To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Thursday, March 10, 2011

دنیا نے سگار (Cigar) کو چھوٹا کیا سگریٹ (Cigar-ette) بنا دیا۔ سگار چھوٹا ہوگیا خطرہ بڑھا دیا۔ سب کی پہنچ میں آگیا۔ بیشتر کو سگریٹ باز بنا دیا۔ دنیا میں سگریٹ کے کش پر کش لیتے ہوئے نہ جانے کتنے لوگ زندگی گذار (اصل میں بگاڑ) رہے ہیں۔ سگریٹ کا دھواں صرف کھینچنے کے لیے ہی اہم نہیں ہے بلکہ فنکار لوگوں نے اسے فضا میں خارج کرتے ہوئے دیدہ زیب مرغولوں کا تفریحی منظر بھی پیش کیا ہے۔ اس پر گیت و نغمے بھی گنگنائے گئے ہیں لیکن ساحر لدھیانوی کے شعر کی حقیقت پسندانہ تضمین کی جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ:
’’ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا‘‘
اور اپنی ہی صحت کو گنواتا چلا گیا
ایک تا ڈیڑھ صدی کے عرصے میں سگریٹ نوشی زیادہ عام ہوئی ہے۔ اور صرف گذشتہ نصف صدی میں سگریٹ نوشوں کی تعداد دوگنی ہو چکی ہے۔ ذہنی تناؤ، کام کے بوجھ کی فکر اور تکان دور کرنے کے حیلے اور ذہنی و شعوری دریچے وا کرنے کے بہانے یہ فیشن کے طور پر رائج ہے۔
تمباکو کے استعمال نے ہر دور میں ایک مختلف انداز میں ترقی کی ہے۔چبانے، سڑکنے، دانتوں پر ملنے، منہ میں دبانے، حقہ سڑکنے ، بیڑی، سگار، پائپ اور سگریٹ کے ذریعہ تدخین (Smoking) کی صورت میں؛ غرض نت نئے انداز سے تمباکو کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ تمباکو نوشی کی جدید ترین شکل سگریٹ ہے۔ اس کی صورت بھی دورِترقی کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی ہے۔
غور کیا جائے تو تمباکو کے استعمال سے بدن کو فائدہ پہنچنے کی بجائے ہمیشہ نقصان ہی پہنچتا ہے۔ جیسے ایک معمولی سی بوند پتھر کو راست طور سے کوئی نقصان نہیں پہنچاتی لیکن تواتر کے ساتھ ایک ہی مقام پر بوندوں کے بعد بوندیں گرتی رہیں تو پتھر کی طبعی ہیئت خراب ہو جاتی ہے۔ بالکل اسی طرح تمباکو کا ہر کش پھیپھڑے اور دل کے نظام کی دائمی تباہی کی جانب بڑھتا ہوا قدم ہوتا ہے۔ اس کے خطرات بہت طویل فاصلہ طے کر کے آتے ہیں اور پھر اس سرائے کے مستقل مکین بن جاتے ہیں۔ 
تمباکو کے پیکٹ پر چھپا ہوا یہ طبی انتباہ بھی تمباکو نوشوں کو کماحقہ متوجہ نہیں کرتا کہ ’’سگریٹ نوشی صحت کے لیے مضر ہے۔‘‘ اس انتباہ کے الفاظ و بیان یہاں تک تبدیل ہوئے ہیں کہ ’’تمباکو نوشی کو اپنائیے یا صحت کو... فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔‘‘ مگر ہنوز حال یہ ہے کہ مطبوعہ تنبیہ محض پیکٹ کی ڈیزائن کا حصہ بن گیا ہے۔ اور سگریٹ نوش پر یا سگریٹ فروش پر یا سگریٹ خریدنے کے لیے بھیجے گئے بچے پر اس تنبیہ کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
تمباکو نوشی کے اثرات ہی نہیں بلکہ اس کے مبینہ خطرات بھی صرف تین یا چار نسلوں میں ہی زیادہ ظاہر ہوئے ہیں۔ خصوصاً طبقۂ امراء میں۔ سگریٹ نوشی کا ایک بڑا ضرر یہ بھی ہے کہ اکثر سگریٹ نوش نئے نشوں کو تلاش کرنے لگتے ہیں۔ سگریٹ کے ساتھ ہی شراب، چرس، ماریجوانا اور گانجے وغیرہ کا استعمال بھی شروع کر دیتے ہیں۔ اس طرح نشہ آور ادویات کے استعمال کو فروغ ملتا ہے۔ گویا سگریٹ نوشی نشے کی عادت اپنانے کے لیے پہلی سیڑھی ثابت ہوتی ہے۔ معاشرے میں نوجوان ایک اسٹائلش زندگی کے تصور کے ساتھ سگریٹ نوشی کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ عموماً سگریٹ نوشی کی ابتداء دوستوں کی صحبت یا گھر کے بڑوں کی تقلید میں ہوتی ہے؛ جبکہ ساتھیوں یا معاشرے میں اکثریت تمباکو نوشوں کی ہو، جہاں تمباکو نوشی کو برائی نہیں سمجھا جاتا اور اسے ایک سماجی قدر یا التزام کا مقام حاصل ہو، جہاں یہ مطالبہ ہو کہ ہمارے ساتھ رہنا ہے تو ہم جیسا بننا ہوگا۔ کثیر تعداد کے لیے سگریٹ نوشی ایک اسٹیٹس سمبل (علامتِ منصبی)، پُر اعتمادی، پختہ شعوری جیسی خوش کُن باتوں کا اظہار ہے!!
دنیا میں جتنی اشیاء پائی جاتی ہیں ان میں تمباکو سب سے ارزاں اور سہل الحصول ہے۔ اس میں پایا جانے والا جز ’نکوٹین‘ (Nicotine) سب سے زیادہ عادی بنانے والی منشّی (Addictive) دوا ہے۔  اس کی عادت اتنی تیزی کے ساتھ پختگی حاصل کر لیتی ہے کہ افیون، چرس، گانجہ یا ماریجوانا بھی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ گو کہ نکوٹین خود اتنا زیادہ عضوی ضرر پہنچانے والا کیمیائی مادّہ نہیں ہے جتنا کہ سگریٹ نوشی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا دھواں اور گیسیں ہیں۔ یہ دھواں اور گیسیں اعضائے تنفس اور نظامِ دورانِ خون کو دائمی، غیر رجعی اور مہلک نقصان پہنچاتی ہیں۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ اثر صرف سگریٹ نوش پر ہوتا ہے بلکہ اس کے ساتھی اور اہلِ خانہ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اسے منفعل (Passive) سگریٹ نوشی کہتے ہیں۔ چنانچہ سگریٹ نوشی ایک ’’مستقل وبائی مرض‘‘ کی طرح پھیلتا رہتا ہے۔ یہ وبا متعدی نہیں ہے بلکہ اختیاری ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس سے آدمی خواہشمندی کے ساتھ بچ سکتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کو اپنے عوام کے لیے نقصِ تغذیہ (Mal-nutrition) اور متعدی امراض کے علاوہ تمباکو نوشی سے بھی طبی محاذ پر سامنا ہے۔
اب اس بات کے کافی شواہد موجود ہیں کہ سگریٹ نوشی سے پچیس فیصدی قلبی امراض، پچہتّر فیصدی تنفسی امراض اور نوّے فیصدی پھیپھڑے کے کینسر ظاہر ہوتے ہیں۔ اور ایک بڑی تعداد میں بدن کی قوتِ مدافعت (Immunity) کمزور ہو جاتی ہے۔خواتین میں تمباکو نوشی سے خود انھیں بھی نقصان ہوا کرتا ہے اور اگر وہ حاملہ ہوں رحم میں پرورش پانے والے بچے کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ 
سگریٹ کی عادت کا اصلی سبب:
