To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Friday, March 4, 2011

عمل کی مذمّت مگر جذبے کی؟
ڈاکٹر ریحان انصاری 
پاکستان کے اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی کے پاکستانی طالبان کے ہاتھوں قتل کیے جانے کا جو رد عمل متوقع تھا ویسا ہی سامنے آیا. بین الاقوامی سطح پر مذمّت کی گئی. صحیح کیا گیا. اس سے قبل گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے بعد بھی ایسا ہی ہوا تھا. ان واقعات سے پہلے بھی جب اس قسم کا کوئی سانحہ ہوتا رہا ہے تب بھی یہی ہوتا آیا ہے کہ عالمی سطح پر اسکی مذمّت ہی کی جاتی ہے. صحیح کیا جاتا ہے. قتل انسانی کہیں بھی کیا جاےگا تو اسکی مذمّت کی جانی چاہیے. لیکن ایک نکتہ اس تناظر میں یہ پیدا ہوتا ہے کہ قاتلوں کو یہ "مذمتی عمل" کرنے کے لئے جس جذبے  نے اکسایا یا آمادہ کیا اس کا کیا کیا جائے؟
خبروں کے مطابق دونوں قتل قانون توہین رسالت کو ہلکانے کے مطالبے کو لیکر اٹھنے والوں کا ہوا ہے. اگر ہم یہاں اب یہ لکھیں کہ صحیح کیا گیا تو شاید سارے ہی لوگ ہم پر برہم ہو جائیں گے.  ہم سے خفا ہو جائیں گے!
بس یہیں پر دنیا کی سوچ سے ہمیں اختلاف ہوتا ہے. ہم قتل کے عمل کی اس زاویے سے مذمّت کرتے ہیں کہ ایسا بے صبراپن آپ کو ہی کوئی فائدہ دیتا ہے نہ اس سے دنیا  ہی کچھ آپ کے یا ہمارے  جذبہ حب نبی صلی الله علیھ و سلّم کو سمجھ پاتی ہے. 
ہمیں دنیا کے سامنے یہ کہتے ہوئے کوئی باک نہیں ہے کہ صرف مسلمان ہی نہیں کسی دوسرے مذہب والے کی بھی مقدس ہستی کے ناموس کی اگر دنیا میں کہیں بھی بے حرمتی کی جاتی ہے تو انجام بے حرمتی کرنے والوں کا ہمیشہ ایسا ہی یا اس سے کچھ ملتا جلتا ہی ہوتا ہے. اس کی مثالیں بہت زیادہ تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے. ہر جگہ آپ کو نظر آجا ئیں گی .پھر آپ صلی الله علیھ و سلّم کی ذات اقدس پر تو ہر مسلمان جان و دل سے نثار رہتا ہے. جہاں تک ناموس رسالت کو مجروح کرنے والے کی سزا کا تعلّق ہے تو یہ کوئی نیا مسئلہ ہے نہ اس جانب کوئی اور طرح کے احکام جاری ہو سکتے ہیں. یہ ایک کھلی ہوئی کتاب کی مانند بالکل صاف ہے. شاید اسی لئے دنیا میں اور خصو صا  پاکستان میں ایسے واقعات پیش آ ہی جاتے ہیں.
یہاں ہم یہ ضرور کہنا چاہیں گے کہ جب دنیا یہ بات اچّھی طرح جانتی ہے کہ  مسلمان ناموس رسالت کے لئے جان لیتا بھی ہے اور دیتا بھی ہے  تو اس معاملے کو دنیا چھیڑتی ہی کیوں ہے؟ کیا اس معاملے کے بغیر دنیا کی ترقی رک جاتی ہے؟ کیا ایسا قتل کرنے والے دنیا کی ترقی کا روڑا بنے رہتے ہیں؟ ہمارے خیال میں بجلی کے جس تار پر کوئی انسولیشن یعنی حفاظتی تہہ نہیں اور کبھی نہیں چڑھائی جاسکتی اس کو چھونے سے بھی گریز کرنے میں سب کی بھلائی ہوتی ہے. ناموس رسالت صلی الله علیہ و سلّم پر مر مٹنے کا جزبہ بھی ایسا ہی بجلی کا تار ہے جس میں رو ہمیشہ دوڑتی رہتی ہے لیکن اس پر کوئی انسولیشن نہیں چڑھاتا. یہ ہمیشہ ظاہر رہنے والا جزبہ ہے. دنیا کو چاہیے کہ اس جذبے کا بھی احترام کرے. یہ بھی انسانی وصف ہے. یہ جذبہ نہ تودنیا کی ترقی کا روڑا بنتا ہے نہ کسی دوسرے کو تکلیف پہنچانے کے لئے جاگتا ہے. ایک اصول تو سبھی جانتے ہیں کہ احتیاط علاج سے بہتر ہوتا ہے. دنیا کیوں بار بار اس جانب احتیاط نہیں برتتی  ہماری سمجھ سے باہر ہے.

Wednesday, March 2, 2011

دکن اردو زبان کا اولین گہوارہ ہے. قلعہ گولکنڈہ میں مسجد ابراہیم کے قریب اردو   خطاطی کا ایک نادر نمونہ قابل دید ہے.اس شہکار کو اس طرح سےتیار کیا گیا ہے کہ پتھر کو چھانٹ کر نکال دیا گیا ہے اور سبھی حروف و الفاظ ابھرے ہوئے ہیں. خط نستعلیق کا ایک نہایت ہی قابل قدر نمونہ ہونے کے باوجود یہ بڑی کسمپرسی کے عالم میں رکھا ہوا ہے. اردو والوں کی بےحسی پر یہ ماتم کناں ہے. اسے تو کسی میوزیم کا حصّہ ہونا چاہیے اب. تاکہ باقیات اردو کے خزانے میں اضافہ ہو سکے.

سابرمتی ایکسپریس گودھرہ کیس میں فیصلہ حیرت انگیز طور سے ناقابل قبول ہوا ہے. آخر عدلیہ نے فورینسک لیبارٹری کے ان شواہد کو نظر انداز کیسے کر دیا جن میں یہ کہا گیا تھا کہ ٹرین  کی بوگی میں آگ اندر سے ہی لگائی گئی تھی! ہمیں پوری امید ہے کہ عدالت عالیہ ثبوتوں کی روشنی میں آیندہ کا فیصلہ کریگی اور مظلومین کو انصاف مل جائے گا. انشااللہ