To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Wednesday, December 28, 2011

Nothing New About the New Year
Expect and Wish You All  the Best

Dr. Rehan Ansari
ایک پرانے گیت کا مکھڑا یاد آتا ہے کہ ’’پینے والوں کو پینے کا بہانہ چاہیے‘‘۔ ہر برس 31دسمبر ایک ایسا ہی بہانہ ہے۔ اس روز دل و دماغ اور نظرودید کے لیے ہر طرح کا نشہ عام ہوتا ہے، اور پینے والوں کو ۳۱دسمبر کا بہانہ ہاتھ ہوتا ہے۔
ہمارا ملک ہندوستان کثیرمذہبی ملک ہے۔ ہر مذہب کے چند تیوہار ہیں۔ ان تیوہاروں کو منانے کے کوئی اصول اگر متعین ہیں بھی تو انھیں جملہ مذاہب کے ماننے والوں کی اکثریت کبھی خاطر میں نہیں لاتی۔جب تک یہ سب اپنے اپنے معبودوں کے دربار میں کھڑے یا بیٹھے ہوتے ہیں تب تک ان کے دل اور نگاہ پر ایک طرح کی پابندی نظر آتی ہے۔ مگر جیسے ہی یہ اس آستاں سے اٹھ کر دنیائے رنگ و بو میں قدم رکھتے ہیں ان کی ساری شرافت اور انسانیت عریاں ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ان کے اندر سانس لینے والا اصلی وجود ظاہر ہوجاتا ہے۔پھر عیش میں یادِ خدا نہیں رہ جاتی! یہ سب ہوتا ہے بنامِ جشن و خوشی۔


کثیر مذہبی معاشرے کی ایک عجیب و غریب چاہت بھی کوئی اطمینان بخش منطقی نتیجہ پیش نہیں کرتی کہ ہم مذہبی تیوہاروں (عبادات و رسوم) کی ادائیگی میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کی شرکت کو کیوں لازمی سمجھتے ہیں۔ اس شرکت کو مذہبی رواداری، وسیع المشربی، کشادہ ذہنیت جیسے خوبصورت اور دل پذیر ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔بلکہ سچ کہا جائے تو ان اصطلاحات کے ساتھ ایک دوسرے کو بہکایا جاتا ہے یا بہلایا جاتا ہے۔
جہاں تک تہذیبی یا معاشرتی تقریبات کا تعلق ہے تو انھیں ہمارے مشترکہ معاشرے میں ساتھ ساتھ انجام تک پہنچانے میں ہم بھی وسیع المشرب ہیں یا کہہ لیجیے روادار ہیں۔ مگر خالص مذہبی تقریبات یا مذہب سے متعلق رسوم میں پوری مشابہت کے ساتھ شرکت کرنا تو منافقت ہی کہی جانی چاہیے۔چنانچہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ ہولی دیوالی ہو، نوراتری اُتسو ہو یا گنیش اُتسو، رکھشا بندھن، کرسمس ہو یا ۳۱ دسمبر کی رات، ہم صرف اپنے نشے کے چکر میں تیوہار منانے والی ان قوموں سے تشبّہ اختیار کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ ’’رواداری‘‘ کا پاس رکھتے ہوئے یہ قومیں بھی ہماری عید کی سوئیوں اور شیرخرمے کی پیالیوں سے رسم و راہ نباہتے ہیں۔
مگر رواداری کے ایسے نباہ میں ہم نے مسلمان بھائیوں کو بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے پایا ہے۔ خصوصاً ممبئی (اور اس کے جیسے دوسرے شہروں) میں چونکہ رہائشی بلڈنگیں اب مخلوط معاشرہ کی دلیل بن چکی ہیں چنانچہ معاشرتی اور تہذیبی اثرات بھی بے پناہ خلط ملط ہو چکے ہیں۔ حتیٰ کہ مذہبی تقریبات اور تیوہاروں کو نظرانداز کرکے غور کریں تو پورا سال ان کے تہذیبی و معاشرتی آئینہ میں تفریق کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون کس مذہب کا پیرو ہے۔نفسیاتی طور پر یہ شہری معاشرہ ان کے ذہنوں میں بھی مذہبی شناخت کا احساس دن بہ دن کم کرتا جاتا ہے۔ (یہاں مذہبی شناخت کو مذہبی تعصب سے مراد نہ لیں)۔اسی گمشدہ شناخت کا احساس لاشعوری طور پر اس دن سارے جذبات میں اُبال پیدا کردیتا ہے جب کوئی مذہبی تیوہار آن پڑتا ہے۔ اس وقت ہر مذہب کا ماننے والا پوری شدومد کے ساتھ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ کس مذہب کا پیرو اور وفادار ہے۔پھر اپنی یا پڑوسی بلڈنگ کے مکینوں کو یہ باور کرانے کے لیے اپنی حد سے گذرتے ہوئے تیوہار منانا پسند کرتا ہے۔ ہر تیوہار منانے والا خوشیوں (جذبات) کی افراط میں اپنے پڑوسیوں کو بھی شریک کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔ پڑوسی بھی حقِ ہمسائیگی کی ادائیگی کے لیے ان کے ساتھ ہنسی خوشی شریک ہوتے ہیں۔ اصلاً یہ سب خود کو سمجھانے اور اس احساسِ محرومی کو رام کرنے کے لیے ہے کہ اس بھرے پرے شہر میں انھیں جاننے پہچاننے والے بھی کچھ لوگ رہتے ہیں۔ بعد از تقریب ’’آج مزا آگیا!‘‘ پر بات ختم ہو جاتی ہے۔سب مشترکہ طور پر اسی بات پر رضامند ملتے ہیں کہ ’’رِند کے رِند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی‘‘


اسی مشترکہ کلچر کی دین ہے کہ کرسمس کو گھل مل کر منایا جاتا ہے۔کرسمس خاصا رنگیلا تیوہار سمجھا جاتا ہے۔ اس کی رنگینی کے سبب اکثریت اسے مذہبی سے زیادہ معاشرتی تیوہار تصور کرتی ہے۔ عیسائی روایات کے مطابق یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یومِ پیدائش ہے۔ مگر ان کے یہاں بھی کوئی واثق روایت موجود نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یکے از پیغمبرانِ اسلام ہیں۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو آپ علیہ السلام کے یومِ پیدائش پر ہمیں بھی دعاؤں کا اہتمام کرنے کی سعادت حاصل کرنی چاہیے لیکن اسلام ان سب باتوں سے منع کرتا ہے اور تشبّہ کے خوف نیز حدیثِ مبارکہ کی روشنی میں ہمیں اس سے بہرحال احتراز ہی کرنا چاہیے۔
کرسمس تو کسی طور بچتے بچاتے گذار دیا جاتا ہے لیکن دلوں میں جو رنگینیوں کا تصور اور نظر کو خیرہ کرنے والی تقریبات کی جو تصویر سمائی ہوتی ہے کرسمس کے دن اس کی پوری تسکین حاصل نہیں ہو تی اس لیے سماج کے شریر و چالاک طبقات نے ۳۱ دسمبر کو سال کا یوم الآخر منانے کے نام پر ہر طرح کی دھینگا مشتی اور ہر طرح کے نشے کو رواج دے دیا ہے۔ کسی کو رقص و سرود کی محفلوں میں مزہ ملتا ہے تو کسی کو ہنگامہ خیزی سے، کسی کو آتش بازی سے دلچسپی ہوتی ہے تو کسی کو چھیڑ چھاڑ سے قرار حاصل ہوتا ہے۔بعض نوجوان فراٹے بھرتی ہوئی چارچکہ یا دوچکہ گاڑیوں پر خالی سڑکوں پر بے ہنگم شور مچاتے مل جاتے ہیں تو کچھ عیش و مستی میں ڈوبے نظر آتے ہیں۔ ٹیلی ویژن آجانے کے بعد بلاتفریقِ مذہب و ملت و معاشرہ ہر گھر میں چھوٹے پردے سے یہ سماجی ناسور رِستا ہوا نظر آتا ہے۔اس روز، بلکہ نصف شب کو ان سب باتوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ملتا۔ سوچنے کا مقام ہے کہ ان سب باتوں کو دینِ فطرت تو کجا خود عیسائی مذہب سے کیا علاقہ ہو سکتا ہے۔ یہ سب تو کھلی ہوئی شیطنت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ مگر ہم جانتے ہیں کہ ہماری آواز بے حد کمزور ہے اور شاید سماعتوں کو متاثر کیے بغیر ہی دم توڑ دے گی۔ کیونکہ ۳۱ دسمبر تو ہر قسم کا نشہ ساتھ لاتا ہے اور مخمور ماحول میں کوئی اخلاقیات پر لکچر پسند نہیں کرتا؛ خصوصاً آج کا مسلم نوجوان، اسے بھی ایک لت ہے اور اس لت کا تقاضہ ہے کہ ’’پینے کا بہانہ چاہیے!‘‘

Sunday, December 25, 2011


Mirza Ghalib: Bharat Ratn
Justice Markandey Katju Zindabaad

Dr. Rehan Ansari
پریس کونسل آف انڈیا (Press Council of India) کے صدر محترم جسٹس (ریٹائرڈ) مارکنڈے کاٹجو Justice (Retrd) Markandey Katju کے مطالبے کی ہم بھرپور حمایت کرتے ہوئے حکومتِ ہند سے درخواست کرتے ہیں کہ مرزاغالبؔ کو پس از مرگ ’’بھارت رتن ایوارڈ‘‘ تفویض کیا جائے۔
ہم یہاں جسٹس مارکنڈے کاٹجو صاحب کا دلی شکریہ بھی ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے مرزا اسداﷲ خاں غالبؔ Mirza Ghalib  جیسی عبقری اور ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب و روایات کی علمبردار شخصیت کے حق کی بابت بروقت آواز اٹھائی۔ مرزا غالب کے حالاتِ زندگی کو پڑھنے اور جاننے والے نیز ان پر بنی فلموں اور سیریل کے ناظرین نے بھی اس بات کو برابر محسوس کیا ہے کہ مرزا نوشہ ہندوستانی تہذیب اور اقدار کے ہی شاعر و ادیب (مکتوب نویس) نہیں تھے بلکہ ہندوستان کی واحد اور اصلی زبان جو ملک کے شرق و غرب اور شمال و جنوب کے عوام کو رابطہ میں رکھتی تھی یعنی ’اردو‘ کے بھی عظیم شاعر تھے اور اصلی رتن بھی ہیں۔
ملک کے طول و عرض میں اردو کے نشاۃ ثانیہ کی امیدجاگ چلی ہے، ہمیں امید ہے کہ بہت جلد ملک کے تمام باشندے دوبارہ ایک دوسرے کو جاننے اور ملک کے استحکام و یگانگت کی آبیاری کے لیے دوبارہ محبتوں کی پیامبر اس عظیم ہندوستانی زبان یعنی اردو کو اپنانے کے لیے تیار ہونے والے ہیں۔ اردو کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو ان ستر برسوں میں برابر منہ کی کھانی پڑی ہے اور وہ اپنی اختراعی زبان ہندی کو لاکھ کوششوں کے باوجود قبولیتِ عام نہیں دلا سکے ہیں۔


حکومت کو چاہیے کہ وہ بھارت کے اس سپوت ’مرزا غالب ‘ کو اپنے رتنوں میں شمار کرے۔ جسٹس کاٹجو زندہ باد۔

Monday, December 19, 2011

Halala: Another Name for Rape
Think Beyond 

Dr. Rehan Ansari
ٹائمز آف انڈیا کی ہفتہ وار خصوصی اشاعت ’’کریسٹ ایڈیشن‘‘ The Times of India - Crest Edition کے ۳دسمبر ۲۰۱۱کے شمارے میں منجری مشرا Manjari Mishra کی ایک اسٹوری شائع ہوئی تھی۔ عنوان تھا ’’زنا کا نامِ دیگر‘‘۔  "Another Name for Rape" اس میں ’حلالہ‘ کو موضوع بنا کر بیحد تیکھے اور سخت تیور میں ایک کولاج پیش کیا گیا تھا۔ اصول کے مطابق اس خاکسار نے مختلف ذرائع اور علما سے رجوع کر کے اس کا مکمل و معتدل جواب انگریزی میں ہی لکھ کر اخبارِ مذکور کو ای میل کر دیا تھا۔ مگر آج کے صحافتی اداروں اور صحافیوں کی ترجیحات سے ہم خوب واقف ہیں اس لیے توقع کے عین مطابق انھوں نے پورے مضمون میں سے گنتی کی چند سطریں ’’خیال آرائی‘‘ کے ضمن میں شائع کیں اور پورا مضمون حذف نہیں بلکہ ہضم کرگئے۔




ہم نے ایک احساسِ ذمہ داری کے تحت اس مضمون کو اردو روپ دیا اور اب آپ کی خدمت میں اس نیت کے ساتھ پیش ہے کہ ہمارے لوگوں میں بھی ایک بڑا طبقہ اس سلسلے میں بات تک کرنا پسند نہیں کرتا؛ بہت سے تباہکار مولوی حضرات اور تجارت پیشہ قاضیوں نے اسی لیے اس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کا دھندہ بنا رکھا ہے؛ جب کہ یہ بلا تفریقِ مسلک و عقیدہ ایک شقِ شرعیہ ہے اور ہم سب کو ہی اس کا جاننا لازمی ہے۔ اس باب میں کوئی فرد سوال کرے تو اسے جھٹک دینا بے احتیاطی کا سبب ہے۔ ایک بات اور کہ روابط کے بعد مجھے حیرت ہوئی کہ لاعلمی یا مختلف عقیدہ کے سبب کچھ مسلمان اس سے خود کو دست کش کرتے ہیں اور محض احناف سے اسے جوڑتے ہیں۔ لیجیے پیش ہے اس مضمون کا اردو روپ:
منجری مشرا کا تحریر کردہ مضمون (ٹائمز آف انڈیا کریسٹ ایڈیشن، مورخہ ۳دسمبر) انتہائی تلخ لہجہ میں لکھا ہوا ہے۔ اس کا انداز متوازن نہیں ہے۔ پورا زور اس بات پر صرف کیا گیا ہے کہ کس طرح پوری مسلم کمیونٹی کہ ہدفِ ملامت بنایا جائے۔ میں پوری اسٹوری کے کسی بھی حصہ کی تنسیخ یا دفاع نہیں کروں گا کیونکہ مسلمانوں کے درمیان ایسے افراد لازماً موجود ہیں جن کا تذکرہ اور احوال اسٹوری میں دیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ زعم ہے کہ وہ ترقی پسند ہیں، معاذاﷲ، یہ وہی لوگ ہیں جو شرعی قوانین کا کوئی لحاظ نہیں کرتے اور مسلمانوں کی جگ ہنسائی اور انھیں دقیانوسی ٹھہرانے کا موقع بھی ڈھونڈتے رہتے ہیں۔
’حلالہ‘ کبھی پسندیدہ عمل نہیں رہا ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت نے ہمیشہ اسے لتاڑا ہے۔ مگر بہتوں (اور مسلمانوں میں بھی) نے اس کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ یہ کوئی فرض Mandatory نہیں ہے جس پر خواہی نخواہی عمل کرنا ہی پڑے گا بلکہ شریعت کی ایک شق Clause ہے جس سے روشنی پاکر جب ایسا معاملہ درپیش ہو تو اس کا حل نکالا جائے۔ بہت سے علما اور غیرعلما یہ بھی کہتے ہیں کہ ’حلالہ‘ لفظ شریعت میں موجود نہیں ہے بلکہ یہ  اختراع ہے۔ چلیے یہ مان لیں کہ ایسا ہے بھی تو جب ایسے حالات ابھریں تو اسے کوئی نام تو دینا ہی ہوگا نا؟... یہی ’حلالہ‘ ہے، یعنی نام، اسم!... اگر ایسا ہی ہے تو ہم بھی کیوں نہ اسے اپنے طور پر دیکھیں۔ لفظ حلالہ کی اصل عربی ہے۔ عربی میں اس کی دو صوتیات سمجھ میں آتی ہیں ایک ’’حلالۃٌ=حلالتُن‘‘ بمعنی حلال مؤنث اور ’’حلالہ= حلالَ ہ‘‘ بمعنی حلال برائے مرد، دونوں ہی صوتیات عورت (مؤنث) سے مراد ہیں اور ’’اسم‘‘ ہیں، یہ ’’فعل‘‘ نہیں ہیں۔
آگے بڑھنے سے قبل ایک بات اور صاف کرتے چلیں۔ ہم سبھی ’ہونے‘ اور ’کرنے‘ کے فرق سے واقف ہیں۔ اس لیے اس جملے کو نوٹ کریں کہ ’’(عورت)حلالہ ہوتی ہے، کی نہیں جاتی‘‘۔اور جب کوئی عورت حلالہ ہوتی ہے تو اﷲ تعالیٰ کی جانب سے اس پر رحمت کے بھی کئی فیصلے ہوجاتے ہیں جنھیں بروقت محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ مگر جب حلالہ کیا جاتا ہے یا کروایا جاتا ہے تو اس پر کسی اور کی نہیں نبئ رحمت ؐ نے فرمایا اﷲ کی لعنت اور پھٹکار ہوتی ہے اور حلالہ کرنے اور کروانے والے نیز ان کے جملہ معاونین واصلِ جہنم ہوں گے سدا کے لیے۔نبی اکرم ؐ نے حلالہ کرنے والے مرد کو ’’کرایہ کا سانڈ‘‘ کہا ہے۔
قرآن کی سورۃ البقرۃ کی آیت نمبر ۲۳۰ کا ترجمہ یوں کیا جاتا ہے کہ ’’پھر اگر طلاق دے دی مرد نے بیوی کو (تیسری مرتبہ) تو نہیں حلال ہوگی وہ اس کے لیے اس کے بعد جب تک کہ نہ نکاح کرے وہ کسی اور خاوند سے اس کے سوا، پھر اگر طلاق دے دے (دوسرا) خاوند اس کو تو نہیں ہے کچھ گناہ ان دونوں پر اس بات میں کہ رجوع کرلیں ایک دوسرے کی طرف بشرطیکہ دونوں یہ خیال کریں کہ قائم رکھیں گے اﷲ کی (مقرر کردہ) حدیں، اور یہ اﷲ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جن کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے وہ ان لوگوں کے لیے جو دانشمند ہیں‘‘۔
مشہور آن لائن انسائیکلوپیڈیا ’’وِکی پیڈیا‘‘ Wikipedia کا یہ اقتباس بھی ملاحظہ فرمائیں: ’’صاف سی بات یہ ہے کہ حلالہ منصوبہ بند طریقہ سے اور دانستہ ہرگز نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اس عورت اور دوسرے خاوند کے مابین اس طرح نکاح کو جائز نہیں قرار دیا جاتا کہ بعد میں طلاق لے لی اور دے دی جائے گی۔اس طرح کے تعلق کو زنا کہا جائے گا اور اس کے بعد جب وہ پہلے سے منصوبہ بند انداز میں پہلے شوہر سے حلالہ کرواکے رجوع ہوگی تو اسے بھی زنا ہی کہا جائے گا۔ محمد ؐ نے ایسے مرد پر جو حلالہ کرتا ہے اور اس پر بھی جو حلالہ کرواتا ہے لعنت بھیجی ہے۔امیرالمومنین ثانی حضرت عمر ؓ نے اپنے دور میں یہ اعلان کروایا تھا کہ جو بھی لوگ منصوبہ بند طریقہ سے حلالہ کا عمل انجام دیں گے ان سب کو سنگساری کے ذریعہ موت کی سزا دی جائے گی‘‘۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ حلالہ ’’کرنے اور کروانے‘‘ کا عمل انتہائی کریہہ اور تباہ کن ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کی ہر جگہ اور ہر سطح پر مخالفت کی جاتی ہے۔مگر جب بغیر کسی نیت کے حلالہ از خود ’’ہوجاتا ہے‘‘ یعنی پیش آتا ہے تو اس کے کچھ فرحت بخش نتائج بھی سامنے آتے ہیں۔ یہ بات ملحوظ رہے کہ حلالہ پیش آنے کے باوجود عورت اپنے نئے خاوند کے انتخاب اور نکاح کے لیے مکمل آزاد اور خود مختار ہے اور اس پر اپنے سابقہ شوہر سے رجوع کے لیے کسی بھی قسم کا دباؤ کسی بھی حال میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ یہ حلالہ اس طرح بھی پیش آسکتا ہے کہ دوسرے خاوند سے نکاح کے بعد اس خاوند کا جلد ہی انتقال ہوگیا اور وہ بیوہ ہو گئی۔ پھر تنہا ہوگئی۔ایسے وقت اس کا دل اپنے سابقہ شوہر کی جانب مائل ہو اور وہ کسی طرح بھی ظالم نہ رہا ہو، طلاقِ مغلظہ ایک حادثہ کی صورت پڑ گئی ہو تو بیوگی کی عدت کے بعد وہ اپنے سابقہ خاوند کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے اور دونوں خوش و خرم زندگی کا آغازِنو کرسکتے ہیں۔
حلالہ کے تعلق سے جتنی بھی برائیاں ہمارے اندر دکھائی دیتی ہیں اور عورت کو جس طرح شرمندہ نیز اس کا استحصال کیا جاتا ہے، وہ سب خرابیاں ہماری اپنی پیداکردہ ہیں، ان سب کا اصل اسلامی تعلیمات سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ اﷲ ہم سب کو راستی پر رکھے اور اپنے حفظ و امان میں رکھے (آمین)۔


The Muslim Woman Has
All the Rights to Choose
Her Life Partner And Nobody
Could Compel Her
درجِ بالا مضمون کے آگے بھی کچھ سطریں لکھنا چاہتا ہوں کہ حلالہ اصل میں دیکھا جائے تو عورت کی بے عزتی نہیں ہے بلکہ اس مرد کی بے عزتی اور رسوائی ہے جو ایک اچھی عورت کہ جس کے تعلق سے رسولِ اکرم ؐ کا فرمان ہے کہ دنیا کی سب سے اچھی نعمت ایک نیک بیوی ہے، سے خود کو محروم کر لیتا ہے۔ سماج میں اس کا جینا اور چلنا پھرنا اس وقت تک دشوار ہی رہتا ہے جب تک اس کا ایک بھی شاہد بستی میں موجود ہو۔ اس کے برخلاف مطلقہ عورت کے ساتھ عموماً پورے سماج کا رویہ ہمدردانہ اور مشفقانہ ہوا کرتا ہے نیز اسے دوسرا خاوند ملنا کافی آسان بھی ہوتا ہے۔ لوگ اس کی امداد کو تیار رہتے ہیں۔ جبکہ طلاق دہندہ مرد کو دوسری ’شریف‘ عورت نصیب ہونا انتہائی دشوار بلکہ اکثر ناممکنات میں ہوتا ہے۔
بعض مسلمان ان باتوں کے باوجود مطمئن نہیں ہوتے تو ان کی خدمت میں یہ آسان سا سوال ہے کہ خدا نخواستہ ان کے کسی اپنے کے ساتھ تین طلاقوں کے بعد رجوع کی خواہش یا نوبت آن پڑے تو وہ کس نام اور پروسیس کے ساتھ اس معاملہ کو نمٹائیں گے؟ یا ایک اچھی عورت کو بے آسرا چھوڑ دیں گے؟

Thursday, December 15, 2011

Nocturnal Emissions or Wet Dreams
Do not have any bad effect on
General Health
Dr. Rehan Ansari
مغربی اور ترقی یافتہ ملکوں میں ہمارا ہندوستانی معاشرہ قدامت پرست کہلاتا ہے اور ہم اس قدامت پرستی کو تہذیبی قدروں کا عنوان دیتے ہیں۔ہمارے یہاں افرادِ معاشرہ کے مراتب کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے۔ ہاں جو لوگ (مغربی انداز کی) ترقی پسندی کے مرض میں مبتلا ہیں ان میں بھی قدریں کسی قدر رخصت پذیر ہیں۔تہذیبی قدریں جہاں بے شمار صحتمند صلاحتیں پیدا کرتی ہیں وہیں بعض اوقات افراد میں تفکرات اور منفی احساسات بھی پیدا کرتی ہیں۔انہی منفی احساسات میں شامل ہے ’احتلام‘۔ احتلام کو بعض طبی حلقوں میں ایک مرض خیال کیا جاتا ہے۔ جبکہ یہ متنازعہ فیہ ہے۔ آئیے اس موضوع پر کچھ کھلی کھلی باتیں کریں۔
تعارف
احتلام کے معنی ہیں خواب (شہوانی) دیکھنا۔ انسان جب خواب میں کوئی شہوانی تصویر یا عمل دیکھتا ہے تو اسے انزال ہو جاتا ہے اور کپڑے ناپاک ہو جاتے ہیں۔ عمر کے کسی نہ کسی حصے میں اسّی تا نوّے فیصدی مردوں کو احتلام ہوتا ہے۔ ویسے تو کوئی مخصوص عمر اور صنف نہیں ہے لیکن اکثریت کی عمر پندرہ سے بائیس سال کے درمیان ہوتی ہے۔ کنوارے افراد (لڑکا اور لڑکی) میں یہ شکایت بالکل عام ہے مگر لڑکوں کو شرمندگی کا شکار زیادہ دیکھا جاتا ہے کیونکہ ان کے زیرجامے یا پاجامے اسے ظاہر کردیتے ہیں۔جب لڑکا بلوغت کی عمر کو پہنچتا ہے تو دیگر ثانوی جنسی علامات ظاہر ہونے کے بعد فطری طور پر اسے کم و بیش شہوانی خیال و خواب آنے لگتے ہیں۔ مشاہدے سے خیالات اور پھر شہوانی تصورات سے خواب تک کے سفر کا انجام احتلام کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کو ہفتہ عشرہ اور بعض کو پندرہ بیس میں احتلام ہوا کرتا ہے۔
’’احتلام ہونا شہوانی تناؤ سے آزادی اور حفظانِ صحت و بدن کے لیے فطری واقعہ ہے۔‘‘ یہ حقیقتاً کوئی مرض نہیں ہے۔ یہ شکایت اکثر ایسے افراد میں پائی جاتی ہے جو غیرشادی شدہ ہوتے ہیں۔ خوشگوار اور مطمئن ازدواجی زندگی گذارنے والے افراد میں یہ شکایت تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔
غلط فہمی
احتلام کے ساتھ سماجی سطح پر ایک اہم غلط فہمی لپٹی ہوئی ہے کہ منی کا خارج ہونا جسم کے لیے انتہائی خطرناک اور شدید ناتوانی کا سبب ہے؛ اور یہ کہ منی کا وافر مقدار میں موجود رہنا ’’خزانۂ صحت‘‘ ہے!۔ اس مقام پر سب سے پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ منی آخر کیا ہے؟.... اور کیا حقیقتاً یہ کسی فرد کی جسمانی صحت کی ضمانت اور دلیل ہے؟


منی کے تعلق سے طب کی پرانی کتابوں میں بہت زیادہ درج نہیں ہے۔ جو کچھ ہے وہ ظاہری مشاہدے کی بنیاد پر ہے۔ہم نے پہلے بھی لکھا ہے کہ ایسے عنوانات پر علوم کا تشنہ ہونا زمانہ کی مجبوری تھی۔ اُس دور میں خوردبین نہیں تھی اس لیے قیاسی مضامین ہی پائے جاتے ہیں۔ اُن مضامین میں سب سے معتبر تذکرہ جو موجود ہے اس کا خلاصہ ہے کہ: ’’منی نوعِ انسانی کے تحفظ کا سامان ہے، آلہ ہے، اور قوتِ تناسلیہ غذا میں تصرف کرکے اس کی پیدائش کا سبب بنتی ہے۔‘‘ منی کی پیدائش اعضاءِ تناسلیہ کے عضوِ رئیس خصیتین میں ہوتی ہے۔
جدید طب کی کتابوں میں نئی تحقیقات کی روشنی میں مادۂ منویہ اور منی (یعنی مجموعۂ رطوباتِ مذی و مجرئ بول اور مادۂ منویہ) کے تعلق سے بڑا لٹریچر دستیاب ہے۔ مگر یہاں بھی یہ سوال تشنۂ جواب ہی رہتا ہے کہ آیا منی خود مرد کے لیے جسمانی طور پر مفید ہے یا نہیں؟۔ دوسرے الفاظ میں فیکٹری کے لیے اپنا پروڈکٹ کتنا کارآمد ہے؟

