To View This Blog in Nastaliq Script Download Faiz Nastaliq Unicode Font

Download Faiz Nastaliq Unicode Font from http://www.faiznastaliq.com/faiznastaliq.zip unzip & install it to your windows/font directory

Saturday, April 9, 2011

Anna Hazare's Move is a Whirlwind
of Political Revolution in India
India Gate (New Delhi) Another Tahreer Square?
اس بار ہندوستانی سیاست کے افق پر سورج کچھ عجیب انداز میں اُگا ہے۔ انا ہزارے نے بدعنوانیوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرلیا ہے۔ یہ وہی بانکا انداز ہے جو۱۹۷۵ء میں لوک نایک، بھارت رتن جے پرکاش نرائن (المعروف JP) کے لیے دکھائی دیا تھا؛ جب اندراگاندھی کی سیاسی عاقبت خراب ہوئی تھی اور انھوں نے ہماری جمہوریت کے سینے پر ایمرجنسی جیسے ہتھیار کا وار کیا تھا۔ لوک نایک جے پی نے ایمرجنسی کے مقابل ’’سمپورن کرانتی‘‘ (مکمل انقلاب) کا غلغلہ بلند کیا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے اِندرا راج کو خاک چاٹنی پڑی تھی۔ ان دنوں کانگریسیوں کو ایسا زعم تھا کہ ’’اِندرا اِز اِنڈیا اینڈ اِنڈیا اِز اِندرا‘‘ India is Indira and Indira is India جیسے تکبرانہ نعرے لگائے جانے لگے تھے۔ اِس مرتبہ بھی ایسا ہی کچھ ہوا ہے لیکن غیراعلان شدہ ایمرجنسی کی مانند یعنی بدعنوانی کے خلاف ایک کاری ہتھیار ’’جن لوک پال‘‘ کے قیام کو مرکزی حکومت کی جانب سے غیرمؤثر بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ ’’جن لوک پال‘‘ میں سے ’’جن‘‘ یعنی جنتا کو نکالنے یا صرف نمائشی حیثیت دینے کی کوششیں۔ جبکہ بدعنوانی یا بھرشٹاچار کو ان دو برسوں میں جتنا بڑھاوا ملا ہے اتنا آزاد ہندوستان کے کسی دور میں نہیں دیکھا گیا۔ فرق صرف اتنا سا ہے کہ حالیہ بدعنوانی میں مالی فائدوں کے لیے وزرا اور بیوروکریٹس کو زیادہ ملوّث پایا گیا ہے جبکہ اندرا اور دیگر کانگریسی لیڈروں کے دور میں نام نہاد چنڈال چوکڑیاں اور وزیرِ اعظم کے اردگرد کے لوگ بہت قسم قسم کے کارڈ کھیلا کرتے تھے۔
لوک نایک جے پی نے راج نیتی (سیاست) کے برخلاف لوک نیتی (جمہوریت) کے احیا کی بات کی تھی اور نئے زمانے میں اناہزارے نامی مراٹھی گاندھیائی رہنما نے بھرشٹاچار یا بدعنوانی کے خلاف جو نعرہ لگایا ہے تو اس کی گونج پورے ملک ہی نہیں بلکہ ملک کی سرحدوں کے باہر تک پہنچ گئی ہے۔ اسی لیے مرکزی سرکار کو زمین دہلتی نظر آنے لگی ہے؛ وہ بڑے ہاتھ پیر ما رہی ہے کہ کسی طرح اس پیرِ سیاست کے فسوں ساز نغمے کی لے کو دھیما کیا جاسکے مگر یہ لے دھیرے دھیرے ایک لو میں تبدیل ہورہی ہے جس کی روشنی میں ملک ِ عزیز کے ہر عمر کے باشندوں کو ایک امید نظر آنے لگی ہے اور اصحابِ اقتدار اس کی چنگاریوں میں اپنے لیے تباہیاں دیکھ رہے ہیں۔

نئی دہلی کا انڈیا گیٹ بھی مصر کے تحریر اسکوائر اور بحرین کے پرل اسکوائر  کی مانند پروانوں کی آماجگاہ بن گیا تھا. ہمارے یہاں ممبئی میں تو کھلے سر پر آسمان اٹھائے رکھنے والوں نے بھی گاندھی کیپ سجا لی اور ہر کیپ کے اوپر لکھ دیا کہ ’’میں انا  ہزارے ہوں‘‘!۔ گویا ایک نہیں ہزاروں بلکہ لاکھوں ہزارے ہر گلی اور ہر محلہ میں نمودار ہو گئے ہیں اور ہندوستان کے تن بدن پر چڑھی ہوئی امربیل کا ایک ایک تار اور طنابیں نوچ پھینکنے کے لیے کمربستہ ہو رہے ہیں۔برسوں کے بعد عوام میں ایسا مثبت سیاسی جوش و خروش دیکھنے کو ملا ہے۔ ایک تبدیلی کے لیے۔ ملک کے بہتر مستقبل کی خواہش میں۔ 
’’جن لوک پال‘‘ کے مجازات کو لے کر یوں تو بہت سی باتیں اب تک پیش کی جاچکی ہیں کہ ہم سب انا  ہزارے کی قیادت میں کیا چاہتے ہیں اور یہ بھی کہ مرکزی حکومت اس میں کس قسم کی تبدیلیاں کرنے کی سفارشات کیے ہوئے ہے۔ بہت سے مضامین لکھے اور بڑھے جا چکے ہیں۔ منجملہ یہ کہ ہم سب چاہتے ہیں کہ جن لوک پال ہماری قوت بن جائے اور ہم بدعنوان سیاستدانوں کا ہی نہیں بلکہ بیوروکریٹس کا بھی احتساب بلاخوف اور بلاتاخیر کرنے کی پوزیشن پا سکیں لیکن مرکزی حکومت میں شامل چند افراد (بدعنوانوں کا جتھا اور ان کے گروگھنٹال پڑھیں) اس جن لوک پال کو بے اثر بنانے کے درپے ہیں اور اس بل میں ایسی ترمیمات کروانا چاہتے ہیں کہ وہ نفاذ سے پہلے ہی بوسیدہ ہو جائے۔
Princely and Joyful Political Moves of  Rahul Gandhi:
Can this solve the problems of India?
انا ہزارے کی احتجاجی بھوک ہڑتال اور ستیہ گرہ کے اعلان نے گویا نقارہ بجا دیا اور سیاستدانوں سے اکتائے ہوئے عوام کو جیسے امید کی کسی کرن کا جھپاکا سا محسوس ہوا۔ بروقت جھپاکا۔ سب کی جھپکی ختم کردینے والا جھپاکا۔ کانگریس کے جواں سال رہنما راہل گاندھی کی باڈی لینگویج میں ہندوستانی نوجوانوں اور بچوں کو وہ اپیل نہیں نظر آئی جو سادگی کا پیکر اور اپنی عمر بدعنوانیوں سے لڑائی میں کھپا دینے والے ایک معمر گاندھیائی میں دکھائی دی۔ راہل گاندھی کو ابھی تک شمالی ہند کی ایک ہی ریاست کی جھگی جھونپڑیوں کی سیر سے فرصتِ کار نہیں ملی ہے۔ ان میں ابھی تک اس سیاسی بالیدگی کی رمق بھی نہیں ملتی کہ وہ امیٹھی کے ہی مسائل سے نمٹ سکیں۔ وہ تو بس ایک شہزادے کی زندگی کا نمونہ ہیں جسے خوش نامی کے لیے غریبوں کے درمیان کچھ پل اور دن گذارنے کی ایک بری عادت ہے۔ انھوں نے اپنی دادی کی اتباع میں ان جھونپڑیوں تک میں ’’غریبی ہٹاؤ‘‘ کا نعرہ نہیں لگایا۔ وائے حیرت!۔ ایسے گاندھی میں ملک کے نوجوانوں کو کہاں سے امید جاگتی۔ البتہ اچانک ایک گاندھیائی کی توانا آواز کیا اٹھی کہ ہر ایک نے اپنے آپ میں ایک انا ہزارے کو پیدا کرلیا؛ اور بہ یک زبان کہا کہ ’’انا ہزارے آگے بڑھو ہم تمھارے ساتھ ہیں‘‘۔ ایک گردباد ہے، مرغولہ ہے جو بدعنوانی کے عفریت سے نبردآزما ہے۔ جنگ جاری ہے۔ اور ہمیں پوری امید ہے کہ ہمیشہ کی مانند اس مرتبہ بھی ستیہ کی ہی جیت ہوگی۔ ’رام دھاری دینکر‘ ایک بار پھر صدا لگانے آرہا ہے کہ:
’’سنگھاسن خالی کرو کہ جنتا آتی ہے‘‘
دیکھنا صرف یہ ہے کہ اناہزارے اپنی اس مہم کو مزید استحکام دینے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں اور کن لوگوں کا ساتھ لینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی بات پر نتائج کا پورا انحصار ہے جبکہ یہ ابھی تک غیرواضح ہے۔ ایک اکیلا تو تھک ہی جائے گا۔ انا کے آس پاس بازو بہت سے جمع ہوچکے ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ انا خود کسے طاقت بخشنا چاہیں گے جو بدعنوانی کے عفریت کا پنجہ مروڑ سکے۔ ایک نئی سیاسی پیش بندی کے لیے ماحول پوری طرح سازگار ہے اور ہو سکتا ہے کہ ہندوستانی سیاست یہیں کسی ٹرننگ پوائنٹ سے دوچار ہوجائے۔ اگر ایسا ہوا تو جان لیجیے کہ ایک مرتبہ پھر ملک راج نیتی سے لوک نیتی کے سفر پر گامزن ہوجائے گا۔

No comments: