To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Saturday, May 28, 2011

Islam and Peace / Shanti
کچھ باتیں کبھی کبھی بیحد پریشانی کا باعث ہوتی ہیں۔ گذشتہ دنوں چند احباب سے مجلس میں گفتگو کے دوران یہ نکتہ پیش کیا گیا کہ تقریباً سبھی نظریاتی ادیان اور مذاہب شانتی، امن اور Peace کی باتیں کرتے ہیں۔اور یقینا انھوں نے اسلام کی تعلیمات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے نظریات و اصول ساخت کیے ہیں۔ میرے ذہن میں ایک رَو سی بہہ گئی۔ اپنی تعلیم و تربیت کے زیرِ اثر محسوس کیا کہ نکتہ سمجھنے میں کہیں کوئی غلطی ہو رہی ہے۔ میں نے دخل انداز ہوتے ہوئے کہا کہ ’’اُن کے نظریۂ امن اور اسلام کے نظریۂ امن میں فرق ہے۔ ان تمام کی تعلیمات کی رُو سے ’آدمی اندر سے مطمئن اور شانت‘ ہو جائے تو اس میں سے برائیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ اور اسی طرح دنیا سے برائیاں ختم ہو سکتی ہیں... بھلا یہ اصول عالمگیر طور پر قابلِ اطلاق یا قابلِ قبول ہے بھی؟...ہرگز نہیں... بالکل نہیں... کبھی بھی نہیں!۔ اسلام کا نظریۂ امن انصاف پسندی پر مبنی ہے، ’سماجی اور معاشرتی انصاف پسندی پر‘... آدمی کی نجی اطمینان پسندی پر نہیں... ظالم کو روکنے اور مظلوم کو اس کا حق دلانے پر۔ اور چونکہ ازل سے ابد تک یہ سلسلے انسانی سماج کا لازمی حصہ ہیں اس لیے یہ اصول عالمگیر ہیں اور سدا رہیں گے۔ اسی سبب اسلامی امن پسندی سے دنیا کاٹکراؤ بھی ہمیشہ ہوتا آیا ہے اور آئندہ بھی رکنے والا نہیں ہے۔ کیونکہ صرف اور صرف اسلام کو قبول کرنے میں ہی اس دنیا کی نجات ہے... امن ہے۔بس یہیں فرق ہے نکتہ دانی کا۔ پھر یہ خود اسلام کے نام لیوا اگر نہ سمجھیں تب وہاں بھی امن باقی نہیں رہ جاتا۔
دنیا میں جن مسلمانوں نے ظلم و ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کی یا وہ غیر مسلم مصلحین نے بھی جنھوں نے ایسا ہی کام کیا، انھیں دنیا کے اکثریتی سماج نے ہمیشہ ناپسند کیا، سزائیں دی، اور ہمیشہ فتنہ انگیز ٹھہرایا ہے۔

داعیانِ   امنِ   عالم  کو   مبارکباد  دو
زیست رفتہ رفتہ مرگِ ناگہاں تک آگئی
اصل میں جس پریشانی و بے چینی کا ذکر میں نے ابتدا میں کیا ہے وہ یہی ہے کہ بہت مرتبہ کی گفتگو میں لوگ یہ کہا کرتے ہیں کہ اسلام امن کی دعوت دیتا ہے مگر مسلمانوں سے زیادہ مشتعل ہونے والی دنیا میں کوئی اور انسانی آبادی نہیں ہے۔ان محترم حضرات کو کبھی یہ محسوس و مشاہدہ کرنا چاہیے اور تاعمق کرنا چاہیے کہ آخر ایسا ہوتا کیوں ہے؟
Propagate Peace - A drawing by Razi Rehan Ansari
میرے خیال میں اوپری سطروں میں میں نے جو کچھ تحریر کیا ہے وہ ان کی تحقیق کا اوّلین سرا ثابت ہوگا۔ اور جب وہ وسعتِ اسباب میں سفر کریں گے تو ان پر کئی گرہیں کھلنی شروع ہو جائیں گی۔ ہر اس انسانی سماج میں جہاں خوشنما ناموں اور نظاموں کے ساتھ ظلم و حق سلبی کا رواج ہے وہاں اسلامی جذبۂ اخوت و جذبۂ انسانی کو پنپتے ہوئے پائیں گے اور ہر استبداد سے لوہا لیتے دیکھیں گے۔ خواہ اس کی سطح پھر محض کسی کے پیڑ یا درخت سے ایک ٹہنی بھی ناجائز طور سے توڑ لینے کی بات تک آئے۔ مگر یہ جنگ برائے امن و آشتی ہوتی ہے، برائے تخریب و تاراجی نہیں۔ اکبر الٰہ آبادی نے اس حقیقت کا بیان  کچھ یوں کیا ہے کہ:
یہی  فرماتے  رہے تیغ  سے پھیلا  اسلام
یہ نہ بتلایا کہ پھر توپ سے پھیلا کیا ہے؟
ظلم یا حق سلبی کئی انداز اور ہر درجہ پر کی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ الٰہ العالمین تک پرانسان ظلم کرنے سے نہیں چوکتا۔ اسی لیے تو ارشادِ ربّانی ہے کہ ’’اِنّ الشّرک لظلم عظیم‘‘۔ کیونکہ معبودیت صرف اﷲ کو زیبا ہے۔ اسی کا حق ہے۔ اور انسان جب کسی اور کی عبادت کرتا ہے، دوسرے کو معبود مانتا ہے تو وہ ظلمِ عظیم کرتا ہے۔اسی سبب کوئی مومن جب کسی کو شرک میں مبتلا پاتا ہے تو دل کو مسوس کر رہ جاتا ہے۔ جس کسی کا بس چلتا ہے تو وہ انسانوں کو شرک کرنے سے روکتا ہے مگر اس کا متحمل ہر مومن نہیں ہوسکتا۔ اور جو متحمل ہیں خواہ تنہا یا مقتدرانہ؛ تو وہ دنیا میں دقیانوسی قرار دیئے جانے کے علاوہ اور نہ جانے کن کن الزامات کو برداشت کرتے ہیں۔ دعوۃ الی اﷲ تو ہر مومن کا فرض ہے۔اور اسے کما حقہ ادا کرنا چاہیے۔ مگر اس کے لیے پیغمبروں (علیہم السلام) کی حیاتِ مبارکہ سے روشنی لینا ضروری ہے۔ اپنے من مانے طریق سے اجتناب و گریز کرنا چاہیے۔ اُن پاک ذاتوں (علیہم السلام) نے جس طرح اپنی قوم میں مخالفین کا سامنا کیا اور اہلِ ایمان کا حوصلہ و اعتماد بڑھایا اس پر غور و تدبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ دنیا میں یہ ہر زمانے کی داستان ہے اور تاقیامت جاری رہنے والا عمل ہے۔ہمیں بھی اﷲ نے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلّم  کے بعد اسی مقصد کو زندگی میں اپنانے کے لیے اجاگر کیا ہے۔ بقول شبیر احمد راہی:
تجھی سے منشائے رب کی تکمیل ہوگی اس دورِ گمرہی میں
کوئی پیمبر نہ آئے گا اب، تو کس کے پھر انتظار میں ہے
اس لیے امن و شانتی جیسے انسان ساختہ نعروں اور نظریات سے بچتے ہوئے ہمیں بھی اصولی امن و شانتی کو اپنانے کی ضرورت ہے اور ہر تشدد سے بچنے کی بھی.

Wednesday, May 25, 2011

For what crime (sin) she was killed (slain);
(Surah 81. At-Takwir: Ayah 9)
خبر کوئی نئی نہیں تھی پھر بھی آج کے اخبارات نے چونکا کر رکھ دیا۔ فکر کے سبب۔ بیک وقت کسی اخبار کی شاہ سرخی، کسی کی ذیلی سرخی، کسی کا اداریہ اور کسی کی اینکر اسٹوری بنی تھی یہ خبر کہ؛ ہندوستان میں تعلیم یافتہ طبقہ کی اکثریت جنین (foetus) کی جنس (صنف) کا پتہ چلانے کے بعد لڑکی کی اطلاع ملنے پر اس کا اسقاط کروا دیتی ہے۔ الحفیظ و الامان!۔ یہ پڑھا لکھا ہونا ہے کہ صریح جہالت ہے؟... پھر یہ انسان کتنا چالاک ہے کہ زبانوں کے چند رائج الفاظ کا سہارا لے کر اسے کوئی اسقاط، کوئی گربھ پات اور کوئی ایبارشن (abortion) کہتا ہے۔ اصلاً تو یہ قتل ہی نہیں قتلِ عمد (Deliberate murder) ہے۔پورے ارادہ اور منصوبہ بند طریقہ سے کیا جانے والا قتل۔
حیرت انگیز طور سے ہمارے معاشرہ میں بڑے پیمانے پر عام نظر آنے والا یہ جرم جب بین الاقوامی طبی جریدے لانسیٹ Lancet میں شائع کیا گیا تو یہ خبر بنا!۔ بہرحال اس خبر کا اہم حصہ درجِ بالا تذکرہ ہے ۔ اس جریدہ نے یہ جائزہ لیا کہ سماج کے کون سے طبقات اس جرم میں ملوث ہیں تو پایا کہ امیر و کبیر خاندانوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اس کے قصوروار زیادہ ہیں۔ ہم نے مذکورہ جریدہ کے مضمون کو نہیں دیکھا ہے کہ اس کے محرک اسباب کا بھی اس میں کوئی ذکر ہے یا نہیں لیکن اخباروں میں شائع شدہ سطروں میں اس کا ذکر نہیں ملا البتہ اعدادوشمار کی آڑ میں یہ بات پیش کی گئی کہ اس عمل سے لڑکوں اور لڑکیوں کے تناسب میں بڑی تیزی سے فرق ظاہر ہو رہا ہے جو مستقبل میں ایک تشویشناک صورتحال بن کر ابھرے گی۔ اس بات پر ہمیں اردو کا وہ مشہور مصرعہ یاد آگیا کہ:

’کسی کی جان گئی آپ کی ادا ٹھہری‘
اسقاط (قتلِ عمد پڑھیے) کے نتیجہ میں جان کھونے والی بچی کے تعلق سے ہمدردی پورے جائزے میں جھلکتی بھی نہیں!۔ صنفی امتیاز برتنے پر ایسے انسانی سماج کی مذمت بھی محسوس نہیں ہوتی!... ایک مشینی انداز کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے۔ نہ حکومت کو للکارا جاتا ہے اور نہ انسانی حقوق کی ایجنسیوں کو تحریک دلائی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ نام نہاد حقوقِ نسواں کی تنظیموں کو بھی اس معاملہ میں بے عمل ہی دیکھا گیا ہے۔
بحیثیت ایک معالج ہمارا مشاہدہ رہا ہے کہ جب تک اسپتالوں میں اسقاط کا عمل انجام دیا جاتا رہا تھا تو اس کا تناسب اتنا زیادہ نہیں ہوا تھا۔ مگر جب سے ’’حکومت سے منظورشدہ گربھ پات سینٹر‘‘ کھلتے چلے گئے اور ان کے متوجہ کرنے والے عوامی جگہوں پر لگائے جانے والے اشتہارات کی بھرمار ہوئی کہ ’’پورا معاملہ انتہائی رازداری کے ساتھ‘‘ انجام دیا جائے گا تبھی سے ’’اسقاط کی یہ وبا‘‘ بھی پھیلی ہے۔ ہمارے ملک میں بسنے والی مختلف مذہبی قوموں کے تیوہار بھی بڑے عجیب عجیب انداز میں منائے جاتے ہیں۔ کیا یہ تیوہار بھی اس جرم میں امداد کرتے ہیں؟ جی ہاں۔ چند برسوں قبل ممبئی کے اخباروں میں یہ خبریں برابر جگہ پاتی رہیں کہ نوراتری اور گنیش چترتھی تیوہاروں کی رنگارنگی کے بعد یہاں کے گائینکولوجسٹ کثیر تعداد میں اس خدمت (اسقاط) کے لیے (گھروں کی عزت بچانے کے لیے) مطلوب ہوتے تھے۔ بعض ڈاکٹروں کے انٹرویوز بھی اس ضمن میں شائع ہوئے جو اس حادثے کی توثیق کرتے تھے۔ پھر یہ ہوا کہ ٹی وی گھر گھر عام ہوا۔ اس پر روزانہ چلنے والے خانہ سوز اور اخلاق سوز سیریلوں کے درمیان دکھائے جانیوالے اشتہارات میں صرف بہتر گھنٹوں (72 hours) کے اندر آپ فلاں گولی کا استعمال کریں تو آپ کسی بھی ہزیمت سے محفوظ رہیں گے، کا چرچا ہونے لگا۔ عاقل و بالغ (وہی پڑھے لکھے جن کا تذکرہ اوپر ہوا) کے علاوہ ہندوستان کے گاؤں گاؤں بھی اس بات (دوا) سے واقف ہوگئے۔ مختلف کمپنیوں کی گولیاں دھڑلے سے میڈیکل اسٹور کے کاؤنٹر پر دستیاب ہونے لگیں اور کسی بھی طبی مشورے کے بغیر اسے استعمال کرنے کا چلن ایسے عام ہوگیا جیسے لوگ سردرد کے لیے کروسین (crocin) کی ٹکیاں کھا لیا کرتے ہیں۔
کیا حکومت کو یہ سب معلوم نہیں ہے؟یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ بھئی یہ سب اسی کی ایما پر اور منظوری سے تو ہو رہا ہے۔ اسی کی اعانت سے اسے فروغ اور رواج مل رہا ہے۔ پھر یہی حکومت ایسے قانون بھی نافذ کرتی ہے کہ تشخیصی سینٹروں پر جنین کی جنس (صنف) معلوم کرنے کے ٹیسٹ کو غیرقانونی قرارد یتی ہے۔ یقینا یہ نفاذ لازم ہے۔ مگر ہمارے ملک میں رائج دیگر تمام قوانین کی مانند اس کا حشر بھی ہم سب جانتے ہیں کہ اس پر کتنی دیانتداری سے عمل کیا جارہا ہے۔ ہاں البتہ اس میں بھی اتنی ہی رازداری برتی جاتی ہے جتنی رازداری ’’گربھ پات‘‘ کرنے میں۔

جہاں تک اسقاط یا نومولود بچی کی جان لینے کا جرم ہے اس کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ پوری دنیا کے انسانی سماج میں صدیوں سے ہی اس کا رواج دیکھا جاتا رہا ہے۔ حتیٰ کہ حضورِ اکرمؐ کی قوم بھی اس میں دعوتِ اسلام سے قبل اس طرح ملوث تھی کہ کسی کے گھر میں بچی کی پیدائش کو باعثِ ذلت و شرم سمجھا جاتا تھا اور اس زمانے میں (جب اسقاط کا امکان نہیں تھا تو) اسے پیدا ہوتے ہی زندہ زمین میں گاڑ کر ہلاک کردیا جاتا تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے اسی واقعے پر پوری انسانیت کو (سورۃ التکویر میں) تنبیہ کی کہ (بروزِ حشر) جب نومولود بچی سے پوچھیں گے (جسے زندہ گاڑ دیا گیا تھا کہ) تجھے  کس جرم میں قتل کردیا گیا تھا؟... یہ ایسا سوال ہے جو آج اسی جرم کی نئی شکل یعنی دخترکشی کی شکل میں سامنے ہے۔ ہم کوئی مفسر نہیں ہیں۔ یہاں ہمیں ایک بات تو سامنے دکھائی دیتی ہے کہ بچی خواہ ولادت سے قبل یا بعد میں اس کے ماں باپ (دادا دادی / نانا نانی) کے ہاتھوں (یاذریعہ) ہی قتل کی جاتی ہے۔ کیسا سنگین اور شقی القلب واقعہ ہے! کتنا غیر انسانی بلکہ وحشیانہ عمل ہے! اور اس عمل میں ساتھ دینے والے ڈاکٹر، وید یا معالج حضرات بھی یکساں قصوروار ہیں۔
ہمارے ملک میں چند ایسی وجوہات ہیں جن کے پیشِ نظر ہم لوگوں کو بچیوں کے قتل میں ملوث دیکھتے ہیں۔ ان میں بڑی اہم وجہ شادی بیاہ میں جہیز دینے کا چلن ہے۔ بہت سے گھرانے اس وجہ سے بھی بچیوں کی جان کے دشمن ہو جاتے ہیں کہ وہ سوچتے ہیں کہ یہ بچی یا بچیاں ان کی زندگی بھر کی کمائی کو جہیز کی صورت میں ضائع کر سکتی ہیں۔ اس لیے وقت سے پہلے ان سے چھٹکارا پا لیا جائے۔ اس کے علاوہ بہت سی اور وجوہات ہیں جن کا ذکر اکثر مختلف ذرائع سے ہمارے سامنے آتا رہتا ہے جن میں خاندان اور گھرانے یا برادری کی عزت کی حفاظت کی خاطر بچیوں کو اپنی جانوں سے جانا پڑتا ہے۔ ان سب کو دیکھ اور پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا یہ ترقی یافتہ یا ترقی پذیر زمانہ جاہلیت کے دور سے قطعی مختلف نہیں ہے۔
اسی کی مانند (اور اس سے جوڑ کر بھی دیکھ سکتے ہیں) ایک اور بات پر اﷲ تعالیٰ نے انسانوں کو تنبیہ کی ہے کہ ’’غریبی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو؛ کیونکہ انھیں رزق ہم دینے والے ہیں‘‘۔ یہ بات اس لیے ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آج کل تعلیم یافتہ خواتین و مرد حضرات مختلف قسم کے آفس ورک میں مصروف رہنے لگے ہیں۔ انھیں آفس میں وقت دینے کے لیے اولاد کی کثرت سے بچتے دیکھا جاتا ہے اور انھیں بھی اس کے لیے اسقاط جیسے جرم کا ارتکاب کرتے دیکھا گیا ہے۔ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی محدود تنخواہ میں زیادہ اولاد کا ہوجانا باعثِ پریشانی ہوجائے گا۔ جبکہ بیشتر مثالیں آس پاس ہی ملتی ہیں کہ ایسے پریشان حال گھرانے بچوں کے ہوش سنبھالتے ہی ایسے پھلتے پھولتے ہیں جس کا تصور ان بچوں کے بچپن کے ایام میں ناگزیر سا تھا.

آخر میں ایک بات اور کہ ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل کہا گیا ہے تو ایک لڑکی کا قتل اس انسان کی ماں کا قتل ہے.

Tuesday, May 24, 2011

Wa-Hua Rabbul-Arsh-il-Azeem
(At-Taubah: 129)
... and He is Lord of the Tremendous Throne.