی کے نوجوان ’’کالیا، کلّو یا حبشی‘‘ جیسے ہتک آمیز ناموں سے پکارتے ہیں جس کے سبب ان کی دل آزاری ہوتی ہے اور انھیں نسلی تفریق و نفرت کا احساس ہوتا ہے! سومناتھ پر بھی اسی طرح کا الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے چھاپے کے دوران یہ جملہ استعمال کیا تھا کہ ’’وہ کالے لوگوں کو یہاں رہنے نہیں دیں گے‘‘۔ ہمیں اس کا دفاع نہیں کرنا ہے۔ کہا ہوگا انھوں نےایسا۔ تحقیقات جاری ہیں اس بارے میں۔ لیکن...
لیکن ... یہ بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ان ناموں سے یقیناً ان کو پکارتے ہوں گے ان سے ملنے والے۔ لیکن یہ عرفیتیں تو عام ہندوستانی اپنے درمیان بھی سیاہ رنگ والوں کے لیے جابجا استعمال کرجاتے ہیں۔ نسلی تفریق اور ہتک و نفرت کا احساس اس وقت کیا جاسکتا ہے کہ جب انھیں عوامی مقامات، عوامی سواریوں اور دیگر شہری سہولیات کا استعمال کرنے سے سیاہ فامیت کی وجہ سے روکا جائے۔ اور ہمارا چیلنج ہے کہ ایک سومناتھ ہی نہیں کوئی بھی بھارتی باشندہ ایسا نہیں ہے کہ کسی کو سیاہ فامیت کی وجہ سے نفرت انگیز انداز میں پکارے اور اس سے نسلی تفریق کا جذبہ دکھائے۔ یہ خود مخلص ہندوستانی افراد برداشت نہیں کریں گے۔
اس سیاسی دھماچوکڑی اور شور و غل سے پرے پردۂ زنگاری میں کوئی معشوق ہے تو بس یہی ہے کہ بی جے پی اور کانگریس کے ایم ایل ایز اور اپوزیشن لیڈروں کو ’’وی آئی پی‘‘ سیٹ تو مل گئی ہے مگر ’’کلچر‘‘ نہیں مل سکا ہے اور وہ ’آپ‘ کی ایک ماہ کی نوزائیدہ حکومت کے پانی اور بجلی والے کاموں کو جائز عوامی مقبولیت ملنے سے پہلے ہی ٹانگ کھینچنے کے لیے پوری طرح زورآزمائی میں مصروف ہیں اور ہاتھ آیا ہوا یہ موقع کھونا نہیں چاہتیں۔ نیشنل میڈیا بھی ہمیشہ کی طرح ان کا حلیف بنا ہوا ہے۔


Saturday, November 23, 2013

Letter to the Educated Daughter
Dr. Rehan Ansari
میری عزیز بیٹی! سلامت رہو۔ میں تمھیں جان سے عزیز بیٹی بھی لکھ سکتا تھا، لیکن جاننا چاہیے کہ ایک مسلمان کی جانِ عزیز اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہوتی ہے۔ تم اب چھوٹی بچّی نہیں رہی۔ فیصلے لینے کی اہل ہوچکی ہو۔ اس منزل تک اگر ہماری جانب سے تمھاری تعلیم و تربیت میں کوئی خاص کمی رہ گئی ہو تو اس کی نشاندہی کرکے معاف بھی کردینا۔ اب تمھاری اصلاح کا بڑا ذمہ تمھارا ہی ہے؛ جیسا کہ سب کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ بھلے اور برے میں تمیز کے قابل ہوچکی ہو۔ پھر بھی تربیت کا ایک ایسا باب رہ گیا ہے جس کی جانب میں اس خط میں اشارے کررہا ہوں۔ امید ہے تم اسے سنجیدگی کے ساتھ پڑھوگی۔
تمھاری اعلیٰ تعلیم جلد ہی مکمل ہوجائے گی۔ مستقبل کی پربہار اور جاں فزا زندگی چند قدم پر تمھاری منتظر رہے گی۔اس آنے والی زندگی میں برتنے کی باتیں اور چلنے کے کچھ بافیض اصول ہیں۔ ان اصولوں کو دینِ فطرت نے اکمل طور سے پیش بھی کیا ہے اور پوری رہنمائی بھی فرمائی ہے۔ مگر ہماری دنیا تو نئی دنیا ہے نا، نت نئی بدلتی دنیا، حد سے بیحد مصروف دنیا، جدید تعلیم پانے کی دُھن میں ہمیں فرصت ہی کہاں ملی کبھی کہ اپنے دین کی جانب سوالات لے کر دیکھتے!
بیٹی، پیاری بیٹی، آؤ ذرا پہلے اپنے کیمپس کی سیر کرلیں۔ وہی کیمپس جن میں ہم نے بھی کبھی کئی برس گذارے ہیں اور اب تم ہو وہاں۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تاریخ و جغرافیہ خواہ کتنے ہی مختلف ہوں لیکن ان کا اندرونی کیمپس تقریباً یکساں ہوتا ہے۔ درودیوار اور دریچہ و بام ہوتے ہیں۔ کتب خانے اور باغات ہوتے ہیں۔ رہداریاں اور دالان ہوتے ہیں۔ آڈیٹوریم، کھیلوں کے میدان یا انڈور اسٹیڈیم ہوتے ہیں اور اسی طرح کی دوسری جگہیں۔ پھر ایک اور شئے جو قیام گاہ یا ہوسٹل کہلاتی ہے۔ یہ ایک سحر آگیں ماحول ہوتا ہے۔نئے ذہنوں کی یہاں آبیاری ہوتی ہے۔ ایک طالبعلم لازمی طور پر ان سب سے گذرتا ہے۔ ان تمام جگہوں پر کئی کہانیاں اور حکایات رقم ہوتی ہیں۔ ان تمام حکایات میں بھی ایک مشترک پہلو ہوتا ہے کہ یہیں پر ہمارے وطنِ عزیز کے برادران و دُختران سے بھی ہمارا ایک طویل سابقہ پڑا کرتا ہے۔ اداروں میں ان کی اکثریت پائی جاتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں وہ لوگ منصوبہ بند بھی ہوتے ہیں اور ہم سے بہت زیادہ سنجیدہ بھی۔ یہ ایک بڑی خوبی ہے ان کی۔ ایک عجیب بات یہ ہوتی ہے کہ یہ برادران و دخترانِ وطن ہم سے اکثر ہمارے دین سے متعلق (کبھی سنجیدہ اور کبھی تمسخر آمیز) سوالات بھی کیا کرتے ہیں اور ہم لوگ بیشتر کم علمی یا لاعلمی کی بنا پر ان کے شکوک و شبہات کو ہی تقویت نہیں دیتے بلکہ خود بھی شک و شبہ میں مبتلا ہوکر ان سے متاثر ہو جایا کرتے ہیں۔ان کے یہاں لہوو لعب اور رسم و رواج عبادتیں ہیں اور ہمارے یہاں عبادتوں کو رواج دیئے جانے کی تنبیہ۔ اللہ تمھیں اور جملہ مسلمین کو خرافات سے محفوظ رکھے۔
عزیزم، یہ عمر شباب کا وہ دور بھی ہوتا ہے کہ جب دلوں میں ارمانوں کا حسین محل تعمیر ہوتا رہتا ہے۔ ہر نیا دن ایک میلوڈی سناتا ہے۔ اجنبی اچھے لگتے ہیں اور اپنوں سے گریزاں رہنے کی طبیعت ہوتی ہے۔اپنے گلی محلوں اور شہر سے دور بسنے والوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ اجنبیت رفتہ رفتہ زائل ہوکر رفاقت میں ڈھل جاتی ہے۔دوسروں کے گھریلو یا سماجی کلچر کا اختلاف نیاپن محسوس ہوتا ہے۔ جب کوئی اجنبی زیادہ پسندیدہ ہوجاتا ہے تو اپنا سماج اچانک دشمن محسوس ہونے لگتا ہے۔ خوفناک اور کریہہ دشمن۔ذہن کو بغاوت کے ٹینٹیکلس یعنی گیرہ (Tentacles) اپنے شکنجے میں لینے لگتے ہیں۔اور بیشتر لوگ غلطیاں کربیٹھتے ہیں۔ان کے انجاموں کی داستانیں بھی کم نہیں ہیں۔ سب کی سب عمربھر کی چھوٹی یا بڑی ناکامیوں سے عبارت ہیں۔