حقیقت
منی دراصل بدن سے خارج ہونے والی دیگر فاضل رطوبات جیسے تھوک، آنسو، پسینہ، ناک اور کان کی رطوبات کی مانند ایک قابلِ اخراج رطوبت ہے۔ اب قارئین خود غور فرمائیں کہ تھوک، آنسو اور پسینے کی پیدائش اور زائد مقدار کے اخراج میں بدن کے کتنے فائدے مضمر ہیں۔ جبکہ یہی رطوبات اگر بدن میں رک جائیں اور خارج نہ ہوں تو (ان کے امتلاء سے) بدن کو کیسی کیسی تکلیفوں کاسامنا ہو سکتا ہے۔ بس یہی کیفیت احتلام کی ہے۔ منی کی پیدائش اور امتلاء مردانہ جنسی ہارمون کے زیرِ اثر ہوتا ہے اور یہ فی نفسہٖ مرد کے لیے کسی کام کی چیز نہیں ہے۔بلکہ فطرت نے اس کی پیدائش کا نظام محض نوعِ انسانی کی بقا کے لیے برپا کیا ہے۔ تو بھلا بتائیے کہ اس کے کسی صورت اَزخود ضائع ہونے سے بدن کو کیا نقصان ہو سکتا ہے؟ پھر اس کی زیادتی اور کمی پر بحث کا سلسلہ کئی صدیوں سے ( دنیا کے ہر انسانی سماج میں) آج تک ختم نہیں ہو سکا ہے اور ہنوز بے نتیجہ ہے! قرآنِ پاک میں بھی اسے ایک ’گرنے والا قطرہ‘ ہی کہا گیا ہے۔ اس لیے اس پورے پس منظر میں ہمیں جس نکتہ پر غور کرنے کی ضرورت ہے وہ ’’مادۂ منویہ اور منی کی طبعی مقدار اور حالت‘‘ ہو سکتا ہے جو کہ تولید کے لیے اصل ہے۔
آج ہم صرف یہ غلط فہمی دور کرنا چاہتے ہیں کہ احتلام سے قوتِ مردانہ کم ہو جاتی ہے۔احتلام بدن کا ایک فطری تقاضہ ہے اور منی کے احتلام میں ضائع ہونے سے بدن کے دیگر افعال و اعضاء پر کوئی غلط اثر نہیں پڑتا بلکہ اعضاءِ تناسلیہ پر گرانی کم ہو جاتی ہے۔ اس کی فکر میں شکوک و شبہات اور شرمندگی کا شکار ہونا عبث ہے۔ اس کے علاج پر خرچ کرنا ضیاع ہے۔
اسبابِ احتلام
جیسا کہ بتایا گیا احتلام خصوصیت سے کنواروں (دونوں جنسوں) کا عارضہ ہے۔جس قدر شہوانی تصورات پالنے والا ذہن ہوگا اسی قدر وہ احتلام میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ ٭چت سونا، بالخصوص گدگدے، نرم و گرم اور ریشمی بچھونوں پر سونا عضو میں انتشار پیدا کرتا ہے۔ ایسے ہی پھسلتے رہنے والے مصنوعی ریشوں کے کپڑے اور لنگی وغیرہ بھی عضو میں انتشار پیدا کرکے وہاں کی شریانوں کو خون سے بھر دیتے ہیں اور احساس جاگ جاتا ہے۔ ٭عورتوں کی مصاحبت اور معاشرت سے جو فی زمانہ شادی بیاہ کی تقریبات، پارٹیوں اور محفلوں اور ناچ گانوں جیسے ڈانڈیاراس جیسے کلچرل پروگراموں میں بہت آسانی کے ساتھ مہیا ہوتی ہے۔ ٭شہوت انگیز اصاویر، کتب اور فحش لٹریچر نیز محرکِ شہوت کھیل وغیرہ معاون اسباب و عوامل ہیں۔
علامات
احتلام کو ایک مرض سمجھنے والے افراد میں چند علامات بالکل عام ہیں۔ جیسے سستی، کاہلی، پست ہمّتی، عمومی کمزوری اور لاغری، مریض تنہائی پسند ہو جاتا ہے۔ متفکر اور گھبرایا ہوا رہتا ہے۔اس میں اعتماد کی کمی پائی جاتی ہے۔مغموم اور پریشان رہتا ہے۔بدہضمی، نفخ، قبض، دردِ سر اور چکر کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے جو نفسیاتی وجوہ سے ہوتی ہے۔دماغی قویٰ میں کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔اکثر کمر اور خصیوں میں درد کی شکایت کرتا ہے۔
مشورے
٭احتلام یوں تو ایک فطری امر ہے مگر نفس کا دخل اس کی تعداد بڑھا دیتا ہے۔ اس لیے نفس کو قابو میں کرنے کے لیے حضرت محمد ؐ نے جو طریقے اختیار کرنے کی تعلیم دی ہے ان سے بہتر کوئی علاج ممکن ہی نہیں ہے۔یعنی نفلی روزوں اور نفلی نمازوں کا اہتمام کرنا اور دائیں پہلو سے بستر پر سونا۔
٭ ٹھنڈے اور قدرے سخت بچھونوں کا انتخاب کیا جائے۔
٭رات کے وقت غذا پیٹ بھر کر نہ کھائیں اور ممکن ہو تو سونے سے چند گھنٹوں قبل ہی کھا لیا کریں تاکہ سوتے وقت معدہ کچھ ہلکا ہو جائے۔
٭مستقل قبض ہو تو اس کا مناسب علاج کروائیں۔
٭گرم مصالحہ، مرچیں، کھٹائی، اور چٹ پٹی چیزیں مزاج میں گرمی پیدا کرتی ہیں اس لیے ان کا استعمال کم کریں۔
٭گرم و محرک غذاؤں جیسے گوشت، مچھلی، انڈا، چائے، قہوہ، شراب سے بھی اجتناب کریں۔
ذہن اور نفس کو سکون دینے والی تدابیر اختیار کی جائیں اور تبدیلئ رجحان کے لیے مفید اور فاضل وقت میں مصروف رکھنے والے نئے مشاغل اختیار کیے جائیں۔
٭بستر پر جانے سے قبل پیشاب کر لیں کیونکہ بھرے ہوئے مثانے کے سبب بھی انتشار پیدا ہو سکتا ہے۔
٭کسی بھی قسم کے اشتہاری ہتھکنڈے سے بچیں۔ اپنا اعتماد بحال کریں۔
علاج
علاج کی افادیت کے تعلق سے اب تک کوئی بھی معتبر اسٹڈی سامنے نہیں آئی ہے
۔


Wednesday, December 7, 2011

Mazr-e-Sharif Incidence
A Condemnable Act

Dr. Rehan Ansari
افغانستان میں پھر بم دھماکہ کر کے شیعوں کامنصوبہ بند قتل عام کردیا گیا۔ روایتی طور سے پہلے انگلی طالبان کی جانب اٹھی۔ طالبان نے ان دھماکوں سے خود کو بری الذمہ قرار دیا اور اس کی مذمت بھی کی۔ انھوں نے بیرونی گھس پیٹھوں کے تعلق سے شک ظاہر کیا۔ افغانی حکومت کی جانب سے تادمِ تحریر رپورٹ کے مطابق یہ حرکت کسی پاکستانی خودکش بمبار کی تھی۔ کسی کی بھی رہی ہو۔ قابلِ صد مذمت ہے۔ غیرانسانی ہے۔
جانے یہ کون سے مسلمان ہیں، اگر عقیدوں کے اختلافات کا علاج ایک دوسرے کو قتل کردینے میں مضمر ہے تو دنیا انسانوں سے خالی ہو جائے گی؛ پھر بھی یہ اختلافات موجود ہی رہیں گے۔


کتنی شرم کی بات ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو عقیدے کے اختلاف کی وجہ سے جان سے مار دیتا ہے۔ محرم الحرام کے مہینے کی حرمت کا بھی پاس و لحاظ نہیں رکھتا۔ ماضی میں بھی متعدد مرتبہ ایسا ہوا ہے۔ امسال تو امن رہا ورنہ پاکستان میں تو یہ گویا سالانہ رسم کی مانند انجام دیا جانے والا کام ہوگیا ہے۔ درمیان سال میں بھی مساجد میں مصلیان پر گولیاں برسانا اور ان کی جانوں سے کھیلنا کچھ لوگ مشغلہ کی مانند انجام دیتے ہیں۔ یومِ عاشورہ عقائد کے اختلاف کے باوجود ایک کربِ مشترک کی یاد بھی دلاتا ہے۔ عراق اس کرب کا مرکز ہے۔ اس حرمت والے مہینے کے ابتدائی دس دنوں میں شیعہ مسلمانوں کے جذبات کا خیال رکھنا بھی لازم ہے کہ یہ انسانوں کے لطیف ترین احساسات میں مدوجزر سے معنون ہے۔
اصل میں تمام ہی مدارسِ اسلامیہ میں تعلیمات اب جس انداز میں دی جاتی ہیں ان میں فرقہ واریت بین المسلمین کا درس غیرمحسوس طور سے شاملِ نصاب رہتا ہے۔ ظاہری کریکولم curriculum میں یہ موجود نہیں رہتا۔ اسی وجہ سے جب مدرسہ کے فارغین سے کسی معاملہ پر گفتگو کیجیے تو ہر مکتبِ فکر اور ہر فرقہ کے افراد کے خیالات اور افکار میں اختلافات پوری طرح کھل کر سننے اور دیکھنے کو ملتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ اختلافات اب مدرسہ کی چہاردیواری سے نکل کر عوام الناس کے دلوں میں جاگزیں ہونے لگے ہیں۔ انھیں عقائد کا لبھاؤنا نام دیا جاتا ہے۔ اور سبھی کا یہ عقیدہ ہے کہ انھی کے مخصوص عقائد انھیں جنت میں لے جانے والے ہیں۔ واﷲ اعلم۔ ان کا کوئی لٹمس ٹیسٹ بھی موجود نہیں ہے۔ علما کے بیانات میں اس نعرہ کی بھرپور انداز سے تبلیغ ملتی ہے کہ وہ ’اتحاد بین المسلمین‘ کے لیے جی اور مر سکتے ہیں۔ مگر انھیں جینے اور مرنے کا موقع تو کب ملتا ہے ان کے پیروکار ایک دوسرے کو مارنے پر ضرور اُتارو ہوجاتے ہیں۔ جس کا مظاہرہ رہ رہ کر دنیا دیکھتی ہے۔
ہم نے وہ جلسے اور مورچے بھی اٹینڈ کیے ہیں جن میں ’’لا سُنّیہ و لا شیعیہ... اسلامیّہ اسلامیّہ!‘‘  اور ’’لاشرقیّہ و لاغربیّہ... اسلامیّہ اسلامیّہ‘‘ جیسے جذبات انگیز نعرے بھی لگائے جاتے ہیں، لیکن ہم نے دیکھا کہ یہ نعرے بھی ان مظاہروں کے گھیرے سے آگے گھروں اور مدرسوں میں داخل نہیں ہوپاتے۔ دلوں کی بات تو دیگر ہے۔
مسلمان یوں تو بہت سے فرقوں میں تقسیم ہیں۔ لیکن بنیادی طور سے یہ سنی ہیں یا پھر شیعہ۔ ذیلی فرقے دونوں میں بے گنتی ہیں۔ ہم نے بے گنتی اس لیے لکھا ہے کہ ہم نے آج تک کوئی مرتبہ فہرست نہیں دیکھی۔ لوگوں سے سنا ہے کہ کل تہتر (73) فرقے ہیں۔ سنی اور شیعہ کی تقسیم کو ختم کرنے کے لیے اور امتِ مسلمہ کو ایک ہی بنانے میں اصل میں مسلمانوں کو ہی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا۔ کیونکہ ہر دوجانب یہی ارادہ رکھے ہوئے لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ سب کی اپنی اپنی تاویلیں ہیں۔ گویا اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ۔ اس تقسیم کو چودہ سو برس بیت گئے ہیں۔ اس عرصہ میں ہر ایک کے عقیدہ میں راسخی اور پختگی پیدا ہوئی ہے۔
فرقہ واریت بین المسلمین کے تحت تشدد کےواقعات کی مجموعی تعداد دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ تعداد کے لحاظ سے جذباتی سنی مسلمان زیادہ حملہ آور ہوئے ہیں۔ پہلے پہل علاقائی جھڑپیں اور خونیں تصادم ہوتے تھے مگر اب اس نے بمباری تک ترقی کرلی ہے۔ یہ بے حد افسوسناک ہے۔ نفرت کے بیجوں کی آبیاری کرنے والوں کی ہم ہر درجہ میں مذمت کرتے ہیں
۔

