To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Saturday, April 2, 2011

?Why Such Long Hospital Stay for Sadhvi Pragya Singh 
سادھوی پرگیہ سنگھ (Pragya Singh) جب مالیگاؤں بم دھماکوں (سمیت اجمیر، موڈاسا، سمجھوتہ ایکسپریس وغیرہ بم دھماکوں اور اپنے ساتھی سنیل جوشی کے قتل کے الزام کے لیے) گرفتار کی گئی تھی (۱۰اکتوبر ۲۰۰۸) تو ہندوانتہا پسندوں نے بیک زبان اس کی گرفتاری پر اس وقت کے اے ٹی ایس (ATS) چیف آنجہانی ہیمنت کرکرے (Hemant Karkare) کی کھلے لفظوں میں مذمت کی تھی۔ کیونکہ یہ عام ہندوؤں کے وہم و گمان کو دہلا دینے والی بات تھی کہ ان کا ہم مذہب بھی دہشت گرد قرار دیا جا سکتا ہے۔ وہ بھی ہندوستان میں۔ جسے وہ جنم دینے والی ماں کے روپ میں ’’بھارت ماتا‘‘ کہہ کر اس کی پوجا کرتا ہے، عبادت کرتا ہے، وَندے ماترم Vande Mataram پڑھتا ہے۔ مگر حقیقت تو ایک نہ ایک دن سامنے آنی ہی تھی؛
پھوڑیں ماں کے سینہ پہ بم
پڑھنے والے وندے ماترم
Ajmer and Goa Bomb Blasts
سادھوی رتھمبرا اور اُوما بھارتی نے تو پرگیہ سنگھ کا صرف دفاع ہی نہیں کیا تھا بلکہ اسے انتخابات لڑنے کے لیے ٹکٹ تک دینے پر آمادہ تھی، اس کی گرفتاری کو ہندوؤں کے خلاف گہری سازش کہا تھا، مشہور یوگا گرو بابا رام دیو نے سادھوی کو معصومیت کا سرٹیفکیٹ دیتے ہوئے اپنی حمایت بھی جتائی تھی، ہندو انتہا پسند تنظیم وشو ہندو پریشد نے تو سادھوی کی رہائی کے لیے باقاعدہ مہم چھیڑ دی تھی، ہندو جماعتوں ابھینوبھارت اور ہندومہاسبھا نے اسے ہر طرح کی قانونی اعانت کا یقین دلایا تھا، ’سری رام سینے‘ کے چیف پرمودمُتالک نے تو سادھوی کو انقلاب افروز (کرانتی کاری) کہا تھا اور اس کا موازنہ جھانسی کی رانی اور بھگت سنگھ وغیرہ سے کیا تھا اور کہا تھا کہ سادھوی کو دہشت گرد کہنا اس ملک کی انقلابی مہمات کو گالی دینے کے مترادف ہے (یہ اور بات کہ خود متالک بعد میں سادھوی کا ساتھی نکلا اور اسی کیس میں ماخوذ و گرفتار ہے)، بال ٹھاکرے اور ان کے بھتیجے راج ٹھاکرے نے سادھوی کے ساتھ جیل میں غیر مناسب برتاؤ کی شکایتیں کھلے عام کی ہیں جبکہ جارج بش کی تقلید میں ان کا ہی یہ بھی نعرہ تھا کہ جو کسی دہشت گرد کا ساتھ دے گا یا اس کی حمایت کرے گا وہ دہشت گرد کا ساتھی ہوگا!۔ بال ٹھاکرے نے سادھوی پر افتخار بھی جتایا تھا... حتیٰ کہ ہندو انتہا پسندوں نے اپنے مشہور نعرہ ’’ہر مسلم دہشت گرد نہیں ہوتا لیکن ہر دہشت گرد مسلم ہوتا ہے‘‘ کی بھی کسی نہ کسی زاویے سے تجدید کرنے کی کوشش کی تھی تاکہ سادھوی پرگیہ، کرنل پرساد پروہت اینڈ کمپنی پر لگے الزامات کو ہلکایا جاسکے... مگر... زندہ باد ہیمنت کرکرے، زندہ باد!... انھیں ایسا کس کر کیس میں باندھ کر آپ آنجہانی ہوئے ہیں کہ اب ان کے لیے کوئی راہِ فرار نہیں بچی ہے۔
Sadhvi Pragya  when arrested and taken to jail.
