To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Saturday, October 8, 2011

Hemiplegia : Cerebral Stroke

Dr. Rehan Ansari
لقوہ یا فالج جتنی عام حالت ہے ہمارے سماج میں اس کے سلسلے میں اسی قدر تجاہل بھی پایا جاتا ہے۔ کوئی کہتا ہے ’ہوا میں آگیا‘ کوئی کہتا ہے سردی لگ گئی‘ کسی کا گمان ہے مریض کے اوپر سے سانپ گذر گیا، اردھنگ ہو گیا ہے، اور نہ جانے کیا کیا!... پھر اس کا علاج مالش اور کبھی کبھار جنگلی کبوتر کے خون سے مالش وغیرہ سے کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے... لیکن ہمارا تجربہ ایسا ہے کہ بہت کم لوگ ڈاکٹروں یا اطباء کی اس بات کو فی الفور تسلیم کرتے ہیں کہ یہ چند کہنہ تکالیف کو مسلسل اور طویل عرصہ تک نظرانداز کر تے رہنے کا انجام ہے۔ ان تکلیفوں میں سب سے عام ہے ’’ہائی بلڈ پریشر‘‘ High Blood Pressure۔ فالج یا لقوہ اصل میں پہلے سے موجود چند امراض کی پیچیدگی کی شکل ہے۔ اس میں جسم کا دایاں یا بایاں کوئی بھی نصف حصہ بے قوت ہو جاتا ہے اور اسی لیے متاثرہ جانب کے پٹھے (عضلات) اپنا فعل انجام نہیں دے سکتے۔ ان میں قوت باقی نہیں رہ جاتی۔ لفظ لقوہ شاید عربی کے ’لاقوّۃ‘ کی اردو میں مستعمل شکل ہے۔ مالش وغیرہ کا معاملہ اصل میں قدیم طبی تدابیر میں نظر آتا ہے۔ چونکہ قدیم دور میں تحقیقی وسایل نہیں تھے اس لیے دماغ کے متعلق زیادہ تفصیلی معلومات نہیں تھیں۔ اُس وقت یہ قیاس کیا جاتا تھا کہ یہ مقامی طور پر بدن کے عضلات کا ڈھیلا پن ہے، ان کے خون کی سپلائی متاثر ہوئی ہے اس لیے دَلک (مالش) کے ذریعہ رگوں کو کھولا جائے۔ اسٹروک کے عارضہ کو بھی اُن کتابوں میں استرخائے عضلات (پٹھوں کا ڈھیلا ہو جانا) لکھا گیا ہے۔ جدید تحقیقات، جن میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی کا بڑا رول ہے، نے اسٹروک کی اصل کیفیت کو اظہر من الشمس کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں اب قیاسات کے لیے جگہ نہیں رہ گئی ہے۔ لقوہ کے تعلق سے یہ بات صاف ہو چکی ہے کہ اس میں ہاتھ پیروں کے عضلات میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے نہ نیچے کے اعصاب ہی متاثر ہوتے ہیں. بلکہ سارا معاملہ دماغ کے اندر پیش آتا ہے.


Cerebro-Vascular-Accident : Stroke
تعارف Introduction
طبی زبان میں لقوہ کو اسٹروک یا سیریبرو ویسکولر ایکسیڈنٹ (CVA) اور ہیمی پلیجیا Hemiplegia بھی کہتے ہیں۔ جدید دور میں ایک نئی اصطلاح بھی استعمال ہوتی ہے یعنی ’’برین اٹیک‘‘ Brain Attack [جیسے ہارٹ اٹیک؛ کیونکہ دونوں کی نوعیت ایک ہی ہے]۔ اس کی تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ دماغ کے بڑے حصوں کو خون کی سپلائی کرنے والی شریان (رگ/ Artery) کو مڈل سیریبرل آرٹری (MCA)کہتے ہیں۔ اُس کے اچانک مسدود ہو جانے یا پھٹ جانے کی وجہ سے دماغ کا متعلقہ حصہ خون کی سپلائی سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کا تغذیہ متاثر ہو جاتا ہے۔ اسی سبب وہ حصہ مردہ ہو جاتا ہے اور وہاں موجود تمام مراکزِ افعالِ بدن بھی تباہ اور ختم ہو جاتے ہیں۔ پھر جسم کے افعال پر سے دماغ کا کنٹرول اٹھ جاتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ ایک جانب جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔ دماغ کی دائیں جانب کی شریان MCA اگر پھٹ جائے یا مسدود ہو جائے تو بائیں جانب کا جسم مفلوج ہوتا ہے اور اگر بائیں جانب کی شریان متاثر ہو تو دائیں جانب کا جسم مفلوج ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ دماغ سے نکلنے والی نسیں اور ریشے دماغ کے نچلے حصے میں ایک دوسرے کو قطع کرتے ہوئے سائیڈ تبدیل کرلیتے ہیں۔ دائیں حصے والے ریشے بائیں جانب جاتے ہیں اور بائیں جانب والے دائیں جانب کو۔ البتہ چہرے پر اسی جانب اثر ہوتا ہے جس جانب کی شریان متاثر ہوتی ہے کیونکہ چہرے پر آنے والے عصبی ریشے قطع سے پہلے ہی نکلتے ہیں۔ اسٹروک ایک طبی ایمرجنسی ہے۔ اگر مریض کی فوری اور بروقت طبی امداد نہ کی جائے تو اس کے ساتھ عصبی تکالیف تا حیات لگی رہ جاتی ہیں۔کبھی کبھار شدید حملہ میں مریض فوت بھی ہو جاتا ہے۔مردوں میں عورتوں کی نسبت فالج تین گنا زیادہ ملتا ہے اور عموماً پچاس برس سے زیادہ کی عمر کے لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔ عام طور پر ستّر اور اسّی سال کی عمر والوں میں زیادہ دیکھا جاتا ہے۔


اسباب Causes
جیسا کہ اوپر تمہیدی سطروں میں لکھا گیا ہے کہ سب سے زیادہ کیس ہائی بلڈپریشر کا علاج نہ کرنے یا ناقص انداز میں کرنے سے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرے کیس میں طویل عمر، ذیابیطس، سگریٹ نوشی، ہائی کولیسٹرول، آدھے سر کا درد (شقیقہ /مائیگرین) Migraine، اور رگوں میں خون کے جم جانے سے بھی ایسا ہوتا ہے۔
علامات Signs and Symptoms
فالج کی علامات بہت تیزی کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں یعنی محض چند سیکنڈوں یا منٹوں میں۔ علامات کا پھیلاؤ اور شدت اس بات پر منحصر ہے کہ شریان کا کتنا اور کون سا حصہ ؛ پھر وہ بھی کس درجہ میں متاثر ہے۔ اسی لیے ہر مریض میں علامات کم یا بیش ہو سکتی ہیں۔
لقوہ اپنی وجوہات کی بنا پر دو قسم کا ہوتا ہے۔ اوّل یہ کہ دماغ کی شریان میں کسی وجہ سے سدّہ (رکاوٹ) Obstruction پیدا ہو جائے جیسے خون کا چھوٹا سا لوتھڑا (Thrombus) جم جائے یا ایسا ہی منجمد خون Clot یا ہوا کا بلبلہ یا چربی کا ٹکڑا یا کینسر کے خلیات وغیرہ خون کے ساتھ گردش میں آ جائیں (Embolus)یا پھر خون میں کسی وجہ سے آکسیجن کی مقدار ِ شمولیت کم ہوتی ہو، تو فالج واقع ہوتا ہے؛ اور دوم یہ کہ دماغ کی شریان کسی سبب پھٹ جائے اور خون اس سے باہر نکل آئے اور راستہ مسدود کردے۔
انہی اسباب کے پیشِ نظر لقوہ کے مریضوں میں وقت اور نشانیاں مختلف ملتی ہیں۔ لیکن عموماً ایک جانب کے عضلاتِ بدن بالکل ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور ان میں قوت نہیں ملتی، مریض کو جھنجھناہٹ کا احساس رہتا ہے ۔ دماغ سے نکلنے والے اعصاب کے افعال بھی متاثر ہوتے ہیں جن کی وجہ سے سونگھنے، سماعت، ذائقہ اور دیکھنے میں مریض کو تکلیف ہونے لگتی ہے، آنکھیں کھولنے اور بات کرنے یا نگلنے کا عمل متاثر ہو جاتا ہے، ایک جانب چہرے کے عضلات لٹک جاتے ہیں، مریض اپنے طور پر روزانہ کے معمولات انجام نہیں دے سکتا اور خود سے کھڑا نہیں ہو سکتا، گردن نہیں گھما سکتا، اسی قسم کی کئی اور اعصابی علامات پائی جاتی ہیں اور اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ مریض بے ہوش و حواس ہو جاتا ہے۔

The Actual Causes of CVA


تفتیشی ٹیسٹ  Investigations
گو کہ اسٹروک کی جانچ کلّی طور پر معالج کے اپنے مشاہدے اور معائنہ پر مبنی ہے لیکن اسباب کی تحقیق و تفتیش کے لیے عکاسی کی مدد لی جاتی ہے اور اس میں سب سے اہم ذرائع سی ٹی اسکین، سی ٹی اینجیوگرافی اور ایم آر آئی ہیں۔ دماغی شریانوں کی جانکاری حاصل کرنے کے لیے ڈاپلرالٹراسونوگرافی بھی کروائی جاتی ہے۔ دل کے امراض کی بھی تحقیق لازمی ہوتی ہے اس لیے مریض کا الیکٹروکارڈیوگرام بھی نکالا جاتا ہے۔
علاج Treatment
جس قدر جلد ممکن ہو اسٹروک کی تشخیص کے ساتھ ہی علاج شروع کرنا مریض کے لیے اچھا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے مریض کی علامات کو کم سے کم کرنے کی تدبیر و امداد کی جاتی ہے۔ ان تدابیر کی بنیادی فکر یہ ہوتی ہے کہ مریض نفسیاتی اور سماجی طور سے خود کو ایڈجسٹ کر سکے۔ اسٹروک کے سبب کی تفتیش ہوتے ہی اس کے ازالے کی تدابیر اختیار کی جائیں۔ جمے ہوئے خون کو پتلا کر کے نکالنے کی دوائیں دی جاتی ہیں۔ اگر خون رگوں سے خارج ہوا ہے تو مشینی جراحتی عمل (نیوروسرجری) Neurosurgery کے ذریعہ اس کو نکالنے کی تدبیر کی جاتی ہے۔
جب مریض کسی قابل ہوجاتا ہے تو اس کے لیے مشقی ورزشیں (فزیوتھیراپی) سکھائی جاتی ہیں جن پر مریض کی تیمارداری پر مامور فرد یا افراد کو زیادہ دھیان دینا پڑتا ہے۔ نگلنے، بولنے، کھڑا رہنے اور چلنے نیز دوسرے امور انجام دینے کی روزانہ مشق کروائی جاتی ہے۔
انجام Prognosis
لقوہ کا مریض جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور سماجی طور سے متاثر ہوتا ہے۔ پورے عرصہ میں چوکنّا رہ کر علاج کے باوجود وہ مکمل طور پر صحتیاب نہیں ہوپاتا۔ اس میں کوئی نہ کوئی معذوری موجود رہ جاتی ہے۔ بہت زیادہ دور تک بھی جو صحتیاب ہوتا ہے تو ۹۰فیصدی تک نارمل ہو پاتا ہے۔ مریض کو ہر ایسے قدم سے بچنا چاہیے جو آئندہ اسے دوبارہ اس حالت تک لا سکتا ہے؛ یعنی رِسک فیکٹر سے بچاؤ۔ اپنے طبی مشیر (ڈاکٹر) کی نگرانی میں اپنے بلڈپریشر کو نارمل رکھنے کی کوشش کرتا رہے، ذیابیطس کا چیک اپ اور کنٹرول رکھے، دل کے امراض کے علاج سے بے پروا نہ ہو، تمباکو نوشی یا تمباکوخوری، شراب نوشی، بسیار خوری وغیرہ سے گریز کرے.

Thursday, October 6, 2011

Hajj Days and Probable Health Problems
Dr. Rehan Ansari
لبیک اللھم لبیک۔ سفرِ حج ایک مسلمان کی زندگی کی آرزوؤں کا عروج ہے۔ تمام عازمین کی خدمت میں ہدیۂ تبریک اور یہ دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ آپ کا یہ سفر مبارک اور آسان فرمائے، تقویٰ کو زادِ راہ بنائے، حجِ مبرور سے سرفراز کرے اور اس کے انواروبرکات سے پوری زندگی کو آراستہ فرمائے (آمین ثم آمین)۔
سفرِ حج کے تعلق سے رہنمائی کثرت سے ملتی ہے اور مختلف النوع ملتی ہے۔ جتنا پڑھیں اور سیکھیں سفر میں اتنا اطمینان حاصل ہوتا ہے۔کسی جگہ یا بات میں اجنبیت کا عنصر کم ہو جاتا ہے۔
دورانِ سفرِ حج ایک عازم کو تین اہم مراحل سے گذرنا پڑتا ہے۔ایک ہوائی سفر، دوسرا قیامِ مکہ اور تیسرا قیام  مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ و سلم ۔ جہاں اس مقدس سفر کے آداب و لوازمات کا جاننا ضروری ہے وہیں پورے سفر میں مناسک و عبادات اور زیارات کی بخوبی ادائیگی کے لیے صحتمندی و تندرستی کو بھی دھیان میں رکھنا لازمی ہے۔اس مختصر سے مضمون میں تفصیلی گفتگو کی گنجائش کم ہے اور ممکن ہے کہ تفصیل سے لکھنے کے لیے ایک کتابچہ کی ضرورت پیش آئے اس لیے محض ضرورتاً اور کچھ اشارتاً ایک رفیقِ سفر کی طرح کچھ  علاج اور کچھ احتیاط بیان کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔
۱] ہوائی سفر پر ایک مکمل اور تفصیلی مضمون اس سے قبل والا ’’اردو دریچہ‘‘ میں شامل ہے اسے ملاحظہ فرمائیں۔
۲] قیامِ مکہ تین حصوں پر مشتمل ہے: ایک وہاں پہنچ کر قیام، دوسرا مناسکِ حج کی ادائیگی کے لیے منیٰ میں قیام، وقوفِ عرفات، مزدلفہ کی شب گذاری، پھر منیٰ کا قیام، اور تیسرا دوبارہ مکہ کا قیام۔
۳] قیامِ مدینہ میں مناسک کی مصروفیات نہیں ہوتیں اس لیے عموماً لوگ مسجدِ نبوی، مسجدِ قبا اور اپنی قیام گاہ تک ہی محدود  رہتے ہیں، نمازوں کی ادائیگی یا زیارات میں مشغول ہوا کرتے ہیں۔
تینوں حصوں میں قیامِ مکہ بے حد مصروف اور بامشقت عبادات والا ہے۔ علاوہ ازیں حج کے مناسک کی ادائیگی کے دوران ایک ہجوم اور اژدہام کا بھی سامنا ہوتا ہے اس لیے صحت کا سب سے زیادہ خیال بھی اسی دوران رکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ہم پہلے یہاں قیامِ مکہ کی بابت تفصیل لکھتے ہیں۔


Valley of Mina and Tents
مکہ میں داخلے کے بعد سب سے پہلے ہمیں اپنی قیام گاہ پر پہنچایا جاتا ہے۔ احرام میں ہونے کے باوجود سفر کی تکان کے سبب ہر کوئی تھوڑا سا آرام کرنا اور حوائج سے فراغت کرکے تازہ دم ہونا پسند کرتا ہے۔ اس کے بعد وقت کے لحاظ سے دوسری باتیں پیش آتی ہیں۔ پھر ہر عازم طوافِ قدوم اور ارکانِ عمرہ کی ادائیگی کے لیے نکل پڑتا ہے تاکہ احرام کی پابندیوں سے راحت حاصل ہو جائے۔اس کے بعد وہ دوبارہ اپنی قیام گاہ پر آکر حسبِ معمول لباس پہن لیتے ہیں۔ اب شروع ہوتا ہے اصل قیامِ مکہ۔ کھانے پینے کے معمولات اور چیزیں اگر عازم اپنے ساتھ ہی لے کر چلے ہیں تو اور بات ہے بصورتِ دیگر جو لوگ ہوٹلوں میں کھانا پسند کرتے ہیں یا جو اجتماعی (ٹور والے) کھانے میں شامل ہیں ان کے لیے معمولات اور ماکولات تبدیل شدہ محسوس ہوں گے۔


Mount Arafat:  Jabal-Ar-Rahmah
مکہ میں پینے کا پانی بوتل والا ہی ملتا ہے یا پھر ہم خود بوتلوں میں زمزم بھر لایا کریں۔ ویسے حکومتِ سعودی عربیہ نے گذشتہ چند برسوں سے اتنا اچھا انتظام کر دیا ہے کہ جس کی تعریف کرنی لازمی ہے۔ حکومت نے ہر حاجی کی قیام گاہ پر یومیہ فی لیٹر فی حاجی زمزم کی فراہمی کا ذمہ خود لیا ہے اور سویرے سویرے ہی گاڑیوں کے ذریعہ حجاج کی قیام گاہ پر سرکاری اہلکار اُسے پہنچا دیتے ہیں۔ یہاں مقصدِ تحریر یہ ہے کہ پینے کے پانی کو بلاخطراستعمال کیا جا سکتا ہے اور اس سے کسی مرض کے لگنے کے امکانات کم ہی ہیں۔


Muzdalifah: Mashar-e-Haraam
کھانے پینے کے برتن بھی عموماً اب’’ استعمال کیجیے اور پھینک دیجیے‘‘ Use and Throw کے زمرے کے ہوتے ہیں اس لیے ان کی صفائی وغیرہ کا معاملہ بھی کم ہی ہوتا ہے لیکن جو لوگ دھاتی برتن اور پلیٹیں وغیرہ لے کر چلتے ہیں ان کو برتن کی صفائی اچھی طرح کرنی چاہیے تاکہ اس میں باسی کھانے کا کوئی حصہ صحت کو نشانہ نہ بنا بیٹھے۔


Madina Munawwarah
جو افراد پہلے سے ہی چند امراض کا شکار ہیں جیسے ذیابیطس، دمہ اور دیگر تنفسی بیماریاں، دل کے عوارض، بڑھا ہوا بلڈ پریشر، آنکھوں اور بینائی کی کمزوری وغیرہ اور مستقل علاج ہی ان کا مداوا ہے انھیں چاہیے کہ سفر کی ابتدا میں ہی اپنے معالج سے سبھی ضروری ہدایات حاصل کر لیں اور پابندی کے ساتھ ان پر عمل کریں۔کھانے کی دوائیں، لگانے کی دوائیں، سونگھنے یا سڑکنے کی دوائیں، ٹپکانے والی دوائیں وغیرہ کو بالکل حسبِ ہدایت استعمال کریں۔اسی کے ساتھ جن باتوں اور اشیاء سے پرہیز ضروری ہو اس کی بھی پابندی کریں۔
مکہ میں ضیوف الرحمن (رحمن کے مہمان) یعنی حجاج کرام کی دعائیں لینے اور مدارات کرنے کے لیے عربی حضرات اور عربی بچے نیز خود بادشاہ اور اس کے اہلکار بھی تحفہ و ہدیہ کے بطور کھانے پینے کی اشیاء ضرور تھماتے ہیں۔ ان پیکٹوں یا تھیلیوں میں شربت، پھل، پانی کی بوتل، بسکٹ، کیک، مسواک جیسی چیزیں بھری ہوتی ہیں۔ جن مریضوں کو میٹھی اشیاء اور چکنائی کا پرہیز کرنا ہے انھیں اس مجموعے میں سے بہت سی چیزیں چھوڑنی ہوں گی۔
جن مریضوں کو بینائی کے معاملات ہوں اور عینک لازمی ہو تو انھیں اپنی عینک پر ڈوریاں ضرور لگوا لینی چاہیے تاکہ کبھی ناک سے پھسلے تو وہ نیچے گرنے اور ٹوٹنے سے محفوظ رہ سکے بصورتِ دیگر دورانِ طواف و سعی اور منیٰ میں رمی جمرات کے موقع پر عینک سے جدائی کے امکانات ہو سکتے ہیں۔

جن افراد کو تھوڑی سی محنت یا مشقت پر چکر سا آنے لگتا ہے انھیں چاہیے کہ اپنے ساتھ کوئی میٹھا مشروب رکھیں یا کم سے کم پانی کی ایک چھوٹی بوتل ضرور رکھیں۔ ساتھ میں Stemetilیا اسی قسم کی کوئی دوسری دوا بھی ضرور رکھیں۔
بعض افراد کو کھانے پینے کی چیزیں بہت جلد اثر کرتی ہیں اور انھیں قبض ہوجاتا ہے یا پھر پتلے دست آنے لگتے ہیں یا قے ہونے لگتی ہے تو ایسے افراد بھی اپنے معالج سے مشورہ کر کے مناسب دوائیں اپنے ساتھ میں رکھ لیں۔
کچھ لوگوں کو الرجی کا معاملہ ہوتا ہے۔ مکہ کا موسم بہت تیزی سے بدلتا ہے اور چند گھنٹوں کے فرق سے بھی موسم بدل جاتا ہے۔ ایسی صورت میں انھیں مانعِ الرجی دوائیں بھی ضرور ساتھ رکھنی چاہئیں۔ خصوصاً حرم کی حدود میں ایئر کنڈیشنڈ ہونے اور بے محابہ ہجوم کے اندر کھانسیوں کا جیسے ایک دورہ سا پڑتا ہے اور بیک وقت بہت سے لوگوں کی حلق میں خراش آجاتی ہے؛ اس لیے وہاں الرجی سے متاثر افراد کے لیے بچاؤ کی شکل صرف الرجی سے بچنے والی دوائیں ہی ہوتی ہیں۔
اسی طرح مطاف میں اور مسعیٰ میں بھی کافی بھیڑ ہوا کرتی ہے۔ ان مقامات پر جوڑوں کے درد والے اور کمزور افراد کے لیے لازمی ہے کہ چند دردکشا دوائیں ساتھ رکھیں۔ اس مقام پر یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ کے پڑوس یا پیچھے سے کوئی ’’طریق... طریق... طریق‘‘ جیسی صدا آنے لگے تو فوراً کسی مناسب جانب کو ہٹ جائیں۔ یہ آواز راستہ صاف چاہنے والوں کی ہوتی ہے جو یا تو کوئی جتھہ ہو سکتا ہے یا پھر کوئی گاڑی وغیرہ۔ نہ ہٹنے کی صورت میں آپ کے زخمی ہو جانے کا امکان ہے۔
منیٰ کے قیام کے دوران کھانے پینے کا معمول ایک بار پھر کچھ تبدیل ہوتا ہے۔ وہاں کثیر افراد کا ایک ساتھ بڑے بڑے خیموں میں قیام ہوتا ہے۔ خیمے ایئرکنڈیشنڈ ہوتے ہیں۔ جنھیں ایئر کنڈیشنڈکے سبب تکلیف ہوتی ہے انھیں یہاں بھی اپنی صحت کے لیے ضروری دوائیں ساتھ رکھنی ہوگی۔ کھانے پینے کی اشیاء بعض اوقات کچھ ملوّث ہو جاتی ہیں اور کسی کے بھی معدے پر گراں گذر سکتی ہیں۔ کبھی کبھار جلاب ہونے لگتا ہے۔ کسی کو بخار وغیرہ بھی آسکتا ہے۔ قے کے بھی امکانات ہوتے ہیں اس لیے فوری طور پر مناسب دوائیں استعمال کرنا چاہیے۔ حجاج کے گروہ میں ڈاکٹر حضرات بھی کافی تعداد میں شامل رہتے ہیں۔ ان سے مشورہ کرکے Metronidazole, Ornidazole, Perinorm, Domperidon, Ondansetron, Loperamide,  وغیرہ میں سے کوئی مناسب دوا فوراً استعمال کر لیں (بہتر ہے کہ یہ چند ادویہ اپنے ساتھ لگیج میں گھر سے شامل کرلیں)۔
عرفات کے میدان میں ظہر تا بعد از غروب ٹھہرا جاتا ہے اور قال رسول اﷲؐ یہی حج ہے، یہاں دعائیں مانگی جاتی ہیں اور اﷲ تعالیٰ اپنے بندے یا بندی کی ہر مفید و جائز دعا کو قبول فرماتا ہے۔ یہاں کوئی ایسا معاملہ مشکل سے ہی پیش آتا ہے جو صحت کو متاثر کرتا ہے۔
مزدلفہ کی منور شبِ سعید میں بعد از مغرب تا وقتِ فجر ’کھلے آسمان کے نیچے‘ احرام کی حالت میں قیام بھی کبھی کبھار معمولی دوائی معاملہ سے دوچار کر سکتا ہے۔ یہاں کسی کو موسم کی خنکی متاثر کر سکتی ہے۔ اس لیے احرام کا خیال کرتے ہوئے موسم کی خنکی کا مقابلہ کرنے کی کوئی تدبیر ( جیسے پیروں اور دھڑ کو ڈھک لینا، علما کے مشورے سے) بروئے کار لائیں۔
متعدد طواف و سعی کے بعد اکثر لوگ تھک جایا کرتے ہیں۔ آرام کرنا چاہتے ہیں۔ ایسی صورت میں مریضوں کو مناسب وقت اور موقع تلاش کرنا ہی دانشمندی ہے۔
زیارتِ حرمِ نبویؐ (مدینہ) کے دوران سوائے موسم کی خنکی کے کوئی اور بات بہ مشکل ہی پیش آتی ہے۔ اور اس سردی سے بچنے کے لیے گرم اُونی کپڑے یا چادریں ضرور اپنے پاس رکھیں۔
ان تمام باتوں میں حاجی صاحبان اپنی اور اپنے ساتھیوں کی عمروں کا ضرور خیال کریں ؛ بڑی عمر والوں اور بچوں کے ساتھ حتی الامکان معاونانہ پیش آئیں اور ان کے معمولات میں بھی مدد فرمائیں۔
اپنے ساتھ احتیاطاً چند دوائیں ضرور رکھیں لیکن استعمال کے لیے ہمسفروں میں جو ڈاکٹر صاحب یا ڈاکٹر صاحبہ شامل ہوں اس سے مشورہ کرنے کے بعد استعمال میں لائیں۔ ان دواؤں کی فہرست درجِ ذیل ہے:
Paracetamol 500mg,
Metronidazole 200 mg / Tinidazole 300
Loperamide, Stemetil 10mg,
Perinorm, Ondansetron,
Famotidine 2o mg / Omeprazole 20 mg,
 Avil (Tab/ Inj), Dexamethasone,
اور ان کے ساتھ اگر مستقل طور پر کوئی دوا چل رہی ہو تو اسے بھی ساتھ رکھیں.

Monday, October 3, 2011

Air Travel and Probable Body Troubles 
A Guide For Hajj Pilgrims and Others

Dr. Rehan Ansari
ذرائع سفر میں آج ہوائی سفر کی اپنی اہمیت ہے۔ زمینی فاصلوں اور رکاوٹوں یا صعوبتوں کو پھلانگتے ہوئے ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں پرواز صرف منٹوں اور گھنٹوں کا کام رہ گیا ہے۔ جبکہ قدیم دور میں یہی فاصلے دنوں یا ہفتوں اور مہینوں کا وقت لیتے تھے۔ ہوائی سفر آج سب سے تیز رفتار وسیلہ ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت کا ہوائی سفر حج اور عمرہ کے لیے ہوتا ہے۔
جس طرح ہر سفر کے لیے ہدایات اور ان پر عمل لازمی ہے اور ہر سفر کے ساتھ چند بدنی عوارض کے لاحق ہو جانے کے امکانات بھی پائے جاتے ہیں، بالکل اسی طرح ہوائی سفر سے بھی چند مشکلات اور تکالیف پیش آسکتی ہیں یا پہلے سے موجود کسی تکلیف کی شدت بڑھ جاتی ہے!
تکلیف کی وجوہات:
بدن کے نظام کے بہت سے افعال کو طبعی طور پر انجام پانے کے لیے کششِ ثقل اور ماحولیاتی ہوا کا دباؤ (Gravitational Force & Atmospheric Pressure) بہت ضروری عوامل ہیں۔اسی لیے جب ہوائی جہاز ۸ہزار فیٹ یااس سے بھی زیادہ بلندی پر مشغولِ پرواز ہوتا ہے تو وہاں کششِ ثقل بھی طبعی طور پر اثر انداز نہیں ہوتی اور ماحول کا دباؤ بھی غیر مطلوبہ رہتا ہے۔بہ ایں وجہ ان کے صحت پر اثر انداز ہونے کا پورا احتمال ہوتا ہے۔
ہوا کے دباؤ کی تبدیلی کے اثرات:
جدید طرز کے ہوائی جہاز میں اندرونی کیبن پریشر Cabin Pressure کو مستقل رکھنے کا اہتمام ہوتا ہے اور یہ کیبن پریشر پانچ ہزار فیٹ کی بلندی پر موجود ماحولیاتی ہوا کے دباؤ کے مماثل ہوتا ہے۔ چونکہ یہ دباؤ زمینی ماحول سے قدرے کم ہوتا ہے اس لیے بدن کے اندر موجود مختلف حصوں میں ہوا طبعی سے سوا گنا (۱۲۵فیصدی) زیادہ پھیلتی ہے۔ ہوا کا یہ پھیلاؤ بعض تکالیف کی شدت کو بڑھا سکتا ہے۔ مثلاً:
اتساعِ صدر (Emphysema) جس میں کہ پھیپھڑوں کی فطری لچک کم ہو جاتی ہے اور سانس کے راستوں میں ہوا پھنسی رہ جاتی ہے یعنی مکمل طور پر خارج نہیں ہوتی، یہ سانس لینے میں تکلیف پیدا کرتی ہے۔

اسی طرح کان کی داخلی نلی Eustachian tube بھی ہوا سے بند ہو سکتی ہے اور کان کا شدید درد اٹھ سکتا ہے۔  
کہنہ سائناسائٹس Chronic Sinusitis کی علامات شدید ہو کر چہرے میں درد کا سبب بن سکتی ہیں۔ 
پیٹ میں گیس کا عارضہ ہو تو یہ بھی تکلیف دیتا ہے۔
ان تکالیف کی شدت اس وقت بڑھ جاتی ہے جبکہ کیبن پریشر کا اہتمام نہ رہے یا حادثاتی طور پر پریشر ختم ہو جائے۔ چھوٹے ہوائی جہازوں میں چونکہ اکثر کیبن پریشر نہیں ہوتا اس لیے ان میں یہ تکلیفیں زیادہ ہوتی ہیں۔
ہوائی جہاز کے اندر ان تکلیفوں سے بچنے کے لیے کچھ نہ کچھ نگلتے رہنا چاہیے یا جماہیاں لینی چاہئیں۔ سردی کی دوائیں کھا لینا اس سلسلے میں مفید پایا گیا ہے۔ بچوں میں کان کا درد زیادہ ہوتا ہے اس لیے انہیں چیونگم دینا یا پینے کے لیے کوئی مشروب دینا چاہیے۔ گود کے بچوں کے لیے دودھ کی بوتل وغیرہ وقفے وقفے سے دینا احتیاط کا تقاضہ ہے۔
اس پہلو سے ہوائی جہازوں میں مہمان نوازی  Air Hosting کی وجوہات واضح ہو جاتی ہیں۔


Foods served inside the plane
آکسیجن کی کمی سے پیش آنے والی تکلیفیں:
ہوائی جہاز کے اندرونی حصے میں ہوا کے دباؤ میں معمولی کمی رہنے کے سبب اس میں آکسیجن کی مقدار بھی کم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ایسے مریضوں کو خصوصاً تکلیف ہوتی ہے جن میں سانس کی تکالیف موجود ہوں یا خون کی کمی پائی جاتی ہو، دورۂ قلب پڑ چکا ہو، سینے میں درد (انجائنا) Angina پیدا ہوتا ہو یا خلقی طور پر دل کا کوئی مرض موجود ہو۔ جن مریضوں میں سانس کی تکالیف موجود ہوں انہیں ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ تمباکونوشی یا دیگر نشوں سے دورانِ سفر سخت پرہیز کریں۔
دل کے دورہ کے ایسے مریض جنہیں دورے سے دو ہفتے یا اس سے زیادہ دن گذر چکے ہوں وہ ہوائی سفر کر سکتے ہیں۔ایک پیمانہ یہ ہے کہ ایسے افراد جو سو گز کا فاصلہ بلا دقّت طے کر سکتے ہوں یا ایک منزل کی سیڑھیاں بآسانی چڑھ سکتے ہوں انہیں ہوائی سفر میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
ارتعاش اور رفتار کے سبب پیدا ہونے والے عوارض: Vibration and Speed
جس طرح بعض لوگوں میں سفر کے دوران متلی یا قے ہونا اور چکر آنا پایا جاتا ہے ویسی ہی تکلیف ہوائی سفر میں بھی ممکن ہے۔ اس لیے سفر سے قبل اس کی دوا کی ایک خوراک لینے سے عارضے سے بچا جا سکتا ہے۔ تیز رفتاری کی وجہ سے آدمی دورانِ سفر ٹائم زون (منطقۂ وقت) کی تبدیلی سے گذرتا ہے اس لیے اس کے معمولات یعنی کھانا پینا اور سونا متاثر ہو جاتے ہیں۔ ان معمولات کو اصطلاحاً آہنگِ حیات (Bio-Rhythm) کہتے ہیں۔ نئے ٹائم زون میں دواؤں کی خوراک کے وقفہ کا دھیان رکھنا بہت ضروری ہے۔ خصوصاً ذیابیطس اور دیگر استحالاتی (Metabolic) امراض میں۔
نفسیاتی الجھنیں اور دباؤ:
بعض لوگوں میں پرواز سے خوف پیدا ہو سکتا ہے، اسے ’کلاسٹروفوبیا‘ Claustrophobia کہتے ہیں۔یعنی کسی تنگ سی جگہ میں جکڑدیئے جانے کا خوف۔ وہ گھبرائے اور الجھے ہوئے رہتے ہیں۔ ایسے افراد کو پرواز سے قبل ہلکی خواب آور دوائیں لینی چاہئیں۔ اگر مسافر ذہنی طور پر مشتعل ہونے والے امراض سے متاثر ہو تو اسے خواب آور دواؤں کے ساتھ ہی ساتھ ایک ہمسفر بھی رکھنا ضروری ہے۔
عمومی احتیاط:
مقناطیسی یا الیکٹرانی آلاتِ طب مثلاً پیس میکر، پلیٹ، پن وغیرہ کے اوپر ہوائی اڈے پر نصب میٹل ڈِٹیکٹر (مفتشِ دھات) کا اثر ہوتا ہے۔ مفتشِ دھات Metal Detector چونکہ ہوائی اڈے کی حفاظتی تدبیر ہے اس لیے بے وجہ قانونی جھنجھٹ پیدا ہو سکتی ہے،چنانچہ ہوائی اڈے میں داخل ہونے سے قبل اپنے ڈاکٹر سے اس بات کی تحریری رپورٹ حاصل کر لیں کہ آپ کے بدن میں ایسے ضروری طبی آلات لگائے گئے ہیں۔ اسی طرح اگر مرگی Epilepsy کا کوئی مریض ہوائی جہاز سے سفر کر رہا ہو تو اسے بھی مرگی سے متعلق اپنے ڈاکٹر کا رپورٹ کارڈ ساتھ میں رکھنا چاہیے۔
ایک ہی جگہ زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے سے پیروں کی خون کی نالیوں میں خون کے جمنے سے علقہ (Clot) پیدا ہو سکتا ہے۔ جو خطرناک ہو سکتا ہے۔ خصوصاً حاملہ عورتوں میں اس کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ایسے افراد ہوائی جہاز کے کیبن میں ایک ایک گھنٹے سے چہل قدمی کر لیا کریں نیز بیٹھے بیٹھے بھی پیروں کو حرکت دیتے رہیں اور موڑتے یا عضلات کو سکیڑتے رہیں تو یہ احتیاط مفید رہے گی۔
کیبن میں فضائی نمی Humidity کم رہنے کی وجہ سے بدن میں پانی کی کمی پیدا جانے کا امکان ہوتا ہے۔ اس لیے وقفے وقفے سے پانی یا شربت پینا چاہیے۔ نیز جو لوگ آنکھوں میں کانٹیکٹ لینس استعمال کرتے ہیں انہیں لینس پر متعدد مرتبہ Rewetting Solution لگانا چاہیے۔
حاملہ عورتوں کو حمل کے آٹھویں ماہ تک ہوائی سفر کی اجازت حاصل ہے لیکن آخری مہینے میں سفر کی ضرورت میڈیکل سرٹیفکیٹ کے بغیر نہیں دی جاتی۔ اور ہوائی جہاز کے سیٹ بیلٹ پیٹ کے بجائے رانوں پر باندھنے کی ہدایت کی جاتی ہے تاکہ رحمِ مادر کو کسی بھی جرح سے محفوظ رکھا جاسکے۔
ایک ہفتے تک کے نومولود کو ہوائی سفر کی اجازت نہیں دی جاتی مگر دوسری سبھی عمر والوں کو یہ اجازت حاصل ہے۔