Saturday, December 3, 2011

Is It Mandatory To Be Part Of
Deep-Prajwalan Ceremony

Dr. Rehan Ansari
بڑی احتیاط کے ساتھ اس عنوان پر قلم اٹھانا چاہا ہے۔ یہ وضاحت کردوں کہ میرا قلم سچ لکھنے سے نہیں ڈرتا۔ احتیاط اس احساس سے عبارت ہے کہ ہمارے کچھ برادرانِ ملت، جن کا شیوہ ’’رواداری‘‘ کے نام پر (مشرکین و ملحدین کے) رسوم و رواج میں شامل ہونے کا رہتا ہے، کا مزاج بگڑ جانے اور مجھے طرح طرح سے کوسنے کا ہے، مجھے منفی یعنی نگیٹیو سمجھنے کا ہے۔ خیر ان سب باتوں کا مجھے کوئی اصلی خوف بھی نہیں ہے۔ میرا مقصد صرف آگاہ و اصلاح کرنے کا ہے۔ آمدم برسرِ مطلب۔
مختلف سماجی و ثقافتی تقریبات میں دعوت پر شمولیت کرنا ایک ذمہ داری اور بصورتِ دیگر ایک مشغلے کی مانند تصور کرتا ہوں ۔ ایسے پروگرام جو برادرانِ وطن کی جانب سے منعقد کیے جاتے ہیں ان کے افتتاحی لمحات میں ’’دیپ جلانے کی رسم‘‘ ادا کی جاتی ہے۔ اس میں یہ بات بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ ہمارے یعنی مسلم سماج کی نمایاں اور غیر نمایاں شخصیات کو جب کبھی مہمان بنایا جاتا ہے تو اس ’’دیپ پرجولن‘‘ Deep Prajwalan میں بھی شریک کیا جاتا ہے، اور وہ بخوشی اس میں حصہ لیتے ہیں!
ان مسلمانوں میں بہت سے ادیب و شاعر، اسکرپٹ رائٹر، مکالمہ نویس، نغمہ نگار، فنکار و قلمکار، ڈاکٹر اور انجینئر، مقتدر و غیرمقتدر سیاستداں، اور ہر طرح کے لوگ ملتے ہیں۔
سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ کیا ایسی تقریبات میں ’’دیپ پرجولن‘‘ کی رسم ادا کرنا یا اس میں شرکت کوئی ضروری امر ہے؟ اگر آپ مذہبِ اسلام کے پیرو ہیں تو آپ کا اندرون بلا تردّد احتجاج کرتے ہوئے کہے گا کہ یہ اسلامی تعلیمات کے برعکس ہے۔ اس کے لیے نہ کسی عالمِ دین کی ضرورت ہے نہ کسی فتوے کی۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ یہ ایک مبینہ مشرکانہ رسم ہے اور اس کے دیپ کی بناوٹ میں بھی اس کا خاص التزام رکھا جاتا ہے کہ اس میں ہندوئیت جھلکے۔
آگے بڑھنے سے قبل یہ لکھنا لازمی ہے کہ دیپ جلانے کا مقصد کیا ہے؟ ہندوؤں میں صبح اور شام کو اپنے معبود کے سامنے دیا (دیپ، دیپم یا دیپک) جلانے کو عبادت کی ابتدا مانا جاتا ہے۔ دیپک کی روشنی کو علم کی روشنی کی علامت مانا جاتا ہے اس کے علاوہ کچھ کے نزدیک اس سے ’’وِشنو دیوتا‘‘ کا علامتی وجود بھی متصور ہے۔ اس کے ساتھ ہی دیپ سے کچھ فلسفے بھی جڑے ہیں۔ دیا مٹی کا ہونا چاہیے، اس کا شعلہ علم کی روشنی کی علامت ہے جو اندرون کا اندھیرا دور کرتا ہے، اس کی باتی (فیتہ) جسم کی مانند ہے اور گھی یا تیل اس کی غذا ہے وغیرہ۔ پھر اس فلسفے کی اپنی تفصیلات ہیں جو طرح طرح کی عقیدتوں اور دلچسپ، مرغوب و خوش کن وضاحتوں سے بھری ہوئی ہیں۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی ذہن نشین کر لیں کہ اسلام کے علاوہ دنیا کے بیشتر مذاہب میں چراغ یا دیا جلانا اس کے علاوہ موم بتی کی ایجاد کے بعد اسے اپنے معبودوں کے سامنے جلانے کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ ان کے بھی اپنے اپنے فلسفے ہیں۔ ان کے دیپک کی شبیہ ان کی عقیدتوں کے مطابق ہوتی ہے۔


Christians have Cross-Replica atop their lamp
ہمارے ہندوستان میں (پاکستان/ بنگلہ دیش/ سری لنکا سمیت)  صدیوں سے ملے جلے تہذیبی اثرات ہم پر بھی پڑے ہیں، ہم بھی چراغ جلانے اور چراغاں نیز شمع فروزی کرنے میں خود کو الگ الگ بہانوں کے ساتھ مبتلا کر لیتے ہیں اور کبھی کوئی اشارہ کرتا ہے تو اندر سے سبکی محسوس ہوتی ہے، پھر اس پر نادم ہونے کی بجائے اپنی اس سبکی کو چھپانے کے لیے طرح طرح کی تاویلات پیش کرنے لگتے ہیں۔ خود کو صحیح سمجھنے اور سمجھانے لگتے ہیں۔ ہماری باتوں کو تسلیم نہ کرنے والے سے اکثر جھڑپ بھی کر لیتے ہیں۔
خیر، ہم بات کر رہے تھے کہ کیا ایسی ’دیپ پرجولن‘ کی تقریب میں ہمارا حصہ لینا ضروری ہے؟ کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ یہ موقع یعنی ڈائس پر موجود رہنے کی مجبوری ہے!... ممکن ہے ایسا ہوتا ہو... مگر اس سلسلے میں منتظمین کو پیشگی بتلایا جاسکتا ہے کہ جب دیپ پرجولن کا انعقاد ہو تو مسلمان مہمان کو اس سے مستثنیٰ رکھا جائے کہ یہ اس کے دینی عقائد کے خلاف ہے، اگر یہ ممکن نہ ہو تو کچھ ایسا حیلہ اختیار کیا جائے کہ چند ساعتوں کے لیے وہاں سے ہٹ جایا جائے۔ ہم انھیں منع تو نہیں کرپائیں گے اور نہ وہ اس موقع پر مانیں گے، اس لیے انھیں کہہ سکتے ہیں کہ آپ لوگوں کو جو کچھ کرنا ہے وہ سب کرگذریں اس کے بعد ہی ہمیں اسٹیج یا موقعۂ تقریب پر بلایا جائے۔
رواداری ہرگز اس کا نام نہیں ہے کہ ان کے شرکیہ کاموں میں خود کو شریک و شامل رکھیں، بلکہ رواداری اس کا نام ہے کہ وہ جوکچھ کرتے ہیں انھیں کرنے دیا جائے اور اس میں رخنہ نہ ڈالیں اس کے علاوہ وہ بھی ہمیں ہماری اسلامی شناخت و شعائر کے ساتھ تسلیم کریں۔ اس طرح رواداری ہی نہیں قومی یکجہتی بھی پیدا ہوگی۔ ماضی میں یہی ہمارے (ہندو اور مسلمان) بزرگوں نے بھی کیا ہے
۔

Sunday, November 27, 2011

Not Submissive (Tasleema) but
Infidel(Takzeeba):
Dr. Rehan Ansari
مسلمانوں کے خلاف میڈیا کے پاس چند زہرآلود ناخن اور دانت ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ وقت بے وقت انھیں کھول کر نکالا جاتا ہے اور ہمارے چہروں پر کچھ خراشیں ڈالی جاتی ہیں تاکہ ہم بلبلائیں اور چیخیں، چلّائیں۔ دنیا کنارے کھڑی ہوکر تماشا دیکھتی رہے۔ ایسی ہی ایک زہریلی ناگن اس کی آستین میں پل کر توانا ہوئی ہے جس کے لیے اس کے ماں باپ یا بزرگوں نے بڑے ارمانوں سے ’تسلیمہ‘ Submissive نام تجویز کیا تھا؛ مگر اس نے اپنے ہر عمل اور بیان سے ’تکذیبہ‘  Denial / Infidelہونے کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ خیر مسلمانوں کی جماعت میں ایسے گھس  پیٹھے   (اپنے نصیب اور مسلمانوں کی بدنصیبی سے) کئی افراد ہیں جنھیں ’’اسمِ غیر مسمٰی‘‘ ہونے کا ’اعزاز‘ حاصل ہے۔ انھی میں زیرِ بحث نام بھی ہے۔


This and such is never an
Islamic Act
یقین جانیے مجھے اس فحش نگار اور یاواگو قلمکار سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں ہوئی۔ صرف ابتدائی دنوں میں جب اس بے شرم کا ناول ’لجّا‘ Lajja شائع ہوا تھا اور اس کے بعد خبروں میں اس کا نام زیادہ آرہا تھا تو ان دنوں اس کے تعلق سے خبریں ضرور پڑھی تھیں (جو بیشتر اب میرے حافظے میں بھی نہیں ہیں)۔ خون ہمارا بھی کھولا تھا۔ ایمانی تقاضہ تھا۔ ہماری ماں کو کوئی بھی گالی دے تو کیسے برداشت ہوگا۔ لیکن محسوس ہوا کہ گالی دینے والوں کو ان دنوں ہماری حکومت اور بیرونی حکومتیں بھی خاصا تحفظ فراہم کرتی ہیں؛ اور ہمارے غم یا غصہ کی کوئی قدر و قیمت اس جہان میں نہیں ہے؛ تو ہم نے اس کا اظہار اپنے مالکِ حقیقی کے دربار میں کرنا اور اسی سے استعانت طلب کرنے میں مناسب ترین جانا۔ اب جب تک مناسب وقت یا موقع نہیں ملتا یہی کرنا چاہیے۔ ...لیکن...!
لیکن؛ آج اس موضوع پر لکھنے کے لیے میں نے خود کو بیحد مجبور پایا ہے۔ تازہ ترین واردات اس دریدہ دہن کے واقعۂ قربانی و حج سے متعلق بیان کے بعد کی ہے۔ اس سے کچھ ہی دنوں قبل اس نے مسلمان عورتوں کو ایک نامعقول ترین اور ہتکِ ناموسِ نسواں مشورہ دے کر ہلچل مچانے کی کریہہ کوشش کی تھی۔ (حالانکہ عورت کی عزت سے کھیلنے والے اس مشورہ پر حقوقِ نسواں کے علمبرداروں کو عالمی سطح پر اپنا پرچم بلند کرنا چاہیے تھا لیکن وائے حیرت ایسا نہیں ہوا)۔ واردات کا ذکر چل رہا تھا۔ واردات یوں ہوئی کہ اس ’تکذیبہ‘ کا بیان اردو میڈیا میں نمایاں طور سے شائع کردیا گیا۔ ہم نے صرف سرخی پڑھی اور متن کا وہ حصہ جسے کسی قدر جلی انداز میں دیا گیا تھا۔ تفصیل پڑھنے سے گریز ہی کیا۔ دوسری زبان والوں نے اسے کوئی اہمیت نہیں دی۔ ہمارے یہاں چند افراد، تنظیمیں اور ادارے ایسے ہر موقع کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ انھیں ہاتھ آگیا۔ ہجو شروع ہوگئی۔ کسی نے انھیں کسی نے اسے فاحشہ کہہ کر دل کی بھڑاس نکالی، کسی نے کتیا کہا اور کچھ نے راست گالیوں والی زبان استعمال کی۔ وزیروں اور دیگر مقتدر حضرات سے ملاقات کرکے احتجاج کیا گیا۔ یہ سب اخباروں میں متعلقہ افراد کی تصاویر کے ساتھ شامل ہوئی۔ وسیع پیمانے پر اس تکذیبہ کے خلاف پولیس کیس درج کروائے گئے۔ اب کوئی فالواَپ نہیں دکھائی دیتا۔ صرف خبروں تک سب ہوا۔ تکذیبہ اپنے اسپانسرس کی محفوظ پناہ میں اپنے دانت اور ناخن تیز کرتی بیٹھی ہے۔ کیونکہ ہمارا یہی احتجاج اور حرکات تو اس کی غذا اور آکسیجن ہے۔ ہم اس کی تحریریں نہیں پڑھتے۔ کیوں پڑھیں؟۔ جس نے آج تک اپنی (اخلاقی) اصلاح نہیں کی وہ کیسی باتیں لکھتی ہوگی؟۔ جنھوں نے پڑھا بھی ہے تو ان ’دانشواران‘  نے بھی آج تک اس کے ایسے حوالے نقل کے لیے نہیں نکالے جسے زبان و تہذیب اور ادب کا نمائندہ اقتباس بنا کر پیش کرسکیں۔ کس لیے پڑھیں؟۔ ...البتہ...!
البتہ، وہ (ان کے ّمخصوص) میڈیم کے ذریعہ خبریں بھیجتے رہے۔ ردّ عمل میں ہم احتجاج کرتے رہے، غم مناتے رہے، غصہ دکھلاتے رہے، وہ خوش ہوتے رہے، اپنا منشا پاکر ان کا حوصلہ بڑھتا رہا۔ ہمارے یہاں یہ سب گھاٹے اٹھانے کے باوجودتکذیبہ کی باتوں پر آستین چڑھا کر باتیں کرنے اور اسے برا بھلا کہنے ہی نہیں ہرزہ سرائی کرنے تک خود کو مشغول کرکے دشمنانِ اسلام و مسلمین کے مقاصد کے حصول کو آسان بنا دیتے ہیں۔




جہاں تک سوال ہے کہ کیا یہ سب غیرضروری ہے، تو ایسا نہیں ہے۔ صدمہ اور غم ہونا ایک فطری عمل ہے اور اس سے بڑھ کر ایمانی تقاضہ بھی ہے۔ مگر اس کا ہم جس طرح اظہار کررہے ہیں وہ نہ صرف بے سود ہے بلکہ بسا اوقات استہزا اور تمسخر کا سب بن جاتا ہے۔ اس کے خلاف اقدام کی دوسری صورتوں پر غور کرنا لازمی ہے۔ میری دانست میں اس کے خلاف سب سے پہلا قدم تو یہ ہونا چاہیے کہ ایسے کذابوں اور کافروں کی خبروں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ دانستہ چشم پوشی کرنا اور کسی بھی میڈیا سے ان کی خبروں کا نشریہ بند کردینا چاہیے۔ انھیں اور ان کی حرکات کو یکسر نظرانداز کرنا چاہیے۔ ہمارا احتجاجی جذبہ، ہمارا رنج، ہماری کلفت اور بے چینی کا اندراج صرف اپنے مالکِ حقیقی کے حضور میں درج کر کے اس سے استعانت کی دعا کریں۔ اصل مجرم اور آگ لگانے والوں کو اپنے ہاتھوں سے سزا دینے کے باب میں آگے لکھنے کو اور بھی باتیں ہیں مگر ہمیں پتہ ہے کہ انھیں لکھنے کے بعد دشمنانِ اسلام و مسلمین کو ہم بھی ایک موقع فراہم کردیں گے؛ اس لیے سرِ دست ہمیں اتنا ہی کہنا ہے کہ ’تکذیبہ‘ جیسی عورتیں اور مرد کسی دور میں کم ہوئے ہیں اور نہ مستقبل میں ان کی آمد غیرمتوقع ہے۔ مگر اتنا ضرور ہے کہ ان کے کسی بھی اقدام سے اسلام کا کوئی نقصان ہوا ہے اور نہ یہ اﷲ میاں کا ہی کچھ بگاڑ سکے ہیں۔ خود ہی ہلاک ہوگئے ہیں۔ یہ اور بات کہ مسلمانوں میں سے کچھ کے لیے یہ سدا نقصان کا سبب بنے ہیں۔ اﷲ ہمیں ان شیاطین من الجنۃ والناس سے محفوظ و مامون رکھے (آمین)

Saturday, November 19, 2011

Appetite is a Physiological Desire
in Humans and Animals too

Dr. Rehan Ansari
ہمارے جسم اور اعضاء سے ہمیں جو فائدے ملتے ہیں اس کے مطالعے کی شاخ کو فزیالوجی Physiology کہتے ہیں۔ اسی فزیالوجی کے تحت غور کیجیے تو پتہ چلتا ہے کہ بھوک کی پیدائش اور کھانا دراصل جسم کے حیوانی تقاضے ہیں۔ زندہ بچے رہنے کے لیے۔ لیکن پوری دنیا انھیں ہی پورا کرنے کے لیے روز مری جارہی ہے۔ان تقاضوں سے کچھ فرصت نکالی جائے تو روحانی یا انسانی ضروریات اور تزکیۂ نفس کے لیے کوئی راستہ نکلتا ہے۔ پورے جسم کی اصل کنٹرولر تو روح ہے جسے ہم محسوس نہیں کر پاتے۔ اسی لیے اس کی تربیت اور اصلاح کی جانب سے بھی حد درجہ غافل رہا کرتے ہیں۔
یہ بات ضرور ہے کہ دنیا کے بعض اَدیان میں روحانی تربیت کے لیے روزہ رکھنے جیسی تعلیم بھی دی گئی ہے لیکن اس کا نتیجہ بھی یہی سمجھایا گیا ہے کہ اس سے جسم کی صحت اچھی رہتی ہے،فاسد  خیالات دل میں نہیں اٹھتے، برداشت کی قوت جنم لیتی ہے وغیرہ۔ غور کیجیے تو یہاں بھی محض جسمانی اور نفسانی صحت پر ہی ساری توجہ مرکوز ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ ایسا روزہ رکھنا بھی خود غرضی سے زیادہ کچھ نہیں ہے!
اسلامی روزہ کا حاصل خود خالقِ کائنات نے یہ بتلایا ہے کہ تم میں تقویٰ پیدا ہو گا۔ تقویٰ ایک ایسا عنوان ہے جو راست طور پر انسانیت سے چسپاں ہے، روحانیت سے متعلق ہے، اپنی ذات سے بالا ہو کر پوری انسانی اور حیوانی دنیا سے برتاؤ کا معاملہ ہے۔ اتنا بڑا معاملہ کیا بلا تربیت کوئی آسانی کے ساتھ نمٹا سکتا ہے۔ اس پر ایک نہیں کئی سوالیہ نشان لگانا پڑے گا تب جا کر جواب قسطوں میں مل پائے گا۔خیر ہمارا موضوع اس ضمن میں محض ایک مختصر سی بات کا احاطہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اس لیے ہم کوشش کریں گے کہ اسے سمجھا دیا جائے۔
بھوک اور بدن
بھوک ایک لازمی فطری تقاضہ ہے۔دماغ کے مخصوص مراکز اس پر کنٹرول رکھتے ہیں۔بھوک کی پیدائش دماغ میں ہوتی ہے لیکن احساس نظامِ ہضم و انہضام میں ہوتا ہے۔ اس لیے نظامِ اعصاب اور نظامِ ہضم دونوں ہی بھوک کے احساس اور کھانا ہضم کرنے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ دونوں میں سے کسی کی کمزوری اس عمل پر اثر انداز ہوتی ہے۔
پورا نظامِ ہضم ایک پائپ (ٹیوب) نما راستہ ہے، کئی منزلوں اور مرحلوں والا راستہ۔ کھائی ہوئی غذا ہضم کے متعدد مراحل سے گذرتی ہوئی قابلِ اخراج باقیات (فضلہ) میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس پورے راستے میں غذا کہیں چبائی جاتی ہے، کہیں پیسی جاتی ہے، کہیں گھولی جاتی ہے، اور کہیں جذب ہوتی ہے۔ اس میں جگہ جگہ مختلف رطوبتیں، اِنزائم (خامرے)، ہارمون وغیرہ شامل ہوتے رہتے ہیں اور یہ ایک آمیزے کی صورت میں آگے کھسکتی رہتی ہے۔یہاں یہ بات واضح ہو جائے کہ غذا کے آگے بڑھنے کے بعد ہی اس کے لیے لازمی رطوبت یا اِنزائم وغیرہ خارج ہوتے ہیں یا اگر دل میں کسی غذا کی شدید خواہش جاگے تو!۔ جب راستہ کو نسبتاً خالی رکھا جائے گا یا غذا کی خواہش کودبایا جائے گا تو ظاہر سی بات ہے کہ رطوبات کااخراج بھی مقدار میں کم رہے گا۔
بہت سی رطوبتوں کا اخراج اور غذا کا ہضم و انجذاب بھی کس طرح عمل میں آتا ہے اس کا طریق میڈیکل سائنس کی روز افزوں ترقی کے باوجود ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا ہے۔


غذا کی ضرورت
جسم کو توانائی ملنے کے لیے غذا کی ضرورت ہے۔ ہمارا جسم ایک مخصوص و محدود توانائی کے ساتھ اپنے تمام افعال انجام دیتا ہے۔جب بھوک جاگتی ہے تو آدمی کھانا کھاتا ہے۔ کھانا بدن میں داخل ہونے کے بعد ایک معتدل اور دھیمی رفتار کے ساتھ غذائی نالی میں آگے بڑھتا جاتا ہے، معدہ اور چھوٹی اور بڑی آنتوں سے گذرتا ہوا ہضم ہوتا ہے۔اس کے جواہر کو جذب کے قابل بنانے میں رطوبات، انزائم اور خامرے اس پر عمل کرتے ہیں اور ہر ٹھوس اور سیال و نیم سیال غذا کو گلا کر ایک پتلے گھول میں تبدیل کر دیتے ہیں جسے آنتوں میں موجود ساختیں جذب کر کے خون میں شامل کر دیتی ہیں اور یہاں سے اسے جگر میں لے جایا جاتا ہے۔ جگر بدن کا سب سے بڑا غدود ہے اور ایک پروسیسنگ فیکٹری کی طرح غذا کے جذب شدہ حصوں پر عمل کرتا ہے پھر انھیں بالکل سادہ توانائی کے ذرائع میں بدل دیتا ہے۔
بھوک کی ایک مقدار مخصوص ہوتی ہے۔ جسم کو جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنی ہی غذا اسے درکار ہوتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ کھائی ہوئی غذائیں جسم میں ذخیرہ ہو جاتی ہیں اور آدمی کا وزن بڑھنے لگتا ہے۔ یہ بات ہماری سوسائٹی میں بے حد عام ہے اور گذرتے دور کے ساتھ طرزِ زندگی میں تبدیلی نیز آسودگی کی وجہ سے لوگ کم و بیش موٹاپے کا شکار ہیں۔ غذائیں ذخیرہ ہو کر بدن میں مختلف امراض کا پیش خیمہ ثابت ہو رہی ہیں۔
نظامِ ہضم کے راستے میں اکثر رطوبات، ہارمون اور انزائم اسی وقت خارج ہوتے ہیں جبکہ معدہ میں غذا اترتی ہے اور پھر جن جن مقامات سے گذرتی ہے تو تحریک کے نتیجے میں ہی رطوبتوں کا اخراج ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک مقام کا عمل مکمل ہونے کے بعد جب غذا دوسرے مقام پر پہنچتی ہے تو پہلے مقام پر رطوبتوں اور تحریک کا عمل فطری طور پر آرام پا جاتا ہے۔ غذا کے ہضم کا پہلا بڑا مرحلہ چھوٹی آنتوں میں انجام پاتا ہے اس لیے یہاں غذا کھانے کے کئی گھنٹے بعد تک رکی رہتی ہے۔ مطالعہ نے یہ واضح کیا ہے کہ جب تک چھوٹی آنتوں میں غذا موجود ہوتی ہے معدہ میں بھوک کی تحریک یا سکیڑ اور درد نہیں پیدا ہوتا نیز معدہ کی رطوبات اور تیزاب کی پیدائش بھی نہیں ہوتی۔ البتہ بارہ گھنٹوں سے زیادہ معدہ مکمل خالی رہ گیا تو پیٹ میں درد کا احساس ہونے لگتا ہے جو طبیعت کو بگاڑ سکتا ہے، کمزوری کا سبب بن سکتا ہے۔ اس ضمن میں ہم حکمتِ حکمِ سحری کا اندازہ آسانی کے ساتھ لگا سکتے ہیں۔ جب معدہ خالی ہوتا ہے تو بھی کچھ رطوبات ضرور خارج ہوتی ہیں لیکن یہ عموماً بے ضرر ہوا کرتی ہیں اور زیادہ تر چکناہٹ (میوکس) اور پیپسِن نامی ہارمون پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اس میں تیزابیت بہت معمولی سی یا نہیں ہوتی ہے۔
بھوک کے اثرات
جب جسم کو بھوک لگتی ہے تو پیٹ میں ایک مخصوص قسم کا مروڑ او درد پیدا ہوتا ہے۔ نوجوانوں میں یہ عمل تیز ہوتا ہے۔ جسمانی حرکات سست پڑنے لگتی ہیں۔ عضلات میں تکان بھرنے لگتی ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ سوڈیم نامی عنصر خرچ ہو چکا ہوتا ہے۔ یہ عنصر ہمیں کثیر طور پر نمک کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے ایسے وقت میں نمک آمیز غذائیں ہی اچھی لگتی ہیں۔یہ صرف انسانی وصف ہے کہ ہم نمک حاصل کرکے اسے بلاضرورت بھی محض چٹخارا لینے کے لیے زائد مقدار میں لیتے ہیں، طرح طرح سے اس کا استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ چوپایوں اور دیگر حیوانات میں یہ تقاضہ فطری طور پر محض سبزیوں یا دیگر غذائی اشیاء سے ہی مل پاتا ہے وہ بھی بہت کم مقدار میں۔ اسی لیے انھیں ہم سے زیادہ اور بار بار بھوک محسوس ہوتی ہے۔
ہم سب کو اگر یہ احساس کماحقہ ہو جائے کہ بدن کو اصل میں کتنی غذا ضروری یا درکار ہے تو ممکن ہے ہمیں اپنی روحانی ضرورت یا تقویٰ کے حصول میں اور اس کی پرورش میں بڑی آسانی ہو جائے گی۔ لیکن معاملہ عالمی پیمانے پر کچھ یوں ہو چکا ہے کہ مسلمان افطار کے وقت بڑی توجیہات و ترجیحات کے ساتھ اچھی سے اچھی اور زائد کیلوری والی غذاؤں کا استعمال کرنے لگا ہے۔ ہمیں ضروری ہوگیا ہے کہ افطار کے وقت مانگی جانے والی دعاؤں میں تقویٰ والی زندگی کی عطا کے لیے بلا ناغہ دعا کریں تاکہ روزہ کا مقصد بھی حاصل ہو جائے اور صحتِ جسمانی کا بھی لحاظ ہوجائے
۔

Thursday, November 10, 2011

Maulana Azad has been
arrested virtually

Dr. Rehan Ansari
گیارہ، گیارہ، گیارہ (11.11.11)کی تاریخ کسی اور وجہ سے یادگار بنے یا نہ بنے لیکن اس حیثیت سے ضرور یادگار بن گئی ہے کہ ملک کے پہلے وزیرِ تعلیم مولانا ابوالکلام آزادؒ کو آج گرفتار کرلیا گیا۔ وہ بھی پس از مرگ!۔ ان کی ورچوئل گرفتاری Virtual arrest ان معنوں میں یادگار ہے کہ ان کی تاریخ پیدائش کانگریسی حکام اور سرکاری اہلکاروں کو اچانک یاد آئی۔ Oh sorry!، وہ نہیں یاد آئے بلکہ یہ پلاننگ یاد آئی کہ ملک کی دوسری بڑی اکثریت کے ووٹ کس کس طرح کانگریس کی جھولی میں ڈالے جاسکتے ہیں اور کن کن پانسوں کے ساتھ اس اقلیت نما اکثریت کو لبھایا جاسکتا ہے اسے آزمانا چاہیے۔ اسی کے تحت انھیں یاد آگیا کہ مولانا محی الدین خیرالدین ابوالکلام آزاد آج ہی کی تاریخ کو 1888کو پیدا ہوئے تھے۔یعنی اگر وہ بقیدِ حیات ہوتے تو آج ان کی عمر 123 سال کی ہوتی۔ یعنی ایک دو تین! کیا حسنِ اتفاق ہے کہ کانگریس کو ان کی عمر کے ایک دو تین ہونے کے وقت ان کی سالگرہ منانے کا خیال آیا۔مگر اب سے 53سال پہلے (جسے الٹے ہندسوں میں پڑھیں تو تین پانچ سال) 22.2 (۲۲فروری) 1958 کو انھوں نے عالمِ جاودانی میں سکونت لے لی تھی۔ مولانا آزاد جیسی عبقری شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔
مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں


Maulana Azad: The strong icon
of Hindu-Muslim-Unity
مولانا آزاد دورِ غلامی میں بھی اور آزادی کے بعد بھی ہندوستان میں قومی یکجہتی کے صفِ اوّل کے علمبردار تھے۔ انھوں نے ہندومسلم ایکتا کے لیے اپنی آخری سانس تک جدوجہد کی۔ انھوں نے ہندوستان کی تقسیم کی جم کر مخالفت کی لیکن اس جذباتی قوم نے ان کی ایک نہ سنی۔انجام سب کے سامنے ہے کہ وہ ایک دوراندیش مسلم لیڈر تھے اور انھوں نے آزادی سے قبل اور پاکستان کی پیدائش سے قبل ہی اس نوساختہ ملک کے مستقبل کے تعلق سے جیسی پیش قیاسیاں کی تھیں وہ سچ ثابت ہوئیں اور اس کے نتائج سرحد کے دونوں جانب بسنے والی مسلم قوم کو کس قدر سرگراں کیے ہوئے ہیں۔ پوری قوم سربہ گریباں ہے۔ دونوں جانب اپنے اور پرائے اس قوم کا جذباتی سطحوں پر مسلسل اور مستقل استحصال کر رہے ہیں۔ خیر یہ باتیں تو جملۂ معترضہ کے طور پر سامنے آگئیں۔ ہم بات کررہے تھے کہ کانگریس حکومت کو، خصوصاً مہاراشٹر کی مخلوط کانگریس حکومت کو، مولانا آزاد صرف تین روز قبل اس طرح یاد ئے کہ جیسے کوئی نیند سے ہڑبڑا کر اٹھے اور اپنے کسی عزیز کو یاد کرکے دہاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ پورا سرکاری عملہ جو دیوالی اور دیوالے کے مزے لے رہا تھا فی الفور حرکت میں آگیا۔ سرکولر اور نوٹسیں جاری کردیں کہ اسکولوں کی سرمائی تعطیلات کو تین دن مختصر کردیا جائے اور انھیں 11.11.11 کو دوبارہ شروع کردیا جائے اور اس دن بھلے ہی کوئی تعلیمی کام انجام نہ دیں لیکن ملک کے اوّلین وزیرِ تعلیم مولانا آزاد کی یاد میں ’یومِ تعلیم‘ منائیں۔ ان تقریبات کی تیاری کا کوئی اور مٹیریل یا پیش کشیں تو اتنے کم عرصہ میں ممکن نہیں ہیں اس لیے وزیرِ اعظم ہند کی ایک دو صفحاتی (ڈرافٹ شدہ) تقریر پڑھ کر طلبہ و اساتذہ کو سنائی جائیں۔ حالانکہ یہ تقریر خود وزیرِ اعظم الیکٹرانی اور پرنٹ میڈیا سے گھر گھر تک پہنچا سکتے تھے۔ لیکن خانہ پری کے علاوہ مسلمانوں کو متاثر کرنے کا کام بھلا ایسے کہاں ممکن ہوتا؟
مولانا آزاد کی حیات و خدمات دوصفحات میں قید کرنے والی تفصیل نہیں ہے۔
خیر اس کا ایک ہی روشن پہلو یہ ہے کہ اس طرح کم از کم غیر اردو میڈیم اسکولوں میں طلبہ کی نئی جنریشن کے سامنے مولانا آزاد ( علامتی مسلمان پڑھیں) کے ملک کی آزادی یا تعلیمی ترقی میں کنٹری بیوشن کا کچھ تو بیان ہو جائے گا جس کی ہمیں ایک مدت سے تشنگی محسوس ہوتی رہی ہے۔ آگے مزید سرے یہ جنریشن تلاش کر لے گی۔ باقی باتیں اسی کی مانند ہیں جو اردو کے اس مشہور شعر میں درج ہیں کہ:
ان کا جو کام ہے وہ اہلِ سیاست جانیں
میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

Saturday, November 5, 2011

Our Sacrifice: Few Queries we face
Dr. Rehan Ansari
ہمارے ملک ہندوستان کی دنیا میں بڑی گوناگوں حیثیت و شناخت ہے۔ یہ کثیر لسانی ہے، کثیر مذہبی و کثیر تہذیبی ہے، کثیر جہتی ہے اور کثیر خیالی ہے۔ دنیا میں شاید ہی کسی دوسرے ملک کو یہ امتیاز حاصل ہو۔جب ہماری دوسری عید یعنی عیدِ قرباں نزدیک آتی ہے تو ہمارے ہندوستانی سماج میں طرح طرح کے سوالات کا گشت شروع ہوجاتا ہے۔ ہمارے لیے کچھ علما نے ہندوستانی تناظر میں اسے گائے سے نسبت کی وجہ سے ’بقرعید‘ لکھوا دیا تھا مگر اب چونکہ گائے کے ذبیحہ پر قانونی تو قانونی ہم سب نے بھی روادارانہ اور اخلاقانہ پابندی لگا دی ہے۔ اس لیے کہ ہمارے لیے احکام میں آپشن بھی موجود ہیں۔ بقرعید کو صوتی نسبت ’بکری‘ سے کیا ملی دیگر مذاہب (اور زبان) والوں نے بڑی سہولت کے ساتھ عیدِ قرباں یا ’عیدالاضحی‘ کو ’بکری عید‘ لکھناشروع کر دیا ہے؛ بلکہ چند مفروضات کے تحت تو اسے ’بکری کو کاٹنے اور کھانے کی عید‘ سے منسوب بھی کردیا ہے۔ اس کے قصور وار کیا تنہا وہی ہیں؟... شاید نہیں!... ہم بھی برابر کے قصوروار ہیں۔
ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں (بلکہ کچھ پہلے سے ہی) برادرانِ اسلام اور برادرانِ وطن سے چند باتیں اور ملاقاتیں۔ ان ملاقاتوں میں سوالات اور چند تشویش (عملِ ذبیحہ سے ناپسندیدگی پڑھیں) کا اظہار۔ ان سب کا لبِ لباب ایسا نکلتا ہے کہ عیدالفطر (یعنی میٹھی والی) سے ’ہماری یہ عید کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے‘!... معاذاﷲ ثم معاذاﷲ۔ آپ بھی ایسے حالات سے دوچار ضرور ہوتے ہوں گے۔
آئیے ، دیکھیں کیسی کیسی باتیں ہوتی ہیں۔ اتنے بڑے پیمانے پر مسلم بستیوں یا مذبح خانوں میں سال میں اور کسی دن جانور ذبح نہیں کیے جاتے۔ اس لیے بعض لوگ جو مویشیوں کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں انھیں بڑا ناگوار گذرتا ہے۔ایک صاحب نے، جو دواخانوں میں دوائیں ڈسٹریبیوٹ کرتے ہیں اور ہندو عقیدہ کے ہیں، ہم سے پوچھا کہ اگر آپ لوگ ان جانوروں کو اتنی کٹھورتا سے قتل نہیں کریں گے تو کیا فرق پڑ جائے گا؟... بڑا راست سوال تھا۔ ہم نے سوچا انھیں جواب کیا دیا جائے؟... بہرحال ان سے کہا کہ آپ اصل میں ایک مخصوص ماحول کے پلے بڑھے ہیں اس لیے میں آپ کو اس سوال کا جواب ضرور دوں گا لیکن ایک بات بتلائیے کہ قربانی جسے آپ ’بلی‘ کہتے ہیں، کیا پوری دنیا میں یا ہندوستان میں صرف مسلمان دیتے ہیں؟ اور بلی کا مطلب ہی عام طور سے جان کی بلی سے لیا جاتا ہے۔ وہ کسی قدر سٹپٹائے لیکن قائل ہوگئے۔ ہم نے کہا اب آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ مسلمان ایک خاص حکم کے تحت اور محض مخصوص تین دنوں میں یہ عمل کرتے ہیں۔ اسے قتل نہیں کہتے بلکہ ’ذبح‘ کہتے ہیں۔ ذبح ایک مکمل تربیتی عمل ہے۔ عبادت کا ایک جز ہے۔ مسلمانوں کو کوئی اور منفی جذبہ یا نجی مفاد و لالچ جانوروں کی جان لینے پر نہیں اکساتی۔ یہ جذبہ صرف اور صرف نسبتِ انبیاء علیہم السلام اور ان کی پیروی سے متعلق ہے۔ خالصتاً۔ پھر چوپایوں مویشیوں کی ایک مخصوص فہرست کے تحت۔ ان کے علاوہ کوئی جانور نہیں لیے جاتے۔

Milk is for the calves but humans steal it
Can it be told so... nay

ایک دوسرے صاحب نے ہم سے یوں گفتگو کی کہ جب ہم کسی کو جان دے نہیں سکتے تو پھر ہمیں جان لینے کا حق کہاں سے حاصل ہوگیا؟ بڑا منطقی سوال ہے اور اتنا ہی عام بھی۔ خصوصاً تنظیمِ حقوقِ جانوراں PETA  کے اراکین کے نزدیک۔ عالمی پیمانے پر۔ خیر، ہم نے ان سے ایک سوال کیا کہ آپ کے نزدیک ان جانوروں کا جنھیں ہم ذبح کرتے ہیں کوئی اور مقصد دنیا میں نظر آتا ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ ہم انھیں کاشتکاری کے لیے اور دودھ کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ جب تک ان کی مادہ بچے نہ جنے تو کیا ان سے دودھ مل سکتا ہے؟ وہ کسی قدر شش و پنج میں پڑے پھر ہم نے کہا کہ اس طرح تو ہم ان کا دودھ دوہ کر خود استعمال کر کے اس کے نومولود کا حق ماردیتے ہیں اور دودھ خود چٹ کرجاتے ہیں۔ کون کس پر ظلم کررہا ہے؟ پھر ان جانوروں کی پیدائش بھی ایک ساتھ کئی کئی بچوں کی صورت میں ہوتی ہے۔ یعنی کتنوں پر ایک ساتھ ظلم؟ پھر دنیا بھر میں سب سے زیادہ ترجیح صرف بھینس کے دودھ کو حاصل ہے۔... بہرکیف جو تعداد ان جانوروں کی بڑھ جاتی ہے ان کا استعمال یا فائدہ کیا؟... ان سے کوئی جواب نہیں بن پڑا۔ میں نے مزید کہا کہ جہاں تک کاشتکاری کا معاملہ ہے تو دنیا بھر میں بھی اور ہمارے ملک میں بھی ان جانوروں پر مشینوں اور نئی تکنیکوں کو فوقیت حاصل ہوتی جارہی ہے۔ کیا اس مصرف میں بھی یہ جانور اتنے موزوں ہیں اب؟...
مذکورہ بالا صاحب سے ہم نے یہ بات بھی کہی کہ صرف عیدِ قرباں کے موقع پر ایسے سوال کیا غمازی کرتے ہیں۔ منفی۔ سال بھر جو مچھلیاں، مرغ، بکرے، اور دوسرے حلال و حرام چوپایے کاٹے اور بیچے جاتے ہیں ان کی سوپر بازاروں میں باقاعدہ نمائش کی جاتی ہے وہاں (ان ٹریڈرس کے سامنے) آپ لوگوں کو یہ سب کہتے ہوئے نہیں دیکھا جاتا؟ صرف اخباروں یا میڈیا میں ادھ ننگے یا مکمل برہنہ فوٹو شائع کرنے تک آپ سب کو متحرک دیکھا جاتا ہے۔ کیا سوپر مارکیٹ میں کٹنے والے یہ جانور سب بے جان ہوتے ہیں؟... تو وہ بغلیں جھانکنے لگے۔ پھر دنیا بھر میں جو لوگ ہڈیوں اور چرمی اشیاء کے کاروبار سے متعلق ہیں اور بڑے بڑے ایکسپورٹر اور امپورٹر ہیں ان کے سامنے یہ باتیں اور مظاہرے کیوں نہیں کیے جاتے۔ وہ تو بیشتر اور اکثر غیرمسلم ہی ہیں!... خود PETA کے مظاہرین میں کتنے بہت سے ہوں گے جو چمڑے کی اشیا، بیلٹ، پرس، والیٹ، جوتے اور جوتیاں وغیرہ استعمال کرتے ہوں گے۔


Some Rare Breed Cattles
All season costly animals
ایک ملاقاتی نے ایسا سوال بھی داغا کہ ’بقرعید کو مہنگے سے مہنگا جانور خریدنا تو نمائش کرنا اور اسراف ہے!‘... واہ صاحب!۔ چلیے آپ کی مانند ہم بھی مان لیتے ہیں کہ یہ اسراف ہے۔ بھائی میرے، عید کو جب گوالے دودھ کی قیمت دوگنی یا سہ گنی لیتے ہیں یا دیگر مذاہب والوں کے تیوہاروں کے موقع پر بھی جب اشیائے خورونوش کی قیمت بڑھا کرلی جانے لگتی ہے تو اسے مارکیٹنگ اسٹریٹجی کہتے ہیں۔اس وقت اسراف والی تھیوری تبدیل ہوکر ڈیمانڈ اور سپلائی والی بن جاتی ہے۔ چلیے بھائی وہی جانور یعنی وہ اعلیٰ نسل والا مویشی جس کی قیمت بڑی ہوتی ہے آپ سادہ دنوں میں بھی سستا خرید کر بتلا دیں۔ مان جائیں گے کہ عیدِ قرباں کے موقع پر اس کی قیمت زیادہ دینا اسراف تھا۔ عیدِ قرباں کے قریب میں تو سادہ دنوں میں ایک عام سے جانور کی جو قیمت ہوتی ہے اسے عام خریدار بھی تیوہار کی وجہ سے تقریباً دوگنی قیمت میں خرید پاتا ہے۔ مخصوص اور اعلیٰ نسل کے جانوروں کی پیدائش اور پرداخت نیز نگرانی کا پورا دور مہنگا ہوتا ہے تو وہ جانور سستے ملیں گے بھی کیسے؟ اور اگر کوئی صاحبِ حیثیت ہے تو اسے اس کی قربانی دینے میں ایک نعمت کے حصول کا احساس بھی تو ملتا ہے۔ اس کی پیمائش کس توازن سے کی جاسکتی ہے؟... ہاں ’اور بھی غم ہیں زمانے میں...‘ سمجھانے والے سال بھر اس کی شکایت کرتے ضرور ملتے ہیں۔ یہ ملتے رہیں گے۔


It's difficult to find people who
do not like to possess Leather goods
ذبیحہ کے احکام میں صحتمند جانور اور اس کی کچھ خصوصیات کا ہونا لازمی ہے۔ ہمارے درمیان یہ بھی سوال کیا جاتا ہے کہ ہم سب مذبح میں ’جھوٹا سرٹیفکیٹ‘ لے کر جانور کو ذبح کرتے ہیں یعنی وہاں کا ویٹرنری ڈاکٹر قانونی خانہ پری کرتے وقت یہ بھرتا ہے کہ جانور قابلِ کاشتکاری نہیں ہے اور لاغر و بیمار ہے۔ کیا ایک جھوٹ کے ساتھ ہماری قربانی ہوتی ہے؟... واﷲ، نہیں ہونی چاہیے۔ مگر، ہم نے خود کب کہا کہ وہ ڈاکٹر ایسا سب لکھے؟۔ ہم تو اپنی مذہبی ذمہ داری ادا کرنے جارہے ہیں۔ یہ تو ایک ملکی اور قانونی پیچیدگی کا معاملہ ہے جسے نمٹانے کے لیے حکومت اور قانون سازوں نے یہ سب داخل کیا ہے۔ یہ کوئی مذہبی شق ہے ہی نہیں۔ یہ تو دیگر مذاہب والوں کی اعصابی کشیدگی کا علاج ہے۔ ان سے ہمیں صحیح معنوں میں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ بہت سی ایسی ہی خانہ پریاں مسلسل اور ہر دن اس ملک میں کی جاتی ہیں۔ اگر وہ اس خانہ پری کو صحیح کرلیں، اور ہم خود چاہیں گے کہ ایسا ہو، تو ہمیں زیادہ خوشی ہوگی۔ مگر ان کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ ان کی چکی میں ہم کیوں پسیں۔ وہ جو لکھنا چاہیں لکھیں، بس ان مخصوص ایام میں ہمیں اپنے مذہبی امور کی ادائیگی میں تعاون کریں۔ ہم نے اپنا جانور شرعی احکام کا پاس کرکے لیا ہے اور جس کے حضور قربانی دی جارہی ہے وہ جاننے والا ہے، کسی دنیاوی سرٹیفکیٹ کی احتیاج نہیں ہے۔
بہرکیف ایسے اور نہ جانے کتنے واقعات ہیں جو ذی الحجہ کے چاند کی دید سے شروع ہوکر عید تک چلتے ہیں اور ہم میں سے اکثر کو الجھن میں ڈالے رہتے ہیں۔ اﷲ ہمیں راستی کی توفیق عطاکرے اور ان اعتراضات کا جو ہمارے ملک میں مقدر ہیں کا صحیح انداز سے جواب دینے کی صلاحیت عطا فرمائے۔ ایں دعا است۔ (آمین)

Thursday, October 27, 2011

Eating Meat and Health
Dr. Rehan Ansari
تغذیہ (Nutrition)صحت کا محور ہے۔ زندگی میں بہتر نمو اور افزائش کے لیے متوازن غذا ہی بنیاد بنتی ہے۔ جدید سائنس نے غذائی اجزا کو کھول کھول کر بیان کیا ہے مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ان کی دریافت اور بیان سے پہلے انسان ان کے فوائد سے محروم تھا، جیسا کہ جدید ماہرینِ غذائیت کی خام خیالی ہے،بلکہ تاریخ میں بھی انسان اپنی بہترین دانست کا استعمال کرکے طرح طرح کی غذائیں تیار کرتا رہا تھا اور مفید و مضر کو پرکھتا رہا تھا۔
’غذا‘ اور ’تغذیہ‘میں ایک معنوی فرق پایا جاتا ہے۔ غذا بہت سے اجزاء کا مرکب ہوتی ہے جو معمولی مقدار سے لے کر سیکڑوں گرام تک کھائی جاتی ہے جبکہ تغذیہ سے مراد جسم میں ہضم کے عمل کے بعد غذا سے حاصل کردہ اجزاء و توانائی ہے۔ جو ضرورتِ بدن کے مطابق ہوتی ہے۔ (یہاں یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ غذا اور غذائی اجزاء میں کوئی خطِ تفریق نہیں ہے)
غذا کی تین بڑی قسمیں ہیں۔ ایک کاربوہائیڈریٹ (نشاستہ)، دوسری چربی (شحم) اور تیسری پروٹین (لحم)۔
لحم سے مراد پروٹین لیا جاتا ہے جبکہ لحم کے معنی گوشت کے ہیں۔ اس کا واضح سبب یہ ہے کہ عمدہ قسم کا پروٹین گوشت سے ہی حاصل ہوتا ہے۔ (حالانکہ دالوں اور سبزیوں سے بھی پروٹین دستیاب ہوتا ہے)۔ غذائیت کے ماہرین کا بھی اس پر اتفاق ہے۔ اسی لیے کتابوں میں درج باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ:
’’غذائیت (تغذیہ) کے اعتبار سے حیوانی پروٹین کو نباتاتی پروٹین پر فوقیت حاصل ہے کیونکہ جسمِ انسان کے حیاتیاتی تقاضوں کے لحاظ سے حیوانی پروٹین مکمل ہوتا ہے۔ اور اس میں ہر قسم کے لازمی اَمینو ایسیڈ (پروٹین کے جوہر) موجود ہوتے ہیں۔ جبکہ نباتاتی پروٹین اس ضمن میں ناقص ہوا کرتے ہیں‘‘۔
پروٹین کی دستیابی کے دوسرے مسلمہ عالمی حیوانی ذرائع دودھ، انڈا، پرندے اور مچھلی وغیرہ ہیں۔ مگر ہمارے یہاں کے شاطر لوگوں نے ان میں سے دودھ اور اس سے بنی ہوئی اشیاء کو ’’ویجیٹیرین‘‘ (Vegetarian) زمرے میں شامل کر رکھا ہے۔ ایں چہ بوالعجبی است؟۔ بھلا دودھ بھی کسی باغ یا کھیت سے حاصل کیا جاتا ہے؟




آئیے اس تمہید کے بعد ہم یہ سلسلہ گوشت خوری اور صحت سے ملا دیں۔ گوشت سے ہمیں پروٹین کے علاوہ ’بی کمپلیکس‘ گروپ کے سبھی حیاتین ملتے ہیں،خصوصاًنکوٹینک ایسیڈ اور رائبوفلیوین۔ علاوہ ازیں فولاد اور فاسفورس بھی۔ (سبزیوں یہ متفرق طور پر موجود ہوتے ہیں)۔  نیز جگرمیں متعدد طرح کے غذائی اجزاء کثیر مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔
مچھلی کے گوشت کو نسبتاً بہتر مانا جاتا ہے کیونکہ اس کا پروٹین جلد ہضم ہونے والا بتلاتے ہیں۔ نیز اس میں موجود چربی کو زیادہ نقصان دہ نہیں سمجھا جاتا۔ البتہ تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ موسم کے لحاظ سے یہ چربی بھی تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ مچھلی کے علاوہ مرغ کا گوشت بھی اچھا سمجھا جاتا ہے۔ لیکن منطقی نظر سے دیکھا جائے تو یہ فوائد صرف اسی لیے ہیں کہ مچھلیاں اور پرندے حیوانات کی جماعت بندی میں نوعی اعتبار سے پستانیوں (دودھ پلانے والوں) سے پست و کمزور ہیں۔ اس لیے ان کے قویٰ بھی کمزور ہوتے ہیں۔ البتہ چوپایوں کا گوشت انسان کے جسمانی تقاضوں سے قریب تر ہوتا ہے۔ اس لیے بکری اور دیگر مویشیوں کے گوشت کو فطرتاً قریب تر خواص کا حامل سمجھا جا سکتا ہے۔



عمدہ گوشت کے حصول کے لیے جانور بھی صحتمند اور توانا، نقائص اور امراض سے پاک ہونا چاہیے۔ اس کے لیے اس کی جائے پیدائش، عمر، پرورش و نگہداشت کی پوری تفصیلات جاننا ضروری ہے۔ عمدہ گوشت کی پہچان یہ ہے کہ وہ نہ تو بہت سفید یا زردی مائل ہو اور نہ نیلگونی رنگ کا ہو، چھونے پر بھرپور محسوس ہو، نرم اور پلپلا نہ ہو، اس کی بو بھی خوشگوار ہو۔ جس گوشت میں ان خصوصیات کی موجودگی نہیں ملتی اسے بہتر نہیں سمجھا جاتا۔ جانور کا ذبیحہ بھی لازمی ہے اور یہ ذبیحہ صاف ستھرے مذبح میں، پاکیزہ انداز میں، اسلامی خطوط (سنتِ ابراہیمی) پر کیا جائے تو گوشت کے فوائد بڑھ جاتے ہیں۔
ذبیحہ

ذبیحہ کی سائنسی حیثیت یہ ہے کہ اس عمل میں جانور کے جسم سے لگ بھگ پورا خون باہر آجاتا ہے اور گوشت نیز دیگر اعضاء خون سے خالی ہوجاتے ہیں۔ جیسے ہی گردن سے گذرنے والی خون کی بڑی نالیاں (Carotids & Jugulars) کٹتی ہیں تو جانور بے ہوش ہو جاتا ہے اور اس کے احساسات ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ فوری طور پر ہوتا ہے۔ پھر وہ درد محسوس کر سکتا ہے نہ الم و اذیت۔ مگر دماغ کا جسم کے عضلات سے حرام مغز کی معرفت تعلق بنا رہتا ہے۔ اس لیے عضلات تیزی کے ساتھ پھیلنے اور سکڑنے (Convulsion / Seizures) کے عمل سے گذرتے ہیں اور جانور تڑپتا ہے۔ اس کی وجہ سے گوشت کے آخری کناروں میں رکا ہوا خون بھی باہر کی طرف بہہ کر نکل جاتا ہے۔ پھر یہ گوشت نیز دیگر اعضاء کھانے کے بعد صحت بخش ثابت ہوتے ہیں۔
برخلاف ذبیحہ کے کسی دوسرے طریقہ سے ہلاک کیے گئے جانور کے جسم سے خون پوری طرح خارج نہیں ہوتا اور یہ گوشت نیز دیگر اعضاء میں جمع رہ جاتا ہے۔ ہلاکت سے قبل جانور کو کسی بھی طرح ذہنی طور پر مجروح کیا جائے یا برقی شاک دیا جائے تو اس دوران وہ صدمہ کا شکار ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں خون میں ہسٹامین (Histamine)نامی مادہ کثیر مقدار میں خارج ہوتا ہے۔ یہ مادہ خون کی نالیوں کو سکیڑنے کی بجائے پھیلا دیتا ہے۔ ان نالیوں میں خون ٹھہر جاتا ہے۔ اس لیے ایسا گوشت بدمزہ ہونے کے علاوہ جلد خراب ہو جانے والا ہوتا ہے (یعنی قابلِ خوراک نہیں رہ جاتا)۔
گوشت خوری کے چند نقصانات:
ہر چند کہ گوشت خوری فطرتاً انسان کو مرغوب ہے اور دنیا کی اکثر انسانی آبادی کی غذا کا انحصار اسی پر ہے، مگر یہ شرط ہے کہ اسے سلیقے سے کھانا چاہیے۔ اس کا کثرت سے استعمال کرنا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ سبزی گوشت کی اصلاح کے لیے بہترین چیز ہے۔ اسلیے کوشش یہ کی جائے کہ گوشت کے ساتھ کوئی سبزی بھی شاملِ غذا ہو۔ بڑی مقدار میں گوشت کھانے سے یورک ایسیڈ (Uric acid) اوردوسرے نقصان دہ فضلات پیدا ہو کر خون میں شامل ہوتے ہیں جو گردوں اور جوڑوں کے لیے اچھے نہیں مانے جاتے۔ گوشت خوری سے بعض افراد درج ذیل امراض کا بھی شکار ہو سکتے ہیں:
١] گردوں کے امراض، ورم اور سوزش وغیرہ۔
۲] خون میں کولیسٹرول Cholesterol اور ٹرائی گلیسرائیڈ Triglycerides کی مقدار بڑھ سکتی ہے جو بیشتر قلبی امراض کی جڑ ہیں۔
۳] گوشت کے بکثرت استعمال سے شہوت میں اضافہ ہوتا ہے اور آدمی اخلاقی جرائم کرتا ہے۔
۴] بعض طفیلی امراض جیسے کدّو دانے (Tapeworm)یا Hydatid وغیرہ بھی گوشت خوری سے لاحق ہوتے ہیں۔
۵] بعض جراثیمی امراض جیسے اینتھریکس، ٹی بی اور غذائی سمّیت نیز ڈائریا بھی گوشت خوری سے ممکن ہیں۔
گوشت خوری اور کینسر کے امکانات:
ہمارے دور میں گوشت خوری خصوصاً بڑے جانوروں کا گوشت کھانے کو لے کر کافی بحث جاری ہے۔اسے بعض اعضاء کے کینسر کی پیدائش سے جوڑنے کی باتیں کی جاتی ہیں۔ خواتین میں پستان اور مردوں میں غدۂ مذی  Prostate کے کینسر کی پیدائش کا ذمہ دار گوشت خوری کو قرار دینے کی تحقیق پیش کی جا رہی ہے۔ لیکن سب اندازوں کی بنیاد پر یا پھر تحقیقی کوتاہیوں کے ساتھ۔




آئیے انھی کے درمیان سے ہم چند حوالے ایسے بھی پیش کردیں جو کینسر کی پیدائش کے تعلق سے ان دعووں کی نفی کرتے ہیں۔
ایک ویب سائٹ ہے breastcancer.org۔ اس سائٹ پر عورتوںکو پستان کے کینسر کے تعلق سے ہر قسم کی معلومات اور سوال و جواب کی سہولت دستیاب ہے۔ اس سائٹ پر یہ رقم ہے کہ ہر ملک میں پستان کے کینسر کی کہانی اور وقوع میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ کا خلاصہ یہ بتلاتا ہے مشاہدہ کے بعد ۴فیصد خواتین میں کینسر پایا گیا تو اس کی وجوہات بہت سے دوسرے عوامل بھی تھے، صرف گوشت خوری کو نہیں کہا جا سکتا۔ اس لیے یہ مفروضہ کہ گوشت خوری اور پستان کے کینسر میں تعلق ہے غلط اور بے بنیاد ہے۔ البتہ اس مفروضہ کو زیادہ سے زیادہ شہرت دی جارہی ہے۔ لازمی تحقیقی ڈیٹا اور شواہد کوئی پیش نہیں کرتا۔
ایک دوسری بلاگ سائٹ ہے: thecancerblog.com اس کے صفحات میں یہ ملتا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کو خصوصاً لڑکیوں کو جست (Zinc / Zn)عنصر کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے۔ جست کی وجہ سے ان کی بیماریوں سے مدافعت کی قوت اور جلد کی صحت و نمک اچھے ہوتے ہیں۔ ان کی جلد سردی کے اثرات اور infectionسے محفوظ رہتی ہے۔ گوشت ہی جست کی کامیابی کا سب سے آسان اور ارزاں ذریعہ ہے۔فولاد بھی صحت کے لیے ضروری عنصر ہے۔ حائضہ عورتوں کو اس کی ضرورت زیادہ ہوا کرتی ہے۔ بوڑھی عورتوں اور حاملہ عورتوں کو بھی یہ ضروری ہے، بچوں کو بھی ضروری ہے۔گوشت میں فولاد کی کثیر مقدار ہوتی ہے اور جسم کو سب سے زیادہ آسانی کے ساتھ گوشت سے ہی فولاد حاصل ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں گوشت میں بی کمپلیکس وٹامن، فاسفورس، پوٹاشیم، میگ نیشیم، سیلینیم، گوشت اور اعضاء کی صحت کے لیے ضروری پروٹین ہیں۔ گوشت سے حاصل ہونے والا پروٹین ہمارے جسم کے عین مطابق اور مکمل ہوتا ہے۔ Complete ہوتا ہے۔ یعنی اس میں وہ تمام ’’امائنوایسیڈ‘‘ Amino Acids ہوتے ہیں جو بصورتِ دیگر جسم کو تیار کرنے پڑتے۔پروٹین جسم کی ٹوٹ پھوٹ کو سدھارنے کے لیے لازمی ہیں۔
مذکورہ بالا کے علاوہ بھی مزید سائٹس ہیں جس پر بین السطور میں یہ تو درج پایا جاتا ہے کہ گوشت بالفاظِ دیگر سرخ گوشت کا استعمال کرنے والوں کو فلاں کینسر ہوجاتا ہے لیکن حتمی الزا م سے گریز کیا جاتا ہے اور ڈیٹا بھی فراہم نہیں یا جاتا اور نہ حوالوں کے ساتھ کوئی ایسی بات پیش کی جاتی ہے۔ البتہ قیاسات اور بے بنیاد دعویٰ داری ضرور جاری ہے۔ ہمیں آج تک اندازہ نہیں ہو سکا کہ گوشت خوری کے مخالفین خود نہ چاہیں تو کوئی ان کو زبردستی تو گوشت کھلانے بھی نہیں آتا لیکن وہ دوسروں کو سبزیوں کے لیے راغب کرنے کے لیے جانے کیسے کیسے ناٹک کھیلتے ہیں۔ کینسر نسبتاً کم واقع ہونے والا مرض ہے۔اس لحاظ سے گوشت خوری ہی نہیں بلکہ کھانے پینے میں عدم مساوات اور بسیارخوری ہی کینسر کے ساتھ دوسرے عوارض کو بھی راہ دیتا ہے.

Sunday, October 23, 2011

We will miss you dear Qaddafi
Dr. Rehan Ansari
پورے آٹھ ماہ کی داخلی جنگ کے بعد جمعرات (۲۰اکتوبر کو)قذافی مار دیئے گئے۔ مگر کیا لیبیا کو فتح کر لیا گیا؟ اب لیبیا آزادی کی جانب رواں ہوگا یا مغرب کا یرغمال و غلام بنا رہے گا؟ ابھی کیا خانہ جنگی کا دوردورہ ہوگا؟ کون اپنی روٹی پر کتنی دال کھینچے گا؟ یہ اور ایسے ہی کئی متعدد ہیجان انگیز سوالات تجزیہ کاروں کے ذہنوں میں اُٹھ رہے ہیں۔ ایسا اس لیے ہورہا ہے کہ اس سوال کا اطمینان بخش جواب نہیں مل رہا ہے کہ یورپی ممالک نے اٹلی اور امریکہ کے ساتھ مل کر کس بنیاد پر لیبیا میں دخل اندازی (حملہ پڑھیے) کیا تھا؟
بین الاقوامی میڈیا کے ذریعہ قذافی کو ایک جابر اور آمر حاکم بتلایا جاتا رہا ہے۔ لیکن قذافی نے اپنی رعیت پر کبھی کسی نوعیت کا جبر کیا ہو اس کا کوئی ثبوت  ملتا ہے نہ دیا جاتا ہے!۔ باغیوں (غداری کی جدید نقاب کا نام) کا ساتھ دینے اور انھیں قذافی کی فوج سے محفوظ رکھنے کے لیے ناٹو NATO نے یہ حملے کیے ؛ ہاں کسی قدر یہ بات درست ہو سکتی ہے لیکن اس کا ثبوت نہیں ہے کہ باغیوں نے اتحادی فوجوں کو پکارا ہو یا بلایا ہو۔ ان باغیوں نے تو ابھی تک یہ بھی نہیں بتلایا ہے کہ وہ بغاوت پر کن وجوہ سے آمادہ ہوئے ہیں اور قذافی سے ان کے کیا مطالبات تھے۔ تسلیم کرنا یا نہ ماننا تو بعد کی بات تھی۔ تیسری اور بیّن وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ لیبیا کا تیل جسے صارف دنیا میں سب سے بہتر کوالیٹی کا تسلیم کیا جاتا ہے، اس کے ذخائر پر امریکہ اور یورپ کی لالچی نگاہیں ہیں اور وہاں قذافی کی جگہ اپنے کسی پٹھو کو کرسئ اقتدار سونپنا چاہتے ہیں۔


Qaddafi with his GREEN BOOK
 قذافی گذشتہ بیالیس برسوں سے پے بہ پے مختلف عہدوں پر متمکن رہے اور اپنے سیاسی و ملکی نظریات کو ’گرین بُک‘ (الکتاب الاخضر) نامی کتاب میں لکھ کر پیش کر دیا تھا۔ اس میں تین خصوصی ابواب تھے جو جمہوریت کے مسائل، معاشی مسائل اور سماجی مسائل سے متعلق تھے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ کتاب قذافی کا کھلا فرمان یا دستورِ حکومت تھا جسے ہر لیبیائی کو تسلیم کرنا تھا۔ اس کتاب کو لے کر دانشوارانہ سطح پر کافی لے دے ہوتی رہی ہے۔ ایک بات جو مقطع کی ہے وہ یہ کہ قذافی نے اپنے ملک اور عوام کو کوئی ڈُپلکیٹ دستور نہیں دیا تھا بلکہ (لنگڑا لولا کہیں یا اسے آمرانہ کہیں) اپنا ایک نظریۂ حکومت دیا تھا جس میں ’جمہوریت‘ جیسا آمروں کے نزدیک ناپسندیدہ لفظ ہی نہیں بلکہ پورا ایک باب شامل تھا!
قذافی کے پورے دورِ اقتدار میں لیبیا میں اندرونی طور پر کبھی شورش نہیں رہی۔ شاید یہی بات دنیا کے چودھریوں کو کھٹکتی رہی۔ اسی لیے اس پر مختلف طریقوں سے پابندیاں اور عتاب نازل کیے جاتے رہے۔ الزامات لگائے جاتے رہے۔ مگر لیبیا کی آبادی نے اپنے اس قائد کے خلاف کبھی بے اطمینانی نہیں ظاہر کی۔پورے ملک کی آبادی میں نہ کہیں چوری چکاری سننے کو ملتی تھی نہ میلوں میل تک کوئی بھکاری کہیں پر نظر آتا ہے۔ ان کے دورِ اقتدار میں غربت  کا پتہ نہیں تھا۔ عوام کو ایک آسودہ زندگی میسر رہی۔ صحتِ عامہ کی نگرانی کا خاطر خواہ نظم رہا۔تعلیم عام اور لازمی ہے۔ملک میں داخلی آزادی رہی ہے جسے قذافی کی زبان میں ’’الجماہیریہ‘‘ کہا جاتا تھا۔ وہ کسی بھی کاروباری کمپنی میں تنخواہ دار ملازم نہیں رہتے تھے بلکہ بحیثیت پارٹنر انھیں منافع دیا جاتا تھا۔ اسلام پسندی میں بھی انتہائیت کی جگہ باہم مسلکی و فرقہ وارانہ رواداری پائی جاتی تھی، ایک ہی مصلے پر سبھی کی نماز ہو جاتی تھی۔ قذافی کی کوئی آمرنما سفاکیت بھی کبھی دیکھنے یا سننے کو نہیں ملی۔ حتیٰ کہ دنیا کے دیگر ملکوں کے مسلمانوں میں بھی قذافی کسی دوسرے عرب رہنما کے مقابلے میں زیادہ پہچانے اور پسند کیے جاتے رہے ہیں۔ ان کی مہمان نوازی اور اعلیٰ ظرفی کا ہمیشہ اعتراف پڑھنے اور دیکھنے کو ملا۔
 اس قائد کو دنیا بھر میں میڈیا پر قابض لابی نے ہمیشہ مضحکہ خیز کردار بنا کر پیش کیا۔ اس کے ہتک آمیز کارٹون شائع کیے جاتے رہے۔ اس کے بیانات کو توڑمروڑ کر اس طرح پیش کیا جاتا رہا کہ وہ کسی ملک کا سربراہ نہیں بلکہ سیاسی طور سے ایک غیربالیدہ انسان تھا۔ وہ دنیا میں دہشت پروری کا گنہگار تھا۔ جبکہ یورپ اور امریکہ سمیت دیگر مغربی ممالک سے (تیل کی تجارت سے متعلق اور اس کے عوض بھی) اپنے مطالبات کو منوا لینے کی صلاحیت جتنی قذافی میں رہی ہے وہ دیگر عرب ملکوں کے سربراہوں میں نہیں دکھائی دی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ سب کی آنکھوں میں تنکے کی مانند کھٹکتے رہے۔ خود عرب ملکوں کے سربراہوں نے انھیں جب جب وقت ملا عربی نہیں بلکہ افریقی ہی سمجھا۔اس کے باوجود لیبیا اور برّاعظم افریقہ میں کثیرآبادی ان کی قیادت پر اعتماد کرتی رہی۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ بیالیس برس جیسے طویل عرصہ کے لیے کسی سفاکیت اور بربریت کے سہارے اقتدار پر آج تک دنیا میں کوئی تنہا آمر قائم نہیں رہ سکا ہے۔
آخر لیبیا میں یہ سب ہوا کیسے۔ قارئین کو شاید یاد نہ ہو اس لیے ذکر کر دیں کہ ماہ فروری کے آخری ہفتے سے یہ شورش برپا ہوئی جب شہر بن غازی سے مصطفی عبدالجلیل نامی قذافی کے سابق معتمد نے یہ الزام لگایا کہ حکومت اپنے قیدیوں کے ساتھ انتہائی وحشیانہ سلوک کرتی ہے۔ یہ اندر کی بات تھی۔ جس پر احتجاج ہوا لیکن احتجاجیوں نے صاف کہا تھا کہ وہ بن غازی کی مقامی کارپوریشن کے خلاف ہیں، قذافی کے نہیں۔ البتہ شورش بڑھائی جاتی رہی۔ یہاں تک کہ قذافی کے حامیوں اور باغیوں میں جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ اور یہ بنیادی وجہ فراموش کر دی گئی۔ دیکھا جائے تو یہ معاملہ کس قدر طول پکڑتا... بیچ بچاؤ کی صورت پیش آتی اور معاملہ سلجھ سکتا تھا۔ لیکن سیف الاسلام کے جوش نے ہوش کھودیا اور احتجاجیوں پر انتقامی کارروائی کروا دی۔ بس پھر کیا تھا، یورپ اور امریکہ کو موقع ہاتھ آگیا اور انھوں نے اپنے پٹھووں کو اسلحہ تک فراہم کر دیا جس کی وجہ سے مسلح جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ قذافی حکومت کے لیے باغیوں کے پاس اسلحوں کی موجودگی ایک چیلنج کی صورت بن گئی۔ بات پھر مسلسل بگڑتی چلی گئی اور یہاں تک پہنچی۔ یورپی طاقتوں نے امریکہ کے اشارے پر فرانس کی قیادت میں الائیڈ فورس بنا لی اور حملہ کر دیا۔ لیبیا کے آسمان کو نوفلائی زون قرار دے کر خود اپنے ڈرون طیاروں کو ہر سمت اڑانے لگے اور قذافی کے فوجی ٹھکانوں کو تباہ کرنے لگے۔




 یہ حملہ صرف اسلحوں اور ہوائی جہازوں سے نہیں کیا گیا بلکہ میڈیا کے ذریعہ پوری دنیا میں قذافی اور اس کے بیٹوں کو عیاش، بدقماش، فضول خرچ، سنکی اور جانے کیا کیا الزامات کے ساتھ پیش کیا گیا۔ ہم بھی آپ کی مانند (ادھوری یا پوری) حقیقت نہیں جانتے لیکن یورپی اور امریکی میڈیا کی مبیّنہ عادتوں کے سبب ہم ان ساری باتوں پر یقین نہیں رکھتے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ایک مسلمان اتنا غیور تو ضرور ہوتا ہے کہ جانتے بوجھتے کسی فاسق اور زانی کی اقتدا میں نماز ادا نہیں کرے گا۔ مگر ہم نے دیکھا ہے کہ کسی بھی عوامی جلسہ میں وقتِ نماز ہوجائے تو خود قذافی مصلے پر امامت کے لیے اترتے تھے اور تمام حاضرین ان کی اقتدا میں نماز ادا کرتے تھے۔ تو کیا دنیا کو ان کے برے کردار کا علم تھا مگر خود لیبیائی عوام اس سے بے خبر تھے؟


قذافی سے اصل میں غلطیاں کہاں ہوئیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ قذافی نے اپنے خلاف کی جانے والی سازش کو محسوس نہیں کیا۔ اسی لیے کسی حفظِ ماتقدم کی جانب ان کی توجہ نہیں گئی۔وہ یقینی طور سے اپنے آخری ایام میں اقتدار کے نشے میں مست و بے خود اور حد سے زیادہ خوداعتماد ہو گئے تھے اور اس کا سبب ان کے جوان بیٹوں میں اقتدار کی آسان منتقلی کے یقین کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔اسی سبب انھوں نے ملوکیت اور جمہوریت کو خلط ملط کردیا۔ انھیں جدید دور میں لیبیا کے مختلف قبائل کی جوان ہوتی ہوئی نسلوں سے وہ رغبت نہیں نظر آئی جو اپنی جوانی کے دنوں میں پورے لیبیائی عوام سے تھی۔ کسی بھی حاکم کے لیے لازمی ہے کہ اس کا عرصۂ حکومت جتنا بڑھتا ہے وہ عوام سے اپنی قربت بھی اتنی بڑھائے۔ اس کی بجائے قذافی نے فاصلے پیدا کیے۔ لیبیا کی نوجوان نسل میں سگریٹ نوشی ایک اسٹیٹس سمبل کی مانند موجود ہے۔ انھیں وقت ضائع کرنے کے علاوہ دوسرے تعلیمی، ثقافتی و معاشرتی اشغال نہیں دیئے گئے۔ اعلیٰ تعلیمی انتظامات اندرونِ ملک کرنے کی بجائے اپنے نوجوانوں کو حکومتی اخراجات پر مغربی ممالک میں بھیجنا انھیں آسان لگا جس کی وجہ سے وطن سے ان کی محبت میں سیاست بھی داخل ہوگئی اور اس پر بیرونی نظریات کے اثرات زیادہ ملتے ہیں۔ ان جیسے اسباب نے زمامِ اقتدار پر قذافی کی پکڑ ایسی ڈھیلی کر دی کہ مغربی ممالک کو موقع ملتے ہی ان پر بھوکے جانوروں کی مانند ٹوٹ پڑے اور آخر قذافی کو ایک عبرت انگیز انجام سے دوچار ہونا پڑا۔ اے قذافی ترے انجام پہ رونا آیا۔