کسی کو بھی سگریٹ نوشی کی عادت کیوں پڑ جاتی ہے۔ اس کی تحقیق کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ سگریٹ کے دھوئیں میں ایک نامعلوم جز کی وجہ سے دماغ میں پیدا ہونے والا ایک اہم انزائم ’’مونوامائین آکسیڈیز B‘‘ (Monoamaine Oxidase B) تباہ ہو جاتا ہے۔ یہ انزائم ڈوپامین (Dopamine)نامی کیمیائی مادے کے اثرات کو زائل کرنے کا کام انجام دیتا ہے جبکہ ڈوپامین عصبی ریشوں کے سروں پر لذت کی خواہش بڑھانے والا مادّہ ہے۔ گویا ’مونوامائین آکسیڈیز بی‘  خواہشات کے دروازے پرگورکھا کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ تمباکو نوشوں میں اس کی مقدار ڈوپامین کی مقدار کے تناسب میں بہت کم ہو جاتی ہے اس لیے ڈوپامین کی زیادتی بار بار انھیں حصولِ لذت کی خواہش میں مزید سگریٹ نوشی پر اکساتی رہتی ہے۔
نکوٹین:
تمباکو کے کثیر استعمال کا اصل مقصد اس سے حاصل ہونے والے ہلکے نشے کا حصول ہوتا ہے۔ یہ ہلکا نشہ آدمی کو مزید متحرک بناتا ہے اور اس کا موڈ ٹھیک کرتا ہے۔ اس کیفیت کی پیدائش کا سبب تمباکو کا جز (الکلائیڈ، alkaloid) نکوٹین ہوتا ہے۔ تمباکو میں 0.5فیصدی سے 8 فیصدی تک نکوٹین موجود ہوتا ہے۔ لیکن یہاں یہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ تمباکو کے پتوں (یہاں سگریٹ پڑھیں) میں تنہا نکوٹین ہی نہیں ہوتا بلکہ کئی قسم کے دوسرے مضر اجزاء بھی شامل ہوا کرتے ہیں۔ (جن کے اشارے تصویر میں ملاحظہ کر سکتے ہیں)۔ ان کی موجودگی مختلف تکالیف ، امراض یا کینسر کی پیدائش کا سبب ہوا کرتی ہے۔ یہ مشہور اور مبینہ حقیقت ہے کہ تمباکو سے کینسر پیدا ہوتا ہے۔ لیجن تحقیقات اور مشاہدے اس بات کی مکمل تائید نہیں کرتے کہ تنہا نکوٹین ہی تمباکو سے پیدا ہونے والے کینسر کا ذمہ دار ہے۔ نکوٹین کے علاوہ تمباکو کے اندر پائریڈین (Pyridine)، فراری تیزاب (Volatile acid) ، ٹار (tar) کاربن مونو آکسائیڈ (CO) وغیرہ مضر اجزاء پائے جاتے ہیں۔ یہاں نکوٹین کو دیگر اجزاء کے مقابلے میں شک کا فائدہ حاصل ہے۔
کینسر اور سگریٹ نوشی:
سگریٹ نوشی سے کینسر پیدا کرنے والے اسباب میں سگریٹ کے دھوئیں کے ساتھ ایسبسٹاس (Asbestos) کے ذرّات، کرومیٹ (Chromate) نکل (Nickel) سنکھیا (Arsenic) اور کچھ تابکار مادّے (ریڈیو ایکٹیو مٹیریلس) بھی سینے میں پہنچتے ہیں۔ تمباکو کے دھوئیں میں یوں تو کینسر پیدا کرنے والے اجزا متعدد ہیں ، ان سب کی اس زاویے سے تحقیق ابھی تشنہ ہے۔ لیکن اس باب میں بینزاپائرین (Benzapyrine) کی تصدیق ہو چکی ہے۔ 
حقہ نوشی
عوام میں ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ حقہ نوشی تمباکو  کے استعمال کی ایک بے ضرر یا کم ضرر قسم ہے۔ خصوصاً کالج اسٹوڈنٹس اور بڑی سوسائٹیوں میں تفریحاً یہ چلن ہو چلا ہے کہ حقہ پارلر میں جانا ایک مہذب فعل ہے۔ انھیں اپنے ہی تجربات کی روشنی میں یہ بات معلوم ہو جانی چاہیے کہ جو دھواں تمباکو کی خوشبو (Flavours) کو ان کے پھیپھڑوں اور نتھنوں تک لے جا سکتا ہے وہ تمباکو کے دوسرے اجزا کو پیچھے کیونکر چھوڑ ے گا۔ پانی سے گذرتے ہوئے یہ دھواں ایک نلکی جیسا راستہ بنا دیتا ہے جس میں تمباکو کے مضر اجزاء آسانی کے ساتھ پار ہو جاتے ہیں۔ پانی کا اثر صرف بلبلوں کی سطح پر ممکن ہوتا ہے۔ پانی بلبلے کے اندر کوئی اثر نہیں رکھتا۔ عالمی تنظیمِ صحت (WHO) ٢٠٠٥  کی ایک رپورٹ کے مطابق حقہ نوشی سگریٹ نوشی سے بھی زیادہ مضر ہے

Tuesday, March 8, 2011

جلد کا عام عارضہ: داد (Ringworm) 
ڈاکٹر ریحان انصاری
ٹیلویژن پر دکھائے جانیوالے اشتہارات کی وجہ سے مریضوں کو’داد‘ یعنی شرمگاہ اور اس کے آس پاس کے مقامات کی کھجلاہٹ کو سمجھانا قدرے آسان ہوگیا ہے۔ لوگ خود بھی اشتہار میں دکھائے جانیوالے مراہم کا استعمال کر لیتے ہیں۔ کچھ کو آرام بھی مل جاتا ہے لیکن بہت سے مزید پریشان ہو کر دواخانوں میں حاضر ہوتے ہیں۔
’داد‘ ایک طفیلی مرض ہے۔ اس میں شدید کھجلی اور بے چینی ہوتی ہے۔ اس کا سبب کچھ پھپھوند (Fungus) ہیں۔ انھیں عام طور سے ’رِنگ ورم‘ (Ringworm)کہتے ہیں۔ یہ ایک غلط نام ضرور ہے کیونکہ اس میں کسی کیڑے کا کوئی عمل نہیں ہے؛ لیکن دورِ قدیم میں ایسا تسلیم کیا جاتا تھا کہ یہ کسی کیڑے کے کاٹنے سے لاحق ہوتا ہے اور دائرے کی شکل میں پھیلتا ہے۔ اس لیے یہ نام پڑگیا تھا۔ آج بھی اسی نام سے مشہور ہے۔ مگر بعد کے زمانوں میں تحقیقات سے یہ ثابت ہو گیا کہ اس کا سبب جلد پر اُگنے والی پھپھوند (Dermatophytes) یعنی جِلدی پھپھوند ہیں۔ علاوہ ازیں یہ صرف دائرے کی شکل میں نہیں پھیلتا بلکہ منحنی شکلوں میں بھی پھیلتا ہے۔ 
داد کا مرض جلد کی اوپری (بیرونی) سطح پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے معاون اسباب میں ’’گرمی (حرارت) اور نمی‘‘ والے علاقے ہیں یعنی جہاں پسینہ یا کوئی اور رطوبت (جیسے منہ، ناک اور کان کی رطوبتیں) کا اخراج ہوتا ہے۔ ان علاقوں میں اس کے سبب کھجلی، چھلکے اور پرت کی پیدائش اور سر، ڈاڑھی وغیرہ پر گنج بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ مرض ایک سے دوسرے فرد میں تیزی سے منتقل ہوتا ہے؛ خواہ راست تعلق سے یا پھر تولیہ، کنگھیاں، کپڑے یا زیر جامے اور حتیٰ کہ سوئمنگ پول یا باتھ روم (ٹب) کے مشترکہ استعمال سے بھی یہ مرض ایک سے دوسرے میں منتقل ہو جاتا ہے۔ کچھ پالتو جانور جیسے بلی، کتے، خرگوش وغیرہ بھی اس مرض سے متاثر ہوتے ہیں اور یہ اپنے نگراں یا مالک کو بھی متاثر  کرتے ہیں۔
یہ پھپھوند انسانی جلد کے اوپر ہی پلتی ہے۔ بالوں اور ناخنوں میں بھی ملتی ہے۔ پالتو جانوروں کی جلد میں بھی پناہ لیتی ہے اور مٹی میں بھی شامل رہتی ہے۔ اس لیے کس فرد کو کہاں سے پھپھوند نے متاثر کیا ہے اس کی تحقیق تقریباً ناممکن ہے۔ اس کی افزائش کے لیے بتایا جا چکا ہے کہ ’’گرمی اور نمی‘‘ کی موجودگی لازم ہے۔ایسے علاقے جہاں دو مقامات کی جلدیں آپس میں ملتی ہیں وہاں ’’گرمی اور نمی‘‘ بھی پائی جاتی ہے اس لیے وہاں اس مرض کے پیدا ہونے کا امکان زیادہ رہتا ہے جیسے کنجران (جانگھوں کی بغل)، بغل، انگلیوں کے درمیان، گردن وغیرہ۔
حالانکہ مرض ایک ہی ہے، یعنی ’’داد‘‘، علامات و علاج بھی تقریباً یکساں ہوتے ہیں لیکن (برائے علاج) جسم کے حصوں سے منسوب کر کے اس کے مخصوص نام دئیے گئے ہیں جیسے:
٭ Tinea barbae (یعنی ڈاڑھی کی پھپھوند) یہ عام طور سے نائی کے یہاں سے برآمد ہوتی ہے۔ ٭inea capitis (سر کی پھپھوند) مدرسوں اور اسکولی بچوں میں عام ہے۔ ٭ Tinea corporis (جسمانی جلد کی پھپھوند) اس میں داد کے امتیازی اور مخصوص چکتّے (چٹّے) ظاہر ہوتے ہیں۔ ٭inea cruris (کنجران کی پھپھوند) یہ شرمگاہ کے آس پاس رانوں کے بغلی علاقوں اور کبھی اعضائے مخصوصہ مردانہ و زنانہ کی جلد پر بھی شدید خارش اور چٹے پیدا کرتی ہے۔ ٭inea faciei (چہرے کی پھپھوند) ڈاڑھی کے علاقوں سے ہٹ کر پیدا ہونے والے یہ بھی بے حد عام اور مخرش چٹے ہیں۔ ٭inea manus (ہتھیلیوں کی پھپھوند) یہ انگلیوں کے درمیانی حصوں کی پھپھوند کے ساتھ واقع ہوتی ہیں اور ہاتھوں کے اگلے یا پچھلے حصوں پر پھیلتی ہے۔ باورچی خانوں اور بیکری وغیرہ کے ملازمین یا پانی کے کام کرنے والوں میں عام ہے۔ ٭inea pedis (پیروں کی انگلیوں کی پھپھوند) عام طور سے کھلاڑیوں، دھوبی، کنسٹرکشن ورکرس وغیرہ کو متاثر کرتی ہے۔داد کی تمام اقسام میں اس کا علاج سب سے مشکل ہوتا ہے اور عام طور سے مریض کو دوبارہ بھی گھیر سکتا ہے۔ ٭inea unguium (ناخنوں کی پھپھوند) اسے Onychomycosis بھی کہا جاتا ہے۔ 
علامات:
علامات تمام صورتوں کی یکساں ہیں یعنی شدید خارش (خصوصاً رات کے وقت)، اکثر سوزش، چھلکے یا پرت جھڑنا۔
اسبابِ معاونہ:
ذاتی صاف صفائی کی کمی،پسینہ کا زیادہ اخراج، بعض دوائیں جیسے اینٹی بایوٹک دواؤں کا زیادہ عرصہ تک استعمال اور اسی طرح اسٹیرائیڈ کا بھی طویل مدت تک استعمال، ہاتھوں اور پیروں کا مسلسل نم رہنا، مصنوعی ریشوں (جرسی jersey) سے بنے زیر جامے اور بنیان و موزوں کا استعمال، وغیرہ۔
علاج میں غفلت:
یہ بالکل عام بات ہے کہ علاج شروع کرنے سے چند دنوں میں ہی علامات جاتی رہتی ہیں۔ اور مریض محسوس کرتا ہے کہ اسے داد سے چھٹکارا مل گیا ہے۔ اس کے بعد وہ علاج میں غفلت برتنا شروع کر دیتا ہے۔ حالانکہ محض دو یا چار دنوں کے علاج سے پھپھوند یا فنگس پوری طرح سے ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اسے تقریباً تین یا چار ہفتے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر مریض ڈاکٹروں سے آکر یہ شکایت کرتے ہیں کہ مجھے علاج سے راحت مل جاتی ہے لیکن تمام تکالیف بار بار پلٹتی رہتی ہیں۔ اس لیے یہ یاد رکھنا چاہیے کہ محض دو یا تین دنوں کے علاج سے آپ اس مرض سے چھٹکارا نہیں پاسکتے بلکہ کم از کم تین تا چار ہفتے مسلسل علاج کرتے رہنا ضروری ہے۔
علاج:
مختلف طریقہائے علاج میں مختلف انداز اختیار کیے جاتے ہیں۔طبِ یونانی میں خلطِ صفراء و بلغم کے مسہلات اور مصفیاتِ خون ادویہ کے علاوہ مقامی طور پر گندھک کے مراہم، کافور اور روغنِ گلاب میں تیار کردہ لوشن مسکنات کی حیثیت سے استعمال کرتے ہیں۔ مگر سب سے زیادہ راحت طبِ جدید کی دواؤں سے ہی حاصل ہوتی ہے کیونکہ یہ پھپھوند اور اس کے بذروں (Spores)کو ختم کردینے والی ہوتی ہیں۔ ان ادویہ میں مقامی طور پر لگانے کے لیے کریم، لوشن، مراہم اور پاؤڈر دستیاب ہیں۔بار بار ہونے والے پھپھوندی مرض کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ جلد کی بیرونی سطح سے کچھ اندر بھی سرایت کر جاتی ہے خصوصاً سر اور ناخن کے؛ اس لیے اندرونی طور پر کھلانے والی چند گولیاں اور کیپسول بھی اب بازار میں دستیاب ہیں۔ مقامی طور پر لگانے کے لیے Terbinafine, Clotrimazole, Miconazole, Ketoconazoleجیسی کارگر دوائیں ملتی ہیں۔ اندرونی استعمال کے لیے Terbinafine, Griseofulvin, Fluconazole, Itraconazole دستیاب ہیں۔
احتیاط:
درجِ بالا تمام ادویہ کا استعمال اپنے معالج کی نگرانی میں ہی اور اس کی ہدایت کے مطابق کرنا چاہیے۔ ابتدائے مرض میں ہی علاج شروع کردیا جائے تو مرض شدت بھی اختیار نہیں کرتا اور مکمل چھٹکارے کے امکانات بہت روشن ہوتے ہیں۔ بدن پر گیلے کپڑے (خصوصاً برسات میں) ہوں تو انھیں جلد سے جلد تبدیل کر لیا جائے۔ پانی کے کام کے بعد ہاتھوں اور پیروں کے علاوہ ناخنوں پر موجود پانی کو فی الفور سکھا لینا چاہیے

Sunday, March 6, 2011

زعفرانی اور سبز کے سنگم کی ایک اور مثال
مگر ہمارا (کلر بلائنڈ)  میڈیا اچانک خاموش کیوں ہو گیا؟
ڈاکٹر ریحان انصاری
ممکن ہے کہ یہ خبر آپ نے پڑھی بھی ہو اور نہ بھی پڑھی ہو. ایک مہینہ قبل  جمعرات ٣ فروری کے اخبارات میں یہ شامل تھی. پونہ کی پولیس نے ایک ٢٤ سالہ نوجوان کو ایسے وقت گرفتار کر لیا جب وہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی ISI کے لیے جاسوسی کر رہا تھا. اور ہندوستانی فوج کی جنوبی کمان سے متعلق کچھ اہم معلومات اپنے پاکستانی آقاؤں کو فراہم کرنے کے درپے تھا.اس نوجوان کا نام ہے وشمبر تاراچند اگروال اور اسکا آبائی وطن ہے ہریانہ. پونہ کی ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کا ملازم ہے. اسے جنوبی کمان کی بارے میں اور اس کے اعلی افسران کی بابت اہم معلومات ایک فوجی جوان برجیش سنگھ کے ذریعہ حاصل ہوئی تھی. وشمبر کو پونہ ریلوے اسٹیشن سے قریب النکار سنیما کے پاس پکڑا گیا تھا جب وہ ایک اجنبی شخص کو دستیاب معلومات سونپنے جا رہا تھا. برجیش سنگھ سے بھی فوجی افسران تفتیش کر رہے ہیں.
اگروال کے پاس سے برآمدکردہ اشیا میں فوج کی جنوبی کمان کے اہم افسران کے فون نمبر اور دیگر نجی معلومات کے علاوہ ہاتھ سے اسکیچ کیا ہوا پونہ میں قایم فوجی ہیڈ کوارٹر کا نقشہ موجود تھا. اور ایک سی ڈی بھی جس میں بیحد اہم معلومات محفوظ تھی. پولیس اور فوج دونوں نے مشترکہ تفتیش شروع کی تھی.
اس خبر کو پڑھ کر قدرے مسرّت بھی ہوئی تھی اور روایت کے برخلاف ہونے پر کچھ حیرت بھی. اس کا خوشگوار پہلو یہ ہے کہ پاکستانی جاسوسی ادارے کے اصلی خادموں کے چہرے سے اب رفتہ رفتہ نقاب اٹھنے لگی ہے. اور قانون کے رکھوالے بھی اب صحیح سمتوں میں پیش قدمی کر رہے ہیں. ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں کہ زعفرانی دہشت پسندوں یا دہشت گردوں کے تعلّق سے یہ بات خبروں کا حصّہ بنی تھی کہ وہ آئ ایس آئ کے لئے بھی خدمات انجام دیتے ہیں تو اسکی تردید کی گئی تھی. بالکل اسی طرح جیسے زعفرانی دہشت گردی کے تعلّق سے ابتدائی خبریں آنے لگی تھیں تو پورا بھگوا کیمپ اور نام نہاد ہندوتووادی شرانگیزوں نے کچھ ایسی باتیں کی تھیں کہ گنگاجل سے اشنان کی ہوئی سادھوی اور کرنل ہی کیا کسی عام ہندو کے DNA (سرشت) میں بھی دہشت گردی نہیں ہوتی! یہ دعوا بھی وہ افراد کرتے رہے ہیں جن کا پورا دورسیاست ہی اسی دہشت پسندی کے گھناونے روپ کا مظہر ہے.
بہرحال، اس گرفتارشدہ شخص کے پاس سے کوئی بھی مسلم شناخت (بہروپ) بھی دستیاب نہیں ہوئی. یعنی نہ داڑھی نہ ٹوپی، نہ ہی اردو میں لکھا کوئی خط یا پرچہ!... دوسری اہم بات یہ کہ خبر کے مطابق اسے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا. یعنی نقشہ اور سی ڈی یا ڈی وی ڈی موقعہ واردات سے ہی برآمد کی گئی ہے (نہ کو اس کے گھر و دکان یا آفس وغیرہ سے جیسا کہ گزشتہ روایات رہی ہیں).  ہم یقیناً اس مستحسن اقدام کی ستائش کرتے ہیں بلکہ وطن دوست اقدام پر پولیس کو تہنیت بھی پیش کرتے ہیں.
کچھ برسوں سے تو ہمارا یہ حال تھا کہ اپنے معروضات بھی پِش کرنے کے لئے ہمیں حیلے تلاش کرنے پڑتے تھے مگر اب جبکہ دھند چھٹ رہی ہے تو صاف نظر آنے لگا ہے کہ: 
کئی ذہن رسا پردے کے پیچھے کام کرتے ہیں
وہی قاتل نہیں جو لے کے خنجر سامنے آئے
یہاں سب سے زیادہ حیرت اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ ہمارا نام نہاد قوم پرست میڈیا پونہ کی ہی جرمن بیکری دھماکہ کیس میں غیر ثابت شدہ رہنے کے باوجود رہ رہ کر کسی انڈین مجاھدین نام کی تنظیم (جس کی بارے میں میڈیا یا اس کے حواری ہی بہتر بتا سکتے ہیں کہ یہ کہاں کی تنظیم ہے؟) کے نام کا راگ الاپنے لگتے ہیں؛ اس نام نہاد تنظیم کے کاندھے پر اسلحہ رکھ کر کیسے کیسے نشانے لگے جاتے ہیں، وہی میڈیا اگروال اور سنگھ کے ساتھ نہ صرف نرم ہے بلکہ مجرمانہ طور سے خاموشی اختیار کر چکا ہے. کیا اس کا کچھ بھی مطلب نہیں لینے کی ضرورت ہے؟