اب اسے کس کسوٹی پر رکھ کر دیکھا جا سکتا ہے کہ جب سے یہ پورا گروہ گرفتار ہوا ہے یا ناندیڑ اور گوا وغیرہ میں بم بناتے ہوئے ہلاک ہوا ہے تو ممبئی اور ملک کے دوسرے علاقوں میں اسی نوعیت کے بم دھماکوں کا سلسلہ رک ہی نہیں گیا ہے بلکہ غائب ہو چکا ہے۔ 
ایک ڈاکٹر (چندرپال) کی بیٹی جب جیل میں پہنچی اور پھر اسپتال تو کیا ہوا؟... سادھوی پرگیہ سنگھ نے سیاسی زندگی تو نہیں جی لیکن سیاستدانوں کے بیحد قریب رہی تھی اس لیے گرفتاری کے دو مہینے کے بعد ہی (۵دسمبر ۲۰۰۸ کو) برسوں سے کسی ایتھلیٹ کی مانند زندگی گذارنے والی اچانک بیمار ہوگئی۔ اور ایسی بیمار ہوئی کہ جے جے اسپتال کے ڈاکٹر اسے تقریباً سوا دو سال گذرنے کے بعد بھی ابھی تک اچھا ہونے کا سرٹیفکیٹ نہیں دے سکے ہیں۔یہ جے جے اسپتال کی استناد پر ازخود ایک سوال کھڑا کرنے والی بات ہے۔ پولیس نے اسے جے جے اسپتال کا بستر ضرور دیا ہے لیکن علاج وہ آیورویدک کرواتی ہے۔ وید کون ہے اس کا نام کبھی ظاہر نہیں کیا گیا۔ کیا جے جے اسپتال کے قوانین کی رو سے یہ بات روا ہے؟ (یعنی کل کوئی ملزم یا مجرم یہاں یونانی یا ہومیوپیتھی وغیرہ سے علاج کروانے کی ضد کرے تو کیا اسے بھی یہ رعایت حاصل ہوگی؟)۔ اب یہ بھی سوچنے کی بات ہوگی کہ آیورویدک کی مریضہ کو ایلوپیتھک ڈاکٹر کس انداز سے ہیلتھ سرٹیفکیٹ اور کتنی میعاد کا دیں گے؟
ہم نے دیکھا ہے کہ جب کوئی اہم شخصیت یا ملزم اسپتال میں داخل کیا جاتا ہے تو روزانہ اس کی میڈیکل رپورٹ اخباری نامہ نگاروں یا دیگر صحافیوں کو جاری کی جاتی ہے۔ اس میں مرض اور علاج کی تفصیل کے ساتھ ڈاکٹروں کی رائے اور خیالات بھی شامل ہوتے ہیں۔ لیکن سادھوی کے معاملے میں ایسا کسی دن نہیں ہوا۔ کیوں آخر؟۔ کیا اسپتال میں داخلہ ڈاکٹر دیں گے اور ڈسچارج پولیس؟...پولیس کی حراست میں رہنے والے کسی بھی ملزم یا مجرم کا یہ طویل ترین اسپتالی قیام تحقیق کی جائے تو ورلڈ ریکارڈ بھی نکل سکتا ہے!
