To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Wednesday, May 11, 2011



 بھیونڈی میں سمر کیمپ برائے ریاضی کا کامیاب انعقاد
رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئرکالج کے طالب علم محمد رضی محمد ریحان انصاری کی نمایاں کامیابی
اسکول کے پرنسپل اور اساتذہ نے مبارکباد
از:  خالد عبدالقیوم
Back (L to R) Anwar Khot, Ameen Sir, Khan Zakir Husain
Principal ZiaurRahman Ansari, Dr. Abu Talib Ansari, Prof. Mushtaq Baig,
Abdul Aziz Ansari. (Front- L to R) Siddiqui Iram, Siddiqui Shirin,
Razi Ansari, Khan Razia, Khan Irfan standing with their Trophies
بھیونڈی: ’’ اعلیٰ ریاضی کی ابتدا ’بنیادی ریاضی‘ سے ہوتی ہے‘‘۔ مذکورہ خیالات کا اظہار ،رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کے پرنسپل ضیاء الرحمان انصاری نے  متھمٹکس سوسائٹی Mathematics Society Of Bhiwandi کے زیر اہتمام رئیس ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج ہال میں پندرہ روزہ سمر کیمپ Summer Camp کے آخری دن منعقدہ تقسیم انعامات کی تقریب میں ادا کئے ۔موصوف نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا کہ ریاضی Mathematics نہایت آسان اور دلچسپ مضمون ہوتے ہوئے بھی’بنیاد ‘ کی کمزوری کی وجہ سے مشکل سمجھ لیا جاتا ہے لیکن  اس طرح کے پروگرام منعقد کر نے سے بچوں کی بنیاد مضبوط ہوگی اور طلبہ کی ریاضی میں  دلچسپی بڑھے گی۔‘
واضح رہے کہ ۱۵روزہ سمر کیمپ کے آخری دن طلبہ کا ٹیسٹ لیا گیا۔سب سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والے دس طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا جن میں صلاح الدین  ایوبی ہائی اسکول کے خان عرفان اقبال کو اول انعام ، اسی اسکول کی خان رضیہ شمس اﷲ کو دوم جبکہ رئیس ہائی سکول کے طالب علم انصاری محمد رضی محمد ریحان کو سوم انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔ صلاح الدین ایوبی ہائی اسکول کی صدیقی شیریں عبدالستار اور صدیقی ارم محمد کلیم کو با لترتیب چہارم اور پنجم انعام کے لئے منتخب کیا گیا۔اس کے علاوہ پانچ طلبہ کو حوصلہ افزائی کے انعامات بھی دیئے گئے۔اس سمر کیمپ میں بھیونڈی کے ۱۵ ہائی اسکولوں کے کل۶۲ طلبہ نے حصہ لیا۔ جنہیں ماہرین نے روزانہ سویرے ۷ بجے سے ۱۲ بجے تک ریاضی کی بنیادی باتوں کے علاوہ پرسنالٹی ڈیولپمنٹ  ،ماحولیات ،صحافت ،جانئے اپنے شہر کو، اور صحت ِعا مہ کی خصوصی معلومات دی گئی۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر مصدّق پٹیل نے سمر کیمپ کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور اسے طلبہ کے لئے مفید بتایا ۔ اس تقریب میں انور کھوت ، ذاکر خان، امین مومن سر، عبدالعزیز انصاری ، ڈاکٹر ابو طالب انصاری نے بھی طلبہ سے خطاب کیا اور انہیں اپنے مفید مشوروں سے نوازا۔مقررین نے متھمٹکس  سوسائٹی کی کارکردگی کی بھرپور سراہنا کرتے ہوئے ،سوسائٹی کے ذریعہ انجام دیئے کاموں کا تفصیلی ذکرکیا اوراس طرح کے کیمپ کو موجودہ دور کی ضرورت بتایا۔
پروگرام کا آغاز تلا وت کلام پاک سے ہوا ۔متھمٹکس سوسائٹی کے صدر پروفیسر مشتاق احمد بیگ نے پروگرام کی غرض و غایت اور سوسائٹی کی روداد پیش کی۔ محترمہ حنا بیگ نے مہمانوں کا تعارف و استقبال پیش کیا جبکہ صلاح الدین ہائی اسکول کی طالبہ خان گلشن اور اقصی گرلز ہائی اسکول کی بولنجکر وداد شہباز نے نظامت کا فریضہ  انجام دیا ۔ رسم شکریہ پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

M. Razi Receiving his award by the hands of
Mr. Abdul Aziz Ansari while Prof. Mushtaq Baig
expressing his happiness
محمد رضی محمد ریحان انصاری کی اس قابل ذکر کامیابی پر رئیس ہائی اسکول کے اساتذہ اور اسٹاف نے مسرت کا اظہار کیا اور اسے مبارکباد دی.

Monday, May 9, 2011

Babri Masjid Decision: Justice Undone
[یہ مضمون الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ (٣٠ ستمبر ٢٠١٠) کو آنے کے فورا بعد لکھا گیا تھا. خوش بختی سے آج (٩ مئی ٢٠١١) کو سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے اس میں کہی گئی باتیں اس مضمون کا حصہ ہیں. اس مضمون کو قند مکرر کے طور پر قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے.]
۳۰ستمبر کی سخت دوپہر؛ رفتہ رفتہ ایک سناٹا سا پسرا جا رہا تھا؛ سڑکوں پر سے لوگ دھیرے دھیرے ہٹنے لگے تھے؛ اعلان شدہ وقت قریب آتا جا رہا تھا؛ دکانوں کے شٹر گرنے لگے تھے؛ ایک غیر معمول سا منظر تھا اور تمام ملنے جلنے والوں کے چہرے پر آنکھوں کی جگہ پر سوالیہ نشان بنے ہوئے تھے۔ گھر میں کھانے کا وقت ہو کر بھی کسی کو بجا طور پر بھوک نہیں محسوس ہو رہی تھی۔ ذہن ایک انجانے خوف کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔
فیصلہ اور انصاف میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ بابری مسجد کے قضیہ کا فیصلہ بھی سامنے آیا... پورے ساٹھ برسوں کے عدالتی عمل کے بعد... افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم انصاف کے متمنی تھے مگر اس تمنا کا خون ہوگیا۔ واقعی فیصلہ اور انصاف میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ہم بھی اتنے معصوم نہیں ہیں کہ ایک فیصلہ کو انصاف مان لیں۔عدالتی فیصلہ کو چونکہ قبول کرنے کا ہم قرار دے چکے تھے اس لیے آپ کا فیصلہ بسر و چشم قبول بھی کیا ہے مگر ہمیں شدت کے ساتھ اپنے ایک بزرگ کا یہ شعر یاد آگیا کہ:

ہم تو پچھتاتے ہیں وفا کرکے
کچھ تو  شرماؤ  تم  جفا  کرکے
ہم عدالت کے فیصلہ اور وقار کا پورا احترام کرتے ہیں مگر بابری مسجد کی جگہ پر ’’رام بابر اکھاڑہ‘‘ کی تاسیس جس روحانی کرب و بے چینی کا سبب بنی ہوئی ہے اس کا اظہار بھی ہم اپنا بنیادی جمہوری حق سمجھتے ہیں۔عدالت بھی عقائد اور حقائق کو خلط ملط کرنے کی ایک ’’ناقابلِ یقین مگر سچ‘‘ والی نظیر قائم کرنے کی غلطی کرے گی ہمیں اس کا گمان بھی نہیں تھا۔ قابلِ عبرت ہے۔
ہمیں حیرت اس بات پر ہے کہ میڈیا کے ذریعہ یہ بات آتی رہی کہ بابری مسجد کی جگہ کی ملکیت کے حقوق کے تعلق سے فیصلہ آنے والا ہے مگر فیصلہ ایسا آیا کہ تین دھاری ہتھیار سے زمین کو لخت لخت کردیا گیا۔ ہمارے دلوں اور ذہن کو وہ صدمہ ملا کہ اب شاید کئی صدی اس سے چھٹکارا ممکن نہیں ہوگا۔ بہرحال ہمیں تلقینِ صبر و صلوٰۃ کی گئی ہے سو وہ ہم کر رہے ہیں، انشاء اﷲ استعانت بھی حسبِ وعدہ ہو کر رہے گی۔
ماہ ستمبر ابھی شروع بھی نہیں ہوا تھا کہ اسی وقت سے بابری مسجد کی جگہ کی ملکیت کے تعلق سے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے متوقع فیصلہ کی خبریں میڈیا کا حصہ بنتی جارہی تھیں۔ ہمارے دل میں بھی تمام مسلمانوں کی مانند ایک امید بنی تھی کہ عدالت چونکہ شواہد اور دستاویزات کو ہی ٹٹولتی ہے اور ’انصاف کی دیوی کی آنکھوں پر بندھی پٹی‘ کچھ اور نہیں دیکھ اور محسوس کر پاتی اس لیے جو لوگ عقائد کی دہائیاں دے رہے ہیں انھیں شاید منہ کی کھانی پڑے گی۔ مگر یہ ہماری معصومیت ہی تھی کہ ہم نے یہ نہیں دیکھا کہ پٹی اس کی آنکھوں پر ہے مگر کان کھلے ہوئے ہیں جن سے عقیدتوں کی چنگھاڑ مسلسل ’انصاف کی دیوی‘ کے پورے وجود کو متزلزل کیے ہوئے رہی تھی۔ اور پھر ماہ ستمبر کے آخری ہفتے کی تاریخیں تبدیل ہوتے ہوتے آخری دن ایک عبرت انگیز تاریخ رقم ہو گئی۔
ملکیت کے تعلق سے تو فیصلہ سامنے آیا نہیں کہ قطعۂ اراضی کے اصل کاغذات اور آثارِ قدیمہ کی تحقیقات کی رو سے آخر وہ زمین کسے سونپی جائے لیکن ایک ایسا فیصلہ کیا گیا کہ اس ملکیت کے تین حصے کرکے تینوں متحارب فریقوں کو سونپے جائیں گے۔ سوال یہ ضرور اٹھتا ہے کہ کیا ان تینوں میں سے کسی بھی فریق نے ایک تہائی زمین کا مطالبہ عدالت سے کیا تھا کہ عدالت’’ اس تقسیمِ اراضی کو اپنا دوراندیشانہ فیصلہ‘‘ کہلانے کی مستحق قرار پاتی؟ ملکیت کی دعویٰ داری یقینا کئی قانونی و آئینی تقاضوں کی روشنی میں کی جاتی ہے اور قضاۃ کا فرض یہی ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی ناانصافی کا مرتکب نہ ہو۔ اگر زمین پر مطلقاً ان کا حقِ ملکیت ثابت ہوتا ہے تو پوری کی پوری زمین انھیں سونپ دی جائے اس میں کسی کو کوئی اعتراض ہی کیوں ہوگا؟ مسلمان بھی اپنے دعوے سے خود ہی دستبردار ہو جائیں گے۔ بابری مسجد اراضی کی ملکیت میں عدالت نے یقینا اپنے منصب کے اعتبار کو مجروح کیا ہے۔ بہرکیف فیصلہ اور انصاف میں بڑا فرق ہوتا ہے اور کسی بھی فیصلہ کو انصاف نہیں قرار دیا جاسکتا۔
اس روز نصف شب تک الیکٹرانک میڈیا کے مبصرین اور اینکر پرسنس کی حرکات بھی دیدنی تھی۔ کہاں کہاں کی کوڑیاں لائی جارہی تھیں سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا، اور کسی بھی چینل یا سائٹ پر کوئی بھی بابری مسجد کی زمین کی ملکیت کے تعلق سے کوئی بات کرنے کو تیار تھا نہ ہنوز ایسا دیکھنے یا سننے کو مل رہا ہے۔ عدالت کے فیصلے کی چہار جانب سے پذیرائی اور سراہنا کی جارہی ہے۔ ہم نے بھی اسے تسلیم کرنے کی ہامی بھری تھی اس لیے مسلمان نمائندوں نے بھی رائی برابر بھی اپنے اس موقف سے اعراض نہیں کیا۔ لیکن اس الیکٹرانک میڈیا پر ایک بات بڑی واضح اور صاف تھی کہ کسی بھی مسلم نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے اینکر پرسن بہت جلدی سے فریم کی تبدیلی چاہتے تھے یعنی اگر مسلم نمائندے نے مسلم خیالات کی ترجمانی کی کوشش کی تو فوراً اسے کٹ کردیا جاتا اور کوئی دوسرے سوال کی زد میں لانے کی کوشش کی جاتی تاکہ اسے ’’سچ بولنے‘‘ کا وقت ہی نہ مل سکے۔ اس کے برعکس ’’آستھا‘‘ کی ترجمانی کرنے والوں کو ’’پورے وِ ستار‘‘ سے بات کرنے کا موقع دیا جاتا رہا تھا۔ اس طرح یہ کوشش برابر کی جاری رہی کہ مسلمانوں کی ترجمانی بھی کم سے کم ہو اور شارٹ سے شارٹ کی جاتی رہے۔ جہاں تک پرنٹ میڈیا کا تعلق ہے تو اس میں بھی اردو سے ہٹنے کے بعد مسلم آواز بلند کرنے والے لوگ خال خال ہی ملتے ہیں اور انھیں بھی اس کا موقع نہیں دیا جاتا البتہ مسلمانوں کو تیز آواز سے ڈانٹنے کے لیے ان کے ہاں کئی قلم چلتے ہیں اور دلوں کو چھلتے ہیں۔ انھیں ایک موقع اور مل چکا ہے۔ مگر یہ تو کہا ہی جائے گا کہ ایک ترشولی فیصلہ سے انصاف مجروح ہوا ہے۔ مسلمانوں میں عام صدمے کی لہر ہے اور یہ صدمہ بھی روح کی گہرائی میں اپنی جڑیں پیوست کیے ہوئے ہے۔ حقیقتاً ہر فیصلہ انصاف کہلانے کا حقدار نہیں ہوتا۔ فیصلہ اور انصاف میں بڑا فرق ہوتا ہے.
Gehri Jadein: The Deep RootsFiction by Dr. Neerja Madhav
Translated by: Dr. Ghulam Nabi Momin
Reviewed by: Mohd. Rafi Ansari
ڈاکٹر غلام نبی مومن کا نام تعلیمی اور ادبی حلقوں میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ موصوف نے عرصۂ دراز تک ٹیکسٹ  بک بیورو  ، پونہ میں اردو افسر کی حیثیت سے نصابی کتابوں کی ترتیب و تدوین میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ ابتداء ہی سے ڈاکٹر صاحب کو علم و ادب سے شغف رہا ہے اور طالب علمی ہی کے زمانے سے انھوں نے لکھنے پڑھنے کا کام بڑے سلیقے اور منصوبہ بند طریقے سے انجام دیا ہے ، جس کا سلسلہ وقت کے ساتھ خوب سے خوب تر ہواہے۔اب تک ان کی تصنیف اور تالیف کردہ کئی کتابیں منظرِ عام پر آچکی ہیں جن میں ادبِ اطفال، تنقید اور تعلیم کے موضو عات سے بحث ہے۔
The Cover Page
ان دنوں ڈاکٹر غلام نبی مومن علمی حلقے میں ایک مترجم کی حیثیت سے بھی مقبولیت حاصل کر رہے ہیں.  انگریزی کے علاوہ انھوں نے مراٹھی اور ہندی کی منتخب تخلیقات کو اردو کے قالب میں بڑی عمدگی سے ڈھالا ہے۔ ۲۰۰۲؁ء میں ان کی ترجمہ شدہ سات کہانیوں کا انتخاب ’دھنک‘ کے نام سے شائع ہو کر مقبول ہوا۔ ان کی ترجمہ کردہ نئی کتاب ’ گہری جڑیں‘ جدید ہندی کہانی کی مایہ ناز ادیبہ ڈاکٹر نیرجا بینی مادھوکی گیارہ معرکۃُالآراکہانیوں کا خوبصورت مجمو عہ ہے جو اسی سال ۲۰۱۱ میں  منظرِ عام پر آیا ہے۔
ایک سو اٹھائیس صفحات پر مشتمل یہ کتاب صوری و معنوی اعتبار سے لاجواب ہے۔ ڈاکٹر غلام نبی مومن نے اپنی اس ادبی کاوش کو مشہور ماہر تعلیم محترمہ نورالعین علی صاحبہ کے نام معنون کیا ہے جنھوں نے عورتوں کے مسائل پر کئی معیاری ڈرامے تحریر کیے ہیں اور جن کی درسیات کی تیاری کی بے پناہ صلاحیت اور تجربے سے ڈاکٹر صاحب مستفیض ہوئے ہیں.
کتاب ’گہری جڑیں‘کے ابتدائی صفحات پر ’ڈاکٹرنیرجامادھو -ایک نظر میں‘ عنوان کے تحت مصنفہ کا ایک جامع تعارف پیش کیا گیاہے جو قارئین کوہندی کی اس باکمال ادیبہ کی ادبی فتح مندیوں کی کہانی سناتا ہے۔ محترمہ نیرجامادھو نے افسانوں کے علاوہ کئی ناول بھی لکھے ہیں جن میں ان کے ناول ’ یم دیپ‘اور ’گےشے جمپا‘ کو بڑی شہرت ملی اور ان ناولوں کے ترجمے اریہ، انگریزی اور تبّتی زبانوں میں ہوئے۔ ڈاکٹر نیرجامادھو کا ناول ’یم دیپ‘(۲۰۰۲)ہجڑوں کی زندگی پر لکھا گیا ہندی کا پہلا ناول  مانا جاتا ہے اور ’گےشے جمپا‘ بھارت میں پناہ گزین تبتیوں  کی تحریکِ آزادی اور ان کے اپنے معاشرے اور اپنی مذہبی و تہذیبی تشخص کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کے موضوع پر لکھا گیا ایک بہترین ناول تسلیم کیا گیاہے۔
ڈاکٹر نیرجامادھو کہانی کار اور ناول نگار ہی نہیں بلکہ شاعرہ بھی ہیں۔آ پ کا پہلا شعری مجموعہ’پرستھان ترئی‘ (۲۰۰۰ میں) شائع ہوا۔ محترمہ کی گوناں گوں تخلیقات اور نو بہ نو کاوشوں پر ایک نظر ڈال کر یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہوتا کہ انھوں نے اپنی انچاس سالہ زندگی کا بڑا حصہ تصنیف و تالیف کی نذر کیا اور خوش بختی دیکھیے کہ ان کے ایک ایک لفظ کی پذیرائی ہوئی ۔
ہندی کہانیوں کے اس انتخاب کی سبھی گیارہ کہانیاں ’جہانِ دیگر‘ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جنہیں پڑھتے ہوئے قاری عجیب و غریب کیفیت سے دوچار ہوتا ہے۔ مصنفہ نے کمالِ مہارت سے بشری خامیوں اور کمزوریوں کو اس طرح کہانیوں میں پرو کر پیش کیا جسے ملاحظہ فرما کر بڑے بڑے پارسا بھی شرمائے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس کتاب کی ایک اثرانگیز کہانی ’ گہری جڑیں ‘ عنوان سے ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار ایک عورت ’وِ دیو تما‘ہے۔ ایک اصول پسند اور منصف مزاج باپ کی لائق و فائق دختر، جو دفتر میں اپنے اعلیٰ افسروں سے اصولوں کے ٹکراؤ میں اپنی پوزیشن کو بچانے کی کوشش میں صلیب و دار کے مرحلوں سے گزرتی ہے۔کہانی کے موڑ پر اس کی سہیلی اپرنا جب اس سے حالات سے سمجھوتہ کرنے کی صلاح دیتی ہے تو وہ اس کے جواب میں جو کچھ کہتی ہے وہ کہانی کےساتھ ساتھ ’وِدیو تَما‘ کو بھی بامِ عروج پر پہنچا دیتا ہے ۔ وہ کہتی ہے’’ ۔۔۔تجھے ہنسانے کے لئے اس وقت مجھے ایک بہت اچھا چٹکلا یاد آرہا ہے جومیری موجودہ حالت کے عین مطابق ہے۔ایک بار کا ذکر ہے سب کتے بھاگ رہے تھے۔ان ہی کے ساتھ ایک اونٹ بھی بھاگا جا رہا تھا۔ایک آدمی نے روک کر پوچھا
 ’ ارے بھائی اونٹ، تم کتوں کے ساتھ کیوں بھاگ رہے ہو؟‘‘
اونٹ نے جواب دیا ’’ میونسپلٹی والے کتوں کو پکڑنے کی تحریک چلا رہے ہیں۔‘‘
’لیکن تم تو اونٹ ہو، پھر۔۔۔؟‘‘
’’ یہ تم کہہ رہے ہو نا بھائی۔اگر پولس والوں نے مجھے پکڑ لیا تو بیس سال لگ جائینگے  گے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ میں کتّا نہیں  اونٹ ہوں۔‘‘
’’سوچتی ہوں کہ کہیں سے وہ کالیداس ہی آجائے اور کتوں کی اس بھیڑ میں مجھے دیکھ کر چلا پڑے ’ اونٹ ، اونٹ‘۔۔میں اُس کالیداس کے چرنوں میں جھک جاؤں گی ۔ بس۔۔۔کم سے کم میرا اصل چہرہ تو واضح ہوجائے۔‘‘
ڈاکٹرنیرجا مادھو کے اسلوب میں بڑی ندرت ہے ۔انھیں کہانی کہنے کا فن آتا ہے ۔کہانی میں قاری کی شمولیت اسے اس مقام پر لے جاتی ہے کہ وہ کہانی کا چشم دید گواہ بن جاتا ہے۔  ان کی کہانیوں کے تمام کردار ہندوستانی معاشرے کا حصہ ہیں۔وہ محروم طبقات کی اتنی کامیابی سے نمائندگی کرتی ہیں کہ جیسے محسوس ہوتا ہے آنکھوں دیکھا حال بیان کر رہی ہوں۔ چونکہ وہ ایک بھارتی ناری ہیں اس لیے بھارتی ناری کے دکھ کو بخوبی محسوس کرتی ہیں ۔ ان کی کہانیاں عورت کی مظلومیت  اور محکومیت کا اتنا اچھا تجزیہ ہیں کہ جسے دےکھ کر حقوقِ نسواں کے علمبردار بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ان کی کہانی’ بھنوری‘ تین دھارے، ابھی ٹھہرو اندھی صدی ‘ اور ’بوئے آدم‘ اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔ کتاب کی دیگر کہانیاں ’ پنُّو کے دار جی، اکیلے چنے کی آزاد لے، حاکم، راستے کی چبھن اور کہانی ’ فیٹ' انفرادی نوعیت کی حامل ہیں۔

ڈاکٹر غلام نبی مومن نے ان بامقصد اور فکرانگیز کہانیوں کو بڑی مہارت سے اردو میں منتقل کیا ہے۔جس کی داد انہیں ضرور ملے گی۔ کتاب میں ’ہندی کہانی کا ارتقاء ۔۔۔ایک سرسری جائزہ ‘ کے عنوان ہندی کہانی کی ابتداء سے اب تک کااحوال سنا کر ڈاکٹر صاحب نے ہندی ادب سے دلچسپی رکھنے والوں کا کام آسان کیا ہے۔
مصنفہ: ڈاکٹر نیرجا مادھو  [ پتہ:مدھوبن، 14/598 سارنگ ناتھ کالونی، سارناتھ، وارانسی 221007، اترپردیش (انڈیا) فون: ٩٧٩٢٤١١٤٥١ 
سن اشاعت: فروری ۲۰۱۱ء، قیمت: ۷۶ روپے، کل صفحات: (۱۲۸+۱۶)
ملنے کے پتے:
۱)ڈاکٹر غلام نبی مومن ، روم نمبر ۲،چودھری چال،چودھری محلّہ، کلیان۔۴۲۱۳۰۱۔ ضلع تھانہ(مہاراشٹر، انڈیا) فون: 9321259451
۲) سیفی بک ایجنسی، امین بلڈنگ، ابراہیم رحمت اﷲ روڈ،بھنڈی بازار،ممبئی 400003
۳) مدنی گرافکس، شاپ نمبر ۵، انامئے بلڈنگ، ۳۰۵ سوموار پیٹھ، پونے 411011