فراغتِ تعلیم کے بعد کچھ طلبا کیمپس کے اس ماحول سے سرخرو ہوکر لوٹتے ہیں تو کچھ اس کی تہذیب کا شکار ہوجایا کرتے ہیں۔ جو لوگ کیمپس کی تہذیب کا شکار ہو جاتے ہیں وہ ہماری (بیچاری) قوم سے خود کو الگ (نئی لنگو میں ’ہٹ کر‘) محسوس کرنے لگتے ہیں اور بجائے اس قوم کی پسماندگی کا علاج و سد باب کرنے کے اسے تنہا چھوڑ کر اپنی ایک الگ دنیا میں مست و مگن ہوجاتے ہیں۔ حق حاصل ہے ہر کسی کو کہ اپنی دنیا اور مستقبل بنائے اور سجائے۔ لیکن یہ نصیحت بھی یاد رکھنا چاہیے کہ:

فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
خیر یہ ایک الگ موضوع ہے لیکن زیرِ گفتگو نفسیات کا حصہ ہونے وجہ سے ضمناً چلایا آیا ہے۔
میری بیٹی، درج بالا اشارہ کردہ انجاموں میں ٹیلیویژن کا بھی بہت بڑا رول ہے۔ ٹیلیویژن نے ڈراموں کو حقیقی دنیا اور حقیقی دنیا کو ڈرامہ ثابت کرنے میں اپنا ایک ایک سیکنڈ مختص کیا ہوا ہے۔ آؤ تمھیں اس کا ایک ایپی سوڈ دکھلاؤں۔ اس ٹی وی بینی نے ہمارے مخلوط ہندوستانی سماجی ڈھانچہ کے سب سے مقدس پہلو یعنی بیاہی زندگی کی اہمیت و تقدس کو جنسی انارکی(Sexual anarchy)  سے ملادیا ہے۔ کسی سیریل کو بھی دیکھیں۔ تمام کردار ایک نفسانی ہیجان اور بے کیفی میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ گھریلو سیریل کے نام پر جو پیشکشیں ہوتی ہیں ان میں گھر کا سب سے بڑا فرد بھی شک کے گھیرے میں رہتا ہے اور اس گھر کا سب سے چھوٹا ممبر بھی۔ وجہیں اکثر صرف دو ہی نظر آئیں گی۔ زر اور زن۔ نہ دین و مذہب کی قیود کی کوئی اہمیت ہوتی ہے نہ کسی طرح کی اخلاقیات کا پاس ہوتا ہے۔ کہانیاں تو رذالت کی اس انتہا کو بھی چھوتی ملیں گی کہ پوتا دادی یا دادا کے کردار پر شک کرتا نظر آئے گا!... اور میری بیٹی،... یہ نہ سمجھو کہ یہ بات یا عکس صرف اِڈیٹ باکس کے پردے پر ہی روشنی کے بند ہونے کے بعد مٹ جاتا ہے۔ یہ سارے عکس تو ناظرین کے تحت الشعور کے پردے پر نقش و مرتسم ہوجاتے ہیں۔ یہیں سے وہ تقدس ختم ہوجاتا ہے جو بیاہی یا بے بیاہی زندگی کا اعلیٰ ترین انسانی وصف ہے۔ ہمارے ہندوستانی سماج میں اسی اِڈیٹ باکس اور دوسرے مغرب زدہ میڈیا نے بالغوں میں ایک گھناؤنا سلسلہ بھی جاری کردیا ہے یعنی ’لیو اِن ریلیشن شپ‘ Live in relationship جسے ’’ہرجائی ہم جائی‘‘ کہہ سکتے ہیں۔ یہ بے بیاہی زندگی گذارتے ہوئے دن میں ایک دوسرے سے آزاد رہ سکتے ہیں اور رات ایک ہی کمرے میں بسر کرتے ہیں۔نہ اپنے گھرپر رہنا ہے، نہ گھربسانا ہے نہ ذمہ داریاں اٹھانا ہے۔ یہاں بس عیش ہی ایک عنوان ہوتا ہے۔ یہ سارے خاندانی و سماجی تعلقات کا قاتل ہے۔
 میری عزیز بیٹی، شادی یا بیاہ ایک ادارہ ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جس کے گہوارے میں آدمی انسان بنتا ہے۔ اسی کے گہوارے میں تہذیب و تمدن کے علاوہ انسانی ہمدردی و غمگساری پیدا ہوتی اور پنپتی ہے۔ ہمارے یہاں تو نکاح حکم اور سنتِ پیمبرﷺ ہے۔ نکاح انسان کو سماج سے جوڑتا ہے، خاندانوں سے جوڑتا ہے، اس کی عزت و احترام میں اضافہ کرتا ہے۔اپنی مرضی سے شادی کرلینے والوں کو سماج پسند نہیں کرتا۔ اس کا اثر ان کی پوری زندگی پر پڑا رہتا ہے۔ سماج ظالم نہیں ہے بلکہ یہ انھیں ایک آنریبل سماجی زندگی دینا چاہتا ہے اور خوشیوں میں شریک رہنا اور کرنا چاہتا ہے۔ رفیقِ زندگی کا انتخاب دونوں طرح سے ہوتا آیا ہے یعنی بزرگوں کے ذریعہ بھی اور نجی بھی۔ جو اپنی پسند رکھتے ہیں ان کو حق ہے کہ وہ اس کا باعزت اظہار بھی کریں۔ اس کا تو ہمارے دین میں حکم بھی ہے کہ جسے پیغام بھیجا جائے اس کی بابت خوب اطمینان کرلو۔
پیاری بیٹی، تم تھوڑا سا آنکھیں کشادہ کرکے دیکھوگی تو نظر آجائے گا کہ پوری دنیا کے تمام کاروبار احسن انداز سے جو چل رہے ہیں ان پر نوجوان قابض نہیں ہیں بلکہ جہاندیدہ بزرگ ان کے نگراں ہیں۔ اس کا سبب یہی ہے کہ نوجوان عجلت پسند اور جذباتی زیادہ ہوتے ہیں جبکہ بزرگ نتائج کے لیے پیش بین اور دوربین ہوتے ہیں۔ ایک دنیا گھر کی بھی ہوتی ہے۔ اس میں چھوٹے بھی ہوتے ہیں اور بڑے بھی۔ بچے بھی ہوتے ہیں اور بزرگ بھی۔ مرد بھی ہوتے ہیں اور عورتیں بھی۔ یہاں ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے اپنا اپنا انفرادی مزاج و طبیعت رکھتے ہیں۔ پسند و ناپسند رکھتے ہیں۔ تمھیں شاید پتہ ہو کہ بیاہ کے بعد لڑکی نے ایک گھر یعنی اپنے شوہر کے گھر سے رشتے استوار کرلیے تو اس کے لیے دنیا میں ہی جنت مثال گھر مل جاتا ہے اور اسی واسطے سے جنت میں گھر بن جاتا ہے۔ اس گھر میں قدم رکھنے سے قبل یہ پورا گھر اجنبی ہوتا ہے۔ اس میں بسنے والوں کی طبیعتیں اجنبی ہوتی ہیں۔ پہلے سے قریبی رشتہ داریاں ہوں تب بھی دیواروں کے اندر کی دنیا کی مکمل خبر کسی کو کسی کی نہیں ہوا کرتی۔ ایسے ماحول میں کئی مسائل پیدا ہوجایا کرتے ہیں۔ کبھی تصورات کا محل پاش پاش بھی ہوجاتا ہے۔ کئی تہذیبی فرق بھی ہوتے ہیں۔ لیکن جس دلہن نے اپنی طبیعت میں انکساری اور تواضع رکھا وہ کامیاب ہوجاتی ہے۔ نئے گھر کو اپنا اصلی گھر سمجھا توگھر کے اندر اٹھنے والی طرح طرح کی لہریں محض ابتدائی دو سے تین برسوں میں کسی اور جانب نکل جاتی ہیں۔ یہ مدوجزر سب کی زندگیوں میں آتے ہیں۔ اس لیے ہر لڑکی کو ان کے لیے ذہنی و نفسیاتی طور سے تیار رہنا چاہیے۔اور اس درمیان اپنے نئے گھر کے افراد کے ساتھ رشتوں کو حسنِ تدبیر سے استوار کر لینا چاہیے۔
عزیزی بیٹی، ایک بڑا سماجی مسئلہ ہمارے یہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکیوں کے لیے مناسب رشتوں اور جوڑ کی تلاش کا ابھر آیا ہے۔جہاں تک تعلیم کا معاملہ ہے وہ اب بلا تخصیص ہر ذہین بچہ یا بچی حاصل کرتی ہے۔ کوئی صدی نصف صدی قبل ایسا منظر نہیں تھا۔ سماجی نابرابری کا دور دورہ تھا۔ امیری غریبی کے علاوہ خاندان و برادری سے متعلق بھی باتیں رائج تھیں۔ ہمارے دین میں جو ’مسئلۂ کفو‘ یعنی ’ہمسری و برابری کا ‘ہے اسے بھی ہمارے اُس وقت کے علما و اکابر نے کافی الجھا کر پیش کیا اور محض برادری یا خاندانی کفو کی میرٹ پر زیادہ زور دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک ہی خاندان و برادری کی پڑھی لکھی لڑکی کا نکاح اس برادری کے انپڑھ یا اُجڈ و گنوار لڑکے سے کردیا گیا یا پڑھے لکھے لڑکے کو اپنی برادری کی غیرتعلیمیافتہ یا سرپھری لڑکی کے ساتھ نباہ کے لیے مجبور کردیا گیا۔ جبکہ نبی کریمﷺ نے نکاح کے لیے جو کفو بیان کیا ہے اس میں ’’مال، کمال، جمال اور دینداری‘‘ کو بتلایا ہے۔ اس میں بھی اوّلیت اور سب سے زیادہ بابرکت دینداری کو بتلایا ہے۔ جو ظاہری نہ ہو۔ کچھ افراد میں اس کفو کی دو تین خصوصیات یکجا ہوتی ہیں تو کچھ میں چاروں جمع ہوجاتی ہیں۔ لیکن ایک خصوصیت کے حامل افراد کو ہم کفو کہہ سکتے ہیں۔ اس جانب دورِ حاضر کے بیشتر اور جید علما، جن پر اعتبار کیا جاتا ہے اورجن سے دینی امور میں رہنمائیاں لی جاتی ہیں، نے اب مسئلہ کفو کو سلجھانا شروع کردیا ہے اور مجھے بھی نجی ملاقاتوں میں ان سے ایسی آرا سے مستفیض ہونے کا موقع ملا ہے۔ اس میں برادری اور خاندانی قیود فسادات کا سبب بن جاتی ہیں۔ میں نے اس باب میں مضامین بھی پڑھے ہیں۔ چونکہ ہم لوگ ابھی تک تنگ نظری کا شکار ہیں اسی سبب معاشرے کی اعلیٰ تعلیمیافتہ لڑکیوں کے لیے رشتوں کا مسئلہ کافی گمبھیر ہو چلا ہے۔تھوڑا سا بیش و کم دیکھ کر اور برادری کے گھیروں کو توڑ کر اس طرف  دھیان دیا جائے اور پورا سماج کسی قدر نرم دلی کا مظاہرہ کرے تو اس مسئلہ کو حل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔ لیکن ابھی ہمارے سماج میں ایسی وسیع القلبی نہیں آئی ہے۔
عزیز بیٹی، خط کو ختم کرنے سے قبل میں تمھیں یہ نصیحت ضرور کروں گا کہ اپنی طبیعت میں انکساری اور تواضع کے خواص پیدا کرلو اور خوداحتسابی کرتے رہنے کے ساتھ تکبر سے ہمیشہ پرہیز کرنا۔ انشااﷲ راستی و پاکبازی کے ساتھ زندگی بسر ہونے کا پورا امکان ہوگا۔ اس دعا کے ساتھ میں تم سے وداع لیتا ہوں کہ ’’اﷲ تعالیٰ تمہاری زندگی کو خیر وبرکات سے سنوارا رکھے اور آخرت میں اس زندگی کو وسیلۂ نجات بنائے‘‘۔ (آمین)
تمھارے ابّو


Sunday, October 13, 2013


FAIZ NASTALIQ
Please click on the photos to enlarge and read