تازہ ترین یعنی ۲۸مارچ کو اسپتال کے ڈین کے ذریعہ جاری کی گئی رپورٹ میں انھوں نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) کو لکھا ہے کہ سادھوی پرگیہ سفر کرنے کے قابل ہے اور اسے تحقیقات کے لیے مدھیہ پردیش لے جایا جاسکتا ہے، انھوں نے مزید لکھا ہے کہ سادھوی اسی وقت بیمار ہوجاتی ہے جب پولیس یا تحقیقاتی ٹیم اس کے پاس آتی ہے، ان کے رخصت ہوتے ہی وہ دوبارہ چاق و چوبند ہو جاتی ہے۔ یہ بات وہاں کی پروفیسر الکا دیشپانڈے (ڈپارٹمنٹ آف میڈیسین) نے بتلائی ہے۔پروفیسر دیشپانڈے نے یہ بھی بتلایا کہ سادھوی انھیں یا کسی دوسرے ڈاکٹر کو چیک اپ بھی کرنے نہیں دیتیں اور بالکل بپھر جاتی ہے۔ اگر کوئی واقعی بیمار ہو تو وہ ڈاکٹر سے معائنہ میں پورا تعاون کرتا ہے۔
تحقیقی ٹیم کے سامنے بھی سادھوی بالکل گونگی اور بہری بنی بیٹھی رہتی ہے اور کسی بات کا جواب بھی نہیں دیتی۔ ہاں یا نا تک نہیں کہتی اور جب زور دیا جاتا ہے تو سر چکرانے کا بہانہ کرتی ہے۔
البتہ عدالت نے اب پولیس کو سادھوی کو مزید تحقیقات کے لیے دیواس (مدھیہ پردیش) لے جانے کی ہدایت دے دی ہے اور ملی ہوئی خبروں کے مطابق پولیس نے اس پر عمل بھی کیا ہے مگر اس کے واپس لوٹنے کے بعد کیا ہوگا، کیا سادھوی کو دوبارہ اسپتال میں ہی رکھا جائے گا، وہ بھی دیکھا جائے گا۔

Sadhvi along with some BJP leaders

سرِ دست ہم اس بات پر بھی گفتگو کرنا چاہیں گے کہ گذرتے ہوئے برسوں کے ساتھ اور جنریشن گیپ کی وجہ سے آر ایس ایس کی ’’ہندو راشٹر‘‘ والی آئیڈیا لوجی بھی بوسیدہ ہوچلی ہے۔ شاید کرنل پروہت، دیانند پانڈے، اسیمانند اور تمام دیگر گرو گولوالکر اس فلسفے کے آخری علمبرداران ہیں۔ بدلتی ہوئی دنیا نے جہاں تمام مذاہب کے نوجوانوں کو دنیا کے دیگر حصوں اور علاقوں کی جانب نظریں کرنا سکھایا ہے وہیں ہندو نوجوانوں کو بھی متوجہ کیا ہے۔ اسی لیے ان میں کسی قدر مذہب بیزاری اور مذہبی شدت پسندی کم ہوئی ہے۔ یوں بھی ہمیں کرنل پروہت کی حماقت پر ترس آتا ہے کہ (خبروں کے مطابق) تمام دھماکوں کو اسی نے فیبریکیٹ کیا تھا اور ٹریننگ بھی دی تھی۔ آخر اسے یہ کیسے لگا کہ صرف مسلمانوں (یا کسی بھی مذہب کے ماننے والوں ) کو کچھ تعداد میں ختم کرکے یا مودی کی مانند فسادات میں تباہ و برباد کرنے سے، ایک مخصوص علاقے میں قتلِ عام کرنے سے ملک ہندوراشٹر میں تبدیل ہو جائےگا؟ کیا اسے اپنے اسرائیلی آقاؤں کا حشر نہیں سمجھ میں آتا کہ وہ کس طرح قریبی زمانے میں رسوا ہونے کی منزل پر آئے جا رہے ہیں؟ کیا اسرائیل کی فلسطینیوں کو ختم کرنے کی کوشش کامیاب ہو جائے گی؟ انھیں تو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہٹلر کی وسیع تر سفاکی نے جرمنی کے معدودے چند ہزار یہودیوں کو بھی پوری طرح ختم کرنے میں کامیابی حاصل نہیں کی تھی۔ کم ازکم تاریخ سے کسی بھی دانشمند کو سبق لینا لازمی ہے.

Monday, March 28, 2011

<


اب اردو دریچہ  کے صفحہ پر  اردو کو اردو یعنی نستعلیق متن (ٹیکسٹ) میں پڑھیے. فیض نستعلیق یونیکوڈ فونٹ کو دیے ہوئے لنک سے ڈاؤن لوڈ کریں.
unzip & install it to your windows/font directory
FAIZ NASTALIQ UNICODE FONT
اردو کا اپنا چہرہ ہے نستعلیق.
فیض نستعلیق فونٹ میں تیار کردہ چند نمونے ان پیج ورزن ٣ سے ملاحظہ فرمایں.









Sunday, March 27, 2011

FAIZ NASTALIQ UNICODE FONTA MILESTONE IN URDU WORLD
نستعلیق اور لاہوری نستعلیق:
Allama Iqbal, Munshi Parveen Raqam,
 Taj Zarreen Raqam
فنِ خطاطی ہر دور میں اپنی عالمگیری شہرت کی بنا پر ہمیشہ مقبولِ عام رہا ہے ۔ اس فن کی رعنائیاں قرطاس سے لیکر محلات، مساجد اور مقابر کے خوبصورت محرابوں میں ہر جگہ اپنے حسن وزیبائی کی کائنات سجائے ہوئے ہیں ۔ اس کے اعلیٰ نمونے قرآن پاک کے قدیم نسخوں، قلمی تحریروں ، تاریخی عمارتوں اور اپنے دور کے اعلیٰ ترین خطاطوں کی نایاب وصلیوں میں آج بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو اپنے حسن کی جھلک دکھا کر آج بھی توجہ کھینچ لیتے ہیں. خط نستعلیق آج کے دور میں کافی مقبولیت حاصل کرچکا ہے ۔ در اصل یہ ایرانی خط ہے جو نسخ اور تعلیق نامی دو خطوں سے مل کر بنا ہے ۔ اس خط کو بعد میں مختلف مراحل پر الگ الگ اساتذہ نے اپنے اپنے ڈھنگ اور اپنے طرز پر لکھنے کی سعی کی جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے اور اس کے ساتھ ہی اس خط میں نکھار پیدا ہوتا گیا۔ نستعلیق کو جدید طریقے سے سجانے سنوارنے کا سہرا استاد الخطاطان منشی عبد المجید پروین رقم لاہوری کے سرجاتا ہے جنہوں نے آج سے محض پون صدی قبل اصل ایرانی طرز ِنستعلیق کو لے کراس میں کچھ تصریف کی، تمام حروف کو قدرے دلکش انداز میں لکھ کر اس کے دائروںکو بیضاوی شکل دے کر ان میں مزید نزاکت پیدا کی ۔یہ دائرے کچھ سمٹے ہوئے لہر دار نزاکت لئے ہوئے مخروطی بنائے گئے ہیں۔ گویا لگتا ہے جیسے کسی مصور نے اپنے موءِ قلم سے ایک حسین مجسمہ کو بنا کر اس میں جان ڈال دی ہے۔ یہی نستعلیق خط لاہوری طرز کے نام سے مشہور ہوگیا۔ بعد میں منشی پروین رقم کے دیگر تلامذہ نے اس خط میں جہاں جہاںاورجب ضرورت محسوس کی تبدیلیاں کرتے گئے ۔ ان میں مشہور خطاط تاج الدین زرّیں رقم لاہوری نے بہت ہی محنت و مشقت کے بعد اس خط کو تراش خراش کر اور بھی خوبصورت اور دلکش بنا دیا۔یہی وجہ ہے کہ خطِ نستعلیق کی دیگر صورتوں کی بہ نسبت لاہوری طرز سب سے زیادہ نازک کہلایا۔ دوسرے طرز میں حروف کی معمول سے زیادہ پیمائشیں بھی قابلِ قبول و قابلِ قدر ہو جاتی ہیں لیکن طرزِ لاہوری کی نزاکت ایسی ہے کہ قواعد کی کسی بھی قسم کی معمول سے زیادہ تبدیلی اس میں بدصورتی کا سبب بن جاتی ہے۔
فیض مجدّد لاہوری:

Muraqqa-e-Faiz
اسی نازک طرزِ خط کے امین تھے محترم فیض مجدّد لاہوری صاحب جو ہندوستان کی آزادی سے قبل اور بعد میں بھی اپنی فنی صلاحیتوں کے سبب ممبئی کے حلقۂ فنکاران میں ’’فیض کاتب و آرٹسٹ‘‘ کے نام سے مشہور تھے۔ آپ کشمیر کے ایک راج گھرانے ’’پال‘‘ کے چشم و چراغ تھے ۔ لاہور آپ کی جائے پیدائش اور وطنِ مالوف تھا اسی نسبت سے لاہوری کہلائے۔
فیض مجدّد لاہوری منشی عبد المجید پروین رقم لاہوری سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ انھیں کو اپنا استاد مانتے تھے۔ بعد میں انھوںنے باقاعدہ تاج الدین زرّیں رقم لاہوری سے اصلاح لی اور خطِ لاہوری کے ماہر خطاطوں میں شمار ہوگئے۔ ان کے نام کی دھوم لاہور سے ممبئی تک ہونے لگی ۔
۱۹۲۸ء میں فیض صاحب ممبئی تشریف لائے۔ یہاں آکر انھوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا تو خطاطی کی دنیا میں ایک ہلچل مچ گئی۔ ممبئی والوں نے انھیں اتنا سراہا کہ وہ یہیں کے ہورہے اور آخری دم تک بمبئی میں ہی بسے رہے ۔ فیض صاحب کے لکھنے کا اپنا الگ اسٹائل ہے۔ اس اسٹائل میں انفرادیت بھی ہے اور کمالِ فن کا ثبوت بھی ۔انھوں نے خط لاہوری کے بیضوی دائروں اور دیگر حروف کو مزید لچکدار اور ان کے نازک جوڑوں کو آرٹسٹک انداز میں بنا کر ان میں نفاست اور دلکشی پیدا کردی ۔ فیض مجدد لاہوری کا یہ انفرادی طرزِ تحریر اس قدر مقبول عام ہوا کہ ہر صاحب کتاب کی خواہش ہوتی کہ وہ فیض صاحب سے ہی اپنی کتاب کا سرورق لکھوائے ۔ فیض صاحب ایک اعلیٰ خطاط ہونے کے ساتھ ساتھ مانے ہوئے مصور بھی تھے ۔آپ کی طبیعت میں نزاکت تھی، نفاست تھی، وہ حروف بناتے وقت ان میں مصوری کا حسن بھی بھر دیتے تھے چنانچہ انھوں نے طرز لاہوری میں مصوری کے رموز ونکات کا بھی لحاظ شامل کر دیا۔ جو کوئی ایک بار ان کے لکھے ہوئے طغرے یا ٹائٹل کو دیکھتااسے بار بار دیکھنے کی خواہش پیدا ہوتی تھی اور ایسا لگتا گویا کہ کسی حسین مجسم کو دیکھ رہے ہیں ۔
مرقعِ فیض:
١٩٨٢ء میں فیض مجدد لاہوری کے شاگرد اسلم کرتپوری نے لاہوری خطاطی کے قواعد و ضوابط پر مبنی کتاب ’’مرقع فیض‘‘ شائع کی ۔ جس میں وہ تمام تقطیعات شامل تھیں جو فیض صاحب نے اسلم کرتپوری کو لکھ کر دی تھیں ۔ اس کتاب میں خطاطی کے وہ طریقے بھی سکھائے گئے تھے جو عام خطاط جانے انجانے میں نظر انداز کردیا کرتے تھے ۔ ہندوستان میں لاہوری طرز کی یہ واحد کتاب ہے جس میں فیض صاحب کے لکھے ہوئے مختلف کتابوں اور اخبارات کے ٹائٹل اور ان کی وہ نایاب وصلیاں شامل ہیں جو فنی اعتبار سے ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہیں اور نئے لکھنے والوں کی مددگار ثابت ہوئی ہیں ۔

Faiz Sahab, Aslam Kiratpuri, Dr. Rehan Ansari:
Teacher and the disciples
کمپیوٹر اور خط لاہوری:
Faiz Nastaliq Team Disussing
the Digital Forms of Characters and Ligatures
FAIZ NASTALIQ TEAM:
Aslam Kiratpuri, Dr. Rehan Asnari. Sayyad Manzar
آج کے نئے دور میں جبکہ کمپیوٹر پوری دنیا پراپنی گرفت مضبوط کر چکا ہے خطاطی کو بھی نئے انداز میں نوری نستعلیق کے نام سے کمپیوٹر کے ذریعہ روشناس کرایا جا چکا ہے۔ اس سے قبل کئی اصحاب اور کمپنیوں نے نستعلیق طرز کو کمپیوٹر کے ذریعہ استعمال کرنے کی سعی کی مگر نوری نستعلیق نے بازی مار لی۔ اس خط کو ’اِن پیج‘ نے اپنا کر اس کا استعمال بھی بڑھا دیا۔ ہندوستان میں ’اردو اِن پیج‘ سافٹ ویئر نے کافی مقبولیت حاصل کی ۔ بیشک ان پیج اس دور کا ایک مکمل اردو پبلشر سافٹ ویئر ہے۔ اس میں طرزنستعلیق کے بطور صرف ایک ہی خط ہے یعنی نوری نستعلیق جو عرفِ عام میں’دہلوی خط‘ کہلاتاہے ۔ایک ہی طرح کا خط دیکھتے دیکھتے لوگ اُوب چکے تھے اور چاہتے تھے کہ اس اسلوب تحریر میں کچھ ہٹ کر دیکھنے کو ملے۔ ’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘۔ اسی تبدیلی کی خواہش نے لاہوری خط کو کمپیوٹر میں دیکھنے کی تمنا کو روز بروز پروان چڑھایا۔ AXIS SOFTMEDIA  کے روح رواں سیّدمنظر اردو کے نت نئے فونٹ بنانے اورجدید طرزتحریر کے طغروں کو کمپیوٹر کے ذریعہ پیش کرنے میں کافی مہارت رکھتے ہیں۔ آپ نے فیض مجدد لاہوری کے شاگرد خاص اور مرقعِ فیض کے مرتّب اسلم کرتپوری سے رابطہ قائم کیا اور لاہوری نستعلیق کا فونٹ ڈیولپ کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔ اسلم کرتپوری نے اپنے شاگرد ڈاکٹر ریحان انصاری کو اس کام کی ذمہ داری سونپی۔ ڈاکٹر ریحان انصاری پیشہ سے ڈاکٹر ہیں، صحافت سے بھی وابستگی ہے لیکن ایک اچھے خطاط و آرٹسٹ بھی ہیں۔ خطاطی میں ان کی دلچسپی اپنے پیشے سے زیادہ ہی نظر آتی ہے۔ یہ نوجوان جنون کی حد تک خطاطی سے لگاؤ رکھتا ہے۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ ڈاکٹر ریحان انصاری فیض مجدد لاہوری سے ان کے آخری ایام میں اصلاح بھی لے چکے ہیں ۔ اسلم کرتپوری نے اپنے استاد فیض مجدد لاہوری کی کتاب کو سامنے رکھ کر لاہوری نستعلیق بنانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن بعد میں طے پایا کہ فیض صاحب کی لکھی ہوئی وصلیوں کا ہی عکس لے کرکے فونٹ بنانے کا کام کیا جائے ۔ ڈاکٹر ریحان انصاری کمپیوٹر گرافک ڈیزائننگ میں بھی مہارت رکھتے ہیں ۔ انھوں نے کافی محنت اور جدو جہد کے بعد مرقع فیض کی تمام وصلیوں کا عکس حاصل کیا؛ ان کا تجزیہ کیا ۔ ہر حرف کا باریک بینی سے پوری ٹیم بیٹھ کر مشاہدہ کرتی اور جہاں کسی تکنیکی اعتبار سے اور ضرورت کے پیش نظر ہلکی سی بھی تبدیلی کی ضرورت محسوس ہوتی باہمی مشورہ کرکے اس کو کمپیوٹر کے مطابق بنانے کے لیے ہلکا ساتبدیل کردیا جاتا ۔لیکن اس بات کا پورا خیال رکھا جاتا کہ اس طرز لاہوری میں فیض صاحب کی جھلک من و عن برقرار رہے ۔ اسی ضمن میں بین السطور فاصلے کی ضرورت کے مدِّ نظر کچھ جوڑوں کے زاویوں کو بھی قدرے پست کر دیا گیا ہے نیز زیادہ لمبائی کے الفاظ کی لمبائی میں معمولی سا سمجھوتہ بھی داخل ہے، لیکن کوشش یہی ہے کہ ان میں کوئی واضح بدنمائی نہ پیدا ہو۔ آج فیض صاحب کی شدت سے یاد سے آرہی ہے اگر یہ کام ان کی آنکھوں کے سامنے ہوتا تو اسے دیکھ کر واقعی خوشی سے پھولے نہ سماتے ۔ پھر بھی ہم نے ان کے لکھے لاہوری خط کو زندہ کردیا ہے ۔ اور اس فونٹ کو ’’فیض لاہوری‘‘ کے نام سے موسوم کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ امید ہے کہ رہتی دنیا تک یہ فونٹ فیض صاحب کا نام قائم رکھے گا۔ اور جولوگ خط نستعلیق میں کچھ تبدیلی کے خواہش مند تھے انھیں اس خط کو دیکھ کر اپنے ذائقہ کی تبدیلی کا احساس ضرور ہوگا ۔