To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Sunday, September 11, 2011

Who will get lesson from these
attacks? Doctors or Public

Dr. Rehan Ansari
گذشتہ ربع صدی کے دوران طبی دنیا اور خدمات میں جہاں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں وہیں سماجی اور طبی اخلاقیات میں ایک تصادم بھی واقع ہوا ہے۔ چند واقعات کے ساتھ سماج میں افراد کا بپھرنا اور طبی خدمات پر مامور افراد اور معالجین کے ساتھ ناروا رویہ اختیار کرنے کے باعث ایک بے اعتباری اور عدم اعتمادی نے جگہ پائی ہے۔ ڈاکٹروں نے اس پورے عرصہ میں اپنے مطالبات جہاں شرافت کے ساتھ حکومت اور عوام دونوں میں پیش کیے وہیں ڈاکٹروں کے ساتھ تشدد کے ساتھ پیش آنے میں سماج کے کچھ عناصر نے کسی موقع کو نہیں بخشا۔ اسی لیے مقامی، ضلعی، ریاستی اور ملکی ہر سطح پر ڈاکٹروں نے احتجاج کیا لیکن حکومت نے خاطر خواہ اس کا کوئی نوٹس لیا نہ پولیس نے۔ حالیہ واقعہ کے ای ایم اسپتال میں پیش آیا تو علاقے کے پولیس افسر نے یہ کہہ دیا کہ اسپتال میں مامور پولیس کا عملہ محض طبی قانونی معاملات کے اندراج کے لیے متعین ہوتا ہے، اس کو کسی ہاتھا پائی کے معاملے میں براہِ راست دخل دینے کا مجاز نہیں ہے۔ اسپتال کا سیکوریٹی عملہ حملہ آور عوامی گروہ کے سامنے خود کو پسپا سمجھ کر ڈاکٹروں اور اسٹاف کو ان کے حال پر چھوڑ کر چل دیتا ہے۔

Doctors on Strike (File Photo
اس مرتبہ بھی ممبئی کے سائن (میونسپل) اسپتال کے ڈاکٹر حضرات پر ایک مرتبہ پھر برہم ہجوم نے حملہ کر دیا۔ واقعات کی تفصیل اخباروں اور دوسرے میڈیا سے مل چکی ہے۔ ممبئی کے سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹرس نے ایک مرتبہ پھر ہڑتال کر دی ہے۔ اب سب پریشان ہیں کہ کسی طرح بیماروں کے علاج کا جلد سے جلد  انتظام ہو اور سب کو راحت ملے!...مضطرب بھیڑ کا ڈیرہ ہے...آخر اسپتالوں میں داخل کرانے کے بعد مریضوں کے رشتہ دار اتنے جذباتی اور مشتعل کیوں ہوجاتے ہیں ؟ صبر کی جگہ جبر کیوں اختیار کر لیتے ہیں؟ یہ معاملہ جتنا افسوسناک ہے اسی گہرائی کی مناسبت سے اس کا تجزیہ بھی لازمی ہے۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک میں ہندوستان کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہاں کسی مریض کی جان یا بدن کو کچھ نقصان ہوجائے تو ڈاکٹر کو اپنی خیر منانے کے جتن کرنے پڑتے ہیں!


Junior Doctors on Strike (File Photo
ہماری یادداشت میں اپنی طالبعلمی کا وہ زمانہ اچھی طرح محفوظ ہے جب مریض و مسیحا کے مابین اس جذباتی رشتہ کو شدید ترین نقصان پہنچا تھا اور دونوں کی وابستگی کے درمیان ایک وسیع اور ناقابلِ تحلیل خلیج حائل ہو چکی تھی۔ یہ ۱۹۸۵ء کے بعد کا زمانہ تھا۔ ایک جانب مختلف ٹریڈیونینیں مزدوروں کا جذباتی استحصال کرتے ہوئے سرمایہ داروں کو نئے آسمان دکھلا رہی تھیں اور دوسری جانب شیئر بازار سے عوامی رشتے استوار ہونے لگے تھے اور دفتری ملازمین تک تمسکات (شیئرز) خریدنے میں دلچسپی لینے لگے تھے۔ منافع کی ہوا تھی اس لیے لوگوں کی جیبیں موٹی ہونے لگیں اور اسی نے کچھ افراد کے دماغوں پر بھی چربی چڑھا دی۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ بعض لوگوں نے ڈاکٹروں کو ایک نئے قانون کی پیچیدہ کھائی میں ڈھکیل دیا۔ اور کنزیومر پروٹیکشن ایکٹ (CPA) کے تحت کئی ڈاکٹروں کو ’’طبی لاپروائیوں‘‘ کی پاداش میں لاکھوں روپے ہرجانہ کی صورت میں ادا کرنے پڑے تھے۔ انجام اس کا یہ ہوا کہ بڑے اسپتال اور ڈاکٹروں کو جھرجھری آگئی۔ اسی جھرجھری نے ڈاکٹروں کی آنکھوں میں ہر مریض اور ان کے متعلقین کا چہرہ خوفناک بنا دیا۔ اُسی لمحہ مروّت جیسا لفظ اپنی معنویت کھو چکا تھا۔ سبھی بڑے ڈاکٹروں کی فیس میں فی الفور پانچ گنا تک اضافہ ہو گیا۔ بیحد ضروری میڈیکل ٹیسٹ کے ساتھ ہی جزوی اہمیت کے وہ ٹیسٹ بھی لازمی طورپر کرائے جانے لگے جن کو پہلے اپنی مہارت اور فراست پر محمول رکھتے ہوئے مریضوں کو خرچ سے بچایا جاتا تھا۔ (کیونکہ کنزیومر کورٹ میں بیشتر ’’طبی لاپروائیاں‘‘ اسی کے پیشِ نظر فیصل کی گئی تھیں!) یہ سلسلہ اتنا دراز ہوا کہ ایک اچھی خاصی ’’خدمتگار‘‘ طبی برادری ’’پروفیشنل‘‘ ہوگئی۔اور پیرا میڈیکل (تاجر) دنیا یعنی دواساز کمپنیاں، لیباریٹریاں، میڈیکل اسٹور وغیرہ نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور ڈاکٹروں کو بھی اب ’’محفوظ‘‘ اقدامات و علاج کا عادی بنا دیا۔ ڈاکٹروں کی نئی پود اسی ماحول کی تربیت یافتہ ہے۔ اس کے سامنے ’’طبی اخلاقیات‘‘ کا بیشتر معاملہ ’’مسکراتا ہوا سیلس مین‘‘ یعنی ’’کوالیٹی فری میں نہیں ملتی‘‘ اور ایک نرا پروفیشنل ڈاکٹر بننے جیسا ہے۔ اور پھر کثیر تعداد میں اسٹار ریٹیڈ (Star rated) اسپتال، نرسنگ ہوم، اور ہیلتھ سینٹر وجود میں آتے چلے گئے۔ شیئر مارکیٹ کے گراف کے ساتھ ہی عوام کے ایک مخصوص طبقے کے روپ رنگ کا گراف بھی اونچا ہوتا چلا گیا۔ اسٹینڈرڈ لوگوں کی پسند بھی اسٹینڈرڈ بنتی چلی گئی۔ یہ اسٹینڈرڈ لوگ طبی برادری کو بھی اپنے ’خادمان‘ تصور کرنے لگے۔ یہیں سے وہ تنزلی شروع ہوتی ہے جسے ’حرص و طمع‘ ہی کہنا پڑتا ہے۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے سماج کا ہر طبقہ اس پروفیشنلزم کو دونوں جانب سے justifyکرتا ہے۔ یہ تو ہوئی ایک صورت!
Unrest Crowd in front of Hospital Gate
دوسری جانب عوام کا وہ طبقہ ہے جس کے پاس آمدنی کے وسائل بیحد محدود ہیں۔ جو مہنگی دواؤں اور علاج کے حصول کا کبھی مکلف ہی نہیں رہا۔ ’اسٹینڈرڈ‘ اس کا دشمن نمبر ایک ہے۔ اسے جب کبھی مرض گھیرتا ہے تو وہ اس کی تفصیل جاننا پسند کرتا ہے اور نہ ہی اس کی لیباریٹری تفتیش سے ہی کوئی دلچسپی رکھتا ہے۔ اسے فکر اتنی ہی ہوتی ہے کہ اس کے مرض کو وہ ’’چھوٹا ڈاکٹر‘‘ محض دو یا تین خوراک میں رفوچکر کر دے جو اس کے محلے کے ایک نیم روشن اور محبوس سے مکان میں مطب کرنے بیٹھ گیا ہے۔ اور اس کی فیس عموماً اتنی بھی نہیں ہوتی جتنا آج کل نائی بال کاٹنے کے لیے لیتے ہیں۔ یہ ہوئی دوسری صورت!

This becomes a common scene during medical staff strike
آمدنی کے لحاظ سے سماج کے اونچے طبقے سے قطعِ نظر درج بالا دونوں طبقات کا ہی واسطہ اصل میں متاثرہ دواخانوں اور اسپتالوں یا ڈاکٹروں سے پڑتا ہے۔ (تھانہ کے سنگھانیہ اسپتال جیسے معاملات استثنائی صورت ہیں جہاں شیو سینا کے ایک اہم لیڈر کی موت ہو گئی تھی اور اسپتال کو اتنا توڑ پھوڑ دیا گیا تھا کہ اس کے بعد اس اسپتال کو نیستی کی نذر کرنا پڑ گیا تھا)۔ مذکورہ طبقات کے افراد جب مریض کو اسپتال لاتے ہیں تو وہ کسی قدر یہ بھول جاتے ہیں کہ منصبی فرق ہٹا کر دیکھیں تو ڈاکٹر حضرات بھی انھی کے سماج کے افراد ہیں، انھی کی طرح کے گھروں کے پالے پوسے ہیں، انھی کی طرح جذبات رکھتے ہیں، ڈاکٹر بنے ہوئے انھیں عرصہ ہی کتنا بیتا ہے؟... اس لیے جذبات میں وہ بھی یکساں ہوتے ہیں۔
CPA کے اطلاق کے بعد سے ہی مریض کو داخل کرنے کے وقت اسپتالوں اور دواخانوں میں لکھت پڑھت بڑھ گئی ہے۔ داخلے کے طریقوں میں سخت شرائط شامل ہو گئی ہیں۔ قوانین کی پاسداری کو ہر عمل پر فوقیت حاصل ہو گئی ہے۔ اب میڈیکل اور پیرا میڈیکل عملہ کسی بھی شکل میں کوئی Risk نہیں لینا چاہتا۔





یہی اور ایسے دوسرے عوامل ہیں (جن میں ہر تجارتی شعبے کی مانند طبی تجارتی اداروں یعنی پیرامیڈیکل کی مختلف آفر اور اسکیمیں بھی شامل ہیں) جن کی وجہ سے پرخلوص طبی خدمات کو بڑا دھکا پہنچا ہے۔ لوگ بھی ’اخلاص‘ کی جگہ ’تکلف‘ کی پذیرائی زیادہ کرتے ہیں۔ خصوصاً شہروں میں۔ دیہات بھی اب کتابوں کے صفحات تک محدود ہوتے جارہے ہیں۔ اسی تکلف اور تصنع کا انجام ہے کہ عوام کا طبی برادری پر اور طبی برادری کا عوام پر سے اعتماد گھٹتا جارہا ہے۔ ان سب حقائق کے باوجود آئیے اس زاویے پر کہ اخراجات و تکلفات ضرور بڑھ گئے ہیں لیکن طبی برادری کے ساتھ اپنے مریضوں کے دکھ اور تکلیف کو آج بھی اتنی ہی سنگینی کے ساتھ محسوس کرتی ہے جتنا سنگین آزار وہ مریض کے لیے ہوتا ہے۔ اس کی تکلیف کو (نئی تکنیکوں کے ساتھ) دور کرنے کے لیے ہر ممکن جتن کرنے لگتی ہے۔ اپنا آرام، چین اور نیند قربان کرتی ہے، محض اس لیے کہ مریض اور اس کے متعلقین کو راحت نصیب ہو۔ اس پورے دور میں مریض کے متعلقین بھی بڑی آس اور امید کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ اور دعا مانگتے رہتے ہیں۔ لیکن بقول اکبرؔ:
ابھی بیمار ہیں سب کر رہے ہیں قول و عہد اکبرؔ
اُسی کوچے میں پھر پہنچیں گے ہونے دو ذرا اچّھا
اس شعر میں ’اچھا ‘ نہ ہو کر کچھ اونچا یا نیچا ہو جائے یا کچھ ’’غچہ‘‘ ہو جائے تو نوبت وہی توڑ پھوڑ اور زد و کوب کی آجاتی ہے۔ ہماری دانست میں عوام کو ایسے مرحلے پر صبر کا مظاہرہ کرنا لازمی ہے۔ کیونکہ وہ انجام پر مبنی شاعر کی اس بات کو شاید محسوس کر سکتے ہیں کہ:
ملک الموت کو ضد ہے کہ وہ جاں لے کے ٹلے
سر بہ سجدہ  ہے مسیحا   کہ مری بات   رہے!
کوئی بھی ڈاکٹر یہ نہیں چاہتا کہ اس کے مریض کو کسی بھی طرح کا نقصان پہنچے، لیکن مقدر تو غیر مبدّل ہے۔ اگر اپنے سماج میں تناسب کا خیال کریں تو ڈاکٹر اور اسپتال ابھی کم تعداد میں ہیں۔ اور عوام کو خیال رکھنا ہی چاہیے کہ یہ آپ کی لازمی اور ایمرجنسی ضروریات ہیں... اور یہ نہر اُلٹی نہیں بہتی.

No comments: