To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Monday, August 4, 2014

Israel will be forgiven by the world for it's crimes and Muslims too will start enjoying Pepsi again
Dr. Rehan Ansari


بیش و کم ایک مہینے تک اسرائیل نے اپنی پوری عسکری طاقت جھونکنے کی کوشش کرکے غزہ پٹی کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا۔ بیچارے نہتے فلسطینیوں کو الزامات لگا لگا کر اپنے دفاع کے نام پر ختم کرنے میں دنیا کی تاریخ کامکروہ ترین سلسلۂ قتل وخوں (نسل کشی پڑھیے) جاری رکھا۔ ہزاروں جامِ شہادت پی کر عالمِ باقی میں پہنچ گئے۔ ایک مبصر نے کیا خوب لکھا ہے کہ’’ دفاع تو ڈھال کا نام ہے تلوار اُٹھانے کا نہیں‘‘ اور اسرائیل نے تلوار اٹھائی ہوئی ہے۔ پھر یہ خونیں کھیل نیا بھی نہیں ہے۔ اسرائیل عادت کے مطابق اور اپنے ناپاک صیہونی ایجنڈوں کو رُوبہ عمل لانے کے لیے برسوں سے بہانوں کے ہاتھ آتے ہی یہ فعل دُہراتا رہتا ہے۔ فلسطینیوں کی نسلِ نو کا قتل وہ جان بوجھ کر کرتا ہے تاکہ مستقبل میں اسے کسی مضبوط اور نڈر مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسرائیل نے پوری دنیا میں خصوصاً حماس کے حوالے سے مسلمانوں کے خلاف عمومی نفرت و تعصب کا سماں باندھ دیا ہے۔ اِدھر برِّ صغیر کے مسلمانوں نے بھی اپنی ایمانی غیرت و حمیت کے کچوکے لگنے سے اسرائیل کے خلاف کچھ نہ سہی تو اس کی مصنوعات، وہ بھی اکثر اشیائے خورونوش، کا استعمال ترک کیا اور ان کا بائیکاٹ کرنے کی ہر ممکن سعی کی۔ اس عید کو ہمارے گھروں میں سافٹ ڈرنک کی کوئی بوتل اور بچوں کو مرغوب اسنیکس نہیں لائے گئے۔ بہت سے بھائیوں نے اپنی حساب دانی کا چرچا کرنے کے لیے اس نقصان کی مالیت کا تخمینہ بھی سوشل میڈیا پر مسلسل پیش کیا یا فارورڈ کیا۔ گلی محلوں میں بینر، ہورڈنگ، پلے کارڈ، پمفلٹ، جلسے، جلوس کا انعقاد ہوا۔ کچھ سماجی، کچھ دینی، کچھ سیاسی اداروں نے بھی سرکاری دفاتر اور سفارتی دفاتر تک اپنی احتجاجی آوازیں پہنچائیں۔ اخباروں (اکثر اُردو) میں ان سب کی رنگین تصویروں کی اشاعت کی گئی۔ ہم بھی فقیروں کا بھیس بنا کر یہ سب دیکھتے رہے۔ نجی سطح پر اس بائیکاٹ میں شامل بھی رہے۔ نیت تو ہماری بالکل خالص تھی مگر خلوص کی جانچ اور خود احتسابی کرنے بیٹھے تو دل میں ایک دردِ نہاں کے علاوہ اپنے سوال کا کوئی جواب موجود نہیں پایا۔


 ایک طرف یہ سب کچھ چلتا رہا اور دوسری طرف اسرائیل ہر گذرتے دن کے ساتھ اپنے حملوں کی شدت بڑھاتا رہا۔ ہمارے معصوم فلسطینی بھائی مع اہالیانِ خانہ جان سے جاتے رہے۔
 سارے  پس منظر میں پتہ نہیں کیوں اندر سے ایک بے اطمینانی بھی دل دھڑکاتی تھی کہ ہم اپنے قول و فعل میں بہت فرق رکھتے ہیں۔ ہم دیانتدار نہیں ہیں۔ مستقل مزاج نہیں ہیں۔ کوئی منصوبہ بناتے ہیں وہ ایک مختصر مدت کے بعد نسیان کے قبرستان میں مدفون ہوجاتا ہے۔ بائیکاٹ ایک مدت کے بعد اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ یہودی مصنوعات کے بائیکاٹ شروع کرنے کا تو اعلان کیا جاتا ہے مگر پتہ نہیں چلتا کب خاموشی سے یہ ختم ہوجاتا ہے۔ اور ہم پھر اپنے منہ کو لگے مشروب کی بوتلوں سمیت اوڑھنے بچھونے میں بھی مرغوب مصنوعات کا استعمال کرنے لگتے ہیں۔ اسی موقع پراردو کے شہرہ آفاق مزاح نگار علامہ اکبر الٰہ آبادی کا ایک شعر یاد آرہا ہے 
ابھی بیمار ہیں، سب کررہے ہیں قول و عہد اکبرؔ 
اُسی کوچے میں پھر پہنچیں گے، ہونے دو ذرا اچھا


 مگر اب اسرائیل نے شاید تھک ہار کر (جیتا تو ابھی بھی نہیں) یہ ’نام نہاد‘ جنگ بند کرنے کی آمادگی کا عندیہ دیا ہے۔ اس عندیہ کا لطیفہ ساز پہلو یہ ہے کہ وہ یکطرفہ جنگ بندی اپنی مرضی سے کر رہا ہے (گویا یہ جنگ دو طرفہ جاری تھی!؟) اور وہ مصر کی ثالثی میں سمجھوتے میں شریک نہیں ہوگا۔ پھر یہ بھی کہ غزہ کی سرحد سے اسرائیلی ٹینک ہٹائے نہیں جائیں گے۔ یہ دھمکی بھی کہ حماس نے دوبارہ کوئی شرارت کی تو حملے کے ’’تمام آپشن‘‘ کھلے رکھے گئے ہیں۔ اب تک کے حملوں کو وہ تین اسرائیلی نوجوانوں کے قتل کا انتقام بتلاتا رہا اور اس عذر کو توسیع دینے کے لیے حماس کے ذریعہ تیار کی جانے والی دفاعی سرنگوں کو دہشت خیزی کے منابع کے طور پر مشہور کر دیا۔ تازہ حملوں کی توجیہہ یہ بیان کی گئی کہ ایک اسرائیلی فوجی ہدرگولڈن کو حماس نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ اسرائیل کے بیان پر دنیا نے اعتبار کیا لیکن حماس نے اس لاپتہ فوجی کے پکڑے جانے کے تعلق سے اپنی لاعلمی ظاہر کی اور یہ کہ وہ اب کہاں ہے اس کا بھی اسے کوئی پتہ نہیں، بالفرضِ محال وہ ہمارے جنگجوؤں کے ہاتھ لگا تھا تو اسرائیل کی بھاری بمباری میں ہوسکتا ہے وہ ان کے ساتھ فوت ہوگیا ہو؛ تو دنیا نے اسے قابلِ اعتنا نہیں سمجھا۔ حتیٰ کہ امریکہ نے اسے حماس کی جانب سے ’معاہدۂ امن‘ کی وحشیانہ خلاف ورزی تک قرار دیا ہے!۔ مینڈکی کو بھی زکام ہونے میں دیر نہیں لگی اور اقوامِ متحدہ نے فلسطینیوں کی فکر جتاتے ہوئے ہدرگولڈن کی فوری سپردگی کا مطالبہ کردیا۔ اسرائیل تو اس معاملے میں یدِ طولیٰ رکھتا ہے کہ جھوٹ کو سچ کیسے بنایا جاسکتا ہے اور دنیا اس کے جھانسے میں بے دام غلام کی مانند آتی بھی ہے۔
 دنیا کے نقشے پر مصر بھی وہ امتیازی ملک ہے جو فلسطین و اسرائیل کے مابین گفتگو میں صرف ثالثی کے لیے تیار رہتا ہے۔ حالانکہ اس وقت جتنا بڑا مجرمِ انسانیت اور دہشت گرد اسرائیل ہے اسی کی مانند مصر میں السیسی نے جرم کیا ہے۔ اس فوجی حکمراں نے مصر کی تاریخ کی پہلی باقاعدہ جمہوری منتخبہ حکومت کو یرغمال بنا کر طاقت کا استعمال کرکے، جڑ کاٹ کر اقتدار پر قبضہ کیاہے۔ مصر نے اسرائیل سے حملے بند کرنے کی کوئی اپیل نہیں کی لیکن حماس پر دباؤ ڈالتا رہا کہ وہ معاہدہ کرلے۔ معاہدہ کی شرائط پر غور کیا جائے تو بین الاقوامی دباؤ کے تحت یہ ذلت آمیزشکست و شرائط قبول کرنے کے مصداق ہیں۔ یہ ایک مختلف موضوع ہے اس لیے یہاں اس پر گفتگو نہیں ہوگی۔ قارئین نے ضرور محسوس کیا ہوگا کہ میڈیا کی خبروں کا سورس صرف اسرائیل ہی کیوں بنا رہا؟ کسی نے فلسطین کی سرزمین سے خبریں جمع کرنے اور وہاں کے زمینی حالات بیان کرنے کی زحمت کیوں نہیں کی؟ اسرائیل نے جتنی فلسطینی جانیں لی ہیں اس سے کئی گنا ان کے گھروں کو تباہ و برباد کردیا ہے۔ کسی ایک اسرائیلی کی جان بھی حماس کے راکٹوں سے گئی اور نہ کوئی گھر ٹوٹا۔ پھر غزہ اور حماس ہی تو پورا فلسطین بھی نہیں ہے۔ وہاں تو محمود عباس، الفتح اور دیگر فلسطینی عوام بھی بستے ہیں۔ اس پورے عرصہ میں ان کا کوئی ردِّعمل سامنے آیا نہ کوئی اور خبر۔ ایک طرف حماس ہماری آس بنا رہا تو دوسری طرف الفتح کی شکست (بے عملی) باعثِ عبرت بنی۔ جبکہ حکومت میں دونوں جماعتیں شریک ہیں۔ الفتح سے ہم مزاحمتی نہیں مگر ڈپلومیٹک مداخلت کی امید تو رکھتے ہی تھے مگر ’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘۔
 اور عالمی انسانی برادری؟ یہ کہاں ہے ہمیں تلاش کے باوجود نہیں ملی۔ ہمیں کچھ لوگوں نے اس دھندلے شیشے کے ایک حصہ کی گرد ہٹا کر یہ دکھلانے کی کوشش کی کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ملک سعودی عرب ہے جو فلسطین کا ساتھ نہیں دے رہا ہے۔ جب ہم نے اس دھند کو ذرا زیادہ صاف کرکے منظر دکھا تو یورپ تک وہاں درجن بھر سے زیادہ ممالک نظر آئے جنھوں نے سعودی عرب کی مانند فلسطین یا غزہ کا ساتھ دینے میں غیر ضروری احتیاط برتی ہے۔ کم سے کم ان میں اتنی طاقت ضرور ہے کہ وہ اسرائیل کو ایک مضبوط ڈانٹ دے سکتے ہیں۔ اور متحدہ آواز اٹھے تو وہ بم سے خطرناک انداز سے گرے گی۔مگر… مگر لگتا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کی جانوں اور آشیانوں پر بمباری نہیں کی، انھیں نہیں مارا، بلکہ (صرف خلیجی نہیں دنیا بھر کی) عالمی انسانی برادری کے احساس پر بمباری کرکے اسے مردہ کردیا ہے، بے حس بنا دیا ہے۔
 اسرائیل نے تھک ہار کے جنگ بند کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ یقینا ایک نہ ایک دن تو یہ ہونا ہی تھا۔ اور جب یہ ہوجائے گا تو پوری دنیا بلا تاخیر اسرائیل کو معاف کرکے اور اس کا شکریہ ادا کرکے اپنے اپنے کاموں میں مشغول ہوجائے گی۔ اور ہمارے بھائی؟؟؟ دیکھنا، ماضی کی مانند وہ بھی دوبارہ اسرائیلی پروڈکٹس کو غٹا غٹ گلے سے اتارنے لگیں گے۔ اپنے دیوان خانوں میں سجانے لگیں گے۔ فریج میں وقت بے وقت استعمال کے لیے ذخیرہ کرنے لگیں گے۔ہمارے شہر میں ایک آٹو رکشا چلتا تھا، اس کے ہوڈ کے عقبی شیشے پر ایک چہار لفظی جملہ لکھا تھا جس کی پھیلی ہوئی معنویت ہمیں پہلی مرتبہ پڑھنے کے بعد سے لے کر ہنوز متاثر کرتی آ رہی ہے، ہمارے حالیہ احتجاج کے پس منظر میں ایک مرتبہ پھر بے ساختہ یاد آگیا کہ ’’سب کچھ تھوڑے دن‘‘۔


 ابھی نہ اسرائیل ختم ہوا ہے نہ فلسطینیوں کے حوصلے ٹوٹے ہیں۔ کوئی ہارا ہے نہ کوئی جیتا ہے۔ ہمیں تو لگتا ہے کہ ہتھیاروں کا اسٹاک مزید ستم آزمائی کے لیے شاید باقی نہیں رہا ۔ لیکن ہم بارہا اس کے بائیکاٹ کا عزم کرتے ہیں۔

No comments: